Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6941

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوَتْرُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تم پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ وتر ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6941

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6942

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ أَصِلُ وَيَقْطَعُونَ وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونَ وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَ أَفَأُكَافِئُهُمْ قَالَ لَا إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ مِنْ اللَّهِ ظَهِيرٌ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان سے رشتہ داری جوڑتاہوں وہ توڑتے ہیں میں ان سے درگزر کرتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں میں ان کے ساتھ اچھاسلوک کرتا ہوں وہ میرے ساتھ برا کرتے ہیں کیا میں بھی ان کا بدلہ دے سکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ورنہ تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا تم فضیلت والا پہلواختیار کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو اور جب تک تم ایسا کرتے رہو گے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ مستقل ایک معاون لگا رہے گا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6942

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6943

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاجِعُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہدیئے کو واپس مانگنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی کتا قے کر کے اس کوچاٹ لے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْحَجَّاجِ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6943

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6944

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَنْتِفُ شَعَرَهُ وَيَدْعُو وَيْلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ قَالَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ قَالَ أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ لَا أَجِدُهَا قَالَ صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ لَا أَجِدُ قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا قَالَ كُلْهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اپنے بال نوچتا اور واویلا کرتا ہوا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کر دو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں ؟ نبی کریم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھالیں ۔

«خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ سِتِّينَ مِسْكِينًا». ← فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ← لا أجد ← «أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» ← لَا أَسْتَطِيعُ ← صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ← لَا أَجِدُهَا ← «أَعْتِقْ رَقَبَةً» ← وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ مَا لَكَ ← بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَنْتِفُ شَعَرَهُ وَيَدْعُو وَيْلَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← إِبْرَاهِيم بْنِ عَامِرٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6944

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6945

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَطَاءٍ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ بِمِثْلِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ بَدَنَةً قَالَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا مَكَانَهُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اپنے بال نوچتا اور واویلا کرتا ہوا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کر دو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں ؟ نبی کریم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھالیں ۔

عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا مَكَانَهُ ← النَّبِيِّ وَزَادَ بَدَنَةً ← جَدِّهِ بِمِثْلِهِ ← أَبِيهِ ← عَطَاءٍ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْحَجَّاجِ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6945

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6946

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ نَوْفًا وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو اجْتَمَعَا فَقَالَ نَوْفٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَثُورَ النَّاسُ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَجَاءَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ رَافِعًا إِصْبَعَهُ هَكَذَا وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ هَذَا رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ يَا مَلَائِكَتِي انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي هَؤُلَاءِ أَدَّوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى

ایک مرتبہ حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور نوف کسی مقام پر جمع ہوئے نوف کہنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی اور کہا کہ حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم لوگوں نے ایک دن مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی جانے والے چلے گئے اور بعد میں آنے والے بعد میں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس پھولا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اٹھا کر انتیس کا عدد بنایا اور آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے گروہ مسلمین تمہیں خوشخبری ہو تمہارے رب نے آسمان کا ایک دروازہ کھولا ہے اور وہ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میرے ان بندوں نے ایک فرض ادا کر دیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں ۔

أُحَدِّثُكَ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← الْحَدِيثَ. ← نوف ← عبد الله بن عمرو اجتمعا ← مطرف بن عبد الله بن الشخير ان نوفا ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6946

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6947

مَضْرُوبٌ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ وَهَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ قَالَ هَوْذَةُ الهِزَّانِيُّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ الذَّهَبَ مِنْ أُمَّتِي فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ لَمْ يَلْبَسْ مِنْ ذَهَبِ الْجَنَّةِ وَقَالَ هَوْذَةُ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ذَهَبَ الْجَنَّةِ وَمَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ مِنْ أُمَّتِي فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ حَرِيرَ الْجَنَّةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ ضَرَبَ أَبِي عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ضَرَبَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ خَطَأٌ وَإِنَّمَا هُوَ مَيْمُونُ بْنُ أَسْتَاذَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ الصَّدَفِيِّ وَيُقَالُ إِنَّ مَيْمُونَ هَذَا هُوَ الصَّدَفِيُّ لِأَنَّ سَمَاعَ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ مِنْ الْجُرَيْرِيِّ آخِرَ عُمُرِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے جو شخص سونا پہنتا ہے اور اسی حال میں مر جاتا ہے وہ جنت کا سونا نہیں پہن سکے گا یا یہ کہ اللہ اس پر جن کا سونا حرام قرار دے دیتا ہے اور میری امت میں جو شخص ریشم پہنتا ہے اور اسی حال میں میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کا ریشم حرام قرار دے دیتا ہے عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والدامام احمدرحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو کاٹ دیا تھا کیونکہ اس میں سند کی غلطی پائی جاتی ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← هَوْذَةُ الهِزَّانِيُّ ← مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ ← عَوْفٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ وَهَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← مَضْرُوبٌ عَلَيْهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6947

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6948

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ عَنِ الصَّدَفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ شُرْبَهَا فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَتَحَلَّى الذَّهَبَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ لِبَاسَهُ فِي الْجَنَّةِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے جو شخص شراب پیتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کی شراب حرام قرار دے دیتا ہے اور میری امت میں سے جو شخص سونا پہنتا ہے اور اسی حال میں میں مر جاتا ہے اللہ اس پر جنت کا سونا حرام قرار دے دیتا ہے ۔

النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الصدفي ← مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6948

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6949

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ فَهُوَ رَقِيقٌ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس غلام سے سو اوقیہ بدل کتابت اداء کرنے پر آزادی کا وعدہ کر لیا جائے اور وہ نوے اوقیہ ادا کر دے تب بھی وہ غلام ہی رہے گا (تا آنکہ مکمل ادائیگی کردے)

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6949

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6950

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ الثَّقَفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُوضَعُ الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا حُجْنَةٌ كَحُجْنَةِ الْمِغْزَلِ تَتَكَلَّمُ بِأَلْسِنَةٍ طُلْقٍ ذُلْقٍ فَتَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا وَتَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن رحم کو چرخے کی طرح ٹیڑھی شکل میں پیش کیا جائے گا اور وہ انتہائی فصیح و بلیغ زبان میں گفتگو کر رہا ہو گا جس نے اسے جوڑا ہو گا وہ اسے جوڑ دے گا اور جس نے اسے توڑا ہو گا وہ اسے توڑ دے گا۔

النَّبِيِّ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ثُمَامَةَ الثَّقَفِيِّ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6950

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6951

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ صُمْ يَوْمًا وَلَكَ عَشَرَةُ أَيَّامٍ قَالَ زِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِي قُوَّةً قَالَ صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ تِسْعَةُ أَيَّامٍ قَالَ زِدْنِي فَإِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ ثَمَانِيَةُ أَيَّامٍ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ایک دن روزہ رکھو تو دس کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا دو دن روزہ رکھو تمہیں نو کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا تین روزے رکھو تمہیں آٹھ روزوں کا ثواب ملے گا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6951

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6952

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَعَبْدُ الصَّمَدِ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرٍ قَالَ أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَلَى نَوْفٍ الْبِكَالِيِّ وَهُوَ يُحَدِّثُ فَقَالَ حَدِّثْ فَإِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنْ الْحَدِيثِ قَالَ مَا كُنْتُ لِأُحَدِّثُ وَعِنْدِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ الْأَرْضِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ لَخِيَارُ الْأَرْضِ إِلَى مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ فَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ الْأَرْضُ وَتَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَحْشُرُهُمْ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ ثُمَّ قَالَ حَدِّثْ فَإِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنْ الْحَدِيثِ فَقَالَ مَا كُنْتُ لِأُحَدِّثُ وَعِنْدِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ كُلَّمَا قُطِعَ قَرْنٌ نَشَأَ قَرْنٌ حَتَّى يَخْرُجَ فِي بَقِيَّتِهِمْ الدَّجَّالُ

شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ جب ہمیں یزید بن معاویہ کی بیعت کی اطلاع ملی تو میں شام آیا مجھے ایک ایسی جگہ کا پتہ معلوم ہوا جہاں نوف کھڑے ہو کر بیان کرتے تھے میں ان کے پاس پہنچا اسی اثناء میں ایک آدمی کے آنے پر لوگوں میں ہلچل مچ گئی جس نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی دیکھا تو وہ حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ تھے نوف نے انہیں دیکھ کر ان کے احترام میں حدیث بیان کرنا چھوڑ دی اور حضرت عبداللہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب اس ہجرت کے بعد ایک اور ہجرت ہو گی جس میں لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ میں جمع ہو جائیں گے زمین میں صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے ان کی زمین انہیں پھینک دے گی اور اللہ کی ذات انہیں پسند نہیں کرے گی آگ انہیں بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کرلے گی۔ پھر فرمایا تم حدیث بیان کرو کیونکہ ہمیں تو اس سے روک دیا گیا ہے نوف نے کہا کہ صحابی رسول اللہ اور وہ بھی قریشی کی موجودگی میں حدیث بیان نہیں کر سکتا چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مشرق کی جانب سے ایک قوم نکلے گی یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب بھی ان کی ایک نسل ختم ہو گی دوسری پیدا ہو جائے گی یہاں تک کہ ان کے آخر میں دجال نکل آئے گا۔

شَهْرٍ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ، الْمَعْنَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6952

chevron_left Previous
1…208209210…223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter