Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11726

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ لَا يَشْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11726

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11727

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْتُ أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ قَالَ فَخَرَجَ قَالَ قُلْتُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وَتْرٍ وَإِنِّي أُنْسِيتُهَا وَإِنِّي رَأَيْتُ كَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَاءٍ قَالَ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسَبُهُ قَالَ قَزَعَةً سَمَّى الْغَيْمَ بِاسْمٍ فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ فَأُمْطِرْنَا فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْنَبَتِهِ تَصْدِيقًا لِرُؤْيَاهُ

ابوسلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ باغ میں چل کر باتیں نہ کریں ، وہ چل پڑے، میں نے ان سے عرض کیا کہ شب قدر کے حوالے سے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہ مجھے بھی بتائیے ، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے کا اعتکاف فرمایا: ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، حضرت جبرائیل ان کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ جس چیز کو تلاش کررہے ہیں وہ آگے ہے۔ (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا، اور اس میں بھی یہی ہوا) جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا جو شخص معتکف تھا وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں ہی رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس وقت آسمان پر دور دور تک بادل نہیں تھے، اچانک بادل آئے، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑ گئے ہیں ، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی تصدیق تھی۔

فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ← مَا ← قُلْتُ ← فَخَرَجَ. ← قُلْتُ أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ ← انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11727

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11728

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَمْ يَعِبْ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا ، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11728

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11729

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ قَالَ ثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ لِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا قَالَ قَتَادَةُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَا يُشْبِهُ لَهُمْ إِلَّا أَهْلُ جُمُعَةٍ حِينَ انْصَرَفُوا مِنْ جُمُعَتِهِمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔ اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیاوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11729

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11730

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوۃ نہیں ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11730

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11731

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ آخِرَ رَجُلَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ النَّارِ يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ هَلْ رَجَوْتَنِي فَيَقُولُ لَا أَيْ رَبِّ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ فَهُوَ أَشَدُّ أَهْلِ النَّارِ حَسْرَةً وَيَقُولُ لِلْآخَرِ يَا ابْنَ آدَمَ مَاذَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ أَوْ رَجَوْتَنِي فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْجُوكَ قَالَ فَيَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَقِرَّنِي تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَى وَأَغْدَقُ مَاءً فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَقِرَّنِي تَحْتَهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأَوَّلَتَيْنِ وَأَغْدَقُ مَاءً فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ هَذِهِ أَقِرَّنِي تَحْتَهَا فَيُدْنِيَهُ مِنْهَا وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلَمْ يَتَمَالَكْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ الْجَنَّةَ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَلْ وَتَمَنَّهْ فَيَسْأَلَهُ وَيَتَمَنَّى بِمِقْدَارِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا وَيُلَقِّنُهُ اللَّهُ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى فَإِذَا فَرَغَ قَالَ لَكَ مَا سَأَلْتَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ وَأُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْتُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے سب سے آخر میں دو آدمی نکلیں گے، ان میں سے ایک سے اللہ فرمائے گا کہ اے بنی آدم! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے؟ وہ کہے گا نہیں ، چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے دوبارہ جہنم میں داخل کردیا جائے گا اور وہ تمام اہل جہنم میں سب سے زیادہ حسرت کا شکار ہوگا، پھر دوسرے سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے؟ وہ کہے گا جی پروردگار! مجھے امید تھی کہ اگر تو نے مجھے ایک مرتبہ جہنم سے نکالا تو دوبارہ اس میں داخل نہیں کرے گا۔ اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا توکہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں ۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے بعد حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنا مزید دیا جائے گا، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتے رہیں اور میں اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتا رہتا ہوں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11731

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11732

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ قَالَ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج پر نکلے، سارے راستے ہم بآواز بلند حج کا تلبیہ پڑھتے رہے، لیکن جب بیت اللہ کا طواف کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ بنالو، چنانچہ جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔

اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ ← قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سَعِيدٍ أَوْ ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11732

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11733

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَكَى فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، اور ہر حاسد کے شر سے اور نظربد سے، اللہ آپ کو شفا عطاء فرمائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سَعِيدٍ أَوْ ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11733

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11734

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُلُّ حَرْفٍ مِنْ الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ فَهُوَ الطَّاعَةُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کا ہر وہ حرف جس میں " قنوت'' ذکر کی گئی ہو، وہ طاعت ہے۔

كُلُّ حَرْفٍ مِنْ الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ فَهُوَ الطَّاعَةُ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11734

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11735

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَيْلٌ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ وَالصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يَصْعَدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا يَهْوِي بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ویل " جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرنے کے بعد گہرائی تک پہنچنے سے قبل چالیس سال تک لڑھکٹا رہے گا، اور " صعود " آگ کے ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر وہ ستر سال تک چڑھے گا، پھر نیچے گر پڑے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11735

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11736

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَكْثِرُوا مِنْ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمِلَّةُ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمِلَّةُ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمِلَّةُ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ التَّكْبِيرُ وَالتَّهْلِيلُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " باقیات صالحات " کی کثرت کیا کرو، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملت، کسی نے پوچھا اس سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملت، تیسری مرتبہ سوال پوچھنے پر فرمایا کہ اس سے مراد تکبیر و تہلیل اور تسبیح و تحمید اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔

اسْتَكْثِرُوا مِنْ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ قِيلَ وَمَا هِيَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11736

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11737

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُنْصَبُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِقْدَارُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ كَمَا لَمْ يَعْمَلْ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّ الْكَافِرَ لَيَرَى جَهَنَّمَ وَيَظُنُّ أَنَّهَا مُوَاقِعَتُهُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کا دن کافر کو پچاس ہزار سال کے برابر محسوس ہوگا، کیونکہ اس نے دنیا میں کوئی عمل نہ کیا تھا اور کافر جب چالیس سال کی مسافت سے جہنم کو دیکھے گا تو اسے ایسا محسوس ہوگا کہ ابھی جہنم میں گر پڑے گا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11737

chevron_left Previous
1…118119120…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter