Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6413

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ فَقَالَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیں تو مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنے سے منع کر رہے ہیں اور خود رکھ رہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔

وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ فَقَالُوا ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6413

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6414

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَإِنْ شَاءَ مَضَى وَإِنْ شَاءَ رَجَعَ غَيْرَ حَنِثٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کر لے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6414

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6415

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ سَاوَمَتْ بَرِيرَةَ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ فَقَالَتْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خریدنے کے لئے بھاؤ تاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر واپس آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں کہ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مالک نے انہیں بیچنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر ولاء ہمیں ملے تو ہم بیچ دیں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرتا ہے۔

النَّبِيّ الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ. ← أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ سَاوَمَتْ بَرِيرَةَ فَرَجَعَ النَّبِيُّ مِنْ الصَّلَاةِ ← نَافِعٍ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6415

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6416

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ صَدَقَ قَالَ قُلْتُ مَا الْجَرُّ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ

سعید بن جبیررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ مٹکے کی نبیذ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ آپ کو ابو عبدالرحمن پر تعجب نہیں ہوتا ان کا خیال ہے کہ مٹکے کی نبیذ کو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیاہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا انہوں نے سچ کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیاہے میں نے پوچھا " مٹکے" سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔

كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ ← قُلْتُ مَا الْجَرُّ ← فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ صَدَقَ ← نَبِيذِ الْجَرِّ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6416

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6417

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا صَخْرٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَكَانَ يَقُولُ لَا تَلَقَّوْا الْبُيُوعَ وَلَا يَبِعْ بَعْضٌ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ أَوْ أَحَدٌ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ الْأَوَّلُ أَوْ يَأْذَنَهُ فَيَخْطُبَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تاجروں سے پہلے ہی مت ملا کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّ یہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے۔

"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ" وَكَانَ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَخْرٌ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6417

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6418

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعِرَّانَةِ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَمَعَهُ غُلَامٌ مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ فَقَالَ لَهُ اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ فَذَهَبَ فَاعْتَكَفَ فَبَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي إِذْ سَمِعَ النَّاسَ يَقُولُونَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيَ هَوَازِنَ فَدَعَا الْغُلَامَ فَأَعْتَقَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جعرانہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں منت مانی تھی کہ مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی منت پوری کرنے کا حکم دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو گئے ابھی وہ نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کر دیا چنانچہ انہوں نے اپنے غلام کو بھی آزاد کر دیا۔

لَهُ اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ فَذَهَبَ فَاعْتَكَفَ فَبَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي إِذْ ← عَبْدُ الصَّمَدِ وَمَعَهُ غُلَامٌ مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ ← إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ بِالْجِعِرَّانَةِ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ، وَعَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6418

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6419

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَسَاهُ حُلَّةً فَلَبِسَهَا فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَذَكَرَ النَّارَ حَتَّى ذَكَرَ قَوْلًا شَدِيدًا فِي إِسْبَالِ الْإِزَارِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ریشمی جوڑا دیا وہ ان کے ٹخنوں سے نیچے لٹکنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت بات کہی اور جہنم کا ذکر کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6419

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6420

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَزَعِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَهِيَ الْقَزَعَةُ الرُّقْعَةُ فِي الرَّأْسِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قزع سے منع فرمایا ہے قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں (جیساکہ آج کل فیشن ہے)

عَبْدُ الصَّمَدِ وَهِيَ الْقَزَعَةُ الرُّقْعَةُ فِي الرَّأْسِ ← الْقَزَعِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّی ← عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6420

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6421

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَهْوَازِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو اور رات کی نماز دو دو رکعت ہوتی ہے اور وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہوتے ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدٍ ← هارون بن إبراهيم الأهوازي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6421

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6422

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْقَزَعِ فِي الرَّأْسِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قزع سے منع فرمایا ہے قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں (جیساکہ آج کل فیشن ہے)

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← وَرْقَاءُ ← عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6422

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6423

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا جِئْتُ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مَفَارِقٌ لِلْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً

زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص " جماعت " کوچھوڑ کر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا جِئْتُ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا ← مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً ← دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6423

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6424

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ شَرَاحِيلَ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ قَالَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ كُنَّا بِذِي الْمَجَازِ قَالَ مَا ذُو الْمَجَازِ قُلْتُ مَكَانٌ نَجْتَمِعُ فِيهِ وَنَبِيعُ فِيهِ وَنَمْكُثُ عِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَقَالَ يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ كُنْتُ بِأَذْرَبِيجَانَ لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ فَرَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَ عَيْنِي يُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَزَعَ إِلَيَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ئثمامہ بن شراجیل رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے ان سے مسافر کی نماز کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اس کی دو دو رکعتیں ہیں سوائے مغرب کے کہ اس کی تین ہی رکعتیں ہیں میں نے پوچھا اگر ہم " ذی المجاز " میں ہوں تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے پوچھا " ذوالمجاز " کس چیز کا نام ہے؟ میں نے کہا کہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں ہم لوگ اکٹھے ہوتے ہیں خرید و فروخت کرتے ہیں اور بیس پچیس دن وہاں گذارتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اے شخص میں آذربائجان میں تھا وہاں چار یا دوماہ رہا (یہ یاد نہیں ) میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وہاں دو دو رکعتیں ہی پڑھتے ہوئے دیکھا پھر میں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر دو دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ " تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے ۔ "

خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ ← ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، ← يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6424

chevron_left Previous
1…164165166…223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter