Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11642

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِبِلًا وَإِنِّي أُرِيدُ الْهِجْرَةَ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَتُؤَدِّي زَكَاتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَتَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا قَالَ نَعَمْ فَقَالَ انْطَلِقْ وَاعْمَلْ وَرَاءَ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا وَإِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا ان کی زکوۃ ادا کرتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11642

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11643

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَيَقُولَ مَنْ صَعِقَ تِلْكُمْ الْغَدَاةَ فَيَقُولُونَ صَعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب لوگوں پر بے ہوشی کے دورے بڑی بکثرت سے پڑنے لگیں گے، حتیٰ کہ ایک آدمی لوگوں سے آکر پوچھے گا کہ صبح تم سے پہلے کون بے ہوش ہوا تھا اور وہ جواب دیں گے کہ فلاں اور فلاں شخص۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عُمَارَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11643

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11644

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَالضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَقْسِمُ مَالًا إِذْ أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ فَوَاللَّهِ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ لَا إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَنْظُرُ صَاحِبُهُ إِلَى فُوقِهِ فَلَا يَرَى شَيْئًا آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ كَالْبَضْعَةِ أَوْ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ يَخْرُجُونَ عَلَى فِرْقَتَيْنِ مِنْ النَّاسِ يَقْتُلُهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِاللَّهِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنِّي شَهِدْتُ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُمْ فَالْتَمَسَ فِي الْقَتْلَى فَوَجَدَ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدنصیب! اگر میں ہی انصاف سے کام نہیں لوں گا تو اور کون لے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑو، اس کے کچھ ساتھی ہیں ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہوگا جس کے ایک ہاتھ پر عورت کی چھاتی یا چبائے ہوئے لقمے جیسا نشان ہوگا، ان لوگوں کو خروج انقطاع زمانہ کے وقت ہوگا، اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی" ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات میں آپ پر عیب لگاتے ہیں " حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا ہے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور ایک آدمی اسی حلئے کا پکڑ کر لایا گیا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ وَالضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11644

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11645

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور کان لگا کر لوگوں کی باتیں سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11645

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11646

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَكَ وَخَيْبَرَ قَالَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ فَدَكَ وَخَيْبَرَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي بَقْلَةٍ لَهُمْ هَذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ قَالَ فَرَاحُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رِيحَهَا فَتَأَذَّى بِهِ ثُمَّ عَادَ الْقَوْمُ فَقَالَ أَلَا لَا تَأْكُلُوهُ فَمَنْ أَكَلَ مِنْهَا شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَجْلِسَنَا قَالَ وَوَقَعَ النَّاسُ يَوْمَ خَيْبَرَ فِي لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَنَصَبُوا الْقُدُورَ وَنَصَبْتُ قِدْرِي فِيمَنْ نَصَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ فَأُكْفِئَتْ الْقُدُورُ فَكَفَأْتُ قِدْرِي فِيمَنْ كَفَأَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فدک اور خیبر کے غزوے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، اللہ نے اپنے پیغمبر کو دونوں موقعوں پر فتح عطاء فرمائی، تو لوگوں نے یہ لہسن اور پیاز خوب کثرت کے ساتھ کھایا، جب نماز کے وقت وہ مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو سے اذیت محسوس ہوئی، لوگوں نے جب دوبارہ اسے کھایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت کھایا کرو ، جو شخص اس میں سے کچھ کھائے تو وہ ہماری مجلس کے قریب نہ آئے۔ اسی طرح غزوہ خیبر کے موقع پر لوگوں نے پالتو گدھوں کا گوشت بھی حاصل کیا، اور ہنڈیاں چڑھا دیں ، ان میں میری ہنڈی بھی شامل تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا کہ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ، اس پر ساری ہانڈیاں الٹا دی گئیں، ان میں میری ہنڈیا بھی شامل تھی۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11646

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11647

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ فِي صَلَاةٍ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ قَالَ وَقَلَّلَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ السَّاعَةِ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ فَأَتَيْتُهُ فَأَجِدُهُ يُقَوِّمُ عَرَاجِينَ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا هَذِهِ الْعَرَاجِينُ الَّتِي أَرَاكَ تُقَوِّمُ قَالَ هَذِهِ عَرَاجِينُ جَعَلَ اللَّهُ لَنَا فِيهَا بَرَكَةً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهَا وَيَتَخَصَّرُ بِهَا فَكُنَّا نُقَوِّمُهَا وَنَأْتِيهِ بِهَا فَرَأَى بُصَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَفِي يَدِهِ عُرْجُونٌ مِنْ تِلْكَ الْعَرَاجِينِ فَحَكَّهُ وَقَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ فَإِنَّ رَبَّهُ أَمَامَهُ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ لَمْ قَالَ سُرَيْجٌ لَمْ يَجِدْ مَبْصَقًا فَفِي ثَوْبِهِ أَوْ نَعْلِهِ قَالَ ثُمَّ هَاجَتْ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَقَالَ مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ قَالَ عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ قَلِيلٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا قَالَ فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ وَقَالَ خُذْ هَذَا فَسَيُضِيءُ أَمَامَكَ عَشْرًا وَخَلْفَكَ عَشْرًا فَإِذَا دَخَلْتَ الْبَيْتَ وَتَرَاءَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ قَالَ فَفَعَلَ فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنْ السَّاعَةِ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْهَا عِلْمٌ فَقَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُهَا ثُمَّ أُنْسِيتُهَا كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے، اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر حال بیان فرمایا۔ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ بخدا! اگر میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان سے اس گھڑی کے متعلق ضرور پوچھوں گا، ہوسکتا ہے انہیں اس کا علم ہو، چنانچہ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ چھڑیاں سیدھی کر رہے ہیں ، میں نے ان سے پوچھا اے ابوسعید! یہ کیسی چھڑیاں ہیں جو میں آپ کو سیدھی کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ چھڑیاں ہیں جن میں اللہ نے ہمارے لئے برکت رکھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پسند فرماتے تھے اور انہیں چھپایا کرتے تھے۔ ہم انہیں سیدھا کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ان میں سے ہی ایک چھڑی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھڑی سے اسے صاف کر دیا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو سامنے مت تھوکے کیونکہ سامنے اس کا رب ہوتا ہے، بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔ پھر اسی رات خوب زوردار بارش ہوئی، جب نمازِ عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک دم بجلی چمکی، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ پر پڑی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا قتادہ! رات کے اس وقت میں (اس بارش میں ) آنے کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے معلوم تھا کہ آج نماز کے لئے بہت تھوڑے لوگ آئیں گے تو میں نے سوچا کہ میں نماز میں شریک ہو جاؤں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم پڑھ چکو تو رک جانا، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس سے گذرنے لگوں ۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کو ایک چھڑی دی اور فرمایا یہ لے لو، یہ تمہارے دس قدم آگے اور دس قدم پیچھے روشنی دے گی، پھر جب تم اپنے گھر میں داخل ہو اور وہاں کسی کونے میں کسی انسان کا سایہ نظر آئے تو اس کے بولنے سے پہلے اسے اس چھڑی سے مار دینا کہ وہ شیطان ہوگا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس وجہ سے ہم ان چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا کہ اے ابوسعید! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ساعت جمعہ کے حوالے سے ایک حدیث سنائی تھی، کیا آپ کو اس ساعت کا علم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ساعت کے متعلق دریافت کیا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پہلے تو وہ گھڑی بتائی گئی تھی لیکن پھر شب قدر کی طرح بھلا دی گئی، ابو سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں وہاں سے نکل کر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا۔

كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسُ وَسُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11647

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11648

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَلْبَسُ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ وَإِنْ كَانَ لَهُ طِيبٌ مَسَّ مِنْهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے اور یہ کہ وہ اس دن عمدہ کپڑے پہنے اور اگر موجود ہو تو خوشبو بھی لگائے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا بَكْرِ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11648

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11649

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمْرَةَ هِيَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَتْ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُفْتِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَصْلُحُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ لَهَا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا گیا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔

عَمْرَةَ هِيَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← لَيْثٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11649

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11650

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِهِ فَقَالَ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَرَدْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ وَعَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ مُحَدِّثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ أَوْ الْأَنْبِذَةِ فَاشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا

عمرو بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے گذرے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جارہا ہوں ، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ اے ابوسعید! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا گوشت کھانے، کچھ مشروبات اور قبرستان جانے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا میں نے اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (تین دن سے زیادہ) رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا اور ذخیرہ کرسکتے ہو کیونکہ اللہ نے وسعت پیدا کر دی ہے، نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبیذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو، لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بے ہودہ بات نہ کرنا۔

زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا ← أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ أَوْ الْأَنْبِذَةِ فَاشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ ← أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ وَنَهَيْتُكُمْ ← إِنِّي نَهَيْتُكُمْ ← أذناي رسول الله وهو ← أَبُو سَعِيدٍ ← رسول الله في ذلك ← زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ مُحَدِّثٌ ← أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ ← لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← ابْنُ عُمَرَ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنِّي ← أَرَدْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ← لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ، ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11650

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11651

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّا نُؤْذِنُهُ لِمَنْ حُضِرَ مِنْ مَوْتَانَا فَيَأْتِيهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ فَيَحْضُرُهُ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ وَيَنْتَظِرُ مَوْتَهُ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ رُبَّمَا حَبَسَهُ الْحَبْسَ الطَّوِيلَ فَشَقَّ عَلَيْهِ قَالَ فَقُلْنَا أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ لَا نُؤْذِنَهُ بِالْمَيِّتِ حَتَّى يَمُوتَ قَالَ فَكُنَّا إِذَا مَاتَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّاهُ بِهِ فَجَاءَ فِي أَهْلِهِ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْهَدَهُ انْتَظَرَ شُهُودَهُ وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ انْصَرَفَ قَالَ فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ طَبَقَةً أُخْرَى قَالَ فَقُلْنَا أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَى بَيْتِهِ وَلَا نُشْخِصَهُ وَلَا نُعَنِّيَهُ قَالَ فَفَعَلْنَا ذَلِكَ فَكَانَ الْأَمْرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم قریب المرگ لوگوں کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لاتے، اس کے لئے استغفار فرماتے اور اس کے مرنے تک ویہیں بیٹھے رہتے جس میں بعض اوقات بہت زیادہ دیر بھی ہوجاتی تھی، جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت ہوتی، بالآخر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آسانی اسی میں ہے کہ کسی کے مرنے سے پہلے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ کریں ، چنانچہ اس کے بعد ہم نے یہ معمول اپنالیا کہ جب ہم میں سے کوئی شخص فوت ہوجاتا تب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اہل خانہ کے پاس آکر اس کے لئے استغفار کرتے اور اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے، پھر اگر رکنا مناسب سمجھتے تو رک جاتے ورنہ واپس چلے جاتے۔ کچھ عرصے تک ہم اس دوسرے معمول پر عمل کرتے رہے، پھر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آسانی اس میں ہے کہ ہم جنازے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے پاس لے جائیں اور اس کی تشخیص و تعیین نہ کریں ، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا اور اب تک ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11651

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11652

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ و حَدَّثَنَاه مُؤَمَّلٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے ارد گرد سانپ ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيٍّ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11652

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11653

و حَدَّثَنَاه مُؤَمَّلٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے ارد گرد سانپ ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← مُؤَمَّلٍ، ← و،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11653

chevron_left Previous
1…111112113…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter