Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8615

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ أَبُو عُمَرَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاحَةِ وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ نہ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا ختم نہ کردے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مَكْحُولٌ ← مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ، ← حُجَيْنٌ أَبُو عُمَرَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ

Hadith 8615

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8616

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ فَإِذَا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ قَالَ لَهُ أَخُوهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِذَا قِيلَ لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَلْيَقُلْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمدللہ کہے۔ دوسرا مسلمان بھائی اس کی الحمدللہ سن کر اسے یرحمک اللہ کہے پھر چھینکنے والا یھدیکم اللہ و یصلح بالکم کہے

الْحَمْدُ لِلَّهِ ← إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ‏:‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَإِذَا ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← عبد الله بن دينار ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← حُجَيْنٌ أَبُو عُمَرَ

Hadith 8616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8617

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Hadith 8617

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8618

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ فَرُّوخَ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يَقُولُ تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا فَكَانَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ يَعْتَقِبُونَ اللَّيْلَ أَثْلَاثًا يُصَلِّي هَذَا ثُمَّ يُوقِظُ هَذَا وَيُصَلِّي هَذَا ثُمَّ يَرْقُدُ وَيُوقِظُ هَذَا قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تَصُومُ قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَصُومُ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ ثَلَاثًا فَإِنْ حَدَثَ لِي حَادِثٌ كَانَ آخِرُ شَهْرِي قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ وَمَا فِيهِنَّ شَيْءٌ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهَا أَنَّهَا شَدَّتْ مَضَاغِي

ابوعثمان نہدی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سات دن تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان رہا انہوں نے اپنی بیوی اور خادم کے ساتھ رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا پہلے ایک آدمی نماز پڑھتا پھر وہ دوسرے کو جگا دیتا وہ نماز پڑھ لیتا تو تیسرے کو جگا دیتا ایک دن میں نے پوچھا اے ابوہریرہ! آپ روزہ کس ترتیب سے رکھتے ہیں؟ فرمایا کہ میں تو مہینے کے آغاز میں ہی تین روزے رکھ لیتا ہوں اور اگر کوئی مجبوری پیش آجائے تو مہینے کے آخر میں رکھ لیتا ہوں اور میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان کچھ کھجوریں تقسیم فرمائیں مجھے سات کھجوریں ملیں جن میں سے ایک کھجور گدر بھی تھی میرے نزدیک وہ ان میں سب میں سے زیادہ عمدہ تھی کہ اسے سختی سے مجھے چبانا پڑ رہا تھا ( اور میرے مسوڑھے اور دانت حرکت کر رہے تھے)

أبا عثمان النهدي ← الْعَبَّاسِ بْنِ فَرُّوخَ الْجُرَيْرِيِّ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Hadith 8618

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8619

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ أَوْ رَجُلًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَفَقْدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا مَاتَ فَقَالَ أَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ قَالُوا إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا قَالَ فَقَالَ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَدَلُّوهُ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام عورت یا مرد مسجد نبوی کی خدمت کرتا تھا (مسجد میں جھاڑو دے کر صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا تھا) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ توفوت ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ ایک عام آدمی تھا (اس لئے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتا دی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Hadith 8619

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8620

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوم النحر سے اگلے دن گیارہ ذی الحجہ کو جبکہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ ہی میں تھے) فرمایا کہ کل ہم (انشاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں میں پڑاؤ کریں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ← يُونُسَ

Hadith 8620

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8621

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا لَهَا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي لَا أُوَرَّثُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث طلب کرنے آئیں تو ان دونوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری وراثت میرے مال میں جاری نہ ہوگی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ

Hadith 8621

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8622

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ مُؤْمِنٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مسلمان جہنم میں دوسرے کے ساتھ اسی طرح اکٹھا نہیں ہوگا کہ کسی کے لئے نقصان دہ ہو جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ

Hadith 8622

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8623

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ

Hadith 8623

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8624

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ فَيَسْمَعُ الْحِكْمَةَ ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلَّا بِشَرِّ مَا سَمِعَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا فَقَالَ يَا رَاعِيَ اجْزُرْ لِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ قَالَ اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی مثال جو کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں حکمت کی باتیں سنے لیکن اپنے ساتھی کو اس میں سے چن چن کر غلط باتیں ہی سنائے اس شخص کی سی ہے جو کسی چرواہے کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ اے چرواہے! اپنے ریوڑ میں سے ایک بکری میرے لئے ذبح کردے وہ اسے جواب دے کہ جا کر ان میں سے جو سب سے بہتر ہو اس کا کان پکڑ کر لے آؤ اور وہ جا کر ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کر لے آئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ وَعَفَّانُ

Hadith 8624

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8625

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الصَّلْتِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ قَالَ عَفَّانُ فَوْقِي فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ قُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا نَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي فَإِذَا أَنَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذِهِ الشَّيَاطِينُ يَحُومُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوْا الْعَجَائِبَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج کے موقع پر جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میری نگاہ اوپر کو اٹھ گئی وہاں بادل کی گرج چمک اور کڑک تھی پھر میں ایسی قوم کے پاس پہنچا جن کے پیٹ کمروں کی طرح تھے جن میں سانپ وغیرہ ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آرہے تھے میں نے پوچھا جبرائیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سود خور ہیں ۔ پھر جب میں آسمان دنیا پر واپس آیا تو میری نگاہیں نیچے پڑ گئیں وہاں چیخ و پکار، دھواں، اور آوازیں سنائی دیں میں نے پوچھا جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں تاکہ وہ آسمان اور زمین کی شہنشاہی میں غور و فکر نہ کرسکیں اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگوں کو بڑے عجائبات نظر آتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الصَّلْتِ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَقَالَ عَفَّانُ ← حَمَّادٌ، ← حَسَنٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى

Hadith 8625

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8626

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ يَعْنِي هِشَامٌ وَعَمْرٌو

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے ہشام اور عمرو مومن ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَأَبُو كَامِلٍ

Hadith 8626

chevron_left Previous
1…321322323324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter