Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11798

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَيَّادٍ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا قَالَ دُخٌّ قَالَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، اس نے پلٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ میرے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیرے لئے اپنے ذہن میں ایک بات سوچی ہے، بتا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا " دخ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہو، تو اپنے مقام سے ہرگز آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ← دُخٌّ ← هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ← أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ← أَتَى رَسُولُ اللَّهِ ابْنَ صَيَّادٍ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11798

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11799

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن و حسین رضی اللہ عنہما نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11799

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11800

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَعْزِلُ عَنْهُنَّ نَلْتَمِسُ أَنْ نُفَادِيَهُنَّ مِنْ أَهْلِهِنَّ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ تَفْعَلُونَ هَذَا وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُوهُ فَسَلُوهُ فَأَتَيْنَاهُ أَوْ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ قَالَ مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا كَانَ وَمَرَرْنَا بِالْقُدُورِ وَهِيَ تَغْلِي فَقَالَ لَنَا مَا هَذَا اللَّحْمُ فَقُلْنَا لَحْمُ حُمُرٍ فَقَالَ لَنَا أَهْلِيَّةٍ أَوْ وَحْشِيَّةٍ فَقُلْنَا لَهُ بَلْ أَهْلِيَّةٍ قَالَ فَقَالَ لَنَا فَاكْفِئُوهَا قَالَ فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ نَشْتَهِيهِ قَالَ وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُوكِئَ الْأَسْقِيَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم ان سے عزل کرتے تھے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی تم یہ کام کرتے ہو، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ پھر ہمارا گذر کچھ ہنڈیوں پر ہوا جو ابل رہی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ یہ کیا گوشت ہے؟ ہم نے عرض کیا گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پالتو یا جنگلی؟ ہم نے عرض کیا پالتو گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہانڈیاں الٹ دو، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا، حالانکہ ہمیں اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی اور کھانے کی طلب محسوس ہور ہی تھی۔ اور ہمیں مشکیزوں کا منہ بند رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا۔

أَبُو سَعِيدٍ ← أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ← يُونُسَ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11800

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11801

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ مُخْتَلِفَةٍ يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الضَّحَّاکِ الْمِشْرَقِيِّ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11801

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11802

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ صَاحِبُ سُلَيْمَانَ قَالَ رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي مُعْتَمًّا بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ مُرْخٍ طَرَفَهَا مِنْ خَلْفٍ مُصْفَرَّ اللِّحْيَةِ فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفَهُ فَقَرَأَ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ هَاتَيْنِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ

ابوعبید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے عطاء بن یزید لیثی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں ، انہوں نے سیاہ رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا اور اس کا ایک کنارہ پیچھے لٹکا ہوا تھا اور ان کی ڈاڑھی زرد ہو رہی تھی۔ میں ان کے آگے سے گذرنے لگا تو انہوں نے مجھے روک دیا، پھر نماز کے بعد کہنے لگے کہ مجھ سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز فجر پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے، نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرأت میں التباس ہوگیا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم دیکھ سکتے تو میں نے ہاتھ بڑھا کر ابلیس کو پکڑ لیا تھا، اور میں نے اس کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا تھا، حتیٰ کہ اس کے منہ سے نکلنے والے تھوک کی ٹھنڈک مجھے اپنی ان دو انگلیوں ،" انگوٹھا اور ساتھ والی انگلی " کے درمیان محسوس ہونے لگی، اگر میرے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعاء نہ ہوتی تو وہ اس مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے، اس لئے تم میں سے جس شخص میں اس چیز کی طاقت ہو کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے ۔

أَبُو عُبَيْدٍ صَاحِبُ سُلَيْمَانَ ← مَسَرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11802

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11803

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنِي مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ وَلَا كَاهِنٌ وَلَا مَنَّانٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان پانچ میں سے کوئی آدمی بھی جنت میں داخل نہ ہو گا، عادی شراب خور، جادو پر یقین رکھنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کاہن اور احسان جتانے والا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← الْاَعْمَشِ ← مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11803

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11804

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحْ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا كَانَتْ شَفْعًا لِصَلَاتِهِ قَالَ مُوسَى مَرَّةً فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامَ أَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوں اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11804

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11805

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَسِيلَةُ دَرَجَةٌ عِنْدَ اللَّهِ لَيْسَ فَوْقَهَا دَرَجَةٌ فَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " وسیلہ " اللہ کے یہاں ایک درجے کا نام ہے جس سے اوپر کوئی درجہ نہیں ہے، سو تم اللہ سے میرے لئے وسیلہ کی دعا کیا کرو۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11805

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11806

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ الْأَرْضِ مَسْجِدٌ وَطَهُورٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ، سوائے قبرستان اور حمام کے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11806

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11807

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← شَرِيکٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11807

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11808

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ ضُرِبَ الْجَبَلُ بِقَمْعٍ مِنْ حَدِيدٍ لَتَفَتَّتَ ثُمَّ عَادَ كَمَا كَانَ وَلَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلُ الدُّنْيَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر پہاڑوں پر لوہے کا ایک گرز مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں اور اگر " غساق " (جہنم کے پانی) کا ایک ڈول زمین پر بہا دیا جائے تو ساری دنیا میں بدبو پھیل جائے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11808

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11809

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ فَهَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَاقٍ قَالَ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً فَانْطَلَقَ مَعَهَا فَرَقَاهُ فَبَرِئَ فَأَعْطَوْهُ ثَلَاثِينَ شَاةً قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ وَأَسْقَوْنَا لَبَنًا فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْنَا قُلْنَا لَهُ أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً قَالَ لَا إِنَّمَا رَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُمْ لَا تُحْدِثُوا فِيهَا شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا بِسَهْمِي مَعَكُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہمارے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ ہمارے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ اس کے ساتھ ایک آدمی چل پڑا، ہم نہیں سمجھتے تھے کہ یہ اچھی طرح جھاڑ پھونک کرسکتا ہے، اس نے اس آدمی کے پاس جا کر اسے دم کر دیا، وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں تیس بکریوں کا ایک ریوڑ پیش کیا اور ہمیں دودھ پلایا، جب وہ واپس آیا تو ہم نے ان سے کہا کہ کیا تم جھاڑ پھونک کرنا جانتے ہو؟ اس نے کہا نہیں ، میں نے تو اسے صرف سورت فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے۔ میں نے اس سے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے کوئی نیا کام نہ کرو، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے؟ پھر فرمایا کہ بکریوں کو وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔

نَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أخيه معبد بن سيرين ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11809

chevron_left Previous
1…124125126…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter