Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8818

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ میرے جلال کی قسم آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں کوئی سایہ نہیں جگہ عطاء کروں گا۔

النبيِّ أنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← فُلَيْحٌ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8818

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8819

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا ضَلَالَ الطَّرِيقِ وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سر زمین عرب دریاؤں اور نہروں سے لبریز نہ ہوجائے اور جب تک ایک سوار عراق اور مکہ کے درمیان سفر کرے اور اس سفر میں سوائے راہ بھٹکنے کے کوئی اور اندیشہ نہ ہو اور جب تک کہ ہرج کی کثرت نہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8819

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8820

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ ثُمَّ قَالَ تَمَامُ الْمِائَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد٣٣ مرتبہ اللہ اکبر۔ ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ۔ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرے اور ننانوے تک پہنچ کر سو کی تکمیل کے لئے اور آخر میں یہ کہہ لیا کرو ۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر۔ تو اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8820

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8821

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح و شام سو مرتبہ سبحان اللہ و بحمدہ کہہ لے قیامت کے دن کوئی شخص اس سے افضل عمل والا نہیں آئے گا الاّ یہ کہ کسی اور نے بھی یہ کلمات اتنی ہی مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ کہے ہوں

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8821

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8822

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ

کاتبین سے اس مقام پر غلطی ہوئی ہے اور انہوں نے ایک حدیث کی سند اور دوسرے کا متن خلط ملط کردیاہے ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ حدثنا " لکھا ہوا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْحَسَنُ بْنُ الْحَکَمِ النَّخَعِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8822

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8823

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَا جَفَا وَمَنْ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنْ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنْ اللَّهِ بُعْدًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دیہات میں رہتا ہو وہ اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے جو شخص شکار کے پیچھے پڑتا ہے وہ غافل ہوجاتا ہے جو بادشاہوں کے دروازے پر آتا ہے وہ فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کا جتنا قرب حاصل کرتا جاتا ہے اللہ سے اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْحَسَنُ بْنُ الْحَکَمِ النَّخَعِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8823

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8824

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمْشِيَ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا وَهُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ كَانَ أَنْ يَقِفَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِائَةَ عَامٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْطُوَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ اپنے نمازی بھائی کے آگے سے گذرنے کی کیا سزا ہے تو اس یک نظروں میں وہاں سے گذرنے کی نسبت سو سال تک کھڑا رہنا زیادہ بہتر ہوگا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8824

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8825

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ثَوْرٍ عَنِ الْحُصَيْنِ كَذَا قَالَ عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عُمَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ وَمَنْ لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سرمہ لگائے وہ طاق عدد کا خیال رکھے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے وہ طاق عدد کا خیال رکھے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کو پھینک دے اور جو زبان سے چبا لیا ہو اسے نگل لے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے جو شخص بیت الخلاء آئے تو ستر کا خیال رکھے اگر اسے ٹیلے کے علاوہ کچھ نہ ملے تو اس کی طرف پشت کرلے کیونکہ شیطان بنی آدم کی شرمگاہوں سے کھلیتا ہے جو ایسا کرلے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عُمَرَ ← الْحُصَيْنِ كَذَا ← ثَوْرٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8825

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8826

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَسَمِعْنَا وَجْبَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا حَجَرٌ أُرْسِلَ فِي جَهَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا فَالْآنَ انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے ایک دھماکے کی آواز سنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی آواز ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا یہ ایک پتھر کی آواز ہے جیسے ستر سال پہلے جہنم میں لڑھکایا گیا تھا وہ پتھر اب اس کی تہہ میں پہنچا ہے۔

النبيُّ "أتدْرون ما هذا؟ قلنا: الله ورسولُه أعلَمُ. ← وَجْبَةً، ← كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ يَوْمًا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8826

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8827

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وَهُوَ يُمِرُّ الْوَضُوءَ إِلَى إِبْطِهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الْوُضُوءُ قَالَ يَا بَنِي فَرُّوخَ أَنْتُمْ هَاهُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي يَقُولُ تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنْ الْمُؤْمِنِ إِلَى حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ

ابوحازم کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا وہ وضو فرما رہے تھے اور اپنے ہاتھ بغل تک دھو رہے تھے میں نے پوچھا ابوہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟ انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے بنی فروخ تم یہاں اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں اس طرح کبھی وضو نہ کرتا (بہرحال اب تمہیں پتہ چل ہی گیا ہے تو سنو کہ) میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کے اعضاء کی چمک وہاں تک پہنچتی ہے جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔

أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8827

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8828

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ فَقَالَ نَعَمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے انہوں نے مال تو چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی کیا میرا ان کی طرف سے صدقہ کرنا صحیح ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں صحیح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8828

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8829

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَدْرُونَ مَنْ الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ قَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُقْضَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان تو مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی ورپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اسے بٹھا لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔

الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ ← تَدْرُونَ مَنْ الْمُفْلِسُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8829

chevron_left Previous
1…141516…324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter