Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8686

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ وَمَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَرِ وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین صدقہ وہ دودھ دینے والی بکری ہے جو صبح و شام اجر کا سبب بنتی ہے دودھ دینے والی اونٹنی کا صدقہ کسی سرخ رنگت والے کو آزاد کرنے کی طرح ہے اور دودھ دینے والی بکری کا صدقہ کسی سیاہ فام کو آزاد کرنے کی طرح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ

Hadith 8686

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8687

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالی طور پر قلت کے شکار آدمی کا محنت کرکے صدقہ نکالنا (سب سے افضل ہے) اور (یاد رکھو) صدقہ میں ابتداء ان لوگوں سے کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← حُجَيْنٌ

Hadith 8687

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8688

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطَرُوا ثُمَّ تُمْطَرُوا فَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ

Hadith 8688

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8689

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً فُضُلًا يَتَّبِعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ يَجْتَمِعُونَ عِنْدَ الذِّكْرِ فَإِذَا مَرُّوا بِمَجْلِسٍ عَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ حَتَّى يَبْلُغُوا الْعَرْشَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ فَيَقُولُونَ مِنْ عِنْدِ عَبِيدٍ لَكَ يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ وَيَتَعَوَّذُونَ بِكَ مِنْ النَّارِ وَيَسْتَغْفِرُونَكَ فَيَقُولُ يَسْأَلُونِي جَنَّتِي هَلْ رَأَوْهَا فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا وَيَتَعَوَّذُونَ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ الْخَطَّاءَ فُلَانًا مَرَّ بِهِمْ لِحَاجَةٍ لَهُ فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أُولَئِكَ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے "جو لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں اس کام پر مقرر ہیں کہ وہ زمین میں گھومتے پھریں یہ فرشتے جہاں کچھ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ سب اکھٹے ہو کر آجاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ ( پھر جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو) اللہ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے بندوں کے پاس سے آئے ہیں وہ لوگ جنت کی طلب کر رہے تھے جہنم سے آپ کی پناہ مانگ رہے تھے اور آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ جہنم سے وہ پناہ مانگ رہے تھے اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیا فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں تو فلاں گنہگار آدمی بھی شامل تھا جو ان کے پاس خود نہیں آیا تھا بلکہ کوئی ضرورت اور مجبوری اسے لے آئی تھی اللہ فرماتا ہے کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ

Hadith 8689

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8690

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَلْتَمِسُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے "جو لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں اس کام پر مقرر ہیں کہ وہ زمین میں گھومتے پھریں یہ فرشتے جہاں کچھ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ سب اکھٹے ہو کر آجاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ ( پھر جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو) اللہ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے بندوں کے پاس سے آئے ہیں وہ لوگ جنت کی طلب کر رہے تھے جہنم سے آپ کی پناہ مانگ رہے تھے اور آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ جہنم سے وہ پناہ مانگ رہے تھے اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیا فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں تو فلاں گنہگار آدمی بھی شامل تھا جو ان کے پاس خود نہیں آیا تھا بلکہ کوئی ضرورت اور مجبوری اسے لے آئی تھی اللہ فرماتا ہے کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Hadith 8690

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8691

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَى عَضَلَةُ سَاقِهِ مِنْ تَحْتِ إِزَارِهِ إِذَا اتَّزَرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تہبند باندھتے تو تہبند کے ورے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی کی مچھلی نظر آتی تھی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ

Hadith 8691

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8692

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةِ الْبَدْرِ فَاسْتَزَدْتُ فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا فَقُلْتُ أَيْ رَبِّ إِنْ لَمْ يَكُنْ هَؤُلَاءِ مُهَاجِرِي أُمَّتِي قَالَ إِذَنْ أُكْمِلَهُمْ لَكَ مِنْ الْأَعْرَابِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے درخواست کی تو اس نے مجھ سے وعدہ کرلیا کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمیوں کو چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا دمکتاجنت میں داخل کرے گا میں نے اپنے پروردگار سے اس میں مزید اضافہ کی درخواست کی تو اس نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا اضافہ کردیا میں نے پوچھا پروردگار اگر یہ لوگ میری امت کے مہاجر نہ ہوئے تو؟ ( اگر مہاجرین کی تعداد کم ہوئی تو؟) اللہ نے فرمایا کہ پھر میں یہ تعداد دیہاتیوں سے پوری کروں گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ

Hadith 8692

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8693

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ الدَّقِيقِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ أَنَّ عِبَادِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمْ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمْ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ وَلَمَا أَسْمَعْتُهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرے بندے میری اطاعت کرنے لگیں تو میں رات کو انہیں بارش سے سیراب کروں دن میں ان پر سورج کو روشن کروں اور انہیں بادلوں کی گرج نہ سناؤں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ الدَّقِيقِيُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ

Hadith 8693

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8694

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ حُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔

Hadith 8694

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8695

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا قَالَ أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کرسکتے ہیں؟ لا الہ الا اللہ کی کثرت کیا کرو۔

Hadith 8695

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8696

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے دے یا معاف کردے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطاء فرمائے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Hadith 8696

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8697

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ كَلَامٍ أَوْ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُفْتَحُ بِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ أَبْتَرُ أَوْ قَالَ أَقْطَعُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ کام یا کلام جس کا آغاز اللہ کے ذکر سے نہ کیا جائے وہ دم بریدہ رہتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Hadith 8697

chevron_left Previous
12345…324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter