Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6593

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَرِيشِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ وَإِنَّمَا نُبَايِعُ بِالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ إِلَى أَجَلٍ فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ قَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ حَتَّى نَفِدَتْ وَبَقِيَ نَاسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِ لَنَا إِبِلًا مِنْ قَلَائِصَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ حَتَّى نُؤَدِّيَهَا إِلَيْهِمْ فَاشْتَرَيْتُ الْبَعِيرَ بِالِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثِ قَلَائِصَ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَدَّى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ

عمروبن حریش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم لوگ ایسے علاقے میں ہوتے ہیں جہاں دینار یا درہم نہیں چلتے ہم ایک وقت مقررہ تک کے لئے اونٹ اور بکری کے بدلے خرید و فروخت کر لیتے ہیں آپ کی اس بارے کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا تم نے ایک باخبر آدمی سے دریافت کیا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکرتیار کیا اس امید پر کہ صدقہ کے اونٹ آجائیں گے اونٹ ختم ہو گئے اور کچھ لوگ باقی بچ گئے (جنہیں سواری نہ مل سکی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہمارے لئے اس شرط پر اونٹ خرید کرلاؤ کہ صدقہ کے اونٹ پہنچنے پر وہ دے دیئے جائیں گے چنانچہ میں نے دو اونٹوں کے بدلے ایک اونٹ خریدا بعض اوقات تین کے بدلے بھی خریدا یہاں تک کہ میں فارغ ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے اس کی ادائیگی فرما دی۔

سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ ← عَمْرِو بْنِ الْحَرِيشِ ← مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ← حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6593

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6594

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو قَبِيلٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ مَوْتِ الْفَجْأَةِ وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ وَمِنْ السَّبُعِ وَمِنْ الْحَرَقِ وَمِنْ الْغَرَقِ وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَمِنْ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات قسم کی موت سے پناہ مانگی ہے ناگہانی موت سے سانپ کے ڈسنے سے درندے کے کھاجانے سے جل کر مرنے سے ڈوب کر مرنے سے کسی چیز پر گر کر مرنے سے یا کسی چیز کے اس پر گرنے سے اور میدان جنگ سے بھاگتے وقت قتل ہونے سے۔

عبد الله بن عمرو بن العاصي ← مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو قَبِيلٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6594

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6595

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرٌو أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي حَدَّثَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوْ اثْنَانِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ ایک مرتبہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں آئے ہوئے تھے ان کے زوج محترم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے چونکہ وہ ان کی بیوی تھیں اس لئے انہیں اس پر ناگواری ہوئی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے خیر ہی دیکھی (کوئی برا منظر نہیں دیکھا لیکن پھر بھی اچھا نہیں لگا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے انہیں بچا لیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا آج کے بعد کوئی شخص کسی ایک عورت کے پاس تنہا نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ ایک اور یا دو آدمی ہوں ۔

عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6595

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6596

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ لِأَبِيكَ يُصَلِّي ثُمَّ يَذْبَحُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا میرے والد صاحب نے نماز عید سے قبل ہی اپنے جانور کی قربانی کر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے والد صاحب سے کہو کہ پہلے نماز پڑھیں پھر قربانی کریں ۔

رَسُولُ اللَّهِ قُلْ لِأَبِيكَ يُصَلِّي ثُمَّ يَذْبَحُ ← إِنَّ أَبِي ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ ← عبد الله بن عمرو أن رجلا أتى النبي ← حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ1 ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6596

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6597

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ أَخْرَجَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قِرْطَاسًا وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا يَقُولُ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهُ كُلِّ شَيْءٍ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنْ يَقُولَ ذَلِكَ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَنَامَ

ابوعبدالرحمن حبلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ دعاء سکھایا کرتے تھے کہ اے آسمان و زمین کو پیداکرنے والے اللہ پوشیدہ اور ظاہر سب کو جاننے والے اللہ تو ہر چیز کا رب ہے اور ہر چیز کا معبود ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہےتیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور فرشتے بھی اس بات کے گواہ ہیں میں شیطان اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ خود کسی گناہ کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان پر اسے لا دوں (یہ دعاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سوتے وقت پڑھنے کے لئے سکھائی تھی)

حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6597

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6598

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْكِحُوا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ فَإِنِّي أُبَاهِي بِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بچے جننے والی ماؤں سے نکاح کیا کرو کیونکہ میں قیامت کے دن ان کے ذریعے فخر کروں گا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6598

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6599

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ فَخَطْوَةٌ تَمْحُو سَيِّئَةً وَخَطْوَةٌ تُكْتَبُ لَهُ حَسَنَةٌ ذَاهِبًا وَرَاجِعًا

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جامع مسجد کی طرف جاتا ہے اس کے ایک قدم پر ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے آتے اور جاتے دونوں وقت یہی حکم ہے۔

عبد الله بن عمرو بن العاصي ← أَنَّهُ ← حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6599

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6600

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا قَالَ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا وَيَمْشِي لَكَ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لئے جائے تو یہ دعاء کرے کہ اے اللہ اپنے بندے کو شفاء عطاء فرما تاکہ تیرے دشمن سے انتقام لے سکے اور نماز کے لئے چل کر جا سکے۔

عبد الله بن عمرو بن العاصي ← حييّ بن عبد الله أَن أَبَا عبد الرَّحْمَن الحبلي ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6600

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6601

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَا بِأَذَانِهِمْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ كَمَا يَقُولُونَ فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ مؤذنین اذان کی وجہ سے ہم پر فضیلت رکھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کلمات وہ کہیں تم بھی کہہ لیا کرو اور جب اختتام ہو جائے تو جو دعاء کرو گے وہ پوری ہو گی ۔

لِرَسُولِ اللَّهِ أَيَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَا بِأَذَانِهِمْ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو أَنَّ رَجُلًا، ← حييّ بن عبد الله أَن أَبَا عبد الرَّحْمَن الحبلي ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6601

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6602

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ ثُمَّ قَالَ مَهْ قَالَ الصَّلَاةُ ثُمَّ قَالَ مَهْ قَالَ الصَّلَاةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَلَمَّا غَلَبَ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ الرَّجُلُ فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمُرُكَ بِالْوَالِدَيْنِ خَيْرًا قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَأُجَاهِدَنَّ وَلَأَتْرُكَنَّهُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ أَعْلَمُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سب سے افضل عمل کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کیا تین مرتبہ اس نے یہی سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ نماز ہی کا ذکر کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سوال سے مغلوب ہو گئے تو فرمایا جہاد فی سبیل اللہ اس آدمی نے کہا کہ میرے تو والدین بھی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کا حکم دیتا ہوں اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں ضرور جہاد میں شرکت کروں گا اور انہیں چھوڑ کر چلاجاؤں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم زیادہ بڑے عالم ہو۔

فَلَمَّا غَلَبَ عَلَيْهِ ← «الصَّلَاةُ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ← مَهْ ← الصَّلَاةُ ثُمَّ ← مَهْ ← أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ الصَّلَاةُ ثُمَّ ← إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ فَسَأَلَهُ ← إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ← حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6602

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6603

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فَتَّانَ الْقُبُورِ فَقَالَ عُمَرُ أَتُرَدُّ عَلَيْنَا عُقُولُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ كَهَيْئَتِكُمْ الْيَوْمَ فَقَالَ عُمَرُ بِفِيهِ الْحَجَرُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں میں امتحان لینے والے فرشتوں کا تذکرہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ کیا اس وقت ہمیں ہماری عقلیں لوٹا دی جائیں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں بالکل آج کی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے منہ میں پتھر (جو وہ میرا امتحان لے سکے)

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6603

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6604

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ قَلْبَكَ حُشِيَ الْإِيمَانَ وَإِنَّ الْإِيمَانَ يُعْطَى الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں قرآن تو پڑھتاہوں لیکن اپنے دل کو اس پر جمتا ہوا نہیں پاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا دل ایمان سے بھر پور ہے کیونکہ انسان کو قرآن سے پہلے ایمان دیا جاتا ہے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6604

chevron_left Previous
1…179180181…223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter