Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11502

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رُبَيْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا رُفَقَاءَ رُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ قَالَ فَنَزَلْتُ فِي رُفْقَةِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ مَعَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَنَزَلْنَا بِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَعْرَابِ وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ حَامِلٌ فَقَالَ لَهَا الْأَعْرَابِيُّ أَيَسُرُّكِ أَنْ تَلِدِي غُلَامًا إِنْ أَعْطَيْتِنِي شَاةً وَلَدْتِ غُلَامًا فَأَعْطَتْهُ شَاةً وَسَجَعَ لَهَا أَسَاجِيعَ قَالَ فَذَبَحَ الشَّاةَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ قَالَ رَجُلٌ أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الشَّاةُ فَأَخْبَرَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ مُتَبَرِّيًا مُسْتَنْبِلًا مُتَقَيِّئًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر روانہ ہوئے اور جب پڑاؤ کیا تو مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے، میں اس ٹولی میں چلا گیا جہاں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہمارے ساتھ ایک دیہاتی آدمی بھی تھا، ہم لوگ دیہاتیوں کے جس گھر میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں ایک عورت " امید " سے تھی، اس دیہاتی نے اس خاتون سے کہا کہ کیا تمہاری خواہش ہے کہ تمہارے یہاں بیٹا پیدا ہو؟ اگر تم مجھے ایک بکری دو تو تمہارے یہاں بیٹا پیدا ہوگا، اس عورت نے اسے ایک بکری دے دی، اور اس دیہاتی نے ایک وزن کے کئی ہم قافیہ الفاظ اس کے سامنے (منتر کے طور پر) پڑھے اور پھر بکری ذبح کرلی۔ جب لوگ کھانے کے لئے دستر خوان پر بیٹھے تو ایک آدمی نے لوگوں سے کہا کیا آپ کو معلوم بھی ہے کہ یہ بکری کیسی ہے؟ پھر اس نے لوگوں نے سارا واقعہ سنایا تو میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے حلق میں انگلیاں ڈال کر قے کر رہے ہیں اور اسے باہر نکال رہے ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← رُبَيْحٍ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11502

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11503.1

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ حَدَّثَنِي قَزَعَةُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَعْجَبَنِي فَدَنَوْتُ مِنْهُ وَكَانَ فِي نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا قَالَ فَأُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْهُ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

قزعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو وہ مجھے اچھی لگی، میں نے ان کے قریب جا کر ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ اس پر وہ شدید ناراض ہوئے اور کہنے لگے کیا میں کوئی ایسی حدیث بیان کروں گا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہو؟ ہاں ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ مَا لَمْ أَسْمَعْهُ نَعَمْ ← فَأُحَدِّثُ ← فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← فَأَعْجَبَنِي فَدَنَوْتُ مِنْهُ وَكَانَ فِي نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَنْتَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← قَزَعَةُ، أَنَّهُ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11503.1

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11503.2

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ زَوْجِهَا أَوْ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا

اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی عورت اپنے شوہر یا محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔

لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ زَوْجِهَا أَوْ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا ← وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11503.2

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11503.3

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا صِيَامَ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ

اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو دن یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ نہ رکھا جائے۔

لَا صِيَامَ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ ← وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11503.3

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11503.4

وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ

اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو نمازوں یعنی نمازِ عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل نہ پڑھے جائیں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11503.4

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11504

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْمِعْوَلِيُّ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِىِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِىِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنْ النَّاسِ وَزَلَازِلَ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا وَيَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ غِنًى فَلَا يَحْتَاجُ أَحَدٌ إِلَى أَحَدٍ فَيُنَادِي مُنَادٍ مَنْ لَهُ فِي الْمَالِ حَاجَةٌ قَالَ فَيَقُومُ رَجُلٌ فَيَقُولُ أَنَا فَيُقَالُ لَهُ ائْتِ السَّادِنَ يَعْنِي الْخَازِنَ فَقُلْ لَهُ قَالَ لَكَ الْمَهْدِيُّ أَعْطِنِي قَالَ فَيَأْتِي السَّادِنَ فَيَقُولُ لَهُ فَيُقَالُ لَهُ احْتَثِي فَيَحْتَثِي فَإِذَا أَحْرَزَهُ قَالَ كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ نَفْسًا أَوَعَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ قَالَ فَيَمْكُثُ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ أَوْ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ وَكَانَ بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ فَيَنْدَمُ فَيَأْتِي بِهِ السَّادِنَ فَيَقُولُ لَهُ لَا نَقْبَلُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مہدی کی خوشخبری سناتا ہوں جو میری امت میں اس وقت تک ظاہر نہ ہوگا جب اختلافات اور زلزلے بکثرت ہوں گے، اور وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہوگی، اس سے آسمان والے بھی خوش ہوں گے اور زمین والے بھی، اور اس کے زمانے میں اللہ امت محمدیہ کے دلوں کو غناء سے بھر دے گا، اور کوئی کسی کا محتاج نہ رہے گا، حتیٰ کہ وہ ایک منادی کو حکم دے گا اور وہ نداء لگاتا پھرے گا کہ جسے مال کی ضرورت ہو وہ ہمارے پاس آجائے، تو صرف ایک آدمی اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ مجھے ضرورت ہے، وہ اس سے کہے گا کہ تم خازن کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ مجھے مال عطاء کرو، خزانچی حسبِ حکم اس سے کہے گا کہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اٹھالو، جب وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر باندھ لے گا تو اسے شرم آئے گی اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ میں تو امت محمدیہ میں سب سے زیادہ بھوکا نکلا، کیا میرے پاس اتنا نہیں تھا جو لوگوں کے پاس تھا۔ (یہ سوچ کر وہ سارا مال واپس لوٹا دے گا، لیکن وہ اس سے واپس نہیں لیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ ہم لوگ دے کر واپس نہیں لیتے) سات، یا آٹھ، یا نو سال تک یہی صورتِ حال رہے گی، اس کے بعد زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِىِّ ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْمِعْوَلِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11504

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11505

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ وَكَانَ بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ فَيَنْدَمُ فَيَأْتِي بِهِ السَّادِنَ فَيَقُولُ لَهُ لَا نَقْبَلُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مہدی کی خوشخبری سناتا ہوں جو میری امت میں اس وقت تک ظاہر نہ ہوگا جب اختلافات اور زلزلے بکثرت ہوں گے، اور وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہوگی، اس سے آسمان والے بھی خوش ہوں گے اور زمین والے بھی، اور اس کے زمانے میں اللہ امت محمدیہ کے دلوں کو غناء سے بھر دے گا، اور کوئی کسی کا محتاج نہ رہے گا، حتیٰ کہ وہ ایک منادی کو حکم دے گا اور وہ نداء لگاتا پھرے گا کہ جسے مال کی ضرورت ہو وہ ہمارے پاس آجائے، تو صرف ایک آدمی اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ مجھے ضرورت ہے، وہ اس سے کہے گا کہ تم خازن کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ مجھے مال عطاء کرو، خزانچی حسبِ حکم اس سے کہے گا کہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اٹھالو، جب وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر باندھ لے گا تو اسے شرم آئے گی اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ میں تو امت محمدیہ میں سب سے زیادہ بھوکا نکلا، کیا میرے پاس اتنا نہیں تھا جو لوگوں کے پاس تھا۔ (یہ سوچ کر وہ سارا مال واپس لوٹا دے گا، لیکن وہ اس سے واپس نہیں لیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ ہم لوگ دے کر واپس نہیں لیتے) سات، یا آٹھ، یا نو سال تک یہی صورتِ حال رہے گی، اس کے بعد زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

لَهُ لَا نَقْبَلُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ فَيَنْدَمُ فَيَأْتِي بِهِ السَّادِنَ ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ وَكَانَ بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11505

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11506

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ مَوْلَى بَنِي عَنْزٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْتَ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ وَقَالَ بِيَدِهِ فَوْقَ رَأْسِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اللہ کی مہربانی کے بغیر جنت میں نہیں جاسکے گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بھی نہیں ؟ فرمایا میں بھی نہیں ، الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ مَوْلَى بَنِي عَنْزٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11506

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11507

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَمَا كَانَ إِلَى الْكَعْبِ فَلَا بَأْسَ وَمَا تَحْتَ الْكَعْبِ فَفِي النَّارِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے ، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11507

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11508

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَجِيحٍ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِنَّ مِنَّا رِجَالًا هُمْ أَقْرَؤُنَا لِلْقُرْآنِ وَأَكْثَرُنَا صَلَاةً وَأَوْصَلُنَا لِلرَّحِمِ وَأَكْثَرُنَا صَوْمًا خَرَجُوا عَلَيْنَا بِأَسْيَافِهِمْ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ

یزید الفقیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہم میں کچھ آدمی تھے جو ہم سب سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرتے، سب سے زیادہ نماز پڑھتے، صلہ رحمی کرتے اور روزے رکھتے تھے، لیکن اب وہ ہمارے سامنے تلواریں سونت کر آگئے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← يَزِيدَ الْفَقِيرِ ← سُوَيْد بْنِ نَجِيحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11508

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11509

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی اور اس پر سجدہ کیا تھا۔

دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11509

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11510

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فِي الْحَرِّ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ هَكَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو) نماز ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11510

chevron_left Previous
1…99100101…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter