Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6305

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِثْلُ قِيرَاطِنَا هَذَا قَالَ لَا بَلْ مِثْلُ أُحُدٍ أَوْ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6305

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6306

حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ حَصَاةٌ يَحُكُّ بِهَا نُخَامَةً رَآهَا فِي الْقِبْلَةِ وَيَقُولُ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ تُجَاهَهُ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فَإِنَّمَا قَامَ يُنَاجِي رَبَّهُ تَعَالَى قَالَ مُحَمَّدٌ وِجَاهَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ کنکریاں ہیں اور وہ اس سے قبلہ کے جانب لگا ہوا بلغم صاف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ سے مناجات کر رہا ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔

مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى، وَمُحَمَّدٌ، ابْنَا عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6306

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6307

حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَقَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ ذَلِكَ الْبَيْعَ يَبْتَاعُ الرَّجُلُ بِالشَّارِفِ حَبَلَ الْحَبَلَةِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ حَبَلَ الْحَبَلَةِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس طرح بیع کرتے تھے کہ ایک اونٹنی دے کر حاملہ اونٹنی کے پیٹ کے بچے کو (پیدائش سے پہلے ہی ) خرید لیتے ( اور کہہ دیتے کہ جب اس کا بچہ پیدا ہو گا وہ میں لوں گا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔

بَيْعِ الْغَرَرِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6307

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6308

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ عَنْ أَبِي دِهْقَانَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ فَدَعَا بِلَالًا بِتَمْرٍ عِنْدَهُ فَجَاءَ بِتَمْرٍ أَنْكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا التَّمْرُ فَقَالَ التَّمْرُ الَّذِي كَانَ عِنْدَنَا أَبْدَلْنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے وہ کھجوریں منگوائیں جو ان کے پاس تھیں وہ جو کھجوریں لے کے آئے انہیں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعجب ہوا اور فرمایا کہ یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے دو صاع دے کر ایک صاع کھجوریں لی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ہماری کھجوریں تھیں وہی واپس لے کر آؤ۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي دِهْقَانَةَ ← فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6308

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6309

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کے لئے جہنم میں ایک گھر تعمیر کیا جائے گا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أبي بكر بن سالم ← عبيد الله بن عمر بن حفص ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6309

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6310

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ وَسَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ وَسَالِمٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6310

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6311

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنْ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ وَاطْوِ لَنَا الْبَعِيدَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا وَكَانَ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ آيِبُونَ تَائِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی سواری پر سوار ہوتے توتین مرتبہ اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعاء پڑھتے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کردیا ورنہ ہم اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ میں آپ سے اپنے اس سفر میں نیکی تقویٰ اور آپ کو راضی کرنے والے اعمال کا سوال کرتا ہوں اے اللہ اس سفر کو ہم پر آسان فرما جگہ کی دوریاں ہمارے لئے لپیٹ دے اے اللہ سفر میں تو میرا رفیق ہے اور میرے اہل خانہ کا جانشین ہے اے اللہ سفر میں ہماری رفاقت فرما ہمارے پیچھے ہمارے اہل خانہ میں ہماری جانشینی فرما اور جب اپنے گھر لوٹ کر آتے تو یہ دعاء فرماتے توبہ کرتے ہوئے لوٹ کر ان شاء اللہ آ رہے ہیں اپنے رب کی عبادت اور اس کی تعریف کرتے ہوئے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6311

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6312

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ قَالَ فَحَدَّثَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ وَاللَّهِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام أَحْمَرُ قَطُّ وَلَكِنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطُفُ رَأْسُهُ أَوْ يُهَرَاقُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ قَالَ فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ مِنْ بَالْمُصْطَلِقِ مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بخداجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سرخ کا لفظ کبھی استعمال نہیں کیا انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلاکہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا یہ مسیح دجال ہے

وَاللَّهِ مَا ← فَحَدَّثَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6312

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6313

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ولاء اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرتا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6313

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6314

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا صَلَاةُ الْعِشَاءِ فَلَا يَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى أَسْمَاءِ صَلَاتِكُمْ فَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَنْ الْإِبِلِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں یاد رکھو اس کا نام نماز عشاء ہے اس وقت یہ اپنے اونٹوں کا دودھ دوہتے ہیں (اس مناسبت سے عشاء کی نماز کو عتمہ کہہ دیتے ہیں )

ابْنِ عُمَرَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6314

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6315

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي أَطْرَافِ الْمَدِينَةِ فَيَأْمُرُنَا أَنْ لَا نَدَعَ كَلْبًا إِلَّا قَتَلْنَاهُ حَتَّى نَقْتُلَ الْكَلْبَ لِلْمُرَيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں اطراف مدینہ میں بھیجا اور تمام کتوں کو مارنے کا حکم دیا ایک عورت دیہات سے آئی ہوئی تھی ہم نے اس کا کتا بھی مار دیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6315

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6316

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ النَّجْرَانِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاجْتَمَعَا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ تَسْتَحِلُّ دَرَاهِمَهُ ارْدُدْ إِلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَلَا تُسْلِمُنَّ فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ فَسَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَا صَلَاحُهُ قَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے لئے کھجور کے درخت میں بیع سلم کی لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا اس نے اپنے پیسے واپس لینا چاہے تو اس نے انکار کردیا وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے مالک سے پوچھا کہ کیا اس کے درختوں پر پھل نہیں آیا؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں ؟چنانچہ اس نے اس کے پیسے لوٹادئیے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرما دیا۔

يحمار أو يصفار ← ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاجْتَمَعَا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← النجراني ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6316

chevron_left Previous
1…155156157…223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter