Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6161

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ قَالَ يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی سفریا غزوہ میں ہوتے اور رات کا وقت آجاتا تو یہ دعا فرماتے کہ اے زمین میرا اور تیرا رب اللہ ہے میں تیرے شر تجھ میں موجود شر تیرے اندر پیدا کی گئی چیزوں کے شر اور تجھ پر چلنے والوں کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں میں ہر شیر اور کالی چیز سے سانپ اور بچھو سے اہلیان شہر کے شر سے اور والد اور اولاد کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ ← صَفْوَانُ؛ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6161

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6162

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عُثْمَانَ الْأُحْمُوسِيُّ حَدَّثَنِي الْمُخَارِقُ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ أَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنْ الْمِسْكِ أَكْوَابُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا أَوَّلُ النَّاسِ عَلَيْهِ وُرُودًا صَعَالِيكُ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ قَائِلٌ وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ الشَّحِبَةُ وُجُوهُهُمْ الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ لَا يُفْتَحُ لَهُمْ السُّدَدُ وَلَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ وَلَا يَأْخُذُونَ الَّذِي لَهُمْ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرا حوض عدن اور عمان کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا شہد سے زیادہ شریں اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں جو شخص اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور سب سے پہلے اس حوض پر آنے والے پھکڑ مہاجرین ہوں گے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا پراگندہ بال دھنسے ہوئے چہروں اور میلے کچیلے کپڑوں والے جن کے لئے دنیا میں دروازے نہیں کھولے جاتے ناز و نعمت میں پلی ہوئی لڑکیوں سے ان کارشتہ قبول نہیں کیا جاتا اور جو اپنی ہر ذمہ داری پوری کرتے ہیں اور اپنا حق وصول نہیں کرتے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← الْمُخَارِقُ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ← عُمَرُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عُثْمَانَ الْأُحْمُوسِيُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6162

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6163

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ وَيَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہہ کر نماز شروع کرتے وقت اور رکوع سجدہ کرتے وقت کندھوں کے برابر رفع یدین کرتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6163

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6164

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہہ کر نماز شروع کرتے وقت اور رکوع سجدہ کرتے وقت کندھوں کے برابر رفع یدین کرتے تھے۔

النَّبِيِّ مِثْلَ ذَلِكَ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6164

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6165

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِمُدْيَةٍ وَهِيَ الشَّفْرَةُ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَرْسَلَ بِهَا فَأُرْهِفَتْ ثُمَّ أَعْطَانِيهَا وَقَالَ اغْدُ عَلَيَّ بِهَا فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ إِلَى أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ وَفِيهَا زِقَاقُ خَمْرٍ قَدْ جُلِبَتْ مِنْ الشَّامِ فَأَخَذَ الْمُدْيَةَ مِنِّي فَشَقَّ مَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الزِّقَاقِ بِحَضْرَتِهِ ثُمَّ أَعْطَانِيهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يَمْضُوا مَعِي وَأَنْ يُعَاوِنُونِي وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْأَسْوَاقَ كُلَّهَا فَلَا أَجِدُ فِيهَا زِقَّ خَمْرٍ إِلَّا شَقَقْتُهُ فَفَعَلْتُ فَلَمْ أَتْرُكْ فِي أَسْوَاقِهَا زِقًّا إِلَّا شَقَقْتُهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھری لانے کا حکم دیا میں لے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تیز کرنے کے لئے بھیج دیا اس کے بعد وہ چھری مجھے دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ چھری صبح کے وقت میرے پاس لے کر آنا میں نے ایسا ہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ کے بازاروں میں نکلے جہاں شام سے درآمد کئے گئے شراب کے مشکیزے لٹک رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ سے چھری لی اور جو مشکیزہ بھی سامنے نظر آیا اسے چاک کر دیا اس کے بعد وہ چھری مجھے عطاء فرمائی اور اپنے ساتھ موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو میرے ساتھ جانے اور میرے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا کہ میں سارے بازاروں کا چکر لگاؤں اور جہاں کہیں بھی شراب کا کوئی مشکیزہ پاؤں اسے چاک کر دوں چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور بازاروں میں کوئی مشکیزہ ایسا نہ چھوڑا جسے میں نے چاک نہ کر دیا ہو۔

ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6165

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6166

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ فَقَالَ اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ مَا جِئْتُ لِأَجْلِسَ عِنْدَكَ وَلَكِنْ جِئْتُ أُخْبِرُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ أَوْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ

زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کوخوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیاہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص " جماعت " کوچھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← مَا جِئْتُ لِأَجْلِسَ عِنْدَكَ وَلَكِنْ جِئْتُ أُخْبِرُكَ مَا ← اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً ← إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ ← زيد بن أسلم أنه ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6166

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6167

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا يُحْسَدُ مَنْ يُحْسَدُ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ تَعَالَى الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ارشادنبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت دی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت میں مصروف رہتاہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال ودولت عطاء فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو۔

إِنَّمَا يُحْسَدُ مَنْ يُحْسَدُ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَنَّ نَافِعًا ← صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6167

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6168

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عُتْبَةَ الْحِمْصِيُّ أَوْ الْيَحْصُبِيُّ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُعُودًا فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ ذِكْرَهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ قَالَ هِيَ فِتْنَةُ هَرَبٍ وَحَرَبٍ ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَلُهَا أَوْ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي إِنَّمَا وَلِيِّيَ الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ انْقَطَعَتْ تَمَادَتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ فُسْطَاطُ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطُ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ إِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتنوں کا تذکرہ فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاصی تفصیل سے ان کا ذکر فرمایا اور درمیان میں " فتنہ اجلاس " کا بھی ذکر کیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! فتنہ احلاس سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد بھاگنے اور جنگ کرنے کافتنہ ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ سراء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا دھواں میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی کے قدموں کے نیچے سے اٹھے گا اس کا گمان یہ ہو گا کہ وہ مجھ سے ہے، حالانکہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہ ہو گا میرے دوست تو متقی لوگ ہیں پھر لوگ ایک ایسے آدمی پرا تفاق کر لیں گے جو پسلی پر کولہے کی مانند ہو گا ۔ اس کے بعدفتنہ دھیما ہو گا جو اس امت کے ہر آدمی پر ایک طمانچہ جڑے بغیر نہ چھوڑے گا لوگ اس کے متعلق جب کہیں گے کہ یہ فتنہ ختم ہو گیا تو وہ اور بڑھ کر سامنے آئے گا اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مؤمن اور شام کو کافر ہو گا یہاں تک کہ لوگ خیموں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک خیمہ ایمان کا ہو گا جس میں نفاق نامی کوئی چیز نہ ہو گی اور دوسراخیمہ نفاق کا ہو گا جس میں ایمان نامی کوئی چیز نہ ہو گی جب تم پر ایسا وقت آجائے تودجال کا انتظار کرو کہ وہ اسی دن یا اگلے دن نکل آتاہے۔ فائدہ۔ اس حدیث کی مکمل وضاحت کے لئے ہماری کتاب " فتنہ دجال قرآن وحدیث کی روشنی میں " کا مطالعہ فرمائیے۔

فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ فَقَالَ قَائِلٌ ← كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ قُعُودًا فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ ذِكْرَهَا حَتَّى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ ← الْعَلَاءُ بْنُ عُتْبَةَ الْحِمْصِيُّ أَوْ الْيَحْصُبِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6168

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6169

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ زَبْرٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ فرمایا تم دو دو رکعت کرکے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطوروتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔

مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ ← أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ زَبْرٍ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6169

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6170

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الْفَجْرَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ تُوتِرُ لَكَ صَلَاتَكَ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو اور خود حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلاَءِ ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6171

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتے مارنے کا حکم دیتے ہوئے خود سنا ہے

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلاَءِ ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6172

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔

قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ← نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6172

chevron_left Previous
1…143144145…223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter