Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6881

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ جَلَسَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ فِي الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ قَالَ فَانْصَرَفَ النَّفَرُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثُوهُ بِالَّذِي سَمِعُوهُ مِنْ مَرْوَانَ فِي الْآيَاتِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ ضُحًى فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ يَقْرَأُ الْكُتُبَ وَأَظُنُّ أُولَاهَا خُرُوجًا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَذَلِكَ أَنَّهَا كُلَّمَا غَرَبَتْ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ فَأُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ حَتَّى إِذَا بَدَا لِلَّهِ أَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِهَا فَعَلَتْ كَمَا كَانَتْ تَفْعَلُ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ فَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهَا شَيْءٌ ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فِي الرُّجُوعِ فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهَا شَيْءٌ ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهَا شَيْءٌ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْهَبَ وَعَرَفَتْ أَنَّهُ إِنْ أُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ لَمْ تُدْرِكْ الْمَشْرِقَ قَالَتْ رَبِّ مَا أَبْعَدَ الْمَشْرِقَ مَنْ لِي بِالنَّاسِ حَتَّى إِذَا صَارَ الْأُفُقُ كَأَنَّهُ طَوْقٌ اسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ فَيُقَالُ لَهَا مِنْ مَكَانِكِ فَاطْلُعِي فَطَلَعَتْ عَلَى النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا

ابوزرعہ بن عمرورحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں تین مسلمان مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اسے علامات قیامت کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلی علامت دجال کا خروج ہے وہ لوگ واپسی پر حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مروان سے سنی ہوئی حدیث بیان کر دی انہوں نے فرمایا اس نے کوئی مضبوط بات نہیں کہی میں نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی حدیث سنی ہے جو میں اب تک نہیں بھولا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت سورج کامغرب سے طلوع ہونا ہے پھر چاشت کے وقت دابۃ الارض کا خروج ہونا ہے ان دونوں میں سے جو بھی علامت پہلے ظاہر ہو جائے گی دوسری اس کے فورا بعد رونما ہو جائے گی حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو کہ گذشتہ آسمانی کتابیں بھی پڑھے ہوئے تھے کہتے تھے کہ میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے سورج مغرب سے طلوع ہو گا ۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ روزانہ سورج جب غروب ہو جاتا ہے تو عرش الہٰی کے نیچے آ کرسجدہ ریز ہو جاتا ہے پھر واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت مل جاتی ہے جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا کہ وہ مغرب سے طلوع ہو تو وہ حسب معمول عرش کے نیچے سجدہ ریز ہو کر جب واپسی کی اجازت مانگے گا تو اسے کوئی جواب نہ دیا جائے گا تین مرتبہ اسی طرح ہو گا جب رات کا اتناحصہ بیت جائے گا جو اللہ کو منظور ہو گا اور سورج کو اندازہ ہوجائے گا کہ اب اگر اسے اجازت مل بھی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا کہ پروردگار! مشرق کتنا دور ہے ؟ مجھے لوگوں تک کون پہنچائے گا؟ جب افق ایک طوق کی طرح ہو جائے گا تو اسے واپس جانے کی اجازت مل جائے گی اور اس سے کہا جائے گا کہ اسی جگہ سے طلوع کرو چنانچہ وہ لوگوں پر مغرب کی جانب سے طلوع ہو گا پھر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس دن آپ کے رب کی کچھ نشانیاں ظاہر ہو گئیں تو اس شخص کو " جو اب تک ایمان نہیں لایا اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے سکے گا "

اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبُو حَيَّانَ، ← إسماعيل بن إبراهيم يعني ابن علية

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6881

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6882

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ غُنْدَرٌ نُبَيْطِ بْنِ سُمَيْطٍ قَالَ حَجَّاجٌ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ عَنْ جَابَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَالِدَيْهِ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی احسان جتانے والا اور کوئی والدین کا نافرمان اور کوئی عادی شرابی جنت میں داخل نہ ہو گا۔

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَالِدَيْهِ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جابان ← حَجَّاجٌ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ← غُنْدَرٌ نُبَيْطِ بْنِ سُمَيْطٍ ← نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6882

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6883

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا فَقَالَ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا قَالَ وَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ لَمْ يُتِمُّوا الْوُضُوءَ فَقَالَ أَسْبِغُوا يَعْنِي الْوُضُوءَ وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنْ النَّارِ أَوْ الْأَعْقَابِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نوافل پڑھنے کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ اچھی طرح وضو نہیں کر رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے اعضاء وضو کو اچھی طرح مکمل دھویا کرو ۔

وَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ لَمْ يُتِمُّوا الْوُضُوءَ ← عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا ← صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا، ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِی يَحْيَی الْأَعْرَجِ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6883

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6884

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ أَوْ قَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا (کسی کو قتل کرنا) اور جھوٹی قسم کھانا۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6884

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6885

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ طَيْسَلَةَ حَدَّثَنِي مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْمَازِنِيُّ وَالْحَيُّ بَعْدُ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْشَدْتُهُ يَا مَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِنِّي لَقِيتُ ذِرْبَةً مِنْ الذِّرَبْ غَدَوْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتْ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ

حضرت اعشی مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ اشعارپیش کئے جن کا ترجمہ یہ ہے اے لوگوں کے بادشاہ اور عرب کودینے والے میں ایک بدزبان عورت سے ملا، میں رجب کے مہینے میں اس کے لئے کھانے کی تلاش میں نکلا پیچھے سے اس نے جھگڑے اور راہ فرار کا منظر دکھایا، اس نے وعدہ خلافی کی اور دم سے مارا یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا آخری جملہ دہرانے لگے کہ یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے۔ فائدہ۔ اس کی مکمل وضاحت اگلی روایت میں آ رہی ہے۔

الأعشى المازني ← مَعْنُ بن ثعلبة المازني، والحَيُّ بَعْدُ، ← صدقة بن طيسلة ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6885

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6886

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنِي الْجُنَيْدُ بْنُ أَمِينِ بْنِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفِ بْنِ بُهْصُلٍ الْحِرْمَازِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي أَمِيْنُ بْنُ ذِرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ عَنْ أَبِيهِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ الْأَعْشَى وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا مُعَاذَةُ خَرَجَ فِي رَجَبٍ يَمِيرُ أَهْلَهُ مِنْ هَجَرَ فَهَرَبَتْ امْرَأَتُهُ بَعْدَهُ نَاشِزًا عَلَيْهِ فَعَاذَتْ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلِ بْنِ كَعْبِ بْنِ قَمَيْشَعِ بْنِ دُلَفَ بْنِ أَهْضَمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَجَعَلَهَا خَلْفَ ظَهْرِهِ فَلَمَّا قَدِمَ وَلَمْ يَجِدْهَا فِي بَيْتِهِ وَأُخْبِرَ أَنَّهَا نَشَزَتْ عَلَيْهِ وَأَنَّهَا عَاذَتْ بِمُطَرِّفِ بْنِ بُهْصُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا ابْنَ عَمِّ أَعِنْدَكَ امْرَأَتِي مُعَاذَةُ فَادْفَعْهَا إِلَيَّ قَالَ لَيْسَتْ عِنْدِي وَلَوْ كَانَتْ عِنْدِي لَمْ أَدْفَعْهَا إِلَيْكَ قَالَ وَكَانَ مُطَرِّفٌ أَعَزَّ مِنْهُ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَ بِهِ وَأَنْشَأَ يَقُولُ يَا سَيِّدَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِلَيْكَ أَشْكُو ذِرْبَةً مِنْ الذِّرَبْ كَالذِّئْبَةِ الْغَبْشَاءِ فِي ظِلِّ السَّرَبْ خَرَجْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتْ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ وَقَذَفَتْنِي بَيْنَ عِيصٍ مُؤْتَشَبْ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ فَشَكَا إِلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَمَا صَنَعَتْ بِهِ وَأَنَّهَا عِنْدَ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلٍ فَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُطَرِّفٍ انْظُرْ امْرَأَةَ هَذَا مُعَاذَةَ فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ فَأَتَاهُ كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا يَا مُعَاذَةُ هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكِ فَأَنَا دَافِعُكِ إِلَيْهِ قَالَتْ خُذْ لِي عَلَيْهِ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ لَا يُعَاقِبُنِي فِيمَا صَنَعْتُ فَأَخَذَ لَهَا ذَاكَ عَلَيْهِ وَدَفَعَهَا مُطَرِّفٌ إِلَيْهِ فَأَنْشَأَ يَقُولُ لَعَمْرُكَ مَا حُبِّي مُعَاذَةَ بِالَّذِي يُغَيِّرُهُ الْوَاشِي وَلَا قِدَمُ الْعَهْدِ وَلَا سُوءُ مَا جَاءَتْ بِهِ إِذْ أَزَالَهَا غُوَاةُ الرِّجَالِ إِذْ يُنَاجُونَهَا بَعْدِي

نظلہ بن طریف کہتے ہیں کہ ان کے قبیلے کا ایک آدمی تھاجسے اعشی کہا جاتا تھا اس کا اصل نام عبداللہ بن اعور تھا اس کے نکاح میں جو عورت تھی اس کا نام معاذہ تھا ایک مرتبہ اعشی رجب کے مہینے میں ہجر نامی علاقے سے اپنے اہل خانہ کے لئے غلہ لانے کے لئے روانہ ہوا پیچھے سے اس کی بیوی اس سے ناراض ہو کر گھر سے بھاگ گئی اور اپنے قبیلے کے ایک آدمی کے یہاں پناہ لی جس کا نام مطرف بن بہصل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تھا اس نے اسے اپنی پناہ فراہم کر دی۔ جب اعشی واپس آیا تو گھر میں بیوی نہ ملی پتہ چلا کہ وہ ناراض ہو کر گھربھاگ گئی ہے اور اب مطرف بن بہصل کی پناہ میں ہے اعشی یہ سن کرمطرف کے پاس آیا اور کہنے لگا اے میرے چچازادبھائی! کیا میری بیوی معاذہ آپ کے پاس ہے؟ اسے میرے حوالے کردیں اس نے نے کہا کہ وہ میرے پاس نہیں ہے اگر ہوتی بھی تو میں اسے تیرے حوالے نہ کرتا مطرف دراصل اس کی نسبت زیادہ طاقتور تھا چنانچہ اعشی وہاں سے نکل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ اشعار کہتے ہوئے ان کی پناہ چاہی اے لوگوں کے سردار اور عرب کو دینے والے ! میں آپ کے پاس ایک بدزبان عورت کی شکایت لے کر آیا ہوں وہ اس مادہ بھیڑیے کی طرح ہے جو سراب کے سائے میں دھوکہ دے دیتی ہے ماہ رجب میں اس کے لئے غلہ کی تلاش میں نکلا تھا اس نے پیچھے سے مجھے جھگڑے اور راہ فرار کا منظر دکھایا اس نے وعدہ خلافی کی اور اپنی دم ماری اور اس نے مجھے سخت مشکل میں مبتلا کر دیا اور یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ غالب رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہ آخری جملہ دہرانے لگے کہ یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے اس کے بعد اعشی نے اپنی بیوی کی شکایت کی اور اس کا سارا کارنامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور یہ بھی کہ اب وہ انہی کے قبیلے کے ایک آدمی کے پاس ہے جس کا نام مطرف بن بہصل ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطرف کو یہ خط لکھا کہ دیکھو اس شخص کی بیوی معاذہ کو اس کے حوالے کردو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط جب اس کے پاس پہنچا اور اسے پڑھ کر سنایا گیا تو اس نے اس عورت سے کہا کہ معاذہ یہ تمہارے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ہے اس لئے میں تمہیں اس کے حوالے کر رہا ہوں اس نے کہا کہ اس سے میرے لئے عہد و پیمان لے لئے اور اسے اس کے حوالے کر دیا اس پر اعشی نے یہ اشعار کہے تیری عمر کی قسم معاذہ تجھ سے میری محبت ایسی نہیں ہے جسے کوئی رنگ بدل سکے یا زمانہ کا بعد اسے متغیر کر سکے اور نہ ہی اس حرکت کی برائی جو اس سے صادر ہوئی جبکہ اسے بہکے ہوئے لوگوں نے پھسلا لیا اور میرے پیچھے اس سے سرگوشیاں کرتے رہے۔

أَبِيهِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ ← أَبِيهِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ ← أَبِي أَمِيْنُ بْنُ ذِرْوَةَ ← الْجُنَيْدُ بْنُ أَمِينِ بْنِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفِ بْنِ بُهْصُلٍ الْحِرْمَازِيُّ ← أَبُو سَلَمَةَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6886

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6887

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنًى قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَقَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ قَالَ ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ فَارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ قَبْلَ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہی فرمایا اب کر لو کوئی حرج نہیں ۔

فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنًى ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ شِهَابٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6887

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6888

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری طرف سے آگے پہنچادیا کرو خواہ ایک آیت ہی ہو بنی اسرائیل کی باتیں بھی ذکر کر سکتے ہو کوئی حرج نہیں اور جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لینا چاہئے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ ← أَبِي کَبْشَةَ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْأَوْزَاعِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6888

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6889

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سَعْدٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَمَّا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَسْأَلُكَ عَنْ التَّوْرَاةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

ابو سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے وہ حدیث پوچھتا ہوں جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے وہ نہیں پوچھتاجو تورات میں ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← التَّوْرَاةِ فَقَالَ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَا أَسْأَلُكَ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَمَّا ← أَبِي سَعْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6889

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6890

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ الْقَاضِي أَبُو سَهْلٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ رَافِعٍ عَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ حَنَانٍ الْقَاصِّ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ خَرَجْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَيْدَةَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِكُمَا أَعْرَابِيٌّ جَافٍ جَرِيءٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ الْهِجْرَةُ إِلَيْكَ حَيْثُمَا كُنْتَ أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةً أَمْ إِذَا مُتَّ انْقَطَعَتْ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ الْهِجْرَةِ قَالَ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مُتَّ بِالْحَضْرَمَةِ قَالَ يَعْنِي أَرْضًا بِالْيَمَامَةِ قَالَ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ثِيَابَ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَتُنْسَجُ نَسْجًا أَمْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَأَنَّ الْقَوْمَ تَعَجَّبُوا مِنْ مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ مَا تَعْجَبُونَ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا قَالَ فَسَكَتَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ ثِيَابِ الْجَنَّةِ قَالَ أَنَا قَالَ لَا بَلْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ

فرزدق بن حنان نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں سے کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جسے میرے کانوں نے سنا میرے دل نے اسے محفوظ کیا اور میں اسے اب تک نہیں بھولا؟ میں ایک مرتبہ عبیداللہ بن حیدہ کے ساتھ شام کے راستے میں نکلا ہمارا گذر حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا اس کے بعد انہوں نے حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تم دونوں کی قوم سے ایک سخت طبیعت کا جری دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ آپ کی ہجرت کہاں کی جائے ؟ آیا جہاں کہیں بھی آپ ہوں یا کسی معین علاقے کی طرف؟ یا یہ حکم ایک خاص قوم کے لئے ہے یایہ کہ آپ کے وصال کے بعد ہجرت منقطع ہوجائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیرتک سکوت فرمایا پھر پوچھا کہ ہجرت کے متعلق سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرتے رہو تو تم مہاجرہو خواہ تمہاری موت حضرمہ جو یمامہ کا ایک علاقہ ہے ہی میں ہو۔ پھر وہ آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ جنتیوں کے کپڑے بنے جائیں گے یاان سے جنت کا پھل چیر کر نکالا جائے گا؟ لوگوں کو اس دیہاتی کے سوال پر تعجب ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کس بات پر تعجب ہو رہا ہے ایک نا واقف آدمی ایک عالم سے سوال کر رہا ہے ۔ پھر تھوڑی دیرخاموش رہنے کے بعد فرمایا اہل جت کے کپڑوں کے متعلق پوچھنے والاکہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت کے کپڑے جنت کے پھل سے چیر کر نکالے جائیں گے۔

الْحَدِيثَ. ← وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَيْدَةَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ؟خَرَجْتُ ← أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا ← الْفَرَزْدَقِ بْنِ حَنَانٍ الْقَاصِّ ← الْعَلَاءُ بْنُ رَافِعٍ، ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ الْقَاضِي أَبُو سَهْلٍ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6890

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6891

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ فَذَرْهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا قَالَ وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ اجْمَعْهَا إِلَيْكَ حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا وَسَأَلَهُ عَنْ الْحَرِيسَةِ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا قَالَ فَقَالَ فِيهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ قَالَ فَمَا أُخِذَ مِنْ أَعْطَانِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا فِي السَّبِيلِ الْعَامِرِ قَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُوجَدُ فِي الْخَرَابِ الْعَادِيِّ قَالَ فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ میں آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ساتھ اس کا" سم " اور اس کا " مشکیزہ " ہوتا ہے وہ خود ہی درختوں کے پتے کھاتا اور وادیوں کا پانی پیتا اپنے مالک کے پاس پہنچ جائے گا اس لئے تم اسے چھوڑ دو تاکہ وہ اپنی منزل پر خود ہی پہنچ جائے اس نے پوچھا کہ گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاتم اسے لے جاؤ گے یاتمہارا کوئی بھائی لے جائے گا یا کوئی بھیڑیا لے جائے گا تم اسے اپنی بکریوں میں شامل کرو تاکہ وہ اپنے مقصود پر پہنچ جائے اس نے پوچھا وہ محفوظ بکری جو اپنی ، چراگاہ میں ہو اسے چوری کرنے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی دوگنی قیمت اور سزا اور جسے باڑے سے چرایا گیا ہو تو اس میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا جبکہ وہ ایک ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے ۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ! اس گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے جو ہمیں کسی آبادعلاقے کے راستے میں ملے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ایک سال تک اس کی تشہیر کراؤ اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کے حوالے کردو ورنہ وہ تمہاری ہے اس نے کہا کہ اگر یہی چیز کسی ویرانے میں ملے تو؟ فرمایا اس میں اور رکاز میں خمس واجب ہے۔

فِيهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ ← الْحَرِيسَةِ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا ← لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ اجْمَعْهَا إِلَيْكَ حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا وَسَأَلَهُ ← ضالة الغنم ← وسأله ← مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ فَذَرْهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا ← ضَالَّةِ الإِبِلِ ← رَسُولَ اللَّهِ وَرَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُهُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6891

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6892

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کا کوئی نافرمان ، کوئی احسان جتانے والا اور کوئی عادی شرابی اور کوئی ولد زناجنت میں داخل نہ ہو گا۔

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جابان ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6892

chevron_left Previous
1…203204205…223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter