مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ} [النحل: 90]. · حديث 11120
11120 - «وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا إِذْ شَخَصَ بِبَصَرِهِ، ثُمَّ صَوَّبَهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَلْزَقَ بِالْأَرْضِ، قَالَ: وَشَخَصَ بِبَصَرِهِ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضَعَ هَذِهِ الْآيَةَ بِهَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [النحل: 90]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نگاہ اٹھا کے اوپر کی طرف دیکھا پھر آپ نے سر کو جھکا لیا یوں کہ قریب تھا کہ آپ زمین کے ساتھ مل جاتے پھر آپ نے اپنی نگاہ کو اوپر کی طرف اٹھایا پھر آپ نے بتایا: ’’جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے یہ کہا: میں اس سورت کے اس مقام پر یہ آیت رکھ دوں‘‘ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ” بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے احسان کرنے قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور وہ فحاشی ، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے ، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے۔
عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {Indeed, God enjoins justice and kindness} [An-Nahl: 90]. · Hadith 11120
