Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8974

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطْعَمَ فَقَالَ لِلرُّسُلِ إِنِّي صَائِمٌ فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ وَكَادُوا يَفْرُغُونَ جَاءَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِهِمْ فَقَالَ مَا تَنْظُرُونَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَائِمٌ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَدَقَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ وَصَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

ابوعثمان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سفر میں تھے لوگوں نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے کے لئے بلا بھیجا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے قاصد سے کہلا بھیجا کہ میں روزے سے ہوں چنانچہ لوگوں نے کھانا کھانا شروع کردیا جب وہ کھانے سے فارغ ہونے کے قریب ہوئے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور کھانا شروع کردیا لوگ قاصد کی طرف دیکھنے لگے اس نے کہا مجھے کیوں گھورتے ہو انہوں نے خود ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں روزے سے ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سچ کہہ رہا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ماہ رمضان کے مکمل روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا پورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہے چنانچہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں میں جب روزہ کھولتاہوں (نہیں رکھتا) تو اللہ کی تخفیف کے سائے تلے اور رکھتا ہوں تو اللہ کی تضعیف (ہر عمل کا بدلہ دگنا کرنے) کے سائے تلے۔

أَبِي عُثْمَانَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8974

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8975

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ لُوطٍ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا بُعِثَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوان لی بکم قوۃ۔ ۔ ۔ ۔ کی تفسیر میں فرمایا حضرت لوط علیہ السلام کسی مضبوط ستون " کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے ان کے بعد اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا انہیں اپنی قوم کے صاحب ثروت لوگوں میں سے بنایا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8975

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8976

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ رَضِيَتْ فَلَهَا رِضَاهَا وَإِنْ كَرِهَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا يَعْنِي الْيَتِيمَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کنواری بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کے متعلق اجازت لی جائے گی) اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی جانب سے اجازت تصور ہوگی اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

إِنْ رَضِيَتْ فَلَهَا رِضَاهَا وَإِنْ كَرِهَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا يَعْنِي الْيَتِيمَةَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8976

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8977

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ بِخَيْرٍ إِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى مَا عَلِمُوا وَغَفَرْتُ لَهُ مَا أَعْلَمُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے جو بندہ مسلم فوت ہوجائے اور اس کے تین قریبی پڑوسی اس کے لئے خیر کی گواہی دے دیں اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کی شہادت ان کے علم کے مطابق قبول کرلی اور اپنے علم کے مطابق جو جانتا تھا اسے پوشیدہ کر کے اسے معاف کردیا۔

رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8977

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8978

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ فَتَطَاوَلْتُ لَهَا وَاسْتَشْرَفْتُ رَجَاءَ أَنْ يَدْفَعَهَا إِلَيَّ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ فَقَالَ قَاتِلْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يُفْتَحَ عَلَيْكَ فَسَارَ قَرِيبًا ثُمَّ نَادَى يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ أُقَاتِلُ قَالَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبرکے دن فرمایا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اسی کے ہاتھ پر یہ قلعہ فتح ہوگا حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے قبل کبھی امارت کا شوق نہیں رہا میں نے اس امید پر کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا میرے حوالے کردیں اپنی گردن بلند کرنا اور جھانکنا شروع کردیا لیکن جب اگلا دن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بلا کر وہ جھنڈا ان کے حوالے کردیا اور فرمایا ان سے قتال کرو اور جب تک فتح نہ ہوجائے کسی طرف توجہ نہ کرو۔ چنانچہ وہ روانہ ہوگئے ابھی کچھ ہی دورگئے تھے کہ پکار کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کب تک قتال کروں؟ فرمایا یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں جب وہ ایسا کرلیں تو انہوں نے اپنے جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا سوائے اس کلمے کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8978

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8979

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ قَدْ جَاءَكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرٌ مُبَارَكٌ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ يُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَيُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان قریب آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ رہا ہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں اس مبارک مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ مکمل طور پر محروم ہی رہا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8979

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8980

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان قریب آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ رہا ہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں اس مبارک مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ مکمل طور پر محروم ہی رہا۔

أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8980

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8981

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْحَكَمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْحَکَمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8981

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8982

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ كَانَ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَتِهِ فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَادَتْهُ فَقَالَتْ أَيْ جُرَيْجُ أَيْ بُنَيَّ أَشْرِفْ عَلَيَّ أُكَلِّمْكَ أَنَا أُمُّكَ أَشْرِفْ عَلَيَّ قَالَ أَيْ رَبِّ صَلَاتِي وَأُمِّي فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ ثُمَّ عَادَتْ فَنَادَتْهُ مِرَارًا فَقَالَتْ أَيْ جُرَيْجُ أَيْ بُنَيَّ أَشْرِفْ عَلَيَّ فَقَالَ أَيْ رَبِّ صَلَاتِي وَأُمِّي فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَةَ وَكَانَتْ رَاعِيَةً تَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِهَا ثُمَّ تَأْوِي إِلَى ظِلِّ صَوْمَعَتِهِ فَأَصَابَتْ فَاحِشَةً فَأُخِذَتْ فَحَمَلَتْ وَكَانَ مَنْ زَنَى مِنْهُمْ قُتِلَ قَالُوا مِمَّنْ قَالَتْ مِنْ جُرَيْجٍ صَاحِبِ الصَّوْمَعَةِ فَجَاءُوا بِالْفُؤُوسِ وَالْمُرُورِ فَقَالُوا أَيْ جُرَيْجُ أَيْ مُرَاءٍ ثُمَّ قَالُوا انْزِلْ فَأَبَى وَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ يُصَلِّي فَأَخَذُوا فِي هَدْمِ صَوْمَعَتِهِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ فَجَعَلُوا فِي عُنُقِهِ وَعُنُقِهَا حَبْلًا وَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِمَا فِي النَّاسِ فَوَضَعَ أُصْبُعَهُ عَلَى بَطْنِهَا فَقَالَ أَيْ غُلَامُ مَنْ أَبُوكَ قَالَ أَبِي فُلَانٌ رَاعِي الضَّأْنِ فَقَبَّلُوهُ وَقَالُوا إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا لَكَ الصَّوْمَعَةَ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ قَالَ أَعِيدُوهَا كَمَا كَانَتْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص کا نام جریج تھا یہ ایک مرتبہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں نے آکر آواز دی جریج بیٹا! میری طرف جھانک کر دیکھو میں تمہاری ماں ہوں تم سے بات کرنے کے لئے آئی ہوں یہ اپنے دل میں کہنے لگا کہ والدہ کو جواب دوں یا نماز پڑھوں آخرکار ماں کو جواب نہیں دیا کئی مرتبہ اسی طرح ہوا بالاآخر ماں نے (بددعا دی اور) کہا الٰہی جب تک اس کا بدکار عورتوں سے واسطہ نہ پڑجائے اس پر موت نہ بھیجنا۔ ادھر ایک باندی اپنے آقا کی بکریاں چراتی تھی اور اس کے گرجے کے نیچے آکر پناہ لیتی تھی اس نے بدکاری کی اور امید سے ہوگئی لوگوں نے اسے پکڑ لیا اس وقت رواج یہ تھا کہ زانی کو قتل کردیا جائے لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ بچہ کس کاہے؟ اس نے کہا کہ یہ لڑکا جریج کاہے لوگ کلہاڑیاں اور رسیاں لے کر جریج کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ریاکار جریج نیچے اتر جریج نے نیچے اترنے سے انکار کردیا اور نماز پڑھنے لگا لوگوں نے اس کا گرجا ڈھانا شروع کردیا جس پر وہ نیچے اتر آیا لوگ جریج اور عورت کی گردن میں رسی ڈال کر انہیں لوگوں میں گھمانے لگے اس نے بچے کے پیٹ پر انگلی رکھ کر اس سے پوچھا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے چاندی کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا جیسا تھا ویسا ہی بنا دو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8982

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8983

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ غَرِيمُهُ مَتَاعَهُ عِنْدَ الْمُفْلِسِ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیاہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8983

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8984

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي رَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُؤْمِنِ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ فَوْقِ ثِيَابِهِمَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا کپڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔

لِلْمُؤْمِنِ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ فَوْقِ ثِيَابِهِمَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← أَبِي رَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ ← خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8984

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8985

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ اسے کنکری دے مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو اس کی کوئی دیت اور قصاص نہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذٌ، ← عَلِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8985

chevron_left Previous
1…272829…324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter