شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6852
6852 - وقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قال : نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب قال : قال أبو نصر : يعني عبد الوهاب : سئل الكلبي وأنا شاهد عن قول الله عز و جل :
{ فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا }
فقال : نا أبو صالح عن عبد الرحمن بن غنم أنه كان في مسجد دمشق مع نفر من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فيهم معاذ بن جبل فقال : عبد الرحمن يا أيها الناس إن خوف ما أخاف عليكم الشرك الخفي فقال معاذ بن جبل : اللهم غفرا أوما أوما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : حيث ودعنا إن الشيطان قد أيئس أن يعبد في جزيرتكم هذه ولكن يطاع فيما تحتقرون من أعمالكم فقد رضي فقال عبد الرحمن : أنشدك الله يا معاذ فقد رضي فقال عبد الرحمن : أنشدك الله يا معاذ : أما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
من صام رياء فقد أشرك ومن تصدق رياء فقد أشرك ومن صلى رياء فقد أشرك ؟
فقال معاذ : لما تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه الآية :
{ فمن كان يرجو لقاء ربه }
الآية قال : فشق على القوم ذلك واشتد عليهم فقال صلى الله عليه و سلم : أفلا أفرجها عنكم ؟ فقالوا بلى يا رسول الله فرج الله عنك الهم والأذى قال : هي مثل الآية التي في الروم
{ وما آتيتم من ربا ليربو في أموال الناس فلا يربو عند الله }
فقال صلى الله عليه و سلم :
من عمل رياء لم يكتب له ولا عليه
قال الإمام أحمد رحمه الله : وهذا إن صح يشهد لما اختاره الحليمي من الوجه الآخر وقوله فقد أشرك يريد والله أعلم فقد أشرك في ارادته بعمله غير الله فيقول الله عز و جل أنا منه بريء وهو للذي أشرك
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ کیا ابو نصر نے یعنی عبدالوہاب نے کہ کلبی سے پوچھا گیا تھا اور میں موجود تھا۔ اس قول باری کے بارے میں فمن کان برحو القاء ربہ فلیعمل عملاً صالحاً ولا یشرک بعبادۃ ربہ احداً انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابو صالح نے عبدالرحمٰن بن غنم سے جب وہ دمشق کی مسجد میں پہنچے تو بعض اصحاب رسول کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ان میں حضرت معاذ بن جبل بھی تھے۔ عبدالرحمٰن نے کہا اے لوگو بے شک سب سے زیادو ڈر کی بات جو میں تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں وہ شرک خفی ہے۔ حضرت معاذ نے فرمایا: اے اللہ تو معاف فرما کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا فرماتے تھے۔ جب ہم لوگوں سے الوداعی خطاب فرمایا تھا کہ بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ تمہارے جزیرے میں اس کی عبادت کیا جائے گی اسی جزیرے میں۔ لیکن اس کی اطاعت کی جائے گی ان اعمال میں جن کو تم لوگ حقیر سمجھتے ہو وہ اس پر بھی خوش ہو گیا ہے تو عبدالرحمٰن نے کہا میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں اے معاذ وہ راضی ہو گیا ہے۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں اے معاذ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنافر ماتے تھے۔ جو شخص دکھاوے کے لئے روزہ رکھے اس نے شرک کیا؟ اور جس نے دکھاوے کے لئے نماز پڑھی اس نے بھی شرک کیا؟ حضرت معاذ نے فرمایا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی فمن یرجوا القآء ربہ الخ جو شخص اپنے رب کو ملنے کی امید رکھتا ہے۔ اس کو چاہئے کہ وہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔فرمایا کہ یہ آیت لوگوں پر مشکل گزری حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ کیا میں اس کو آسمان کردوں تم سے؟ لوگوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ آپ سے تکلیف اور پریشانی دور کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اس آیت کی طرح ہے جو سورۂ روم میں ہے۔ وما اتیتم من ربًا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ جو تم ربا دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مالوں میں اضافہ ہو وہ اللہ کے نزدیک اضافہ نہیں ہوتا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بطور ربا کے عمل کرے وہ عمل نہ تو اس کے فائدے کے لئے لکھا جاتا ہے نہ نقصان کے لئے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ روایت اگرچہ صحیح ہے۔ تو یہ شہادت دیتی ہے اس کے لئے جس موقف کو حلیمی نے اختیار کیا ہے وجہ ثانی کے طور پر۔ باقی رہا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ فقد اشرک اس نے شرک کیا۔ واللہ اعلم۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا ہو گا کہ اس شخص نے شرک کیا اپنے ارادے میں اپنے عمل کے ساتھ غیر اللہ کے لئے اس لئے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں اس عمل سے لاتعلق ہوں وہ اس کے لئے جس کوشریک بنایا گیا تھا۔
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← أَبُو صَالِحٍ، ← قول الله عز و جل ← شَاهِدٌ ← أبو نصر يعني عبد الوهاب سئل الكلبي ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← وقد
Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6852
شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6923
6923 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي نا محمد بن عبدك حدثني مصعب بن بشر نا شيبان بن أبي شيبان المطوعي قال : قال لي معدان : يا شيبان لا ترد بعملك غير الله فإن سفيان الثوري قال : يا معدان لا ترد بعملك غير الله فإنه براءة من الشرك
حدثني أبو الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الله تبارك وتعالى : كل من عمل عملا أراد به غيري فأنا منه بريء
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد مروزی نے ان کو محمد بن مبارک نے ان کو مصعب بن بشر نے ان کو شیبان بن ابو شیبان معلوعی نے کہتے ہیں مجھ سے معدان نے کہا اے شیبان اپنے عمل کے ساتھ غیر اللہ کا ارادہ نہ کرنا۔ بے شک سفیان ثوری نے کہا تھا۔ اے سعد ان اپنے کسی عمل کے ساتھ غیر اللہ کا ارادہ کرنا یہی شرک سے بیزاری ہے۔ مجھے حدیث بیان کی ابو الزبیر نے باہر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو عمل کرے جس سے وہ میرے ماسوا کا ارادہ کرے میں اس سے بیزار ہوں۔
جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← يا معدان لا ترد بعملك غير الله فإنه براءة من الشرك ← لي معدان يا شيبان لا ترد بعملك غير الله فإن سفيان الثوري ← شيبان بن أبي شيبان المطوعي ← مصعب بن بشر ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَكَ، ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6923
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4034
4034 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا محمد بن يحيى بن الحسين العمي نا عبيد الله العيشي سنة ثمان و عشرين و مائتين نا حماد بن سلمة نا عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال :
الحجر الأسود من الجنة و كان أشد بياضا من الثلج حتى سودته خطايا أهل الشرك
ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافط نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حسین عمی نے ان کو عبید اللہ عیشی نے سنہ 228میں ۔ ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کوابن عباس رضی اللہ عنہ مے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا کہ حجر اسود جنت میں سے ہے اور وہ برف سے زیادہ صاف تھا یہاں تک کہ سیاہ کر دیا ہے اس کو اہل مشرک کے گناہوں نے ۔
النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عبيد الله العيشي سنة ثمان و عشرين و مائتين ← محمد بن يحيى بن الحسين العمي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4034
شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7139
7139 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن محمد و إبراهيم بن أبي طالب و زكريا بن داود الخفاف قالوا نا الحسن بن محمد الزعفراني نا حجاج عن ابن جريج أخبرني يعلى بن مسلم عن سعيد بن جبير أنه سمعه يحدث عن ابن عباس : أن ناسا من أهل الشرك قتلوا فأكثروا ثم زنوا فأكثروا ثم أتوا محمدا صلى الله عليه و سلم فقالوا : إن الذي تقول وتدعو إليه لحسن لو تخبرنا أن لما علمناه كفارة فنزلت
{ والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون }
ونزلت :
{ يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا }
أخرجاه من حديث ابن جريج فروى في ذلك عن ابن جريج كما
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن محمد اور ابراہیم بن ابو طالب اور زکریا بن داؤد خفاف نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو حجاج نے ان کو ابراہیم بن جریج نے ان کو خبر دی یعلی بن مسلم نے ان کو سعید بن جبیر نے انہوں نے سنا وہ حدیث بیان کرتے تھے ابن عباس سے کہ اہل شرک کے بہت سے لوگ ایسے تھے جنہوں نے کثرت کے ساتھ قتل کئے تھے ان کے بعد کثرت کے ساتھ زنا کئے تھے۔ اس کے بعد محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ کی باتیں بھی اچھی ہیں اور آپ کی دعوت بھی پیاری ہے بشرطیکہ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو جو عمل کئے ہیں اس کا کوئی کفارہ بھی ہے۔لہٰذا یہ آیت نازل ہوئی:والذین لا یدعون مع اللہ الھا اٰکر ولا یقتلون الفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون رحمٰن کے بندے وہ لوگ ہیں جواللہ کے ساتھ دوسرے اللہ کو نہیں پکارتے اور ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے۔ اور یہ آیت نازل ہوئی: یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا اے میرے بندو جو اپنے نفسوں پر زیادتی کر چکے ہیں میری رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بخاری ومسلم نے اس کو روایت کیا ہے ابن جریج کی حدیث ہے۔ اس بارے میں ابن جریج سے مروی ہے (جیسے مندرجہ ذیل میں۔)
سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَی بْنِ مُسْلِمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← إبراهيم بن محمد و إبراهيم بن أبي طالب و زكريا بن داود الخفاف ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7139
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8724
8724 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا يحيى بن أبي كثير نا شعبة قال معاوية بن قرة أبو إياس أخبرني قال : سمعت أبي يحدث عن عمر قال : ـ و قد كان أدركه ـ قال : قال عمر : و الله ما أفاد رجل فائدة بعد الإسلام خير من امرأة حسناء حسنة الخلق ودود ولود و الله ما أفاد رجل فائدة بعد الشرك بالله شر من سرية سيئة الخلق حدية اللسان و الله إن منهن لغلاما يفدى وغنا أما وعدا منه
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یحییٰ بن ابی کثیر نے ان کو شعبہ نے کہا معاویہ بن قر ہ اباسی نے کہ مجھے خبر دی ہے فرماتے ہیں میں نے سنا اپنے والد سے وہ حدیث بیان کرتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں۔ وہ ان سے مل چکے تھے وہ کہتے ہیں کہ: حضرت عمر نے فرمایا: اللہ کی قسم اسلام کے بعد کوئی آدمی خوبصورت عورت سے بڑھ کر کوئی فائدہ نہیں اٹھا تا جواچھے اخلاق کی مالک ہو، زیادہ محبت کرنے والی ہو۔ زیادہ اولاد جننے والی ہواوراللہ کی قسم کوئی آدمی اللہ کے ساتھ شرک کے بعد کسی چیز سے اس قد رنفع اندوز نہیں ہوتا جو برا فائدہ ہو اس لونڈی سے زیادہ جو بداخلاق ہوزبان کی تیز ہو ۔ اللہ کی قسم بے شک ان سب سے ایسا بیٹا بھی ہوسکتا ہے جو وفا دار ہوتا ہے جان نچھاور کرتا ہے اور غناوسر ما یہ ہوتا ہے۔
و قد كان أدركه ← عُمَرَ، ← أَبِي ← معاوية بن قرة أبو إياس ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8724
شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6097
6098 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا جعفر بن محمد بن معاذ ثنا أحمد بن يونس ح
قال : وأنا أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا النفيلي قالا : ثنا زهير ثنا عاصم الأحول عن أبي عثمان قال : كتب إلينا عمر ونحن بأذربيجان مع عتبة بن فرقد أنه ليس من كدك ولا كد أبيك قالها ثلاث مرات واشبع يعني المسلمين في رحالهم كما تشبع في رحلك واتزروا وارتدوا وألقوا الخفاف وألقوا السراويلات وألقوا الركب وارموا الأغراض وعليكم بالعربية وإياكم والتنعم وزي أهل الشرك ولبوس الحرير فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن لبس الحرير إلا هكذا ووضع اصبعيه السبابة والوسطى وضمها قال زهير : قال عاصم : هذا في الكتاب رواه البخاري عن أحمد بن يونس مختصرا وكذا مسلم وكذلك رواه قتادة عن أبي عثمان وإنما أراد والله أعلم مقدار إصبعين في كل كم كما قال الحليمي : فيكون ما في الكمين قدر أربع أصابع فقد
اور ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو جعفر بن محمد بن معاذ بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو نفیلی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زہیر نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابو عثمان نے۔انہوں نے کہا کہ تم لوگ آذربیجان میں تھے عتبہ بن فرقد کے ساتھ۔ بے شک حال یہ ہے کہ نہ تو تیری محنت سے ہے اور نہ تیرے باپ کی محنت سے تین بار یہ کہا۔ پیٹ بھر کھانا کھلاؤ تم مسلمانوں کو ان کے گھروں میں یا ان کے سامان میں۔ جیسے تم اپنے سامان پیٹ بھر کھاتے ہو۔ اور تم لوگ تہہ بند باندھو۔ اوپر چادریں اوڑھو۔ پھینک دو موزوں کو۔ پھینک دو پاجاموں کو اونٹوں کے پلانوں کو ترک کر دو پھینک دو خواہشات کو۔ اور لازم کرو عربی بولنے کو۔ اور بچاؤ تم اپنے آپ کو آرام و آسائش کی زندگی سے اور بچاؤ تم اپنے آپ کواہل شرک کے لباس اور ہیئت سے۔ اور بچاؤ تم اپنے آپ کو ریشم پہننے سے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ریشم پہنے سے مگر ایسے ایسے۔ اور اپنی دو انگلیاں سبابہ اور وسطی رکھ دیں اور انگلیوں کو آپس میں ملا دیا۔ زہیر نے کہا کہ عاصم نے کہا تھا۔ یہی درج ہے کتاب میں۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے احمد بن یونس سے اختصار کے ساتھ اور اسی طرح مسلم نے۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے قتادہ نے ابو عثمان سے ہوا اس کے نہیں اس سے ارادہ کیا تھا دو انگلیوں کی مقدار ہر کف میں۔ جیسے شیخ حلیمی نے فرمایا کہ دونوں کفوں میں استعمال ہونے والے ریشم کی مقدار صرف چار اونگل ہو گی بس۔
إلينا عمر ونحن بأذربيجان مع عتبة بن فرقد ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← زُهَيْرٍ ← النُّفَيْلِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← جعفر بن محمد بن معاذ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6097
شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9374
9375 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا هشيم أنا العوام بن حوشب عن الأزهر بن راشد قال : كانوا يأتون أنس بن مالك فإذا حدثهم بحديث فلم يدروا ما هو أتوا الحسن ففسره لهم قال : فحدثهم ذات يوم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تنقشوا في خواتيمكم عربيا و لا تستضيئوا بنار أهل الشرك فلم يدروا ما هو حتى أتوا الحسن فقالوا إن أنسا حدثنا حديثا لم ندر ما هو قال : ما حدثكم أنس ؟ قالوا : حدثنا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تنقشوا في خواتيمكم عربيا و لا تستضيئوا بنار أهل الشرك
قال : أما قوله لا تنقشوا في خواتيمكم عربيا قال : لا تنقشوا في خواتيمكم محمد و قوله لا تستضئوا بنار أهل الشرك يقول : تستشيروا المشركين في شيء من أموركم قال : ثم قال الحسن : تصديق ذلك في كتاب الله تعالى قال : فتلا هذه الآية : { يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم لا يألونكم خبالا }
ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابو الربیع نے ان کو ہثیم نے ان کو عوام بن حوشب نے انکو ازہر بن راشد نے وہ کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس بن مالک کے پاس آتے تھے وہ جب ان کو کوئی حدیث بیان کرتے تو وہ اس کو نہ سمجھ سکتے لہذا حسن کے پاس آتے وہ ان کے سامنے اس کی تفسیر کرتے کہتے ہیں کہ ایک دن انہوں ن ے ان کو یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا تھا۔ اپنی انگوٹھیوں میں عربی نقش نہ کراؤ اور اہل شرک کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو۔ لوگوں نے اس کا مطلب نہ سمجھا لہذا حضر ت حسن کے پاس آئے اور آکر کہا کہ بے شکا نس نے ہمیں ایک حدیث بیان کی ہے ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے جو کہا اس کا کیا مطلب ہے ۔ حسن نے پوچھا کہ انس نے تمہیں کیا حدیث بیان کی ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ اس نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا تم لوگ اپنی انگوٹھیوں میں عربی نقش نہ کرایا کرو اور اہل شرک کی آگ کے ساتھ روشنی حاصل نہ کیا کرو حسن نے فرمایا : کہ جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ اپنی انگوٹھیوں میں عربی نقش نہ کراؤ۔ اس کا مطلب ہے کہ تم اپنی انگوٹھوں میں اسم محمد نقش نہ کرایا کرو۔ اور دوسرے اس قول کا مطلب کہ مشرکوں کہ آگ سے روشنی حاصل نہ کیا کرو۔ اس کا مطلب ہے کہ تم مشرکوں کو اپنے امور اور معاملات مشورے میں شریک نہ کیا کرو۔ اور اس کے بعد حضرت حسن نے فرمایا کہ اس بات کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے پھر انہوں نے دیہپ آیت تلاوت کی ۔ اے اہل ایمان مسلمانوں کے علاوہ ( یعنی کافروں مشرکوں) کو دلی دوست نہ بنایا کرو وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔
فحدثهم ذات يوم ← بحديث فلم يدروا ما هو أتوا الحسن ففسره لهم ← كانوا يأتون أنس بن مالك فإذا ← الْأَزْهَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ
Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9374
شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9375
9376 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن بهز بن حكيم بن معاوية عن أبيه عن جده قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله و الله ما جئتك حتى حلفت بعدد أصابعي هذه أن لا أتبعك و لا أتبع دينك و إني أتيت أمرا لا أعقل شيئا إلا ما علمني الله و رسوله و إني أسألك بالله بما بعثك ربك إلينا ؟ قال : اجلس ثم قال : بالإسلام فقلت : و ما آية الإسلام ؟ قال : تشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تفارق الشرك و أن كل مسلم على كل مسلم حرام إخوان نصيران لا يقبل الله من مشرك أشرك معه إسلامه عملا و إن ربي داعي فسائلي هل بلغت عبادي فليبلغ شاهدكم غائبكم و إنكم تدعون مغدما على أفواهكم بالغدام فأول ما يسأل عن أحدكم فخذه و كفه قال : قلت يا رسول الله فهذا ديننا ؟ قال : نعم و إنما تحشر بكفك و إنكم تحشرون على وجوهكم و على أقدامكم و ركبانا
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو بہنر بن حکیم بن معاویہ نے اپنے والد سے اس نے اپنی دادی سے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا۔ اور مدیں نے کہا یا رسول اللہ اللہ کی قسم میں نے آپ کے پاس آنےسے قبل دس بار قسم کھائی ہے کہ میں آپ کی اتباع نہیں کروں گا اور ندہ ہی آپ کے دین کی پیروی کروں گا میں آیا ہوں ایک ایسے کام کے لئے کہ میں کچھ بھی نہیں سمج رہا مگر جو مجھے اللہ نے اور اس کے رسول نے سکھایا ہے اور میں آپ سے اللہ کے واسطے سے سوال کروں گا اس نے کون سے دین کے ساتھ ہمارے پاس آپ کو بھیجا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بیٹھئے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے مجھے آپ لوگوں کے پاس دین اسلام کے ساتھ بھیجا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ اسلام کی آیت اور پہچان کیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یہ کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کےردسول ہیں۔ اور تم نماز کی پابندی کرو اور تم زکوٰۃ ادا کرو۔ اور تم شرک کو اپنے آپ سے دور کر دو۔ اور یہ کہ ہر مسلم کا دوسرے مسلم پر احترام اور حرمت لازمی ہے جیسے کہ سگے بھائی کی حرمت ہوتی ہے دونوں ایک دوسرے کے مدد گار بھائی ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسے آدمی سے اسلام کو قبول نہیں کریں گے جس نے اللہ کے ساتھ شریک کیا ہو گا اور کسی بھی عمل کو در حقیقت میرا رب داعی ہے ( جو سب کو اپنی طرف بلاتا ہے ) ( یا رب کا داعی ہوں) اور وہ مجھ سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرا دین پہچا دیا تھا۔ دچاہے کہ تم لوگوں میں سے جو یہاں موجود ہیں وہ میرا دین ان کو بھی پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ بے شک تم سب لوگ اس حالت میں رب کے ہاں بلائے جاؤ گے اس حال میں کہ تمہارے مونہوں پر بندش لگا دی گئی ہو گی ۔ بس پہلی چیز جس کے بارے میں تم میں سے کسی ایک سے بھی پوچھی جائے گی وہ اس کی شرم گاہ اور اس کے ہاتھ ہوں گے ۔ صحابی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا بس ہمارا بھی یہی دین ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بالکل یہی دین ہو گا۔ یقینی بات ہے کہ تم قیامت میں اپنے ہاتھ یعنی اعمال کے ساتھ اکٹھے کئے جاؤ گے ۔ اور تم لوگ اپنے منہ کے بل اور اپنے قدموں پر پیدل اور سوار کی حالت میں جمع کئے جاؤ گے ۔
أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9375
شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9378
9379 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو اليمان نا جرير عن سليمان : عن الحارث بن معاوية أنه قدم على عمر بن الخطاب فقال له : كيف تركت أهل الشام ؟ فأخبره عن حالهم فحمد الله ثم قال : لعلكم تجالسون أهل الشرك ؟ فقال : لا يا أمير المؤمنين قال : إنكم إن جالستموهم أكلتم و شربتم معهم و لن تزالوا بخير ما لم تفعلوا ذلك
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو الیمان نے ان کو جریر نے ان کو سلیمان نے حارث بن معاویہ سے کہ وہ عمر بن خطاب کے پاس آئے ۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اہل شام کو کیسے چھوڑا ہے (یعنی کیا حال ہے ان کا )؟ حضرت حارث بن معاویہ نے ان کو ان کا حال بتایا تو انہوں نے الحمد للہ پڑھ کر خطبہ پڑھا۔ اس کے بعد فرمایا کہ شاید تم لوگ مشرکوں کے ساتھ بیٹھتے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں اے امیر المؤمنین فرمایا کہ بے شک تم لوگ ان کو اپنے پاس بٹھاتے ہو اور تم ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہو۔ تم لوگ ہمیشہ خیر کے ساتھ رہو گے جب تک تم یہ کام نہیں کرو گے۔
لا يا أمير المؤمنين ← لعلكم تجالسون أهل الشرك ← حالهم فحمد الله ثم ← له كيف تركت أهل الشام ← الحارث بن معاوية أنه قدم على عمر بن الخطاب ← سُلَیْمَانَ ← جَرِيرٌ ← أَبُو الْيَمَانِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ
Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9378
شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4309
4309 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب نا سليمان بن بلال ح
قال : و أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا حسين بن حسن بن مهاجر نا هارون بن سعيد الأيلي أنا ابن وهب عن سليمان بن بلال عن نور عن أبي الغيث عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
و اجتنبوا السبع الموبقات
قيل : يا رسول الله و ما هن ؟
قال : الشرك بالله و السحر و قتل النفس التي حرم الله إلا بالحق و أكل الربا و أكل مال اليتيم و التولي يوم الزحف و قذف المحصنات الغافلات
رواه مسلم في الصحيح عن هارون بن سعيد و أخرجه البخاري عن عبد العزيز الأويسي عن سليمان
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب ان کو سلیمان بن بلال نے ’’ح“۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حسین بن حسن بن مہاجر نے ان کو ہارون بن سعید ایلی نے ان کو ابن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو نور نے ان کو ابوالغیث نے ان کو ابوہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والے اعمال سے بچو۔سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سے ہیں؟ جواب ارشاد فرمایا کہ: ۱..اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ ۲..جادو کرنا۔ ۳.. ایسی جان کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا حرام ہے سوائے اس قتل کے جو حق کے ساتھ ہو۔ ۴..سود کھانا ۔۵..یتیم کا مال کھانا۔ ۶.. جنگ کے دن فرار ہونا۔ ۷.... پاک دامن عورتوں کو تہمت لگانا جو گناہ سے بے خبر ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ہارون بن سعید سے اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے عبدالعزیز اویسی سے اس نے سلیمان سے۔
Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4309
شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4400
4400 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن محمد بن أحمد بن محمد بن الخطاب الأنصاري ببغداد نا عبيد الله بن الحسن الملا نا خالد بن زيد نا ابن أبي ذئب عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم : أي الدعاء خيرا أدعو به في صلاتي ؟ قال : نزل جبريل عليه السلام فقال : إن خير الدعاء أن تقول في الصلاة اللهم لك الحمد كله و لك الملك كله و لك الخلق كله و إليك يرجع الأمر كله و أعوذ بك من الشر كله
قال عبد الله : تفرد به خالد بن يزيد العمري عن ابن أبي ذئب
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن ملا نے ان کو خالد بن زید نے ان کو ابن ابوذئب نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطاء بن یسار نے ان کو ابوسعید خدری نے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا دعا کون سی اچھی ہے جس کے ساتھ میں نماز میں دعا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام اترے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ بہترین دعا یہ ہے کہ آپ نماز میں یوں دعا کریں۔ اللهم لك الحمد كله ولك الملك كله ولك الخلق كله و اليك يرجع الامر كله و اعوذبك من الشركله اے اللہ تیرے لئے ہے ہر حمد۔ اور تیرے لئے ہے ہر حکومت۔ اور تیرے لئے ہر مخلوق۔اور تیری طرف لوٹتا ہے ہر معاملہ۔ اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر شر سے۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ خالد بن یزید عمری ابن ابی ذئب سے نقل کرتے ہیں۔ اور وہ متفرد ہیں۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ ← عبيد الله بن الحسن الملا ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن محمد بن الخطاب الأنصاري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4400
شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9817
9817 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه نا إسحاق بن الحسن بن ميمون نا عفان بن مسلم نا حماد بن سلمة عن يونس عن الحسن عن عبد الله بن مغفل : أن امرأة كانت بغية في الجاهلية فمر بها رجل أو مرت به فبسط يده إليها
فقالت : هه إن الله ذهب بالشرك و جاء الإسلام فتركها و ولى و جعل ينظر إليها حتى أصاب وجهه الحائط فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر له فقال : أنت عبد أراد الله بك خيرا إن الله تبارك و تعالى إذا أراد بعبد خيرا عجل له عقوبة ذنبه يفي و إذا أراد بعبد شرا أمسك عليه حتى يوافى به يوم القيام
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بالویہ نے ان کو اسحاق بن حسن بن میمون نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو یونس نے ان کو حسن نے ان کو عبداللہ بن مغفل نے کہ ایک عورت جاہلیت میں ( طوائف تھی ) اس کے پاس ایک آدمی گزرتا تھا یا وہ اس کے پاس سے گزرتی تو آدمی اس کی طرف دست درازی کرتا تھا۔ تو وہ کہتی کہ میں تیرے لئے ہوں پھر جب اللہ تعالیٰ نے شرک کو ختم کر دیا۔ اور اسلام لے آیا تو اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ ایک مرتبہ اس طرف سے اس کا گزر ہوا اس نے چلتے چلتے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اچانک جو مڑا تو اس کا چہرا ایک دیوار سے ٹکرا گیا۔ وہ جب حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو اس نے یہ واقعہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے آپ کے ساتھ خیرو بھلائی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ شر اور برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کا گناہ اس پر قائم رکھتے ہیں روک کر رکھتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کا پورا بدلہ لیا جائے گا۔
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9817
المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ وما أسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 180
179 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا منجاب بن الحارث ثنا أبو حذيفة الثعلبي عن زياد بن علاقة عن جابر بن سمرة السوائي عن علي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( سألت ربي عز و جل ثلاث خصال لأمتي فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة قلت : يا رب لا تهلك أمتي جوعا قال : هذه قلت : يا رب لا تسلط عليهم عدوا من غيرهم يعني أهل الشرك فيحتاجهم قال : لك ذلك قلت : يا رب لا تجعل بأسهم بينهم فمنعني هذه )
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں اپنی امت کے لیے مانگیں، دو مجھے دی گئیں اور ایک سے روک دیا گیا، میں نے عرض کی: اے اللہ ! میری امت بھوک سے نہ مرے! فرمایا: بھو ک سے نہیں مرے گی، میں نے عرض کی: ان پر دشمن مسلط نہ ہو! یعنی شرک کرنے والے ان پر غالب نہ ہوں ، فرمایا: دشمن مسلط نہیں ہوگا، میں نے عرض کی: یہ آپس میں نہ جھگڑیں ! اس سے مجھے روک دیا گیا۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 180
المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ 172 - ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه · حديث 1421
1420 - حدثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة ثنا إسحاق بن إبراهيم أبو النضر ثنا يزيد بن ربيعة ثنا أبوالأشعث عن ثوبان Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( ثلاثة لا ينفع معهن عمل الشرك بالله وعقوق الوالدين والفرار من الزحف )
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں تین چیزیں ہوں 'اس کو اس کا عمل نفع نہیں دے گا: (1) اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے کو (2) والدین کے نافرمان کو (3) جنگ سے بھاگنے والے کو۔
ثلاثة لا ينفع معهن عمل الشرك بالله وعقوق الوالدين والفرار من الزحف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ثَوْبَانَ، ← أبوالأَشعثِ ← يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1421
المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ خطبة ابن مسعود ومن كلامه · حديث 8586
8569 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن عاصم بن أبي النجود عن وائل بن ربيعة عن عبد الله قال Y عدلت شهادة الزور الشرك بالله و قرأ { واجتنبوا قول الزور }
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی حالت اللہ کے ہاں زیادہ پسند یدہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ بندہ کو اس حالت میں پائے کہ اس نے اپنے چہرے کو روک کر بارگاہ الہی ٰمیں جھکایا ہوا ہو۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8586
المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 8800
8783 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا مسعر عن وبرة عن عبد الملك بن ميسرة عن أبي الطفيل قال قال عبد الله Y الكبائر الشرك بالله واليأس من روح الله والقنوط من رحمة الله والأمن من مكر الله
حضرت ابوطفیل فرماتے ہیں کہ کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا‘ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا ‘ اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا ‘ اللہ کی خفیہ تدبیر سے اپنے آپ کو امن میں سمجھنا۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8800
المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 8878
8861 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن معمر عن عبد الكريم الجزري عن زياد بن أبي مريم أو عن أبي عبيدة شك معمر قال Y رأى ابن مسعود في عنق امرأته خرزا قد تلعقته من الحمرة فقطعه وقال : إن آل عبد الأغنياء عن الشرك
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کی ماؤں میں سے ایک کے پاس آئے تو اس کے گلے میں ایک ایسا تعویذ دیکھا کہ جو زمانہ جاہلیت میں شرکیہ کلمات لکھ کر تیار کیا جاتا تھا‘ پس دھاگے کو مروڑ کر اسے توڑ دیا اور فرمایا: شرک اور پھر میرے گھر میں؟ پھر فرمایا : شرکیہ کلمات والے تعویز ‘ شرکیہ کلمات پڑھ کر دم اور جادو شرک یا شرک کا جز ہے۔
الشِّرْکُ ← إن آل عبد الأغنياء ← رأى ابن مسعود في عنق امرأته خرزا قد تلعقته من الحمرة فقطعه ← أبي عبيدة شك معمر ← زياد بن أبي مريم أو ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8878
المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 8879
8862 - حدثنا بشر بن موسى ثنا موسى بن داود الضبي ثنا أبو إسرائيل الملائي عن ميسرة بن حبيب عن المنهال بن عمرو عن أبي عبيدة Y أن ابن مسعود دخل على بعض أمهات أولاده فرأى عنقها تميمة فلوى السير حتى قطعه وقال : أفي بيوتي الشرك ؟ ثم قال : التمائم والرقى والتولة شرك أو طرف من الشرك
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہ انہوں نے اپنی ایک اہلیہ کے گلے میں ایک دھاگہ دیکھا جس میں شرکیہ کلمات والے تعویذ تھے ۔ پس اسے سختی سے کھینچ کر توڑ دیا اور فرمایا: عبداللہ کی اولاد شرک سے بے پرواہ ہے۔ پھر فرمایا: بے شک جادوٹونہ ‘ شرکیہ کلمات والے تعویذ اور شرکیہ کلمات پڑھ کر دم کرنا شرک ہے۔ پس عورت نے عرض کی: ہم میں سے کسی کا سر درد کرتا ہے تو ہم دم کرواتی ہیں ‘ جب دم ہوتا ہے تو گمان ہے کہ اس نے نفع دیا۔ پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک شیطان تم میں سے کسی کے پاس آ تا ہے ‘ وہ اس کے سر میں داخل ہو جاتا ہے ‘ پس جب وہ دم کرواتی ہے تو پیچھے ہو جاتا ہے ‘ جب وہ دم نہیں کرواتی ہے تو چوک دیتا ہے ‘ پس اگر تم میں سے کوئی عورت پانی منگوا کر اپنے سر اور چہرے میں چھڑک دے ‘ پھر پڑھے: بسم اللہ الرحمن الرحیم ! پھر پڑھے: سورہ اخلاص سورۃ فلق اور سورہ الناس ‘ تو ان شاءاللہ اسے نفع ہوگا۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8879
المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 8880
8863 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن على ثنا المسعودي عن للمنهال بن عمرو عن أبي عبيدة عن عبد الله Y أنه رأى في عنق امرأة من أهله سيرا فيه تمائم فمده مدا شديدا حتى قطع السير وقال : إن آل عبد الله لأغنياء عن الشرك ثم قال : [ ان ] التولة والتمائم والرقى لشرك فقال امرأة : إن أحدنا ليشتكى رأسها فيسترقى فإذا استرقت ظن أن ذلك قد نفعها فقال عبد الله : إن الشيطان يأتى أحدكم فيخش في رأسها فإذا استرقت خنس فإذا لم تسترق نخس فلو أن إحداكن تدعو بماء فتضحه في رأسها ووجهها ثم تقول : بسم الله الرحمن الرحيم ثم تقرأ { قل هو الله أحد } و { قل أعوذ برب الفلق } و { قل أعوذ برب الناس } نفعها ذلك إن شاء الله
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بے شک موٹی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک عورت ایسی ہوگی جس کی پنڈلی کا گودا اس کی ہڈی و گوشت کے اوپر سے دکھائی دے گا اور ستر عمدہ لباس کے نیچے سے جیسے سرخ شراب ‘ سفید شیشے میں دکھائی دیتی ہے۔
عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← للمنهال بن عمرو ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8880
المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ من اسمه قبيصة قبيصة بن مخارق الهلالي · حديث 15652
943 - حدثنا إسحاق بن ابراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن عوف العبدي عن حيان عن قطن بن قبيصة عن ابيه Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( العيافة والطرف والطيرة من الشرك )
حضرت قطن بن قبیصہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: پرندوں اور کنکریوں اور راستوں سے فال لینا شرک مین داخل ہونا ہے ۔