Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6257

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ قَالَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ قِيلَ لَهُ فَالْعِرَاقُ قَالَ لَا عِرَاقَ يَوْمَئِذٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے اہل شام جحفہ سے اہل یمن یلملم اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں لوگوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اہل عراق کہاں گئے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت اس کی میقات نہیں تھی۔

لَا عِرَاقَ يَوْمَئِذٍ ← وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ قِيلَ لَهُ فَالْعِرَاقُ ← وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ← ابْنِ عُمَرَ ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← جَرِيرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6257

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6258

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَزْعُمُ أَنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وتر ضروری نہیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو۔

رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: ← طَاوْسٍ ← حَبِيبٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6258

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6259

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَنْزِلِهِ فَمَرَرْنَا بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا ہمارا گذر قریش کے کچھ نوجوانوں پر ہوا جنہوں نے ایک زندہ پرندہ کو باندھ رکھا ہے اور اس پر نشانہ درست کر رہے تھے اور پرندے کے مالک سے کہہ رکھا تھا جو تیر چوک جائے وہ تمہارا ہو گا اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے یہ کون کر رہاہے؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہو گئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندارچیز کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرے۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6259

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6260

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ قَالَ وَأَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی تفصیل یہ ہے کہ ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے یہ بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مَنْصُورٌ، وَابْنُ عَوْنٍ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6260

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6261

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ وَيُصَلِّي إِلَيْهَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے رکھ کر اسے بطور سترہ آگے کر لیتے تھے اور نماز پڑھ لیتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُعْتَمِرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6261

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6262

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُصَوِّرُونَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو۔

الْمُصَوِّرُونَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6262

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6263

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ فَرَفَعْتُ إِزَارِي إِلَى نِصْفِ السَّاقَيْنِ فَلَمْ تَزَلْ إِزْرَتَهُ حَتَّى مَاتَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اس وقت میری تہبند نیچے لٹک رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا عبداللہ بن عمر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم عبداللہ ہو تو اپنی تہبند اونچی کرو چنانچہ میں نے اسے نصف پنڈلی تک چڑھا لیاراوی کہتے ہیں کہ وفات تک پھر ان کا یہی معمول رہا۔

مَنْ هَذَا قُلْتُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← دخْلتُ على النبيِّ وعليَّ إزارٌ يَتَقعْقَع ← ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6263

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6264

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَيَنَّ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو ۔

ابْنِ عُمَرَ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6264

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6265

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهَا بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تِلْقَاءَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي صَلَاتِهِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے ناراض ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6265

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6266

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ خَرَجَ حَاجًّا فَأَحْرَمَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ فِي بَرْدٍ شَدِيدٍ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَانْتَبَهَ فَقَالَ مَا أَلْقَيْتَ عَلَيَّ قُلْتُ بُرْنُسًا قَالَ تُلْقِيهِ عَلَيَّ وَقَدْ حَدَّثْتُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبْسِهِ

نافع رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماحج کے ارادے سے روانہ ہوئے انہوں نے احرام باندھا تو انہیں سر کے حصے میں شدید سردی لگنے لگی میں نے انہیں ٹوپی اوڑھا دی جب وہ ہوشیار ہوئے تو فرمایا کہ یہ تم نے مجھ پر کیا ڈال دیا ہے؟ میں نے کہا ٹوپی ہے انہوں نے فرمایا میں تمہیں بتا بھی چکا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں ہمیں اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے لیکن تم نے پھر بھی یہ میرے او پر ڈال دی؟

نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6266

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6267

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔

«مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُعْتَمِرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6267

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6268

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَعَلْنَا كَمَا فَعَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَحَلَقَ وَرَجَعَ وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر میرے سامنے کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا جبکہ ان کے اور بیت اللہ کے درمیان کفار قریش حائل ہو گئے تھے اور وہ حلق کر کے واپس آ گئے تھے میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں عمرہ کی نیت کر چکا ہوں پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6268

chevron_left Previous
1…151152153…223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter