Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6701

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ يُوسُفَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ وَصَلَاةٍ فَذَلِكَ رَجُلٌ دَعَا رَبَّهُ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِسُكُوتٍ وَإِنْصَاتٍ فَذَلِكَ هُوَ حَقُّهَا وَرَجُلٌ يَحْضُرُهَا يَلْغُو فَذَلِكَ حَظُّهُ مِنْهَا

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ میں تین قسم کے لوگ آتے ہیں ایک آدمی تو وہ ہے جو نماز اور دعاء میں شریک ہوتا ہے اس آدمی نے اپنے رب کو پکار لیا اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے عطاء کرے یا نہ کرے، دوسرا آدمی وہ ہے جو خاموشی کے ساتھ آکر اس میں شریک ہو جائے یہی اس کا حق ہے اور تیسرا آدمی وہ ہے جو بیکار کاموں میں لگا رہتا ہے یہ اس کا حصہ ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← يُوسُفُ، ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6701

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6702

حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ لَقَدْ جَلَسْتُ أَنَا وَأَخِي مَجْلِسًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ أَقْبَلْتُ أَنَا وَأَخِي وَإِذَا مَشْيَخَةٌ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ عِنْدَ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ فَجَلَسْنَا حَجْرَةً إِذْ ذَكَرُوا آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ فَتَمَارَوْا فِيهَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا قَدْ احْمَرَّ وَجْهُهُ يَرْمِيهِمْ بِالتُّرَابِ وَيَقُولُ مَهْلًا يَا قَوْمِ بِهَذَا أُهْلِكَتْ الْأُمَمُ مِنْ قَبْلِكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ وَضَرْبِهِمْ الْكُتُبَ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يَنْزِلْ يُكَذِّبُ بَعْضُهُ بَعْضًا بَلْ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور میرا بھائی ایسی مجلس میں بیٹھے ہیں کہ اس کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ بھی ملنا پسند نہیں ہے ایک دفعہ میں اپنے بھائی کے ساتھ آیا تو کچھ بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد نبوی کے کسی دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہم نے ان کے درمیان گھس کر تفریق کرنے کو اچھا نہیں سمجھا اس لئے ایک کونے میں بیٹھ گئے اس دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کی ایک آیت کا تذکرہ چھیڑا اور اس کی تفسیر میں ان کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہو کر باہر نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی پھینک رہے تھے اور فرما رہے تھے لوگو! رک جاؤ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ انہوں نے اپنے انبیاء کے سامنے اختلاف کیا اور اپنی کتابوں کے ایک حصے کو دوسرے حصے پر مارا قرآن اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کی تکذیب کرتا ہو بلکہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اس لئے تمہیں جتنی بات کا علم ہو اس پر عمل کر لو اور جو معلوم نہ ہو تو اسے اس کے عالم سے معلوم کرلو۔

لَقَدْ جَلَسْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6702

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6703

حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ الْمَرْءُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ لَعَنَ اللَّهُ دِينًا أَنَا أَكْبَرُ مِنْهُ يَعْنِي التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تقدیر پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6703

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6704

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِي نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ قربان کرنے کی منت مانی تھی، اس کے ایک بیٹے ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ قربان کردئیے دوسرے بیٹے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارے باپ نے تو حید کا اقرار کر لیا ہوتا تو تم اس کی طرف سے جو بھی روزہ اور صدقہ کرتے اسے ان کا نفع ہوتا (لیکن چونکہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا اس لئے اسے کیا فائدہ ہو گا)

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حجاج، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6704

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6705

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنا ہدیہ واپس نہ مانگے سوائے باپ اپنے بیٹے سے اور ہدیہ دے کر واپس لینے والا ایسے ہے جیسے قے کر کے اسے چاٹ لینے والا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6705

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6706

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هِيَ اللُّوطِيَّةُ الصُّغْرَى يَعْنِي الرَّجُلَ يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کے پچھلے سوراخ میں آتا ہے وہ لواطت صغری " کرتا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6706

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6707

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي قَالَ أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کا برتن تھا میری گود اس کا گہوارہ تھی اور میری چھاتی اس کے لئے سیرابی کا ذریعہ تھی لیکن اب اس کا باپ کہہ رہا ہے کہ وہ اسے مجھ سے چھین لے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم کہیں اور شادی نہیں کرتیں اس پر تمہاراحق زیادہ ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ فَقَالَتْ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6707

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6708

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا فِي غَيْرِ مَخِيلَةٍ وَلَا سَرَفٍ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُرَى نِعْمَتُهُ عَلَى عَبْدِهِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھاؤ پیو صدقہ کرو اور پہنو لیکن تکبر نہ کرو اور اسراف بھی نہ کرو اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمتوں کا اثر اس کے بندے پر ظاہر ہو۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6708

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6709

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت مہر، تحفہ یا ہدیہ کے بدلے نکاح کرے تو نکاح سے قبل ہونے کی صورت میں وہ اسی کی ملکیت ہو گا اور نکاح کا بندھن بندھ جانے کے بعد وہ اس کی ملکیت میں ہو گا جسے دیا گیا ہو اور کسی آدمی کا اکرام اس وجہ سے کرنا زیادہ حق بنتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے اس کا اکرام کیا جائے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6709

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6710

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ غُلَامًا لَهُ مَعَ جَارِيَةٍ لَهُ فَجَدَعَ أَنْفَهُ وَجَبَّهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ قَالَ زِنْبَاعٌ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبْدِ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَوْلَى مَنْ أَنَا قَالَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَأَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ نُجْرِي عَلَيْكَ النَّفَقَةَ وَعَلَى عِيَالِكَ فَأَجْرَاهَا عَلَيْهِ حَتَّى قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَاءَهُ فَقَالَ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ مِصْرَ فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْضًا يَأْكُلُهَا

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوروح " جس کا اصل نام زنباع تھا " نے اپنے غلام کو ایک باندی کے ساتھ" پایا اس نے اس غلام کی ناک کاٹ دی اور اسے خصی کر دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تیرے ساتھ یہ سلوک کسی نے کیا؟ اس نے زنباع کا نام لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی؟ اس نے ساراواقعہ ذکر کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام سے فرمایا جا تو آزاد ہے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! میرا آزاد کرنے والا کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بھی اس کی وصیت کر دی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا ہاں ! مجھے یاد ہے ہم تیرا اور تیرے اہل وعیال کانفقہ جاری کر دیتے ہیں چنانچہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کانفقہ جاری کر دیا پھر جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ پھر آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا ہاں ! یاد ہے تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے مصر کا نام لیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گورنر مصر کے نام اس مضمون کا خط لکھ دیا کہ اسے اتنی زمین دے دی جائے کہ جس سے یہ کھا پی سکے۔

مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6710

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6711

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ إِصْبَعٍ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ وَفِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ قَالَ مُحَمَّدٌ وَسَمِعْتُ مَكْحُولًا يَقُولُ وَلَا يَذْكُرُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَوْرَعَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انگلی میں دس اونٹ واجب ہیں ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں اور سب انگلیاں بھی برابر ہیں اور تمام دانت بھی برابر ہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6711

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6712

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنَدَ إِلَى بَيْتٍ فَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ قَالَ لَا يُصَلِّي أَحَدٌ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى اللَّيْلِ وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ وَلَا تَتَقَدَّمَنَّ امْرَأَةٌ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ سے ٹیک لگا کر لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتے ہوئے فرمایا کوئی شخص عصر کی نماز کے بعد رات تک نوافل نہ پڑھے اور نہ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک، نیز کوئی عورت تین دن کی مسافت کا محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور کسی عورت سے اس کی پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6712

chevron_left Previous
1…188189190…223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter