Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8842

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کی ایذا رسانی سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8842

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8843

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتنے ہی روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جن کے حصے میں صرف بھوک پیاس آتی ہے اور کتنے ہی تراویح میں قیام کرنے والے ہیں جن کے حصے میں صرف شب بیداری آتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8843

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8844

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّى بُعِثْتُ مِنْ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے زمانے کے تسلسل میں بنی آدم کے سب سے بہترین زمانے میں منتقل کیا جاتا رہا ہے یہاں تک کہ مجھے اس زمانے میں مبعوث کردیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8844

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8845

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَلَّا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلَ مِنْكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصَةً مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ قیامت کے دن آپ کی شفاعت کے بارے میں سب سے زیادہ خوش نصیب کون ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کرو گے کیونکہ میں علم کے بارے تمہارے حرص دیکھ رہا ہوں جو شخص خلوص دل کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8845

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8846

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ مُتَوَكِّئًا عَلَيْهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ هَذَا الشَّيْخِ قَالَ ابْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ فَقَالَ لَهُ ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمر رسیدہ آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ ان بزرگ کا کیا معاملہ ہے؟ (یہ سوار کیوں نہیں ہوجاتے؟) اس کے بیٹوں نے بتایا کہ یا رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے منت مان رکھی تھی (اسے پورا کرنے کے لئے سوار نہیں ہو رہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بزرگو! سوار ہوجاؤ اللہ آپ اور آپ کی منت سے بڑا غنی ہے (وہ قبول کرلے گا)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8846

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8847

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَرِّبُ مِنْ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ اللَّهُ قَدَّرَهُ لَهُ وَلَكِنَّ النَّذْرَ مُوَافِقٌ الْقَدَرَ فَيُخْرَجُ بِذَلِكَ مِنْ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَكُنْ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا فیصلہ نہیں کیا ابن آدم کی منت اسے وہ چیز نہیں دلا سکتی البتہ اس منت کے ذریعے کنجوس آدمی سے پیسے نکلوا لئے جاتے ہیں وہ منت مان کر وہ کچھ دے دیتا ہے جو اپنے بخل کی حالت میں کبھی نہیں دیتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8847

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8848

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعَا اللَّهُ جِبْرِيلَ فَأَرْسَلَهُ إِلَى الْجَنَّةِ فَقَالَ انْظُرْ إِلَيْهَا وَمَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَحُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَلَّا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ ثُمَّ أَرْسَلَهُ إِلَى النَّارِ فَقَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَمَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لَا يَدْخُلُهَا أَحَدٌ يَسْمَعُ بِهَا فَحُجِبَتْ بِالشَّهَوَاتِ ثُمَّ قَالَ عُدْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جب اللہ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو) حضرت جبرائیل علیہ السلام کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ جا کر اسے دیکھ آؤ اور میں نے اس میں جو چیزیں تیار کی ہیں وہ بھی دیکھ آؤ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام گئے اور جنت اور اس میں مہیا کی گئی نعمتوں کو دیکھا اور واپس آکر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ آپ کی عزت کی قسم اس کے متعلق جو بھی سنے گا اس میں داخل ہونا چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے ناپسندیدہ اور ناگوار چیزوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا اللہ نے فرمایا اب جا کر اسے اور اس کی نعمتوں کو دیکھ کر آؤ چنانچہ وہ دوبارہ گئے اس مرتبہ وہ ناگوار امور سے ڈھانپ دی گئی تھی وہ واپس آکر عرض رسا ہوئے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے اندیشہ ہے کہ اب اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہوسکے گا۔ اللہ نے نے فرمایا کہ اب جا کر جہنم اور اہل جہنم کے لئے تیار کردہ سزائیں دیکھ کر آؤ جب وہ وہاں پہنچے تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھے جا رہا تھا واپس آکر کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم کوئی شخص بھی جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل ہونا نہیں چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا اس مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے تو اندیشہ ہے کہ اب کوئی آدمی اس سے بچ نہیں سکے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8848

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8849

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ الصُّبْحِ يَوْمًا فَأَتَى النِّسَاءَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَقَفَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُولٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتَقَرَّبْنَ إِلَى اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُنَّ وَكَانَ فِي النِّسَاءِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَتْ حُلِيًّا لَهَا فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَأَيْنَ تَذْهَبِينَ بِهَذَا الْحُلِيِّ فَقَالَتْ أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ وَيْلَكِ هَلُمِّي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى أَذْهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَتْ تَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ هِيَ فَقَالُوا امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهَا فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ مَقَالَةً فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَحَدَّثْتُهُ وَأَخَذْتُ حُلِيًّا أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكَ رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ لِي ابْنُ مَسْعُودٍ تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ فَقُلْتُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيْهِ وَعَلَى بَنِيهِ فَإِنَّهُمْ لَهُ مَوْضِعٌ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَيْنَا مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُولٍ قَطُّ وَلَا دِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعُقُولِنَا فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ فَالْحَيْضَةُ الَّتِي تُصِيبُكُنَّ تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَمْكُثَ لَا تُصَلِّي وَلَا تَصُومُ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُولِكُنَّ فَشَهَادَتُكُنَّ إِنَّمَا شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ نِصْفُ شَهَادَةٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھ کر واپس ہوئے تو مسجد میں موجود خواتین کے قریب سے گذرتے ہوئے وہاں رک گئے اور فرمایا اے گروہ خواتین بڑے بڑے عقلمندوں کے دلوں پر قبضہ کرنے والی ناقص العقل والدین کوئی مخلوق میں نے تم سے بڑھ کر نہیں دیکھی اور میں نے دیکھا ہے کہ قیامت کے دن اہل جہنم میں تمہاری اکثریت ہوگی اس لئے حسب استطاعت اللہ سے قرب حاصل کرنے کے لئے صدقہ خیرات کیا کرو۔ ان خواتین میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی تھیں انہوں نے گھر آکر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا اور اپنا زیور لے کر چلنے لگیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کہاں لے جارہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں تاکہ اللہ مجھے جہنمیوں میں سے نہ کردے انہوں نے فرمایا بھئی یہ میرے پاس لاؤ اور مجھ پر اور میرے بچے پر اسے صدقہ کر دو کہ ہم تو اس کے مستحق بھی ہیں ان کی اہلیہ نے کہا واللہ ایسا نہیں ہوسکتا میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس جاؤں گی۔ چنانچہ وہ چلی گئیں اور کاشانہ نبوت میں داخل ہونے کے لئے اجازت چاہی لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ زینب اجازت چاہتی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سی زینب؟ (کیونکہ یہ کئی عورتوں کا نام تھا) لوگوں نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ فرمایا انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو چنانچہ وہ اندر داخل ہوگئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ سے ایک حدیث سنی تھی میں اپنے شوہر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس واپس پہنچی تو انہیں بھی وہ حدیث سنائی اور اپنا زیور لے کر آنے لگی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کروں اور امید یہ تھی کہ اللہ مجھے اہل جہنم میں شمار نہیں فرمائے گا تو مجھ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے یہ مجھ پر اور میرے بچے پر صدقہ کردو کیونکہ ہم اس کے مستحق ہیں میں نے ان سے کہا کہ پہلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لوں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ ان پر صدقہ کردو کیونکہ وہ واقعی اس کے مستحق ہیں۔ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتائیے کہ جب آپ ہمارے پاس آکر کھڑے ہوئے تھے تو میں نے ایک بات اور بھی سنی تھی کہ میں نے بڑے بڑے عقلمندوں کے دلوں پر قبضہ کرنے والی ناقص العقل والدین کوئی مخلوق تم سے بڑھ کر نہیں دیکھی تو یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دین اور عقل میں نقصان سے کیا مراد ہے؟ فرمایا تمہیں اپنے دین کا نقصان یاد نہیں ہے کہ وہ ایام جو تمہیں پیش آتے ہیں اور جب تک اللہ کی مرضی ہوتی ہے تم رکی رہتی ہو نماز روزہ نہیں کرسکتی ہو یہ تو دین کا نقصان ہے اور جہاں تک عقل کے ناقص ہونے کی بات ہے تو وہ تمہاری گواہی ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8849

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8850

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا کہ میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟

الْمَلِکُ أَيْنَ مُلُوکُ الْأَرْضِ ← يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8850

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8851

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي السَّمْحِ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَيَنْفُذُ الْجُمْجُمَةَ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ فَيَسْلُتَ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلاجائے گا جو ان کی کھوپڑی میں سوراخ کرتا ہوا پیٹ تک پہنچے گا اور اس میں موجود ساری آنتوں کو باہر نکال دے گا یہاں تک کہ پیروں کے راستے باہر نکل آئے گا۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ حُجَیْرَۃَ ← أبي السمح ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8851

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8852

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ وُهَيْبٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرجائے کہ جہاد کیا ہو اور نہ ہی اس کے دل میں جہاد کا خیال آیا ہو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرا۔

نَفْسَهُ بِغَزْوٍ مَاتَ عَلَی شُعْبَةِ نِفَاقٍ ← مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ← وُهَيْبٌ، ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8852

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8853

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِمَوْعُودِهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھوڑے کو اللہ کے راستہ میں روکے رکھے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے تو اس کا کھانے سے سیراب ہونا پینے سے سیراب ہونا پیشاب اور لید قیامت کے دن اس شخص کے ترازو میں نیکیاں بن جائیں گی۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ← طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8853

chevron_left Previous
1…161718…324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter