Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8794

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ أَنْزِعُ بِدَلْوٍ ثُمَّ أَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فِيهِمَا ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَرْحَمُهُ ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ فَإِنْ بَرِحَ يَنْزِعُ حَتَّى اسْتَحَالَتْ غَرْبًا ثُمَّ ضَرَبَتْ بِعَطَنٍ فَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَزْعِ عَبْقَرِيٍّ أَحْسَنَ مِنْ نَزْعِ عُمَرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک حوض پر ڈول کھینچ کر لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لئے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور ایک دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزروی کے آثار تھے اللہ ان پر رحم فرمائے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے انہوں نے وہ ڈول لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں آکر بڑا ڈول بن گیا لوگ اس سے سیراب ہوگئے اور میں نے عمر سے اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عبقری آدمی نہیں دیکھا۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8794

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8795

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَ ذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھاتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غائب چھوٹوں اور بڑوں مردوں اور عورتوں کی بخشش فرما اے اللہ تو ہم میں سے جسے زندہ رکھا اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے ایمان پر موت دے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8795

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8796

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمَا تَحْقِرُونَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ تمہاری اس سر زمین عرب میں دوباہرہ اس کی پوجا کی جائے گی البتہ وہ ایسی چیزوں پر خوش ہوگیا ہے جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← مُعَاوِيَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8796

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8797

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوْا مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ كَافِرِينَ يَقُولُونَ الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو تو سہی کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے وہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں پر جتنی بھی نعمتیں برسائیں ہمیشہ ایک گروہ نے ان کی ناشکری ہی کی اور یہی کہتے رہے کہ یہ فلاں ستارے کی تاثیر ہے اور یہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہوا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← رشدين بن سعد ← هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8797

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8798

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جگہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر اور سب سے بدتر کون ہے؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اس پر ان میں سے ایک آدمی بولا کیوں نہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید ہو اور اس کے شر سے امن ہو اور سب سے بدتر وہ ہے جس سے خیر کی توقع نہ ہو اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ ← هَيْثَمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8798

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8799

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي وَمَالِي وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى فَأَقْنَى مَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کہتا پھرتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ اس کا مال تو صرف یہ تین چیزیں ہیں جو کھا کر فناء کردیا یا اللہ کے راستہ میں دے کر کسی کو خوش کردیا اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سب لوگوں کے لئے رہ جائے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← هَيْثَمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8799

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8800

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقَعَنَّ رَجُلٌ عَلَى امْرَأَةٍ وَحَمْلُهَا لِغَيْرِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص ایسی عورت سے مباشرت نہ کرے جو کسی دوسرے سے حاملہ ہو۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← بُكَيْرٍ، ← عَمْرٍو، ← رشدين ← هَيْثَمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8800

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8801

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ بِحِضْنَيْهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَرْيَمَ وَابْنِهَا أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الصَّبِيِّ حِينَ يَسْقُطُ كَيْفَ يَصْرُخُ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ بِحِضْنَيْهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچو کے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کیا تم اس بات کو دیکھتے نہیں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کسی طرح رو رہا ہوتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہی تو ہے جو شیطان اسے کچوکے لگاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← هَيْثَمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8801

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8802

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعُ الْكَافِرُ وَقَاتِلُهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فِي النَّارِ أَبَدًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← هَيْثَمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8802

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8803

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنِ الْعَلَاءِ و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجْمَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَطْلُعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ ثُمَّ يُقَالُ أَلَا تَتَّبِعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فَيَتَمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ وَلِصَاحِبِ الصُّوَرِ صُوَرُهُ وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ فَيَتَّبِعُونَ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ وَيَبْقَى الْمُسْلِمُونَ فَيَطْلُعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ اللَّهُ رَبُّنَا وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ ثُمَّ يَتَوَارَى ثُمَّ يَطْلُعُ فَيَقُولُ أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ اللَّهُ رَبُّنَا وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ قَالُوا وَهَلْ نَرَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ تِلْكَ السَّاعَةَ ثُمَّ يَتَوَارَى ثُمَّ يَطْلُعُ فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ اتَّبِعُونِي فَيَقُومُ الْمُسْلِمُونَ وَيُوضَعُ الصِّرَاطُ فَهُمْ عَلَيْهِ مِثْلُ جِيَادِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَقَوْلُهُمْ عَلَيْهِ سَلِّمْ سَلِّمْ وَيَبْقَى أَهْلُ النَّارِ فَيُطْرَحُ مِنْهُمْ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ هَلْ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ثُمَّ يُطْرَحُ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ هَلْ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى إِذَا أُوعِبُوا فِيهَا وَضَعَ الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ قَدَمَهُ فِيهَا وَزَوَى بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ قَالَتْ قَطْ قَطْ قَطْ وَإِذَا صُيِّرَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ مُلَبَّبًا فَيُوقَفُ عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ أَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ يَرْجُونَ الشَّفَاعَةَ فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَلِأَهْلِ النَّارِ تَعْرِفُونَ هَذَا فَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ قَدْ عَرَفْنَاهُ هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وُكِّلَ بِنَا فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ وَأُزْوِيَ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ قَالَ قَطْ قَالَتْ قَطْ قَطْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک ٹیلے پر جمع کیا جائے گا پھر رب العلمین انہیں جھانک کر دیکھے گا پھر اعلان کیا جائے گا کہ ہر قوم ان کے پیچھے چلی جائے جن کی وہ عبادت کرتی تھی چنانچہ صلیب کے بچاری کے لئے صلیب تصویروں کے بچاری کے لئے تصویر اور آگ کے پجاری کے لئے آگ کی تمثیل پیش کردی جائے گی اور وہ اپنے معبودوں کے پیچھے چل پڑیں گے اور صرف مسلمان رہ جائیں گے پھر رب العلمین انہیں بھی جھانک کر دیکھے گا اور فرمائے گا تم لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں جا رہے؟ وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ ہمارا رب ہے اور جب تک ہم اپنے رب کو دیکھ نہیں لیتے یہیں رہیں گے وہ انہیں حکم دے گا اور ثابت قدم رکھے گا (پھر وہ چھپ جائے گا اور دوبارہ ظاہر ہو کری ہی سوال جواب کرے گا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے پروردگار کو دیکھ سکیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چود ہویں رات کا چاند دیکھنے میں کسی قسم کی مشقت ہوتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس وقت تمہیں اسے دیکھنے میں بھی کوئی مشقت نہیں ہوگی بہرحال تیسری مرتبہ پوشیدہ ہونے کے بعدجب وہ ظاہر ہوگا تو انہیں اپنی معرفت عطاء فرمادے گا اور انہیں بتا دے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں تم میرے پیچھے آجاؤ چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے اور پل صراط قائم کردیا جائے گا اور مسلمان اس پر بہترین گھوڑوں اور عمدہ شہسواروں کی طرح گذرجائیں گے اور کہتے جائیں گے سلم سلم جہنمی رہ جائیں گے اور انہیں فوج در فوج جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کہ کچھ بھی ہے؟ اس میں ایک اور فوج پھینک دی جائے گی اور پھر یہی سوال جواب ہوں گے حتی کہ رحمان اس میں اپنا قدم رکھ دے گا اور جہنم کے حصے سکڑج ائیں گے اور وہ کہے گی بس بس بس پھر جب جنتی جنت میں چلے جائیں گے اور جہنمی جہنم میں تو موت کو لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ جی پروردگار! یہ موت ہے پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی وہ اس خوشی سے جھانک کر دیکھیں گے کہ شایدانہیں اس جگہ سے نکلنا نصیب ہوجائے پھر ان سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں یہ موت ہے چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہوگے اس میں کبھی موت نہ آئے گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← قُتَيْبَةُ، ← العلاء و ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← هَيْثَمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8803

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8804

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَفَّارَةُ الْمَجَالِسِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کفارہ مجلس یہ ہے کہ انسان مجلس سے اٹھتے وقت یوں کہہ لے۔ سبحانک اللہم و بحمدک استغفرک و اتوب الیک''

الْعَبْدُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ← كَفَّارَةُ الْمَجَالِسِ أَنْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هَيْثَمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8804

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8805

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يَقُولُ أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے۔

الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبَا سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← حُسَيْنٌ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8805

chevron_left Previous
1…121314…324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter