Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11654

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا ثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاتَيْنِ وَعَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْعِيدَيْنِ وَعَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ شَيْءٌ وَقَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت کی نماز، دو دن کے روزے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدین کے دن روزے سے اور ایک کپڑے میں لیٹنے سے یا اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے کہ انسان کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔

صِيَامِ يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ ← يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ شَيْءٌ وَقَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ ← صِيَامِ يَوْمِ الْعِيدَيْنِ وَعَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ← الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَنَهَى ← صَلَاتَيْنِ وَعَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسُ وَسُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11654

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11655

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور چھو کر یا کنکری پھینک کر خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11655

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11656

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْعَلَانِيَةِ مُسْلِمٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ قُلْتُ فَالْجُفُّ قَالَ ذَاكَ أَشَرُّ وَأَشَرُّ

ابوالعلانیہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے، میں نے پوچھا کہ کھوکھلی لکڑی کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ تو اس سے بھی زیادہ بدتر ہے۔

ذَاكَ أَشَرُّ وَأَشَرُّ ← قُلْتُ فَالْجُفُّ ← نَبِيذِ الْجَرِّ» ← نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ ← سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← أَبِي الْعَلَانِيَةِ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11656

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11657

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ مُضِبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فَلَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ قَالَ فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کر دیا گیا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سا جانور ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11657

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11658

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ سَوَاءٌ بِسَوَاءٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي سَوَاءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيُّ ← سليمان بن علي ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11658

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11659

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ فِي وَادٍ أَوْ شِعْبٍ وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11659

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11660

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ وَعَنْ صَلَاتَيْنِ وَعَنْ نِكَاحَيْنِ سَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نمازوں سے اور دو قسم کے نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، میں نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے اور عورت اور اس کی خالہ یا عورت اور اس کی پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرماتے تھے۔

الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ← يَنْهَى ← نكاحين ← صَلاَتَيْنِ ← صِيَامِ يَوْمَيْنِ ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11660

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11661

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، (بیع مزابنہ سے مراد درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے)

الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11661

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11662

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَرِّزٍ عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا أَوْ كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَذِنَ لِطَائِفَةٍ مِنْ الْجَيْشِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ يَعْنِي مُزَاحًا وَكُنْتُ مِمَّنْ رَجَعَ مَعَهُ فَنَزَلْنَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ أَوْ يَصْطَلُونَ قَالَ فَقَالَ لَهُمْ أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ قَالُوا بَلَى قَالَ فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ إِنْ صَنَعْتُمُوهُ قَالُوا بَلَى قَالَ أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي لَمَا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ قَالَ احْبِسُوا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر جس میں میں بھی شامل تھا، علقمہ بن مجزز رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ فرمایا: جب ہم اپنی منزل پر پہنچے یا راستے ہی میں تھے تو حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی درخواست پر انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جو بدری صحابی تھے اور ان کے مزاج میں حس مزاح بہت تھی، ان کا امیر مقرر کر دیا، ان کے ساتھ واپس آنے والوں میں میں بھی تھا۔ راستے میں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور لوگوں نے کھانا پکانے کے لئے یا سردی دور کرنے کے لئے آگ جلائی، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہنے لگے کہ کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، انہوں نے کہا کہ میں تمہیں جو حکم دوں گا وہ کرو گے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، اس پر وہ کہنے لگے کہ میں تمہیں اپنے حق اور اطاعت کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کے لئے کمر کسنے لگے، جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو واقعی آگ میں چھلانگ لگا دیں گے تو انہوں نے کہا رک جاؤ، میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا، لوگوں نے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم کو کسی گناہ کے کام کا حکم دے اس کی اطاعت مت کرو۔

عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11662

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11663

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ غُلَامًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ ذَاتَ يَوْمٍ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّى لَكَ هَذَا التَّمْرُ فَقَالَ هَذَا صَاعٌ اشْتَرَيْنَاهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ وَاشْتَرِ مِنْ أَيِّ تَمْرٍ شِئْتَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11663

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11664

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جُلِدَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ جُلِدَ بَدَلَ كُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں شراب نوشی کی سزا میں چالیس جوتے مارے جاتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جوتے کی جگہ کوڑے مقرر کر دیئے گئے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11664

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11665

حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَأَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کر کے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔

أَبُو النَّضْرِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا ← اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ: ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ وَأَبُو النَّضْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11665

chevron_left Previous
1…112113114…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter