Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزكاة والصدقة

Zakat & Charity

33359 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1701

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَقَالَ إِنِّي أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ يَعْدِلُ صَاعًا مِنْ التَّمْرِ فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَرَى صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم صدقہ فطر کے طور پر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف اناج کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع، یا پنیر کا ایک صاع، یا کشمش کا ایک صاع ادا کیا کرتے تھے۔ اور یہ معمول یوں ہی برقرار رہا یہاں تک کہ حضرت معاویہ (اپنے عہد حکومت میں) حج یا شاید عمرہ کے لئے مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے فرمایا میرے خیال میں شام کی گندم کے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہوتے ہیں تو لوگوں نے اس کے مطابق عمل کرنا شروع کردیا۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جہاں تک میرا تعلق ہے میں تواسی طرح ادا کرتا ہوں جیسے پہلے ادا کیا کرتا تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں میرا خیال میں ہر چیز کا ایک صاع ادا کرنا چاہیے۔

كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1701

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1702

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ رمضان میں صدقہ فطر کے طور پر اناج کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع، یا کشمش کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع ادا کیا کرتے تھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1702

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1707

أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الَّذِي لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ مَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَلُوهُ

حضرت ابوحمید انصاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کا عامل مقرر کیا وہ شخص اپنا کام کرکے جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا رسول اللہ یہ آپ کے لئے ہے یہ مجھے تحفہ کے طور پر دیا گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھو اور پھر دیکھو کہ تمہیں تحفہ کہیں سے ملتا ہے یا نہیں۔ راوی کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت نماز کے بعد منبر پر کھڑے ہوئے اور آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اللہ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء کی پھر ارشاد فرمایا صدقہ وصول کرنے والوں کو ہم اس کام کا نگران مقرر کرتے ہیں پھر یہ ہمارے پاس آکر کہتے ہیں کہ یہ آپ کے کام کی وصولی ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھ کیوں نہیں جاتا تاکہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ اب اسے ہدیہ ملتا ہے یا نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس بارے میں جو بھی شخص ہمارے ساتھ دھوکہ کرے گا قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ ہوگا اس نے اسے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوگا اگر وہ اونٹ ہوگا تو اسے لے کر آئے گا اور وہ اونٹ آوازیں نکال رہا ہوگا اگر وہ گائے ہوگی تو اسے لے کر آئے گا وہ گائے آوازیں نکال رہی ہوگی اگر وہ بکری ہوگی تو اسے لے کر آئے گا وہ بکری آوازیں نکال رہی ہوگی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تبلیغ کردی ہے۔ حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ہم نے دیکھ لی۔ حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات میرے ساتھ حضرت زید بن ثابت نے بھی سنی تھی تم ان سے پوچھ سکتے ہو۔

أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1707

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1713

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصَدَّقَ امْرُؤٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا إِلَّا وَضَعَهَا حِينَ يَضَعُهَا فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ وَإِنَّ اللَّهَ لَيُرَبِّي لِأَحَدِكُمْ التَّمْرَةَ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص پاکیزہ مال میں سے جو بھی چیز صدقہ کرتا ہے ویسے اللہ تعالیٰ پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے اللہ اس چیز کو اپنے دست رحمت میں رکھ لیتا ہے اور اللہ تمہاری ایک کھجور کواسی طرح پالتا پوستا ہے جیسے کوئی شخص اپنے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ ایک کھجور احد پہاڑ جتنی ہوتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1713

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1714

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ معاف کردینے سے بندے کی عزت میں اضافہ ہی کرتا ہے اور جو شخص اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلندی عطا کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1714

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1716

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَ فُلَانًا الْفَاقَةُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ وَمَا سِوَاهُنَّ مِنْ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَا قَبِيصَةُ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا

حضرت قبیصہ بن مخارق بیان کرتے ہیں میرے اوپر کچھ رقم کی ادئیگی لازم ہوگئی میں وہ مانگنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اے قبیصہ یہاں ٹھہرو ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے تو ہم تمہارے لئے کچھ حکم کردیں گے پھر آپ نے فرمایا اے قبیصہ تین طرح کے لوگوں میں سے کسی ایک شخص کے لئے مانگنا جائز ہے ایک وہ شخص جس کے ذمہ کوئی ادائیگی لازم ہو اس کے لئے مانگنا جائز ہے وہ شخص مانگے یہاں تک کہ ادائیگی لازم ہوجائے تو مانگنے سے باز آجائے دوسرا وہ شخص جسے کوئی آفت لاحق ہو اور اس کا مال ضائع ہوجائے اس کے لئے مانگنا جائز ہے وہ مانگے گا یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات پوری ہوجائیں گی تو مانگنے سے باز آجائے گا۔ اور وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو اور اس کی قوم کے تین دانش مند لوگ یہ کہہ دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ لاحق ہوگیا ہے وہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات پوری ہوجائیں گی تو اس کے علاوہ کسی بھی شخص کا مانگناحرام ہے اے قبیصہ اس طرح مانگ کر کھانے والا حرام کھائے گا۔

تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ أَسْأَلُهُ فِيهَا ← قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، ← کِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1716

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1718

أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَإِنَّهَا عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ

حضرت سلیمان بن عامر نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ناواقف) غریب آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے اور رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو پہلو ہیں ایک صدقہ دینا اور دوسرا رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنا۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← اُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَیْعٍ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1718

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1719

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ الرَّبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ يَرْفَعُهُ قَالَ الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ

حضرت سلیمان بن عامر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں (ناواقف) غریب آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے اور رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو پہلو ہیں ایک صدقہ دینا اور دوسرا رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنا۔

الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ← سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ يَرْفَعُهُ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ، ← مِنَ الثَّوْرِيِّ ← وقد ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1719

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2075

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَمَا بَعْدَ ذَلِكَ صَدَقَةٌ

حضرت ابوشریح خزاعی بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے اپنے پڑوسی کا احترام کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اچھی بات کہنی چاہیے ورنہ خاموش رہنا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہوں اسے اپنے مہمان کی مہمان نوازی کرنی چاہیے ایک دن اور ایک رات پر تکلف دعوت ہو اور تین دن تک مہمان نوازی ہوگی اس کے بعد اگر وہ مہمان پر خرچ کرتا ہے تو وہ صدقہ ہوگا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2075

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2314

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ قَالَ كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنْ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ فِي لَيْلِي شَيْئًا فَيَتَتَابَعَ بِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ أُصْبِحَ قَالَ فَتَظَاهَرْتُ إِلَى أَنْ يَنْسَلِخَ فَبَيْنَا هِيَ لَيْلَةً تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَمَا لَبِثْتُ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ وَقُلْتُ امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَمْشِي مَعَكَ مَا نَأْمَنُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ الْقُرْآنُ أَوْ أَنْ يَكُونَ فِيكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةٌ يَلْزَمُنَا عَارُهَا وَلَنُسْلِمَنَّكَ بِجَرِيرَتِكَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ خَبَرِي فَقَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ وَهَا أَنَا صَابِرٌ نَفْسِي فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ قَالَ فَأَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قُلْتُ وَهَلْ أَصَابَنِي الَّذِي أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ قَالَ فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا وَحْشَى مَا لَنَا طَعَامٌ قَالَ فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَكُلْ بَقِيَّتَهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ قَالَ فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمْ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْيِ وَقَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ

سلمہ بن صخر بیان کرتے ہیں میں ایک ایسا شخص تھا جو بیوی کے ساتھ اتنی مرتبہ صحبت کیا کرتا تھا جو عام طور پر لوگ نہیں کرتے جب رمضان کا مہینہ آیا تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید میں رات کے وقت ایسی کسی حرکت کا مرتکب ہوجاؤں گا میں اس سے بچنے کی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی وہ بیان کرتے ہیں میں نے مہینہ ختم ہونے کی مدت تک کے لئے ظہار کرلیا اسی دوران رات کے وقت میری بیوی میری خدمت میں حاضر ہوئی اس کا کچھ حصہ میرے سامنے بے پردہ ہوگیا تو میں اس کی طرف لپکنے سے باز نہیں رہ سکا جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آیا اور انہیں اس کے بارے میں بتایا اور ان سے کہا کہ تم میرے ساتھ نبی کریم کے پاس چلو لوگ بولے نہیں اللہ کی قسم ہم تمہارے ساتھ نہیں چلیں گے کیونکہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ تمہارے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہوجائے گا یا نبی پاک تمہارے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں گے جس سے ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ہم تمہیں تمہارے جرم کے حوالے کرتے ہیں۔ سلمہ بن صخر بیان کرتے ہیں خود ہی نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساراواقعہ بیان کیا نبی نے دریافت کیا یہ تم نے کیا کیا۔ میں نے عرض کی میں نے ایساہی کیا ہے آپ نے پھر دریافت کیا اے سلمہ تم نے ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے عرض کی میں نے ایسا کیا ہے آپ نے دریافت کیا اے سلمہ تم نے ایسا کیا ہے میں نے عرض کیا میں نے ایساہی کیا ہے اور اب میں اپنے آپ کو پیش کردیاہے آپ میرے بارے میں وہ حکم دیں جو اللہ نے آپ کو حکم دیاہے نبی نے فرمایا تم غلام آزاد کردو۔ سلمہ کہتے ہیں میں نے اپنی گردن کی پشت پرہاتھ مارا اور عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میرے پاس تو صرف بیوی ہے کوئی غلام نہیں۔ نبی اکرم نے فرمایا تم ایک وسق کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اس نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے گزشتہ رات ہم نے بھوکے رہ کر گزارہ کیا ہے ہمارے پاس تو کھانا ہی نہیں ہے۔ نبی اکرم نے فرمایا جو صاحب بنوزریق سے صدقہ وصول کرنے پر مامور ہیں تم ان کے پاس جاؤ وہ تمہیں اس صدقے میں سے کچھ دیدے گا تم ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھجوریں کھلا دینا جو بچ جائے وہ تمہارے اور تمہارے گھروالوں کے لئے ہیں۔ سلمہ بیان کرتے ہیں میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آیا اور کہا میں نے تم لوگوں کے پاس تنگی اور غلط رائے پائی ہے اور میں نے اپنے نبی کریم کے پاس بہترین اور کشادہ رائے پائی ہے آپ نے مجھے تمہیں صدقہ دینے کا حکم دیاہے۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book of divorce › Door · Hadith 2314

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2330

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا وَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَ حُرًّا وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ هَذَا قِيلَ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے بریرہ نامی کنیز کو خریدنے کا ارادہ کیا اس کے مالکوں نے یہ شرط عائد کی کہ ولاء کا حق انہیں حاصل ہوگا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کا تذکرہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم اسے خرید لو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ہوتا ہے (راوی بیان کرتے ہیں ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسے خرید کر آزاد کردیا۔ اس کنیز کو اس کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا اس کا شوہر آزاد تھا۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کہاں سے آیاہے عرض کی گئی کہ یہ بریرہ کو صدقہ کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے یہ ہدیہ ہے۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Sunan Darmi · From the book of divorce › Door · Hadith 2330

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2331

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا لَيْسَ فِيهِ لَحْمٌ فَقَالَ أَلَمْ أَرَ لَكُمْ قِدْرًا مَنْصُوبَةً قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْ لَنَا قَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا مِنْهَا هَدِيَّةٌ وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ فَلَمَّا عُتِقَتْ خُيِّرَتْ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے تو میں نے ان کے سامنے کھانا رکھا اس میں گوشت نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے دیکھا تو تھا کہ تم نے ہنڈیا رکھی ہوئی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو صدقہ کے طور پر دیا گیا ہے لیکن اس نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیاہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کے لئے صدقہ ہے لیکن ہمارے لئے ہدیہ ہے۔ (راوی کہتے ہیں) اس کا شوہر تھا جب وہ خاتون آزاد ہوئی تو اس کو اختیار دیا گیا۔

أَلَمْ أَرَ لَكُمْ قِدْرًا مَنْصُوبَةً قُلْتُ ← دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَيَّ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا لَيْسَ فِيهِ لَحْمٌ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ

Sunan Darmi · From the book of divorce › Door · Hadith 2331

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2436

أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً قُلْنَا بَلَى قَالَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ أَوْ قَالَ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ قَالَ فَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ قَالَ فَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں بتاؤں لوگوں کی قدرومنزلت کے اعتبار سے سب سے بہتر شخص کون ہے؟ ہم نے عرض کی جی ہاں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑ لے (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں کہ اپنے گھوڑے کو اللہ کی راہ میں پکڑ لے) یہاں تک کہ وہ فوت ہوجائے یا شہید کر دیا جائے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو اس سے بعد کا مرتبہ رکھتا ہے؟ ہم نے عرض کی جی یا رسول اللہ فرمایا وہ شخص جو کسی الگ تھلگ کسی گھاٹی پر رہے نماز ادا کرے زکوۃ ادا کرے لوگوں کے شر سے محفوظ رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں قدرومنزلت کے اعتبار سے سب سے بدتر شخص کے بارے میں بتاؤں؟ ہم نے عرض کی جی یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے اور وہ اسے کچھ نہ دے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← إِسْمَعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2436

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2533

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الَّذِي لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأَمِّكَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَغُلُّ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعِرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبِطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَلُوهُ

حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ایک شخص کو صدقہ کا مال وصول کرنے کا عامل مقرر کیا وہ عامل اپنا کام ختم کرنے کے بعد نبی کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کی یا رسول اللہ یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے نبی اکرم نے فرمایا تم اپنے ماں باپ کے گھر پر کیوں نہیں بیٹھ گئے تاکہ تم اس بات کا جائزہ لیتے کہ تمہیں تحفے کے طور پر کچھ دیاجاتا یا نہ دیاجاتا۔ پھر شام کے وقت نماز کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا یہ عام لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انہیں عامل مقرر کرتے ہیں اور پھر یہ ہمارے پاس آکر کہتے ہیں یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھ جاتا تاکہ پھر جائزہ لے کہ اسے تحفہ ملتا ہے یا نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے تم میں سے جو بھی خیانت کرے گا قیامت کے دن وہ اس چیز کو اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا اگر وہ اونٹ ہوگا تو اس اونٹ کو اٹھا کر لائے گا جو آوازیں نکال رہا ہوگا اگر وہ گائے ہوگی تو اس گائے کو اٹھا کر لائے جو بول رہی ہو گی جو بکری کی خیانت کرے گا وہ اس بکری کو اٹھا کر لائے گا میں نے تبلیغ کردی ہے حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں یہ بات میرے ہمراہ حضرت زید بن ثابت نے نبی اکرم کی زبانی سنی تھی تم ان سے پوچھ سکتے ہو۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2533

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2580

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے لئے خیرخواہی اختیار کرنے کی بیعت کی تھی۔

«بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ» ← جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَعِيلُ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2580

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2605

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَالِكٍ قِرَاءَةً عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَجَاءَتْ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ فَقُلْتُ لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً قَالَ عَبْد اللَّهِ هَذَا يُقَوِّي قَوْلَ مَنْ يَقُولُ الْحَيَوَانُ بِالْحَيَوَانِ

حضرت ابورافع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام کا فرمان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ قرض کے طور پر کسی سے عوض لیا۔ جب صدقے کے اونٹ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی کہ میں اس شخص کو ایسا ہی اونٹ قرض کے طور پر ادا کروں میں نے عرض کی یا رسول اللہ مجھے ویسا ہی اونٹ تو نہیں ملا البتہ ایک اونٹ زیادہ ہی بہتر اور عمدہ ہے اور اس کی عمر چھ برس ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہی اسے ادا کردو کیونکہ سب سے بہتر وہی ہے جو بہتر طریقے سے قرض ادا کرے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث کے ذریعے ان لوگوں کے موقف کی تائید ہوتی ہے جن کے نزدیک جانور کے عوض میں جانور فروخت کیا جا سکتا ہے۔

أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2605

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2647

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهَا فَلَهُ فِيهَا صَدَقَةٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْعَافِيَةُ الطَّيْرُ وَغَيْرُ ذَلِكَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس زمین سے اجر ملے گا اس زمین سے جو بھی پرندے کھائیں گے وہ اس زمین میں اس شخص کے لئے صدقہ شمار ہوگا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ العافیہ سے مراد پرندے وغیرہ ہیں۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2647

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2648

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ السَّبَائِيُّ الْمَأْرِبِيُّ حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ أَنَّ أَبَاهُ سَعِيدَ بْنَ أَبْيَضَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ الْمِلْحَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ مِلْحُ شَذَّا بِمَأْرِبَ فَأَقْطَعَهُ ثُمَّ إِنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مِثْلُ مَاءِ الْعِدِّ فَاسْتَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْيَضَ فِي قَطِيعَتِهِ فِي الْمِلْحِ فَقُلْتُ قَدْ أَقَلْتُهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ وَهُوَ مِثْلُ مَاءِ الْعِدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ قَالَ وَقَطَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَكَذَا بِالْجَوْفِ جَوْفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ قَالَ الْفَرَجُ فَهُوَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ

حضرت ابیض بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کا ایک ٹکڑا مانگا جس کا نام شذ مآرب تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عطا کردیا پھر حضرت اقرع بن حابس تمیمی نے عرض کی اے اللہ کے نبی زمانہ جاہلیت میں وہ حصہ میں نے حاصل کیا تھا یہ وہ زمین ہے جہاں پانی نہیں ہوتا اور وہ شخص جو وہاں تک پہنچ جائے وہ اسے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے اس کی مثال پانی کی طرح ہے جو مسلسل جاری ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابیض بن حمال سے وہ قطعہ اراضی واپس کرنے کے لئے کہا۔ حضرت ابیض کہتے یہں میں نے عرض کی میں وہ آپ کو اس شرط پر واپس کروں گا کہ آپ اسے میری طرف سے صدقہ بنادیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے اور اس کی مثال اس پانی کی طرح ہے جو لگاتار بہتا ہے جو شخص اس تک پہنچ جائے اسے حاصل کرلے۔ حضرت ابیض بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ قطعہ اراضی اور کھجوروں کا ایک باغ بطن وادی میں عطا کیا۔ حضرت ابیض کی مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان سے قطعہ اراضی واپس لیا تھا اس کے عوض میں یہ مجھے عطا کیا۔ فرج نامی راوی کہتے ہیں وہ قطعہ اراضی اسی حالت میں رہا جو شخص اس تک پہنچ جائے وہ اسے قبضے میں کرے گا۔

عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ ← الْفَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ السَّبَائِيُّ الْمَأْرِبِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2648

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2650

أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِي فَقَالَ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ أَمُسْلِمٌ غَرَسَ هَذَا أَمْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ فَقَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ طَيْرٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ

حضرت زید بن حارثہ کی اہلیہ سیدہ ام مبشر بیان کرتی ہیں میرے باغ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت کیا اے ام مبشر یہ باغ کسی مسلمان نے لگایاہے یا کافر نے میں نے جواب دیا مسلمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بھی مسلمان پودا لگاتا ہے اس میں سے کوئی جانور یا پرندہ کھاتا ہے تو وہ چیز اس کے لئے صدقہ ہوجاتی ہے۔

يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ أَمُسْلِمٌ غَرَسَ هَذَا أَمْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ ← دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ فِي حَائِطٍ لِي ← حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو سُفْيَانَ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2650

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2704

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمُسْلِمُ إِذَا أَنَفْقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ

حضرت ابومسعود بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کوئی شخص ثواب کے حصول کی نیت سے اپنے اہل خانہ پر خرچ کرے تو یہ اس کے لئے صدقہ ہوگی۔

الْمُسْلِمُ إِذَا أَنَفْقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2704

chevron_left Previous
1…373839…1,668
Next chevron_right