Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10792

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي وَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ وَمَنْ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِذَا أَقْبَلَ يَمْشِي أَقْبَلْتُ أُهَرْوِلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جو تم میں سے کسی کو جنگل میں اپنا گمشدہ سامان (یاسواری) ملنے سے ہوتی ہے اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتاہوں۔

عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ← اللَّهُ تَعَالَى. ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زُهَيْرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10792

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10793

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَرَّ بِالْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ قَطُّ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ وَمَا مَرَّ بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ قَطُّ أَشَرُّ لَهُمْ مِنْهُ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ وَيَكْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَاءَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ وَذَاكَ لِأَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ مِنْ النَّفَقَةِ لِلْعِبَادَةِ وَيُعِدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُ ابْتِغَاءَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَوْرَاتِهِمْ فَهُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مہینہ تم پر سایہ فگن ہوا ہے پیغمبر اللہ قسم کھاتے ہیں کہ مسلمانوں پر ماہ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ سایہ فگن نہیں ہوتا اور منافقین پر رمضان سے زیادہ سخت کوئی مہینہ نہیں آتا اللہ تعالیٰ اس کے آنے سے پہلے اس کا اجر اور نوافل لکھنا شروع کردیتا ہے اور منافقین کا گناہوں پراصرار اور بدبختی بھی پہلے سے لکھنا شروع کردیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں عبادت کے لئے طاقت مہیا کرتے ہیں اور منافقین لوگوں کی غفلتوں اور عیوب کو تلاش کرتے ہیں گویا یہ مہینہ مسلمان کے لئے غنیمت ہے جس پر گناہ گار لوگ رشک کرتے ہیں

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10793

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10794

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ فَذَكَرَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مہینہ تم پر سایہ فگن ہوا ہے پیغمبر اللہ قسم کھاتے ہیں کہ مسلمانوں پر ماہ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ سایہ فگن نہیں ہوتا اور منافقین پر رمضان سے زیادہ سخت کوئی مہینہ نہیں آتا اللہ تعالیٰ اس کے آنے سے پہلے اس کا اجر اور نوافل لکھنا شروع کردیتا ہے اور منافقین کا گناہوں پراصرار اور بدبختی بھی پہلے سے لکھنا شروع کردیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں عبادت کے لئے طاقت مہیا کرتے ہیں اور منافقین لوگوں کی غفلتوں اور عیوب کو تلاش کرتے ہیں گویا یہ مہینہ مسلمان کے لئے غنیمت ہے جس پر گناہ گار لوگ رشک کرتے ہیں

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10794

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10795

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ قَالَ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا مَنْ تَعُولُ قَالَ امْرَأَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي أَوْ أَنْفِقْ عَلَيَّ شَكَّ أَبُو عَامِرٍ أَوْ طَلِّقْنِي وَخَادِمُكَ يَقُولُ أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي وَابْنَتُكَ تَقُولُ إِلَى مَنْ تَذَرُنِي

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کیا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذمہ داری والے افراد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ مجھے طلاق دےدو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟

أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي وَابْنَتُكَ تَقُولُ إِلَى مَنْ تَذَرُنِي ← امْرَأَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي أَوْ أَنْفِقْ عَلَيَّ شَكَّ أَبُو عَامِرٍ أَوْ طَلِّقْنِي وَخَادِمُكَ ← سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا مَنْ تَعُولُ ← ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» ← «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زيد1 ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10795

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10796

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عُيَيْنَةُ مَاءٍ عَذْبٍ فَأَعْجَبَهُ طِيبُهُ فَقَالَ لَوْ أَقَمْتُ فِي هَذَا الشِّعْبِ فَاعْتَزَلْتُ النَّاسَ وَلَا أَفْعَلُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاةِ سِتِّينَ عَامًا خَالِيًا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ الْجَنَّةَ اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک صحابی کا کسی ایسی جگہ سے گذر ہوا جہاں پر میٹھے پانی کا چشمہ تھا اور انہیں وہاں کی آب وہوا بھی اچھی لگی انہوں نے سوچا کہ میں یہیں رہائش اختیار کر کے خلوت گزیں ہوجاتا ہوں پھر انہوں نے سوچا کہ نہیں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا چنانچہ انہوں نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کا جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہونا اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہوئے ساٹھ سال تک مسلسل عبادت کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور تم جنت میں داخل ہوجاؤ؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جو شخص اونٹنی کے تھن میں دودھ اترنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہوتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10796

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10797

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان ایک جانور کے بارے میں جھگڑا ہوگیا لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لئے گواہ نہیں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کرنے کا حکم دیا (جس کے نام قرعہ نکل آئے وہ قسم کھا لے)

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي رَافِعٍ ← خِلَاسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10797

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10798

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا يَعْنِي الْقَتْلَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ علم کو اٹھا نہ لیا جائے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا نبی اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔

يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قِيلَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَالِمًا ← حَنْظَلَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10798

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10799

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ يَعْنِي أَحَدٌ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ وَلَا يُنَجِّيهِ مِنْ النَّارِ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل کرکے جہنم سے نجات نہیں دلاسکتا جب تک کہ اللہ کا فضل وکرم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یارسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ دہرایا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10799

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10800

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ قِيلَ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ "فال" سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! فال سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں کوئی سنے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10800

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10801

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ الْأَيْلِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَكْرَهَهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ وَتَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں تم محسوس کروگے کہ ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں اور تم اس معاملے میں اس آدمی کو سب سے بہترین پاؤگے جو اس دین میں داخل ہونے سے پہلے بھی معزز تھا اور تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10801

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10802

حَدَّثَنَا وَهْبٌ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَفِيضُ الْمَالُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ قریب آجائے گا مال پانی کی طرح بہنے لگے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور "ہرج" کی کثرت ہوجائے گی کسی نے پوچھا کہ ہرج کا کیا معنی ہے؟ فرمایا قتل۔

حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← وَھْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10802

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10803

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَاوَزُوا فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ خَلْفَكُمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ تمہارے پیچھے نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10803

chevron_left Previous
1…253254255…324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter