Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7109

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ لِي أَبِي هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا قُلْتُ لَا فَقَالَ لِي أَبِي هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَاكَ وَكُنْتُ أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَا يُشْبِهُ النَّاسَ فَإِذَا بَشَرٌ لَهُ وَفْرَةٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ذُو وَفْرَةٍ وَبِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي ثُمَّ جَلَسْنَا فَتَحَدَّثْنَا سَاعَةً ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي ابْنُكَ هَذَا قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ حَقًّا قَالَ أَشْهَدُ بِهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ ثَبْتِ شَبَهِي بِأَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى مِثْلِ السِّلْعَةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَطَبُّ الرِّجَالِ أَلَا أُعَالِجُهَا لَكَ قَالَ لَا طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میری نظر جب ان پر پڑی تو والد صاحب نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ؟ میں نے کہا نہیں والد صاحب نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسی چیز سمجھتا تھا جو انسانوں کے مشابہہ نہ ہو لیکن وہ تو کامل انسان تھے ان کے لمبے لمبے بال تھے اور ان کے سر مبارک پر مہندی کا اثر تھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے میرے والد صاحب نے انہیں سلام کیا اور بیٹھ کرباتیں کرنے لگے۔ تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد صاحب سے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹاہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں رب کعبہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واقعی؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتاہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیئے کیونکہ میری شکل صورت اپنے والد سے سے ملتی جلتی تھی پھر میرے والد صاحب نے اس پر قسم بھی کھا لی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو اور یہ آیت تلاوت فرمائی کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ " پھر میرے والد صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان کچھ ابھرا ہوا حصہ دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھاجاتا ہوں کیا میں آپ کا علاج کر کے (اسے ختم نہ) کردوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے۔

أَبِي رِمْثَةَ ← إِيَادٍ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادٍ ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7109

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7110

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ فَأَرِنِي هَذِهِ السِّلْعَةَ الَّتِي بِظَهْرِكَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهَا قَالَ أَقْطَعُهَا قَالَ لَسْتَ بِطَبِيبٍ وَلَكِنَّكَ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي وَضَعَهَا وَقَالَ غَيْرُهُ الَّذِي خَلَقَهَا

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لڑکپن میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میرے والد صاحب نے عرض کیا یا رسول اللہ میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھاجاتا ہوں کیا میں آپ کی پشت پر یہ جو گوشت ابھرا ہوا حصہ ہے مجھے دیکھائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں اسے کاٹ دوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم طبیب نہیں رفیق ہو اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے۔

لَسْتَ بِطَبِيبٍ وَلَكِنَّك رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي وَضَعَهَا وَقَالَ غَيْرُهُ الَّذِي خَلَقَهَا. ← اقْطَعْهَا. ← وَمَا تَصْنَعُ بِهَا ← فَقَالَ لَهُ أَبِي إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ فَأَرِنِي هَذِهِ السِّلْعَةَ الَّتِي بِظَهْرِكَ ← انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلاَمٌ إِلَى النَّبِيِّ ← أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← ابْنَ أَبْجَرَ ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7110

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7111

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ تَيْمَ الرِّبَابِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنِي فَأَرَانِيهِ إِيَّاهُ فَقُلْتُ لِابْنِي هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْهُ الرِّعْدَةُ هَيْبَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ أَطِبَّاءَ فَأَرِنِي ظَهْرَكَ فَإِنْ تَكُنْ سِلْعَةً أَبُطُّهَا وَإِنْ تَكُ غَيْرَ ذَلِكَ أَخْبَرْتُكَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ إِنْسَانٍ أَعْلَمَ بِجُرْحٍ أَوْ خُرَاجٍ مِنِّي قَالَ طَبِيبُهَا اللَّهُ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ لَهُ شَعَرٌ قَدْ عَلَاهُ الْمَشِيبُ وَشَيْبُهُ أَحْمَرُ فَقَالَ ابْنُكَ هَذَا قُلْتُ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ ابْنُ نَفْسِكَ قُلْتُ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ فَإِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودکھاتے ہوئے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس پر ہیبت کی وجہ سے وہ مرطوب ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھاجاتاہوں اطباء کے گھرانے سے میرا تعلق ہے آپ مجھے اپنی پشت دکھائیے اگر یہ پھوڑا ہوا تو میں اسے دبا دوں گا ورنہ آپ کو بتا دوں گا کیونکہ اس وقت زخموں کا مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایاہے ان کے لمبے لمبے بال تھے اور ان کے سر مبارک پر مہندی کا اثر تھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے تھے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں رب کعبہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واقعی؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتاہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو۔

أَبِي رمثة التيمي تيم الرباب ← إياد بن لقيط العجلي ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سعيد بن أبي الربيع السمان ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7111

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7112

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ حَجَجْتُ فَرَأَيْتُ رَجُلًا جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ أَبِي تَدْرِي مَنْ هَذَا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ إِذَا رَجُلٌ ذُو وَفْرَةٍ بِهِ رَدْعٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حج کیا اور خانہ کعبہ کے سائے میں ایک آدمی کو بیٹھے ہوئے دیکھا میری نظر جب ان پر پڑی تو والد صاحب نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ؟ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان کے لمبے لمبے بال تھے اور ان کے سر مبارک پر مہندی کا اثر تھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے تھے۔

حَجَجْتُ فَرَأَيْتُ رَجُلًا جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ← أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7112

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7113

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي فَقَالَ ابْنُكَ هَذَا قُلْتُ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے ۔ ؟ میں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال سرخ دیکھے۔

وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ ← لاَ يَجْنِي عَلَيْكَ وَلاَ تَجْنِي عَلَيْهِ، ← ابْنُكَ هَذَا قُلْتُ أَشْهَدُ بِهِ ← أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعِي ابْنٌ لِي ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ غَيْرَ مَرَّةٍ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7113

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7114

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ رَجُلٍ هُوَ ثَابِتُ بْنُ مُنْقِذٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كُنَّا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَلَقِينَاهُ فَقَالَ لِي أَبِي يَا بُنَيَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُشْبِهُ النَّاسَ فَإِذَا رَجُلٌ لَهُ وَفْرَةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سَاقَيْهِ قَالَ فَقَالَ لِأَبِي مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ هَذَا وَاللَّهِ ابْنِي قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَلِفِ أَبِي عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ صَدَقْتَ أَمَا إِنَّكَ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ قَالَ وَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا راستے میں ہماری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گئی والد صاحب نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسی چیز سمجھتا تھا جوانسانوں کے مشابہہ نہ ہو لیکن وہ تو کامل انسان تھے ان کے لمبے لمبے بال تھے اور ان کے سر مبارک پر مہندی کا اثر تھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے تھے اور ان کے پنڈلیاں اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہیں ۔ تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد صاحب سے پوچھا یہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ واللہ یہ میرا بیٹا ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے کیونکہ میرے والد صاحب نے اس پر قسم کھا لی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سچ کہا یاد رکھو تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو اور یہ آیت تلاوت فرمائی کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

وَكُنْتُ أَحْسَبُ ← لِي أَبِي يَا بُنَيَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ ← وَأَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَلَمَّا كُنَّا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَلَقِينَاهُ ← انْطَلَقْتُ ← أَبِي رِمْثَةَ ← رَجُلٍ هُوَ ثَابِتُ بْنُ مُنْقِذٍ ← صدقة بن أبي عمران ← يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7114

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7115

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ فَأَتَيْنَا رَجُلًا مِنْ الْهَاجِرَةِ جَالِسًا فِي ظِلِّ بَيْتِهِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ وَشَعْرُهُ وَفْرَةٌ وَبِرَأْسِهِ رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ قَالَ فَقَالَ لِي أَبِي أَتَدْرِي مَنْ هَذَا فَقُلْتُ لَا قَالَ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَحَدَّثْنَا طَوِيلًا قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ طِبٍّ فَأَرِنِي الَّذِي بِبَاطِنِ كَتِفِكَ فَإِنْ تَكُ سِلْعَةً قَطَعْتُهَا وَإِنْ تَكُ غَيْرَ ذَلِكَ أَخْبَرْتُكَ قَالَ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا قَالَ ثُمَّ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَقَالَ لَهُ ابْنُكَ هَذَا قَالَ أَشْهَدُ بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرْ مَا تَقُولُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشَبَهِي بِأَبِي وَلِحَلِفِ أَبِي عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں لڑکپن میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم لوگ دوپہر کے وقت ایک آدمی کے پاس پہنچے جو اپنے گھر کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا اس نے دو سبز چادریں اورڑھ رکھی تھی اس کے بال لمبے تھے اور سر پر مہندی کا اثر تھا میری نظر جب ان پر پڑی تو والد صاحب نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ؟ میں نے کہا نہیں ، والد صاحب نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ہم کافی دیرتک باتیں کرتے رہے۔ پھر میرے والد صاحب نے عرض کیا کہ میں اطباء کے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں آپ مجھے اپنے کندھے کا یہ حصہ دکھایئے اگر یہ پھوڑا ہوا تو میں اسے دبادوں گا ورنہ میں آپ کو بتادوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایاہے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر میرے والد صاحب سے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں رب کعبہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واقعی؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیئے کیونکہ میری شکل وصورت اپنے والد سے ملتی جلتی تھی پھر میرے والد صاحب نے اس پر قسم کھالی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو۔

أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← قيس بن الربيع الأسدي ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7115

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7116

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا قُلْتُ لَا قَالَ هَذَا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ لَا يُشْبِهُ النَّاسَ فَإِذَا بَشَرٌ ذُو وَفْرَةٍ وَبِهَا رَدْعُ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ بُرَدَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي ثُمَّ جَلَسْنَا فَتَحَدَّثْنَا سَاعَةً ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي ابْنُكَ هَذَا قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ حَقًّا قَالَ أَشْهَدُ بِهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ تَثْبِيتِ شَبَهِي بِأَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ نَظَرَ إِلَى مِثْلِ السِّلْعَةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ أَلَا أُعَالِجُهَا لَكَ قَالَ لَا طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میری نظرجب ان پر پڑی تو والد صاحب نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ؟ میں نے کہا نہیں والد صاحب نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسی چیز سمجھتا تھا جوانسانوں کے مشابہہ نہ ہو لیکن وہ تو کامل انسان تھے ان کے لمبے لمبے بال تھے اور ان کے سر مبارک پر مہندی کا اثر تھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے تھے میرے والد صاحب نے انہیں سلام کیا اور بیٹھ کرباتیں کرنے لگے۔ تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر میرے والد صاحب سے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں رب کعبہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واقعی؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتاہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے کیونکہ میری شکل وصورت اپنے والد سے ملتی جلتی تھی پھر میرے والد صاحب نے اس پر قسم کھا لی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو۔ اور یہ آیت تلاوت فرمائی کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ " پھر میرے والد صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان کچھ ابھرا ہوا حصہ دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھاجاتا ہوں کیا میں آپ کا علاج کرکے (اسے ختم نہ) کردوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے۔

ذَلِكَ، وَكُنْتُ أَظُنُّ ← فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ ← هَذَا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا قُلْتُ لَا ← انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ ← أَبِي رِمْثَةَ ← أَبِيهِ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7116

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7117

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَأَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے تھے ۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ ← أَبِي رِمْثَةَ ← أَبِيهِ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي وَأَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7117

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7118

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَلَمْ أَكُنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَقُلْتُ لِابْنِي هَذَا وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ ابْنِي يَرْتَعِدُ هَيْبَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ وَإِنَّ أَبِي كَانَ طَبِيبًا وَإِنَّا أَهْلُ بَيْتِ طِبٍّ وَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيْنَا مِنْ الْجَسَدِ عِرْقٌ وَلَا عَظْمٌ فَأَرِنِي هَذِهِ الَّتِي عَلَى كَتِفِكَ فَإِنْ كَانَتْ سِلْعَةً قَطَعْتُهَا ثُمَّ دَاوَيْتُهَا قَالَ لَا طَبِيبُهَا اللَّهُ ثُمَّ قَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي مَعَكَ قُلْتُ ابْنِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ ابْنُكَ قَالَ ابْنِي أَشْهَدُ بِهِ قَالَ ابْنُكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوا نہیں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو سبز چادروں میں باہر تشریف لائے میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی ہیں تو میرا بیٹا ہیبت کی وجہ سے کانپنے لگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھاجاتا ہوں اطباء کے گھرانے میں سے میرا تعلق ہے آپ مجھے اپنی پشت دکھائیے اگر یہ پھوڑا ہوا تو میں اسے دبا دوں گا ورنہ آپ کو بتا دوں گا کیونکہ اس وقت زخموں کا مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں رب کعبہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واقعی؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو۔

أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7118

chevron_left Previous
1…220221222223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter