Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11558

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ قِسْمًا إِذْ جَاءَهُ ابْنُ ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ اعْدِلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْتَقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَيُنْظَرُ فِي قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَضِيَّتِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ مِنْهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ إِحْدَى ثَدْيَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنْ النَّاسِ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ الْآيَةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدنصیب! اگر میں ہی انصاف سے کام نہیں لوں گا تو اور کون لے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑو، اس کے کچھ ساتھی ہیں ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہوگا جس کے ایک ہاتھ پر عورت کی چھاتی یا چبائے ہوئے لقمے جیسا نشان ہوگا، ان لوگوں کا خروج انقطاع زمانہ کے وقت ہوگا، اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی" ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات میں آپ پر عیب لگاتے ہیں " حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا ہے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور ایک آدمی اسی حلئے کا پکڑ کر لایا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔

اعْدِلْ ← بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يَقْسِمُ قِسْمًا إِذْ جَاءَهُ ابْنُ ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيُّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11558

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11559

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ غَارِمٍ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوۃ حلال نہیں سوائے پانچ مواقع کے، زکوۃ وصول کرنے والے کے لئے اپنے مال سے اسے خریدنے والے کے لئے ، مقروض کے لئے ، جہاد فی سبیل اللہ میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے غریب پڑوسی کو کسی نے صدقہ کی کوئی چیز بھیجی ہو اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیۃً بھیج دے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11559

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11560

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْدَأُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ فَيَكُونُ فِي خُطْبَتِهِ الْأَمْرُ بِالْبَعْثِ وَالسَّرِيَّةِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدا لاضحی کے دن خطبے سے پہلے نماز پڑھاتے، پھر خطبہ ارشاد فرماتے اور اس خطبے کے حوالے سے احکام بیان فرماتے تھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11560

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11561

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ سُتْرَتِكَ أَحَدٌ فَارْدُدْهُ فَإِنْ أَبَى فَادْفَعْهُ فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے، اور حتیٰ الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11561

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11562

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى يَقُولُ سَمِعْتُ مَرْوَانَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ إِنِّي أَرَى الْقَذَى فِيهِ قَالَ فَأَهْرِقْهُ

ابوالمثنیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو۔ اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔

فَقَالَ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى ← النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ نَعَمْ ← مَرْوَانَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ يَنْهَى ← أَبَا الْمُثَنَّى ← أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11562

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11563

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات کے گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچا لے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11563

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11564

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَعَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ كِلَاهُمَا يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي كُنْتُ حَرَّمْتُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ وَقَالَ الْآخَرُ كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا سکتے ہو اور جب تک چاہو ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔

أَحَدُهُمَا ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ كِلَاهُمَا يَرْوِيهِ ← أَبِي قِلَابَةَ وَعَنْ ابْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11564

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11565

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرَوْحٌ قَالَا ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا فِي الْأَشْرِبَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ أَوَتَدْرِ مَا النَّقِيرُ قَالَ نَعَمْ الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ وَلَا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَإِ قَالَ رَوْحٌ بِالْمُوكَإِ مَرَّتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو عبدالقیس کے وفد میں کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان ہوں ، مشروبات کے حوالے سے ہمارے لئے کیا مناسب ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نقیر " میں کوئی چیز نہ پیا کرو، انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ" نقیر " کے بارے جانتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! وہ لکڑی جو درمیان سے کھوکھلی کر لی جائے، اسی طرح کدو اور مٹکے میں بھی نہ پیا کرو بلکہ سر بند مشکیزے میں پیا کرو۔

رَوْحٌ بِالْمُوكَإِ مَرَّتَيْنِ ← نَعَمْ الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ وَلَا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَإِ ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ أَوَتَدْرِ مَا النَّقِيرُ ← لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا فِي الْأَشْرِبَةِ ← أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ ← وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرَوْحٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11565

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11566

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَقْضِ لِنَفْسٍ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (مادیہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسا کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جس نفس کو وجود عطاء فرمانے کا فیصلہ کر لیا ہو وہ وجود میں آکر رہے گا۔

نَعَمْ ← أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ← الْعَزْل ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11566

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11567

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عَمْرٍو النَّدَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہو تو وہ سحری تک ایسا کر لے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِي عَمْرٍو النَّدَبِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11567

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11568

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ خَطَبَهُمْ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمْ اللَّهُ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُجِيبُونَنِي أَلَا تَقُولُونَ أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَأَتَيْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاكَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْبُقْرَانِ يَعْنِي الْبَقَرَ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُدْخِلُونَهُ بُيُوتَكُمْ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً سَلَكْتُ وَادِيَكُمْ أَوْ شُعْبَتَكُمْ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ انصاری لوگ جمع ہو کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر دوسروں کو ترجیح دینے لگے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انصار کو جمع کیا اور ان کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے گروہِ انصار! کیا تم ذلت کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں عزت عطاء فرمائی؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم تنگدستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں غناء سے سرفراز فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟ کیا تم میرے متعلق یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس اس حال میں تھے کہ آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا ، ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے، ہم نے آپ کو امن دیا؟ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ گائے اور بکریاں لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ؟ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، اور تم لوگ میرے بعد بھی ترجیحات دیکھو گے، اس موقع پر صبر کرنا تاآنکہ تم مجھ سے حوضِ کوثر پر آملو۔

صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ ← أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ ← صدق الله ورسوله ← أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ ← صدق الله ورسوله ← يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمْ اللَّهُ ← آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ خَطَبَهُمْ ← اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11568

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11569

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ قَالَ ثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، ← قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحٍ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11569

chevron_left Previous
1…104105106…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter