Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6425

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ مِمَّا يَلِي الْمَقَامَ رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ جَعْدَ الرَّأْسِ أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلاکہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ میں کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلایہ مسیح دجال ہے

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمًا ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6425

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6426

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى جَعَلَ اللَّبَنُ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا أَوَّلْتَهُ قَالَ الْعِلْمُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا میں نے اسے اتناپیا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکلنے لگا پھر میں نے اپنا پس خوردہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کودے دیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم۔

أَتَيْتُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6426

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6427

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ حُجْرَتَهُ فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِذَا أَخَذْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ فَلَا يُفَارِقْكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ بَيْعٌ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینار لے لیتا ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں داخل ہو رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پکڑ کر یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کے بدلے وصول کرو تو اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہوجب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6427

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6428

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ

سالم رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے یہ وہ مقام بیداء ہے جس کے متعلق تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت کرتے ہو واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور رکھا ہے)

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6428

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6429

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ فطر عیدگاہ کی طرف سے نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے۔

عبد الله بن عمر أنه كان ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6429

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6430

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا ابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَأُنَاسٌ يُصَلُّونَ الضُّحَى فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ قَالَ بِدْعَةٌ فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ قَالَ وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ فَقَالَ لَهَا عُرْوَةُ إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ

مجاہدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور عروہ بن زبیر رحمتہ اللہ علیہ مسجد میں داخل ہوئے ہم لوگ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچے اور ان کے پاس بیٹھ گئے وہاں کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے ہم نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن یہ کیسی نماز ہے؟ انہوں نے فرمایا نوایجاد ہے ہم نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے فرمایا چار جن میں سے ایک رجب میں بھی تھا ہمیں ان کی بات کی ترید کرتے ہوئے شرم آئی البتہ اسی وقت ہم نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ بن زبیر رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے کہا اے ام المؤمنین کیا آپ نے ابوعبدالرحمن کی بات سنی؟ وہ فرما رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے ہیں جن میں سے ایک رجب میں تھا؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا وہ اس میں شریک رہے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں فرمایا۔

لَهَا عُرْوَةُ ← اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ ← أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ ← لَهُ عُرْوَةُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ← بِدْعَة. ← لَهُ عُرْوَةُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ ← أُنَاسٌ يُصَلُّونَ الضُّحَى ← دَخَلْتُ مَعَ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا ابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← مُفَضَّلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6430

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6431

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَضَتْ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوۃ الخوف اس طرح پڑھائی ہے کہ ایک گروہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے ایک رکوع اور دو سجدے کروائے دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس گروہ نے ایک رکعت پڑھی تھی وہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس کے بعد دونوں گروہوں کے ہر آدمی نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک ایک رکعت پڑھ لی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6431

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6432

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کربھی۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6432

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6433

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَرْمُلُ ثَلَاثًا مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَيَمْشِي أَرْبَعًا عَلَى هِينَتِهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ

نافع رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طواف کے پہلے تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل اور باقی چار چکروں میں عام رفتار رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَسْبَاطٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6433

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6434

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّا نُكْرِي فَهَلْ لَنَا مِنْ حَجٍّ قَالَ أَلَيْسَ تَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَتَأْتُونَ الْمُعَرَّفَ وَتَرْمُونَ الْجِمَارَ وَتَحْلِقُونَ رُءُوسَكُمْ قَالَ قُلْنَا بَلَى فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الَّذِي سَأَلْتَنِي فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِهَذِهِ الْآيَةِ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ حُجَّاجٌ

ابوامامہ تیمی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم لوگ کرایہ پر چیزیں لیتے دیتے ہیں کیا ہمارا حج ہو جائے گا؟ انہوں نے فرمایا کیا تم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ کیا تم میدان عرفات نہیں جاتے؟ کیا تم جمرات کی رمی اور حلق نہیں کرتے؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ایک آدمی نے آ کر یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اس بات میں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر جواب دیا کہ تم حاجی ہو۔

أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ ← الحسن بن عمرو الفقيمي ← أَسْبَاطٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6434

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6435

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ إِنَّا قَوْمٌ نُكْرِي فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ أَسْبَاطٍ

ابوامامہ تیمی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم لوگ کرایہ پر چیزیں لیتے دیتے ہیں کیا ہمارا حج ہو جائے گا؟ انہوں نے فرمایا کیا تم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ کیا تم میدان عرفات نہیں جاتے؟ کیا تم جمرات کی رمی اور حلق نہیں کرتے؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ایک آدمی نے آ کر یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اس بات میں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر جواب دیا کہ تم حاجی ہو۔

قَوْمٌ نُكْرِي فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ أَسْبَاطٍ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6435

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6436

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ الصَّلَاةِ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد حرام کو میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت زیادہ افضل ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6436

chevron_left Previous
1…165166167…223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter