Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8231

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمام لوگوں میں دین و آخرت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیسے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء علیہم السلام باپ شریک بھائی ہیں اور ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہی ہے میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی (علیہ السلام) نہیں ہے۔

کَيْفَ ← أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ»، ← وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8231

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8232

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبُ صَنْعَاءَ وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سورہا تھا اسی دوران میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ مجھ پر وحی آئی کہ انہیں پھونک مار دو چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے کی جن کے درمیان میں ہوں یعنی صنعا والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8232

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8233

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ وَاحِدٌ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا البتہ سیدھے اور قریب رہو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔

وَلَا أَنْتَ ← وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ لَيْسَ وَاحِدٌ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8233

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8234

وَقَالَ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ وَأَنْ يَشْتَمِلَ فِي إِزَارِهِ إِذَا مَا صَلَّى إِلَّا أَنْ يُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ وَنَهَى عَنْ اللَّمْسِ وَالنَّجْشِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی خرید و فروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے الاّ یہ کہ وہ اس کے دو کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لے اور بیع ملامسہ اور نجش سے منع فرمایا ہے ۔ فائدہ: بیع ملامسہ کا مطلب یہ ہے کہ خریدار یہ کہہ دے کہ میں جس چیز پر ہاتھ رکھ دوں وہ اتنے روپے کی میری ہو گئی اور نجش سے مراد دھوکہ ہے

بَيْعَتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ ← نُهِيَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8234

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8235

وَقَالَ الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ

اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8235

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8236

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَنَا أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَإِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کے اعتبار سے میں تم سب سے زیادہ نبی علیہ السلام کے مشابہہ ہوں نبی علیہ السلام جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو ربنا و لک الحمد کہتے جب رکوع میں جاتے یا رکوع سے سر اٹھاتے یا دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو ہر موقع پر تکبیر کہتے

اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ← أَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إذا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8236

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8237

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ مِنْ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان اپنی انگلی سے کچوکے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہ السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَجْلَانَ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8237

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8238

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَا وَرَائِي كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8238

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8239

وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِنْ حَوْلِ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهَدُونَ الْعِشَاءَ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد کے ارد گرد رہنے والے جو لوگ نماز عشاء میں نہیں آتے وہ نماز ترک کرنے سے باز آ جائیں ورنہ میں ان کے گھروں کے پاس لکڑیوں کے گٹھے جمع کر کے انہیں آگ لگا دوں گا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8239

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8240

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً وَالْأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الأسود بن العلاء الثقفي ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8240

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8241

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمْزَةُ يَعْنِي الزَّيَّاتَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيُنَادِي مَعَ ذَلِكَ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشُبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا قَالَ يَتَنَادَوْنَ بِهَذِهِ الْأَرْبَعَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی غم نہ دیکھو گے یہ چار انعامات منادی کر کے سنائیں جائیں گے۔

فَيُنَادَى مَعَ ذَلِكَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، ← الْاَغَرِّ اَبِیْ مُسْلِمٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← حمزة يعني الزيات ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8241

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8242

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَالَ لَنَا وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي قُلْتُ وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ أُمِّي كَانَتْ امْرَأَةً مُشْرِكَةً وَإِنِّي كُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيَّ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيَّ وَإِنِّي دَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَخَرَجْتُ أَعْدُو أُبَشِّرُهَا بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٍ وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ وَسَمِعْتُ خَشْفَ رِجْلٍ يَعْنِي وَقْعَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَمَا أَنْتَ ثُمَّ فَتَحَتْ الْبَابَ وَقَدْ لَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَقَالَتْ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنْ الْفَرَحِ كَمَا بَكَيْتُ مِنْ الْحُزْنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ فَقَدْ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَكَ وَقَدْ هَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبُهُمْ إِلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي أَوْ يَرَى أُمِّي إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّنِي

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واللہ اللہ جس مومن کو پیدا کرتا ہے اور وہ میرے متعلق سنتا ہے یا مجھے دیکھتا ہے تو مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ آپ کو اس کا علم کیسے ہوا؟ فرمایا دراصل میری والدہ مشرک عورت تھیں میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا لیکن وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں ایک دن میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری میں روتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں آج میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو آپ کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری آپ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی کہ اے اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما میں دوڑتا ہوا نکلا تاکہ اپنی والدہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی بشارت دوں جب میں گھر کے دروازے پر پہنچا تو وہ اندر سے بند تھا مجھے پانی گرنے کی آواز آئی اور پاؤں کی آہٹ محسوس ہوئی والدہ نے اندر سے کہا کہ ابوہریرہ تھوڑی دیر رکے رہوتھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو وہ اپنی قمیض پہن چکی تھیں اور جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا تھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگیں انی اشہد ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ یہ سنتے ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ خوشی کے آنسو لئے حاضر ہوا جیسے پہلے غم کے مارے رو رہا تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مبارک ہو اللہ نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت نصیب فرما دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مومن بندوں کے دل میں میری اور میری والدہ کی محبت پیدا فرما دے اور ان کی محبت ان دونوں کے دلوں میں ڈال دے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی کہ اے اللہ اپنے مومن بندوں کے دل میں اپنے اس بندے اور اس کی والدہ کی محبت پیدا فرما اور ان کی محبت ان کے دلوں میں پیدا فرما اس کے بعد اللہ نے جو مومن بھی پیدا کیا اور وہ میرے بارے سنتا یا مجھے دیکھتا ہے یا میری والدہ کو دیکھتا ہے تو وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8242

chevron_left Previous
1…289290291…324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter