مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9238
حَدَّثَنَا خَلَفٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ يَمُرُّ بِآلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ ثُمَّ هِلَالٌ لَا يُوقَدُ فِي شَيْءٍ مِنْ بُيُوتِهِمْ النَّارُ لَا لِخُبْزٍ وَلَا لِطَبِيخٍ فَقَالُوا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَعِيشُونَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بِالْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ وَكَانَ لَهُمْ جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا لَهُمْ مَنَائِحُ يُرْسِلُونَ إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْ لَبَنٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو مہینے ایسے گذر جاتے تھے کہ ان کے گھروں میں آگ تک نہیں جلتی تھی نہ روٹی کے لئے اور نہ کھانا پکانے کے لئے، لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوہریرہ! پھر وہ کس چیز کے سہارے زندگی گذارا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر اور کچھ انصاری اللہ انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے ان کے پڑوسی تھے ان کے پاس کچھ بکریاں تھیں جن کا وہ تھوڑا سا دودھ بھجوا دیا کرتے تھے۔
سَعِيدٌ، ← أبو معشر ← خلف
Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9238
