Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8962

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ يَهْبِطُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَيُغْفَرُ لَهُ و قَالَ عَفَّانُ وَكَانَ أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا بِأَحَادِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ثُمَّ بَلَغَنِي بَعْدُ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُهَا مِنْ إِسْرَائِيلَ وَأَحْسَبُ هَذَا الْحَدِيثَ فِيهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا رہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے کہ میں اسے بخش دوں؟

سَمِعْتُهَا مِنْ إِسْرَائِيلَ وَأَحْسَبُ هَذَا الْحَدِيثَ فِيهَا ← أَبِي إِسْحَاقَ ثُمَّ بَلَغَنِي بَعْدُ أَنَّهُ ← بِأَحَادِيثَ ← عَفَّانُ وَكَانَ أَبُو عَوَانَةَ ← هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَيُغْفَرُ لَهُ و ← إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ يَهْبِطُ ← أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← الْاَغَرِّ اَبِیْ مُسْلِمٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8962

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8963

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ مِنْ الرَّحْمَنِ تَقُولُ يَا رَبِّ إِنِّي قُطِعْتُ يَا رَبِّ إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ يَا رَبِّ إِنِّي ظُلِمْتُ يَا رَبِّ يَا رَبِّ قَالَ فَيُجِيبُهَا أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم رحمن کا ایک جزو ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار مجھے توڑا گیا مجھ پر ظلم کیا گیا پروردگار میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا اللہ اسے جواب دے گا کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ میں اسے جوڑوں گا جو تجھے جوڑے گا اور میں اسے کاٹوں گا جو تجھے کاٹے گا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← محمد بن عبد الجبار رجل من الأنصار ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8963

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8964

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ جَالِسًا فِي الشَّمْسِ فَقَلَصَتْ عَنْهُ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص دھوپ میں بیٹھا ہوا ہو اور وہاں سے دھوپ ہٹ جائے تو اس شخص کو بھی اپنی جگہ بدل لینی چاہئے۔

إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ جَالِسًا فِي الشَّمْسِ فَقَلَصَتْ عَنْهُ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8964

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8965

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِكَنْزِهِ فَيُحْمَى عَلَيْهِ صَفَائِحُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُكْوَى بِهَا جَبِينُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِإِبِلِهِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جِيءَ بِهِ وَبِغَنَمِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْخَيْلُ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ وَهِيَ عَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ الَّذِي يَتَّخِذُهَا وَيَحْبِسُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنْ اسْتَنَّتْ مِنْهُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا أَجْرٌ وَلَوْ عَرَضَ لَهُ نَهْرٌ فَسَقَاهَا مِنْهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ غَيَّبَتْهُ فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا تَعَفُّفًا وَتَجَمُّلًا وَتَكَرُّمًا وَلَا يَنْسَى حَقَّهَا فِي ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَبَذَخًا عَلَيْهِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ قَالَ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْكَلَامِ كُلِّهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خزانوں کا مالک ہو اور اس کا حق ادانہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا پھر وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بکری مڑے ہوئے سینگوں والی یا بے سینگ نہ ہوگی جوں ہی آخری بکری اسے روندتے ہوئے گذرے گی پہلے والی دوبارہ آجائے گی تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے گھوڑوں کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی ستر و جمال ہوتا ہے اور بعض اوقات باعث عقاب ہوتا ہے جس آدمی کے لئے گھوڑا باعث ثواب ہوتا ہے وہ تو وہ آدمی ہے جو اسے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے پالتا اور تیار کرتا رہتا ہے ایسے گھوڑے کے پیٹ میں جو کچھ بھی جاتا ہے وہ سب اس کے لئے باعث ثواب ہوتا ہے اگر وہ کسی نہر کے پاس سے گذرتے ہوئے پانی پی لے تو اس کے پیٹ میں جانے والا پانی بھی باعث اجر ہے اور اگر وہ کہیں سے گذرتے ہوئے کچھ کھا لے تو وہ بھی اس شخص کے لئے باعث اجر ہے اور اگر وہ کسی گھاٹی پر چڑھے تو اس کی ہر ٹاپ اور ہر قدم کے بدلے اسے اجر عطاء ہوگا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کا بھی ذکر فرمایا۔ اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث ستر و جمال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو اسے زیب و زینت حاصل کرنے کے لئے رکھے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ کے حقوق اس کی آسانی اور مشکل کو فراموش نہ کرے اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث وبال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو غرور و تکبر اور نمود و نمائش کے لئے گھوڑے پالے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ الْبَصْرِيُّ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8965

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8966

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْكَلَامِ كُلِّهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خزانوں کا مالک ہو اور اس کا حق ادانہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا پھر وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بکری مڑے ہوئے سینگوں والی یا بے سینگ نہ ہوگی جوں ہی آخری بکری اسے روندتے ہوئے گذرے گی پہلے والی دوبارہ آجائے گی تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے گھوڑوں کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی ستر و جمال ہوتا ہے اور بعض اوقات باعث عقاب ہوتا ہے جس آدمی کے لئے گھوڑا باعث ثواب ہوتا ہے وہ تو وہ آدمی ہے جو اسے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے پالتا اور تیار کرتا رہتا ہے ایسے گھوڑے کے پیٹ میں جو کچھ بھی جاتا ہے وہ سب اس کے لئے باعث ثواب ہوتا ہے اگر وہ کسی نہر کے پاس سے گذرتے ہوئے پانی پی لے تو اس کے پیٹ میں جانے والا پانی بھی باعث اجر ہے اور اگر وہ کہیں سے گذرتے ہوئے کچھ کھا لے تو وہ بھی اس شخص کے لئے باعث اجر ہے اور اگر وہ کسی گھاٹی پر چڑھے تو اس کی ہر ٹاپ اور ہر قدم کے بدلے اسے اجر عطاء ہوگا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کا بھی ذکر فرمایا۔ اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث ستر و جمال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو اسے زیب و زینت حاصل کرنے کے لئے رکھے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ کے حقوق اس کی آسانی اور مشکل کو فراموش نہ کرے اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث وبال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو غرور و تکبر اور نمود و نمائش کے لئے گھوڑے پالے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

النَّبِيِّ نَحْوَ هَذَا الْكَلَامِ كُلِّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8966

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8967

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَ أَبُو عُمَرَ الْغُدَانِيُّ قَالَ عَفَّانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خزانوں کا مالک ہو اور اس کا حق ادانہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا پھر وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بکری مڑے ہوئے سینگوں والی یا بے سینگ نہ ہوگی جوں ہی آخری بکری اسے روندتے ہوئے گذرے گی پہلے والی دوبارہ آجائے گی تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے گھوڑوں کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی ستر و جمال ہوتا ہے اور بعض اوقات باعث عقاب ہوتا ہے جس آدمی کے لئے گھوڑا باعث ثواب ہوتا ہے وہ تو وہ آدمی ہے جو اسے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے پالتا اور تیار کرتا رہتا ہے ایسے گھوڑے کے پیٹ میں جو کچھ بھی جاتا ہے وہ سب اس کے لئے باعث ثواب ہوتا ہے اگر وہ کسی نہر کے پاس سے گذرتے ہوئے پانی پی لے تو اس کے پیٹ میں جانے والا پانی بھی باعث اجر ہے اور اگر وہ کہیں سے گذرتے ہوئے کچھ کھا لے تو وہ بھی اس شخص کے لئے باعث اجر ہے اور اگر وہ کسی گھاٹی پر چڑھے تو اس کی ہر ٹاپ اور ہر قدم کے بدلے اسے اجر عطاء ہوگا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کا بھی ذکر فرمایا۔ اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث ستر و جمال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو اسے زیب و زینت حاصل کرنے کے لئے رکھے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ کے حقوق اس کی آسانی اور مشکل کو فراموش نہ کرے اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث وبال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو غرور و تکبر اور نمود و نمائش کے لئے گھوڑے پالے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

عَفَّانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ← حَدَّثَ أَبُو عُمَرَ الْغُدَانِيُّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8967

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8968

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ وَاسْمُهُ هَرِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي أَنَّهُ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کر چکا ہو۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو زُرْعَةَ وَاسْمُهُ هَرِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ أَنَّهُ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8968

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8969

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَكْلُومٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ كُلِمَ وَكَلْمُهُ يَدْمَى اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8969

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8970

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْدُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَكِنْ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتْبَعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی سواریاں نہیں پاتا جن پر انہیں سوار کرسکوں اور وہ اتنی وسعت نہیں پاتے کہ وہ میری پیروی کرسکیں اور ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے ہٹنے لگیں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8970

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8971

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8971

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8972

حَدَّثَنَا عَفَّانٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى وَتَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھا جائے گی اور وہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردے گی جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8972

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8973

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ مَا الْغِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنْ كَانَ فِي أَخِيكَ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیبت کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس کو ناپسند ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتایئے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ مَا الْغِيبَةُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8973

chevron_left Previous
1…262728…324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter