Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزكاة والصدقة

Zakat & Charity

33359 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1664

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ الصَّدَقَةَ فَلَمْ تُخْرَجْ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قُبِضَ أَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ أَخَذَهَا عُمَرُ فَعَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَلَقَدْ قُتِلَ عُمَرُ وَإِنَّهَا لَمَقْرُونَةٌ بِسَيْفِهِ أَوْ بِوَصِيَّتِهِ وَكَانَ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کے احکام تحریر کروائے آپ نے انہیں اپنے ریاستی اہلکاروں کو نہیں بھجوایا تھا کہ اس سے پہلے ہی آپ کا وصال ہوگیا آپ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس تحریر کو حاصل کرکے اس پر عمل کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد حضرت عمر نے اسے حاصل کیا اور ان دونوں کے بعد وہ بھی اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر شہید ہوگئے وہ تحریر ان کی تلوار میں (راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں) ان کی وصیت کے ہمراہ موجود تھی (وہ تحریر یہ تھی) اونٹوں کی زکوۃ کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ہر پانچ اونٹوں سے پچیس اونٹوں تک میں ایک بکری وصول کی جائے گی جب ان کی تعداد پچیس ہوجائے تو ان میں سے دوسرے سال میں داخل ہونے والی ایک اونٹنی دی جائے گی پچیس سے پینتیس تک یہ ہوگی اگر ایسی اونٹنی نہ ہو تو دو سال کا ہو کر تیسرے سال میں داخل ہونے والا ایک اونٹ لیا جائے گا جب اونٹوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوجائے تو پینتالیس سے ساٹھ تک ایک ایسی اونٹنی لی جائے گی جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہو جب اونٹوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو پچھتر تک میں ایسی اونٹنی لی جائے گی جو پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہو اگر اونٹوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو نوے تک اس میں دو ایسی اونٹنیاں لی جائیں گی جو دو سال کی ہو کر تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہوگی اگر ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو ایک سو بیس تک میں دو ایسی اونٹنیاں لی جائیں گی جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہوں گی اگر ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر پچاس کے اضافے میں ایک ایسی اونٹنی مزید لی جائے گی جو چوتھے سال میں شامل ہوچکی ہو اور ہر چالیس کے اضافہ میں ایک ایسی اونٹنی لی جائے گی جوتیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1664

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1667

أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَوْتُ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ هَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں میں نے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کردی ہے چاندی کی زکوۃ میں ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم ادا کرو۔ جب تک پورے دو سو نہ ہوجائیں ایک سو نوے ہوں تو کوئی (اضافی ادائیگی) چیز لازم نہیں ہوگی۔

((عفوت ← علي رفعه إلى النبي ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَقَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1667

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1668

أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي لَيْلَى هُوَ الْكِنْدِيُّ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ أَنْ لَا يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ

حضرت سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوۃوصول کرنے والا شخص ہمارے ہاں آیا میں نے اس سے تحریر وصول کی تو اس میں یہ تحریر تھی (زکوۃ کی ادائیگی میں ہیرا پھیری کرنے کے لئے) الگ الگ چیزوں کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھی چیزوں کو الگ الگ نہ کیا جائے تاکہ زکوۃ سے نہ بچا جاسکے۔

أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← أَبِي لَيْلَى هُوَ الْكِنْدِيُّ ← عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ← شَرِيکٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1668

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1670

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَى فَرَسِ الْمُسْلِمِ وَلَا عَلَى غُلَامِهِ صَدَقَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں مسلمان کے گھوڑے اور اس کے غلام کے بارے میں زکوۃ فرض نہیں ہے۔

لَيْسَ عَلَى فَرَسِ الْمُسْلِمِ وَلَا عَلَى غُلَامِهِ صَدَقَةٌ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1670

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1671

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا وَالصَّاعُ مَنَوَانِ وَنِصْفٌ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَرْبَعَةُ أَمْنَاءٍ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْعِرَاقِ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں پانچ وسق سے کم اناج میں زکوۃ فرض نہیں ہے۔ پانچ اوقیہ سے کم (سونے چاندی) میں زکوۃ فرض نہیں ہوتی اور پانچ سے کم اونٹوں میں زکوۃ فرض نہیں ہوتی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1671

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1672

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ مِنْ حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں پانچ وسق سے کم اناج میں زکوۃ فرض نہیں ہے۔ پانچ اوقیہ سے کم (سونے چاندی ) میں زکوۃ فرض نہیں ہوتی اور پانچ سے کم اونٹوں میں زکوۃ فرض نہیں ہوتی ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1672

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1674

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد آخُذُ بِهِ وَلَا أَرَى فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ بَأْسًا

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکوۃ فرض ہونے سے پہلے ہی جلدی ادا کرلینے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بارے میں رخصت عطاکی۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں میں اسی دلیل کے طور پر اختیار کرتا ہوں میرے نزدیک زکوۃ کی جلدی ادائیگی میں کوئی حرج نہیں۔

عَلِيٍّ، ← حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّا ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1674

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1675

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ

سیدہ فاطمہ بنت قیس بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارے اموال میں زکوۃ کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔

إِنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← عَامِرٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1675

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1677

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي قَوِيٍّ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہروایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے خوشحال اور طاقت ور شخص کے لئے (صدقہ وصول کرنا جائز نہیں۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ ذی مرہ سوی سے مراد قوی طاقت ور ہے)

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو نُعَيْمٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1677

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1680

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَ الْحَسَنُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِخْ كِخْ أَلْقِهَا أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضرت امام حسن نے صدقے کی کھجور پکڑی اور اسے اپنے منہ میں ڈالنے لگے تو آپ نے فرمایا ارے ارے اسے رکھ دو کیا تمہیں پتا نہیں ہے ہم صدقہ نہیں کھاتے۔

لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَةَ ← النَّبِيُّ كِخْ كِخْ أَلْقِهَا أَمَا شَعَرْتَ ← أَخَذَ الْحَسَنُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1680

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1681

أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ وَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ

حضرت ابویعلی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حسن بھی آپ کے پاس موجود تھے انہوں نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور پکڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ان سے چھین لی اور فرمایا تمہیں پتہ نہیں ہے ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔

أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ ← عِنْدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ← كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ ← أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عِيسَى؛ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← زُهَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1681

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1689

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي هِشَامٌ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے۔ آدمی اس شخص سے کرنا چاہیے جو اس کے زیر کفالت ہو۔

ظَهْرِ غِنًى وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ ← خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا تُصُدِّقَ بِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُرْوَةَ ← هِشَامٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1689

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1691

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يَذْكُرُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ

حضرت حکیم بن حزام روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے تم آغاز ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر کفالت ہوں۔

حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يَذْكُرُ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1691

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1692

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَوَافَقَتْ زَيْنَبَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ أَضَعُ صَدَقَتِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَوْ فِي قَرَابَتِي فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ

حضرت عبداللہ کی اہلیہ سیدہ زینب بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے خواتین صدقہ دیا کرو خواہ وہ تمہارے زیور کیوں نہ ہو۔ حضرت زینب بیان کرتی ہیں حضرت عبداللہ ان دنوں تنگ دست تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دریافت کرنے کے لے گئے تو زینب نامی ایک انصاری خاتون مجھے ملی اس نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کرنا تھا جو میں نے کرنا تھا میں نے حضرت بلال سے کہا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر بتائیں کہ میں اپنا صدقہ کہاں خرچ کرو کیا عبداللہ پر یا اپنے رشتہ داروں پر حضرت بلال نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے دریافت کیا کون سی والی زینب ہے، حضرت بلال نے عرض کی حضرت عبداللہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو دو طرح کا اجر ملے گا ایک رشتہ داری کا دوسرا صدقہ کرنے کا۔

زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبَا وَائِلٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1692

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1693

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا نَخْلًا وَكَانَتْ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءُ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا طَيِّبٌ فَقَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ إِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَائِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهِ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَّمَهُ أَبُو طَلْحَةَ فِي قَرَابَةِ بَنِي عَمِّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کھجوروں کے باغ کی ملکیت کے حوالے سے حضرت ابوطلحہ مدینہ منورہ میں سب سے امیر انصاری تھے انہیں اپنے باغات میں سب سے زیادہ بیرحاء نامی باغ محبوب تھا جو مسجد کے مقابل میں تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے جایا کرتے تھے وہاں پاکیزہ پانی پیتے تھے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی " تم لوگ اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں پسند ہیں اور جو چیز تم خرچ کروگے اس سے اللہ واقف ہے" حضرت ابوطلحہ بولے میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، یہ صدقہ ہے اور میں اللہ کی بارگاہ میں اس کے ثواب کے امیدوار ہوں یا رسول اللہ آپ اسے جہاں چاہیں خرچ کرسکتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہت عمدہ اور نفع بخش (راوی کو شک ہے یا شاید آپ نے فرمایا) فائدہ مند مال ہے تم نے جو کہا میں نے اسے سن لیا تاہم میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی عزیزوں میں خرچ کردو حضرت ابوطلحہ نے عرض کی یا رسول اللہ میں ایسا ہی کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) پھر حضرت ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے چچازاد رشتے داروں میں تقسیم کردیا۔

أَنَسٍ، ← إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مَالِكٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1693

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1694

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَمَرَنَا فِيهَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَانَا عَنْ الْمُثْلَةِ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جب بھی خطبہ دیا تو آپ نے اس میں ہمیں صدقہ کرنے کی ہدایت کی اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔

الْمُثْلَةِ ← مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا أَمَرَنَا فِيهَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَانَا ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1694

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1696

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ دُحَيْمٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِي عَنْكَ الثُّلُثُ

حضرت عبدالرحمن بن ابولبابہ بیان کرتے ہیں حضرت ابولبابہ نے انہیں بتایا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی ہوگئے تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ میری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں اپنی قوم کے گھر سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں اور آپ کے پاس سکونت اختیار کرتا ہوں اور اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے ایک تہائی (مال صدقہ کرنا) ہی کافی ہوگا۔

أَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ دُحَيْمٌ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1696

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1697

أَخْبَرَنَا يَعْلَى وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي قَالَ أَحْمَدُ فِي بَعْضِ الْمَعَادِنِ وَهُوَ الصَّوَابُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا مِنِّي صَدَقَةً فَوَاللَّهِ مَا لِي مَالٌ غَيْرَهَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ هَاتِهَا مُغْضَبًا فَحَذَفَهُ بِهَا حَذْفَةً لَوْ أَصَابَهُ لَأَوْجَعَهُ أَوْ عَقَرَهُ ثُمَّ قَالَ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَالِهِ لَا يَمْلِكُ غَيْرَهُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى خُذْ الَّذِي لَكَ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَهُ وَذَهَبَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَانَ مَالِكٌ يَقُولُ إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ مَالَهُ فِي الْمَسَاكِينِ يَتَصَدَّقُ بِثُلُثِ مَالِهِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص انڈے کی طرح کا سونا لے کر آپ کے پاس آیا جو اسے کسی جنگ میں ملا تھا (ایک روایت میں ہے) کسی کان میں سے ملا تھا اور یہی زیادہ صحیح ہے اس نے عرض کی یا رسول اللہ یہ میری طرف سے صدقہ کے طور پر قبول کیجئے اللہ کی قسم میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا پھر وہ دوسری جانب سے آپ کے پاس آیا اور وہی بات عرض کی پھر وہ آپ کے سامنے کی جانب سے آیا اور وہی بات عرض کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کے عالم میں فرمایا لاؤ پھر آپ نے وہ اس کی طرف پھینکا اگر وہ اسے لگ جاتا تو وہ زخمی ہوجاتا (یا شاید مر ہی جاتا) پھر آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے مال کو صدقہ کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہوتا پھر وہ اسے صدقہ کردیتا ہے اور خود لوگوں سے مانگنے کے لئے بیٹھ جاتا ہے صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں ہو (پھر آپ نے اس سے فرمایا) اپنا یہ پکڑو ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ (راوی کہتے ہیں) اس شخص نے وہ مال پکڑا اور چلا گیا۔ امام دارمی فرماتے ہیں امام مالک فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنا مال غریبوں میں بانٹنا چا ہے تو وہ ایک تہائی مال صدقہ کرے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَعْلَى وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1697

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1699

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَقُولُ بِهِ قَالَ مَالِكٌ كَانَ يَقُولُ بِهِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطر میں کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہر آزاد یا غلام مرد یا عورت مسلمان پر لازم کیا ہے۔ امام دارمی سے سوال کیا گیا آپ اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے جواب دیا امام مالک بھی اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1699

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1700

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَعَدَلَهُ النَّاسُ بِمُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کے بارے میں یہ ہدایت کی ہے ہر چھوٹے اور بڑے اور آزاد اور غلام کی طرف سے ایک صاع کھجور صدقہ فطر کے طور پر ادا کیا جائے گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پھر لوگوں نے دو "مد" گندم کو اس کے برابر قرار دےدیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1700

chevron_left Previous
1…363738…1,668
Next chevron_right