Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10924

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آنکھیں بھی زناکرتی ہیں، ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10924

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10925

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغْنَمًا قَطُّ إِلَّا قَسَمَ لِي إِلَّا خَيْبَرَ فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو مُوسَى جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَخَيْبَرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس غزوے میں بھی شریک ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس میں سے مال غنیمت کا حصہ ضرور عطاء فرمایا سوائے خیبر کے کہ وہ خاص طور پر اہل حدیبیہ کے لئے تھا یاد رہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ اشعری عزوہ حدیبیہ اور خیبر کے درمیان آئے تھے۔

عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10925

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10926

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ طُولُ آدَمَ سِتِّينَ ذِرَاعًا فِي سَبْعَةِ أَذْرُعٍ عَرْضًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم علیہ السلام کا قد لمبائی میں ساٹھ اور چوڑائی میں سات گز تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10926

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10927

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الْحَيَاءُ وَالْخَفَرُ فَكَانَ يَسْتَتِرُ إِذَا اغْتَسَلَ فَطَعَنُوا فِيهِ يُعَيِّرُوهُ قَالَ فَبَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ يَغْتَسِلُ يَوْمًا إِذْ وَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ فَانْطَلَقَتْ الصَّخْرَةُ فَاتَّبَعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ضَرْبًا بِالْعَصَا ثَوْبِي يَا حَجَرُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ حَتَّى انْتَهَتْ بِهِ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَتَوَسَّطَتْهُمْ فَقَامَتْ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ ثِيَابَهُ فَنَظَرُوا إِلَى أَحْسَنِ النَّاسِ خَلْقًا وَأَعْدَلِهِمْ صُورَةً فَقَالَ الْمَلَأُ قَاتَلَ اللَّهُ أَفَّاكِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَكَانَتْ بَرَاءَتُهُ الَّتِي بَرَّأَهُ اللَّهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہوکر غسل کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شرم و حیاء کی وجہ سے تنہا غسل کیا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ ان پر جسمانی کمزوری کا الزام لگانے لگے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک مجلس کے عین بیچ میں پہنچ کر رک گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے اپنے کپڑے لے لئے اور لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ سب سے زیادہ حسین اور معتدل جسامت والے تھے وہ لوگ یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ بنی اسرائیل کے تہمت لگانے والوں پر اللہ کی مار ہو یہ وہی براءت تھی جو اللہ نے فرمائی تھی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10927

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10928

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَفْضَلُ صَلَاةٍ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے زیادہ افضل نماز رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی نماز ہے اور ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ افضل روزہ اللہ کے اس مہینے کا ہے جسے تم محرم کہتے ہو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← هشام بن عبد الملك الطيالسي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10928

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10929

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى قَاتِلَتِهَا فَقَالَ حَمَلُ بْنُ نَابِغَةَ الْهُذَلِيُّ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هُوَ مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں قاتلہ کے خاندان والوں پر مقتولہ کی دیت اور اس کے بچے کے حوالے سے ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا اس فیصلے پر ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے (مسجع کلام میں) کہا کہ اس بچے کی دیت کا فیصلہ کیسے عقل میں آسکتا ہے جس نے کچھ کھایا پیا اور نہ بولا چلایا اس قسم کی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے بقول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10929

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10930

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا صَالِحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ يَطُوفُ فِي مِنًى أَنْ لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں گھوم پھر کر یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ ان ایام میں روزہ نہ رکھو ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10930

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10931

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْحُرِّ النَّخَعِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلَكَ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ فَمَشَيْتُ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ حَقُّهُ أَنْ يَعْبُدُوهُ لَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ حَقَّهُمْ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ قُلْتُ أَفَلَا أُخْبِرُهُمْ قَالَ دَعْهُمْ فَلْيَعْمَلُوا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جارہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! مال ودولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول و لاقوۃ الاباللہ و لا ملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں لوگوں کو اس سے مطلع نہ کردوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں عمل کرنے دو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← جَابِرُ بْنُ الْحُرِّ النَّخَعِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10931

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10932

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ ابْنَ حُنَيْنٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ حَتَّى خَتَمَهَا فَقَالَ وَجَبَتْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَبَتْ قَالَ الْجَنَّةُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَأُبَشِّرَهُ فَآثَرْتُ الْغَدَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَرِقْتُ أَنْ يَفُوتَنِي الْغَدَاءُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الرَّجُلِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ ذَهَبَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سورت اخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا واجب ہوگئی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ! کیا چیز واجب ہوگئی فرمایا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا اس کے پاس جا کر اسے یہ خوشخبری دے دوں اور اپنا ناشتہ قربان کردوں لیکن پھر مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میرا ناشتہ فوت نہ ہوجائے چنانچہ بعد میں اس آدمی کے پاس پہنچا تو وہ جا چکا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ ابْنَ حُنَيْنٍ ← مَالِكٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10932

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10933

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ لَهُ حَظُّهُ مِنْ الزِّنَا فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا الْيَدَيْنِ الْبَطْشُ وَزِنَا الرِّجْلَيْنِ الْمَشْيُ وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ وَحَلَّقَ عَشْرَةً ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِيهَا يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَحْمُهُ وَدَمُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ آنکھیں بھی زناکرتی ہیں اور ان کا زنادیکھناہے ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اوان کا زنا چل کر جانا ہے منہ بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ دینا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10933

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10934

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْأَفُهُ بِزَوْجٍ عَلَى قِلَّةِ ذَاتِ يَدِهِ ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَدْ عَلِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَةَ عِمْرَانَ لَمْ تَرْكَبْ الْإِبِلَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ حضرت مریم علیہا السلام نے کبھی اونٹ پر سواری نہیں کی۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10934

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10935

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَفَرَّقُ الْمُتَبَايِعَانِ عَنْ بَيْعٍ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کسی بھی معاملے میں اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک باہمی رضامندی نہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ ← يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10935

chevron_left Previous
1…264265266…324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter