Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11666

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فَأَتَانَا بِزُبْدٍ وَكُتْلَةٍ فَأُسْقِطَ ذُبَابٌ فِي الطَّعَامِ فَجَعَلَ أَبُو سَلَمَةَ يَمْقُلُهُ بِأُصْبُعِهِ فِيهِ فَقُلْتُ يَا خَالُ مَا تَصْنَعُ فَقَالَ إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْ الذُّبَابِ سُمٌّ وَالْآخَرَ شِفَاءٌ فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ

سعید بن خالد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا، وہ ہمارے لئے مکھن اور کھجوروں کا گچھا لے کر آئے، اچانک کھانے میں ایک مکھی گر پڑی، انہوں نے اپنی انگلی سے اسے ڈبو دیا، میں نے ان سے کہا کہ ماموں ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی ہے کہ مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہوتی ہے، اس لئے کھانے میں مکھی پڑ جائے تو اسے اچھی طرح اس میں ڈبو دو کیونکہ وہ زہر والے پر کو پہلے ڈالتی ہے اور شفاء والے پر کو پیچھے کر لیتی ہے۔

دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فَأَتَانَا بِزُبْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11666

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11667

حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَحَجَّاجٌ قَالَا أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنْ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَا وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَأَحْسَنَ كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم لوگوں کو نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد بھی کچھ وقت بیت گیا، جب قتال کے معاملے میں ہماری کفایت ہوگئی " یعنی اللہ نے یہ فرما دیا کہ اللہ مسلمانوں کی قتال میں کفایت کرے گا۔ اور اللہ طاقتور اور غالب ہے " تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کے لئے اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جیسے عام وقت میں نماز پڑھاتے تھے، پھر اقامت کہلوا کر نمازِ عصر بھی اسی طرح پڑھائی جیسے اپنے وقت میں پڑھاتے تھے، اسی طرح مغرب بھی اس کے اپنے وقت کی طرح پڑھائی۔ اس وقت تک نماز خوف کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ، وَحَجَّاجٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11667

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11668

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا فَقَالَ نَعَمْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ وَمَا هُوَ قُلْنَا الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ الْمُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَيَعْزِلُ عَنْهَا وَتَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهَا فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَيَعْزِلُ عَنْهَا فَقَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ

معبد بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیا ہوتا ہے؟ ہم نے بتایا کہ ایک آدمی کی بیوی بچے کو دودھ پلا رہی ہوتی ہے، اسی زمانے میں وہ اس کے قریب جاتا ہے لیکن وہ اس کے دوبارہ امید سے ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا لہٰذا آبِ حیات کو باہر ہی خارج کر دیتا ہے، اسی طرح ایک آدمی کی ایک باندی ہو اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہ ہو، وہ اس کے قریب جاتا ہے لیکن اس کے امید سے ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا، لہٰذا وہ عزل کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اولاد کا ہونا تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے۔

الْعَزْل ← نَعَمْ، سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ ← مِنْ رَسُولِ اللهِ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا؟ ← قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ هَلْ ← أخيه معبد بن سيرين ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11668

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11669

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَالْمُسْتَمِرِّ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک عورت نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے نگینے کے نیچے مشک بھر دی، اور مشک سب سے بہترین خوشبو ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا نَضْرَةَ ← خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَالْمُسْتَمِرِّ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11669

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11670

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبَايَا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ وَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمیں قیدی ملے، ہمیں عورتوں کی خواہش تھی اور تنہائی ہم پر بڑی شاق تھی، اور چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، قیامت تک جس روح نے آنا ہے وہ آکر رہے گی۔

ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ ← أَبِي و ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11670

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11671

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ وَهُوَ بِالْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ قَالَ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ فَقَالُوا يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا قَالَ إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ مَحْلُوقٌ قَالَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ اللَّهَ قَالَ فَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي قَالَ فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ قَتْلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا مُرُوقِ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی ہو" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید الخیر، قرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا، بعض قریشی صحابہ اور انصار وغیرہ کو اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صناد یدِ نجد کو دیئے جاتے ہیں اور ہمیں چھوڑے دیتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اتنی دیر میں گہری آنکھوں ، سرخ رخساروں ، کشادہ پیشانی، گھنی ڈاڑھی، تہبند خوب اوپر کیا ہو اور سر منڈوایا ہوا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا خوف کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اللہ کی نافرمانی کرنے لگوں تو اس کی اطاعت کون کرے گا؟ کیا اللہ مجھے اہل زمین پر امین بنائے اور تم مجھے اس کا امین نہیں بنا سکتے؟غالباًحضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا اور جب وہ چلا گیا تو فرمایا کہ اسی شخص کی نسل میں ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت برستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پالیا تو قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11671

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11672

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ أَجْرُهُ وَعَنْ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کسی شخص کو مزدوری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی اجرت نہ واضح کر دی جائے، نیز بیع میں دھوکہ، ہاتھ لگانے یا پتھر پھینکنے کی شرط پر بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← حَمَّادٌ، ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11672

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11673

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ سچے خواب وہ ہوتے ہیں جو سحری کے وقت دیکھے جائیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السمح ← ابْنُ وَهْبٍ، ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11673

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11674

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالْإِيمَانِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی شخص کو مسجد میں آنے کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11674

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11675

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَيُعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ مِنْ أَهْلِ الْكَرَمِ فَقِيلَ وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَجَالِسُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے عنقریب یہاں جمع ہونے والوں کو معزز لوگوں کا پتہ چل جائے گا، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! معزز لوگوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا مسجدوں میں مجلس ذکر والے لوگ۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11675

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11676

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا مَجْنُونٌ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہنے لگیں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11676

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11677

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا ثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ هَلْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَفَّسَ وَهُوَ يَشْرَبُ فِي إِنَائِهِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ فَإِذَا تَنَفَّسْتَ فَنَحِّ الْمَاءَ عَنْ وَجْهِكَ قَالَ فَإِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ فَأَنْفُخُهَا قَالَ فَإِذَا رَأَيْتَهَا فَأَهْرِقْهَا وَلَا تَنْفُخْهَا

ابو المثنیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس تھا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔

مَرْوَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ هَلْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ← أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسُ وَسُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11677

chevron_left Previous
1…113114115…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter