Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11606

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَسَمِعْتَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ

نافع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سونے چاندی کی خرید و فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس کے گھر میں آگئے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو، اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ أَفَسَمِعْتَهُ ← حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ ← إِنَّ هذا ← مَعَهُ؟ ← نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11606

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11607

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطَّرِيقِ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ عَلَى الصُّعُدَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا قَالَ فَأَدُّوا حَقَّهَا قَالُوا وَمَا حَقُّهَا قَالَ رُدُّوا السَّلَامَ وَغُضُّوا الْبَصَرَ وَأَرْشِدُوا السَّائِلَ وَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنْ الْمُنْكَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کر لیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← رَجُلٌ: ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11607

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11608

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ذَاتَ يَوْمٍ بِنَهَارٍ ثُمَّ قَامَ يَخْطُبُنَا إِلَى أَنْ غَابَتْ الشَّمْسُ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا مِمَّا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثَنَاهُ حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَ وَنَسِيَ ذَلِكَ مَنْ نَسِيَ وَكَانَ فِيمَا قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ يُنْصَبُ عِنْدَ اسْتِهِ يُجْزَى بِهِ وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْأَخْلَاقَ فَقَالَ يَكُونُ الرَّجُلُ سَرِيعَ الْغَضَبِ قَرِيبَ الْفَيْئَةِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ وَيَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْئَةِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ فَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْئَةِ وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ بَطِيءُ الْفَيْئَةِ قَالَ وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ تَتَوَقَّدُ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَجْلِسْ أَوْ قَالَ فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ الْمُطَالَبَةَ فَقَالَ يَكُونُ الرَّجُلُ حَسَنَ الطَّلَبِ سَيِّئَ الْقَضَاءِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ وَيَكُونُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ فَخَيْرُهُمْ الْحَسَنُ الطَّلَبِ الْحَسَنُ الْقَضَاءِ وَشَرُّهُمْ السَّيِّئُ الطَّلَبِ السَّيِّئُ الْقَضَاءِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ النَّاسَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ فَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا وَيَعِيشُ كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا وَيَعِيشُ كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ثُمَّ قَالَ فِي حَدِيثِهِ وَمَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ عَدْلٍ تُقَالُ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَلَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ اتِّقَاءُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ قَدْ وَاللَّهِ مَنَعَنَا ذَلِكَ قَالَ وَإِنَّكُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ ثُمَّ دَنَتْ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ فَقَالَ وَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنْ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ عصر پڑھائی اور اس کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل قیامت تک پیش آنے والے حالات بیان کرتے ہوئے خطبہ ارشاد فرمایا: جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدو ثناء کرنے کے بعد منجملہ دیگر باتوں کے یہ بھی فرمایا لوگو! دنیا سرسبز وشاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو؟ دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو، یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہوگا، بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور جلدی راضی ہوجائے، اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور دیر سے راضی ہو، اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر سے ہی جائے، یا جلدی آئے اور جلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر اخلاق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ غصہ ایک چنگاری ہے، جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور اس کی رگوں کا پھول جاناہی دیکھ لو، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے وہ زمین پر لیٹ جائے۔ یاد رکھو! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض ادا کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے، اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اس انداز میں مطالبہ کرے، اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر فرمایا کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے، چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں ، مومن ہو کر زندہ رہتے ہیں اور مومن ہو کر ہی مرجاتے ہیں ، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں ، کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہی ہو کر مرجاتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو مومن پیدا ہوتے ہیں مومن ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہو کر مرجاتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور مومن ہو کر مرجاتے ہیں ۔ یاد رکھو! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے، یاد رکھو! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جب کہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو۔ پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! دنیا کی جتنی عمر گذر گئی ہے، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت ہے جو آج اسے گذرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11608

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11609

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَالِدًا يَقُولُ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي الْوَدَّاكِ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَرَوْنَ أَهْلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ مُجَالِدٍ عَلَى الطِّنْفِسَةِ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔

أَشْهَدُ عَلَى أَبِي الْوَدَّاكِ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← مُجَالِدًا، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11609

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11610

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَمَّا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ فَوَاللَّهِ مَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَكَى فَخَرَجَ يَشْتَدُّ حَتَّى انْتَصَبَ لَنَا فِي عُرْضِ الْحَرَّةِ فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْجَنْدَلِ حَتَّى سَكَتَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کر طرف نکل گئے ، واللہ ہم نے ان کے لئے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہی انہیں باندھا ، وہ خود ہی کھڑے رہے ، ہم نے انہیں ہڈیاں اور ٹھیکریاں ماریں ، انہیں تکلیف ہوئی تو وہ بھاگے ، اور عرض حرہ میں جا کر کھڑے ہوگئے ، ہم نے انہیں چٹانوں کے بڑے پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہوگئے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11610

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11611

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشک سب سے عمدہ خوشبو ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الزَّهْرَانِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11611

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11612

حَدَّثَنَا زَكَرِيِّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ مَا بَالُ أَقْوَامٍ تَقُولُ إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي لَمَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی ، اللہ کی قسم میری قرابت داری دنیا اور آخرت دونوں میں بڑی رہے گی ، اور لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11612

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11613

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11614

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ أَبِي كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ فَوْقَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فِي مَوَاضِعَ أُخَرَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عروہ دو دن سے زیادہ کا سفر اپنے شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَةَ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبِي كَذَا، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11614

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11615

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّدَ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات ایک ہی آیت کو بار بار دہراتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ النَّاجِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11615

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11616

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11617

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ جَاءَ بِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا فَقَالَ كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُهُ بِهَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا فَلَا تَقْرَبَنَّهُ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مَا بَدَا لَكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا ، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی دو صاع رومی کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوہ! یہ تو عین سود ہے ، اس کے قریب بھی مت جاؤ البتہ پہلے اپنی کھجوروں کو بیج لو ، پھر اس قیمت کے ذریعے جو مرضی خریدو۔

كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُهُ بِهَذَا ← مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا ← جَاءَ بِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بِتَمْرٍ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ ← هِشَامِ بْنِ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11617

chevron_left Previous
1…108109110…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter