Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإحسان

Ihsan

  • Ihsan
  • احسان

1155 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ} [النحل: 90]. · حديث 11120

11120 - «وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا إِذْ شَخَصَ بِبَصَرِهِ، ثُمَّ صَوَّبَهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَلْزَقَ بِالْأَرْضِ، قَالَ: وَشَخَصَ بِبَصَرِهِ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضَعَ هَذِهِ الْآيَةَ بِهَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [النحل: 90]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نگاہ اٹھا کے اوپر کی طرف دیکھا پھر آپ نے سر کو جھکا لیا یوں کہ قریب تھا کہ آپ زمین کے ساتھ مل جاتے پھر آپ نے اپنی نگاہ کو اوپر کی طرف اٹھایا پھر آپ نے بتایا: ’’جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے یہ کہا: میں اس سورت کے اس مقام پر یہ آیت رکھ دوں‘‘ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ” بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے احسان کرنے قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور وہ فحاشی ، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے ، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے۔

عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {Indeed, God enjoins justice and kindness} [An-Nahl: 90]. · Hadith 11120

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ} [النحل: 90]. · حديث 11121

11121 - وَعَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: هَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ حَلَالٌ وَحَرَامٌ وَأَمْرٌ وَنَهْيٌ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ} [النحل: 90] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ مَذْكُورٍ فِي سُورَةِ الطَّلَاقِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

ابو ضحیٰ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں اکٹھے ہوئے مسروق نے کہا: کیا تم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن میں حلال حرام ، امر اور نہی کے بارے میں سب سے زیادہ جامع آیت یہ ہے: ’’بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے احسان کرنے قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور فحاشی اور برائی سے منع کرتا ہے‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے۔ تو دوسرے صاحب نے جواب دیا: جی ہاں تو مسروق نے کہا: میں نے بھی انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل کے حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے جو سورت طلاق کے باب میں ذکر ہو گی اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٌ: هَلْ ← اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، ← أَبِي الضُّحَى،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {Indeed, God enjoins justice and kindness} [An-Nahl: 90]. · Hadith 11121

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ سُورَةُ الطَّلَاقِ] قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} الطلاق: 2]. · حديث 11422

11422 - وَعَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَقَوَّضَ إِلَيْهِمَا خَلْقُ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: مَا أَرَى هَؤُلَاءِ جَلَسُوا إِلَيْنَا إِلَّا لِيَسْمَعُوا مِنَّا خَيْرًا، فَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأُصَدِّقَكَ، وَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَتُصَدِّقَنِي، فَقَالَ: حَدِّثْنَا أَبَا عَائِشَةَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ ". قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ. قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ حَلَالٌ وَحَرَامٌ وَأَمْرٌ وَنَهْيٌ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} [النحل: 90] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ. قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنَّ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَفْوِيضًا {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق: 2]؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ. قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنَّ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَحًا {يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ} [الزمر: 53] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ.

ابو ضحٰی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں اکٹھے ہوئے تو مسجد کے حلقے اٹھ کر ان دونوں کی طرف آ گئے مسروق نے کہا میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ ہمارے پاس صرف اس لئے آ کے بیٹھے ہیں تاکہ ہم سے کوئی بھلائی کی بات سنیں تو یا تو تم حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے حدیث بیان کرو اور میں تمہاری تصدیق کر دوں گا یا میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتا ہوں اور تم میری تصدیق کر دینا تو انہوں نے کہا: اے ابو عائشہ آپ ہمیں حدیث بیان کیجئے تو مسروق نے بتایا میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ’’دونوں آنکھیں زنا کرتی ہیں دونوں پاؤں زنا کرتے ہیں دونوں باتھ زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اس کی تکذیب کرتی ہے۔ تو شتیر نے کہا جی ہاں میں نے بھی ان کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ حلال ، حرام ، امر اور نہی کے حوالے سے قرآن کی سب سے زیادہ جامع آیت یہ ہے : (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ” بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے، احسان کرنے قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور فخش چیزوں اور منکر چیزوں سے منع کرتا ہے۔ ‘‘یہ آیت کے آخر تک ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! میں نے ان کی زبانی یہ بات سنی ہے ۔ پھر انہوں نے فرمایا: کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: کہ تفویض کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے سب سے بڑی آیت یہ ہے: اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں کے بارے میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا‘‘۔ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! میں ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ پھر انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: خوشی کے حوالے سے قرآن کی سب سے زبردست آیت یہ ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔

اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَقَوَّضَ إِلَيْهِمَا خَلْقُ الْمَسْجِدِ، ← أَبِي الضُّحَى،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Surat Al-Talaq] He said, The Most High: {He who fears God will give him a way out} Divorce: 2]. · Hadith 11422

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْجِهَادِ] ‹ [بَابٌ مِنْهُ فِي الدُّعَاءِ إِلَى الْإِسْلَامِ وَفَرَائِضِهِ وَسُنَنِهِ] · حديث 9596

9596 - عَنِ الْجَارُودِ أَنَّهُ أَخَذَ هَذِهِ النُّسْخَةَ مِنْ نُسْخَةِ الْعَلَاءِ، «الَّذِي كَتَبَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرِينِ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ، رَسُولِ اللَّهِ وَنَبِيِّهِ، إِلَى كَافَّةِ خَلْقِهِ لِلْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، وَمَنْ تَبِعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْهِمْ، اتَّقُوا اللَّهَ أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنِّي قَدْ بَعَثْتُ عَلَيْكُمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنْ يُلِينَ فِيكُمُ الْجَنَاحَ، وَيُحْسِنَ فِيكُمُ السِّيرَةَ وَيَحْكُمُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ مَنْ لَقِيَهُ مِنَ النَّاسِ بِمَا أَمَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مِنَ الْعَدْلِ، وَأَمَرْتُكُمُ بِطَاعَتِهِ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ، فَإِنْ حَكَمَ فَعَدَلَ، وَقَسَمَ فَأَقْسَطَ وَاسْتُرْحِمَ فَرَحِمَ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا وَأَحْسِنُوا مُؤَازَرَتَهُ وَمَعُونَتَهُ، فَإِنَّ لِي عَلَيْكُمْ مِنَ الْحَقِّ طَاعَةً وَحَقًّا وَعَظِيمًا لَا تَقْدِرُونَهُ كُلَّ قَدْرِهِ، وَلَا يَبْلُغُ الْقَوْلُ كُنْهَ عَظَمَةِ حَقِّ اللَّهِ وَحَقِّ رَسُولِهِ، وَكَمَا أَنَّ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ عَلَى النَّاسِ عَامَّةً وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً حَقًّا فِي طَاعَتِهِ وَالْوَفَاءِ بِعَهْدِهِ فَرَضِيَ اللَّهُ عَنْ مَنِ اعْتَصَمَ بِالطَّاعَةِ. حَقٌّ كَذَلِكَ لِلْمُسْلِمِينَ عَلَى وُلَاتِهِمْ حَقٌّ وَاجِبٌ وَطَاعَةٌ، فَإِنَّ الطَّاعَةَ دَرْكُ خَيْرٍ، وَنَجَاةٌ مِنْ كُلِّ شَرٍّ، وَأَنَا أُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ مَنْ وَلَّيْتُهُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا، فَلْيَسْتَخِيرُوا اللَّهَ عِنْدَ ذَلِكَ، ثُمَّ لِيَسْتَعْمِلُوا عَلَيْهِمْ أَفْضَلَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ. أَلَا وَإِنْ أَصَابَتِ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ مُصِيبَةُ الْمَوْتِ، فَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفُ اللَّهِ يَخْلُفُ فِيهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا وَأَحْسِنُوا مُؤَازَرَتَهُ وَطَاعَتَهُ، فَسِيرُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ وَعَوْنِهِ وَنَصْرِهِ وَعَاقِبَةِ رُشْدِهِ وَتَوْفِيقِهِ. مَنْ لَقِيتَهُمْ مِنَ النَّاسِ فَادْعُوهُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّتِهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِحْلَالِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَهُمْ فِي كِتَابِهِ وَتَحْرِيمِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَأَنْ يَخْلَعُوا الْأَنْدَادَ وَيَبْرَءُوا مِنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ وَالنِّفَاقِ وَأَنْ يَكْفُرُوا بِعِبَادَةِ الطَّوَاغِيتِ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَأَنْ يَتْرُكُوا عِبَادَةَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَعُزَيْرِ بْنِ حَرْوَةَ وَالْمَلَائِكَةِ وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالنِّيرَانِ وَكُلِّ مَنْ يُتَّخَذُ نُصُبًا مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَأَنْ يَتَبَرَّءُوا مِمَّا بَرِئَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ وَأَقَرُّوا بِهِ فَقَدْ دَخَلُوا فِي الْوَلَايَةِ وَسَمُّوهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُمْ إِلَيْهِ، كِتَابِ اللَّهِ الْمُنَزَّلِ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى صَفِيِّهِ مِنَ الْعَالَمِينَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَسُولِهِ وَنَبِيِّهِ أَرْسَلَهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ عَامَّةً، الْأَبْيَضُ مِنْهُمْ وَالْأَسْوَدُ وَالْإِنْسُ وَالْجِنُّ، كِتَابٌ فِيهِ تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ لِيَكُونَ حَاجِزًا بَيْنَ النَّاسِ حَجَزَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَهُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَهُوَ كِتَابُ اللَّهِ مُهَيْمِنًا عَلَى الْكُتُبِ مُصَدِّقًا لِمَا فِيهَا مِنَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ، يُخْبِرُكُمُ اللَّهُ فِيهِ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ مِمَّا فَاتَكُمْ دَرْكُهُ مِنْ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ الَّذِينَ أَتَتْهُمْ رُسُلُ اللَّهِ وَأَنْبِيَاؤُهُ، كَيْفَ كَانَ جَوَابُهُمْ لِرُسُلِهِمْ؟ وَكَيْفَ تَصْدِيقُهُمْ بِآيَاتِ اللَّهِ؟ وَكَيْفَ كَانَ تَكْذِيبُهُمْ [بِآيَاتِ اللَّهِ؟ فَأَخْبَرَكُمُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ شَأْنَهُمْ وَأَعْمَالَهَمْ وَأَعْمَالَ مَنْ هَلَكَ مِنْهُمْ] بِذَنْبِهِ، فَتَجَنَّبُوا مِثْلَ ذَلِكَ أَنْ تَعْمَلُوا مِثْلَهُ لِكَيْ لَا يَحُلَّ عَلَيْكُمْ مِنْ سَخَطِهِ وَنِقْمَتِهِ مِثْلُ الَّذِي حَلَّ عَلَيْهِمْ مِنْ سُوءِ أَعْمَالِهِمْ وَتَهَاوُنِهِمْ بِأَمْرِ اللَّهِ. وَأَخْبَرَكُمْ فِي كِتَابِهِ هَذَا بِإِنْجَاءِ مَنْ نَجَا مِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لِكَيْ تَعْمَلُوا مِثْلَ أَعْمَالِهِمْ، فَكَتَبَ لَكُمْ فِي كِتَابِهِ هَذَا تِبْيَانَ ذَلِكَ كُلِّهِ رَحْمَةً مِنْهُ لَكُمْ وَشَفَقَةً مِنْ رَبِّكُمْ عَلَيْكُمْ، وَهُوَ هُدًى مِنَ اللَّهِ مِنَ الضَّلَالَةِ وَتِبْيَانٌ مِنَ الْعَمَى وَإِقَالَةٌ مِنَ الْعَثْرَةِ وَنَجَاةٌ مِنَ الْفِتْنَةِ وَنُورٌ مِنَ الظُّلْمَةِ وَشِفَاءٌ مِنَ الْأَحْدَاثِ وَعِصْمَةٌ مِنَ الْهَلَاكِ وَرُشْدٌ مِنَ الْغَوَايَةِ وَبَيَانُ مَا بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فِيهِ كَمَالُ دِينِكُمْ. فَإِذَا عَرَضْتُمْ عَلَيْهِمْ فَأَقَرُّوا لَكُمْ فَقَدِ اسْتَكْمَلُوا الْوَلَايَةَ، فَاعْرِضُوا عَلَيْهِمْ عِنْدَ ذَلِكَ الْإِسْلَامَ - وَالْإِسْلَامُ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَحَجُّ الْبَيْتِ وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَالطَّهُورُ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ [وَصِلَةُ الرَّحِمِ الْمُسْلِمَةِ، وَحُسْنُ صُحْبَةِ الْوَالِدَيْنِ] الْمُشْرِكَيْنِ - فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمُوا. فَادْعُوهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى الْإِيمَانِ، وَانْعَتُوا لَهُمْ شَرَائِعَكُمْ، وَمَعَالِمُ الْإِيمَانِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، [وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ] وَأَنَّ مَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ الْحَقُّ، وَأَنَّ مَا سِوَاهُ الْبَاطِلُ، وَالْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَأَنْبِيَائِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْإِيمَانُ بِهَذَا الْكِتَابِ، وَمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمَا خَلْفَهُ بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ، وَالْإِيمَانُ بِالْبَيِّنَاتِ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالنُّصْحِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ كَافَّةً، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ وَأَقَرُّوا بِهِ فَهُمْ مُسْلِمُونَ مُؤْمِنُونَ. ثُمَّ تَدْعُوهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْإِحْسَانِ - أَنْ يُحْسِنُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللَّهِ فِي أَدَاءِ الْأَمَانَةِ، وَعَهْدِهِ الَّذِي عَهِدَ إِلَى رَسُولِهِ وَعَهْدِ رَسُولِهِ إِلَى خَلْقِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَالتَّسْلِيمِ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ مِنْ كُلِّ غَائِلَةٍ عَلَى لِسَانٍ وَيَدٍ، وَأَنْ يَبْتَغُوا لِبَقِيَّةِ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا كَمَا يَبْتَغِي أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ - وَالتَّصْدِيقِ بِمَوَاعِيدِ الرَّبِّ وَلِقَائِهِ وَمُعَاتَبَتِهِ وَالْوَدَاعِ مِنَ الدُّنْيَا مِنْ كُلِّ سَاعَةٍ، وَالْمُحَاسَبَةِ لِلنَّفْسِ [عِنْدَ اسْتِئْنَافِ] كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَالتَّعَاهُدِ لِمَا فَرَضَ اللَّهُ يُؤَدُّونَهُ إِلَيْهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ. فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَهُمْ مُسْلِمُونَ مُؤْمِنُونَ مُحْسِنُونَ. ثُمَّ انْعَتُوا لَهُمُ الْكَبَائِرَ، وَدُلُّوهُمْ عَلَيْهَا، وَخَوِّفُوهُمْ مِنَ الْهَلَكَةِ فِي الْكَبَائِرِ، إِنَّ الْكَبَائِرَ هُنَّ الْمُوبِقَاتُ أَوَّلُهُنَّ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ)، وَالسِّحْرُ وَمَا لِلسَّاحِرِ مِنْ خَلَاقٍ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ: يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ: يَبُوءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ، وَالْغُلُولُ: فَيَأْتُوا بِمَا غَلُّوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ: جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ: لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَأَكَلُوا مَالَ الْيَتِيمِ: يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا، وَأَكْلُ الرِّبَا: فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. فَإِذَا انْتَهَوْا عَنِ الْكَبَائِرِ فَهُمْ مُسْلِمُونَ مُؤْمِنُونَ مُحْسِنُونَ مُتَّقُونَ فَقَدِ اسْتَكْمَلُوا التَّقْوَى. فَادْعُوهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْعِبَادَةِ، وَالْعِبَادَةُ: الصِّيَامُ، وَالْقِيَامُ، وَالْخُشُوعُ، وَالرُّكُوعُ، وَالسُّجُودُ، وَالْإِنَابَةُ، وَالْإِحْسَانُ، وَالتَّحْمِيدُ، وَالتَّمَجُّدُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَالصَّدَقَةُ بَعْدَ الزَّكَاةِ، وَالتَّوَاضُعُ، وَالسَّكِينَةُ، وَالسُّكُونُ، وَالْمُؤَاسَاةُ، [وَالدُّعَاءُ]، وَالتَّضَرُّعُ، وَالْإِقْرَارُ بِالْمَلَكَةِ وَالْعُبُودِيَّةِ لَهُ، وَالِاسْتِقْلَالُ لِمَا كَثُرَ مِنَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ. فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَهُمْ مُؤْمِنُونَ مُحْسِنُونَ مُتَّقُونَ عَابِدُونَ. فَإِذَا اسْتَكْمَلُوا الْعِبَادَةَ فَادْعُوهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى الْجِهَادِ، وَبَيِّنُوا لَهُمْ وَرَغِّبُوهُمْ فِيمَا رَغَّبَهُمُ اللَّهُ فِيهِ مِنْ فَضْلِ الْجِهَادِ وَفَضْلِ ثَوَابِهِ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنِ انْتَدَبُوا فَبَايِعُوهُمْ وَادْعُوهُمْ حِينَ تُبَايِعُوهُمْ إِلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ، عَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَذِمَّتُهُ وَسَبْعُ كَفَالَاتٍ مِنْهُ، لَا تَنْكُثُوا أَيْدِيَكُمْ مِنْ بَيْعَةٍ وَلَا تَنْقُضُوا أَمْرَ وُلَاتِي - مِنْ وُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ - فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ فَبَايِعُوهُمْ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ لَهُمْ فَإِذَا خَرَجْتُمْ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ غَضَبًا لِلَّهِ وَنَصْرًا لِدِينِهِ فَمَنْ لَقِيَهُمْ مِنَ النَّاسِ فَلْيَدْعُوهُمْ إِلَى مِثْلِ الَّذِي دَعَاهُمْ إِلَيْهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَإِسْلَامِهِ [وَإِيمَانِهِ] وَإِحْسَانِهِ وَتَقْوَاهُ وَعِبَادَتِهِ وَهِجْرَتِهِ، فَمَنِ اتَّبَعَهُمْ فَهُوَ الْمُسْتَجِيبُ الْمُؤْمِنُ الْمُحْسِنُ التَّقِيُّ الْعَابِدُ الْمُهَاجِرُ، لَهُ مَا لَكَمَ وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْكُمْ وَمَنْ أَبَى هَذَا عَلَيْكُمْ فَقَاتِلُوهُ حَتَّى يَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ وَيَفِيءَ إِلَى فَيْئَتِهِ. وَمَنْ عَاهَدْتُمْ وَأَعْطَيْتُمُوهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ فَوَفُّوا لَهُ بِهَا وَمَنْ أَسْلَمَ وَأَعْطَاكُمُ الرِّضَا فَهُوَ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ وَمَنْ قَاتَلَكُمْ عَلَى هَذَا مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنْتُمُوهُ لَهُ فَقَاتِلُوهُ وَمَنْ حَارَبَكُمْ فَحَارِبُوهُ وَمَنْ كَايَدَكُمْ فَكَايِدُوهُ وَمَنْ جَمَعَ لَكُمْ فَاجْمَعُوا لَهُ أَوْ غَالَكُمْ فَغُولُوهُ أَوْ خَادَعَكُمْ فَخَادِعُوهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَعْتَدُوا أَوْ مَاكَرَكُمْ فَامْكُرُوا بِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَعْتَدُوا سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَإِنَّهُ مَنْ يَنْتَصِرْ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَكُمْ يَرَاكُمْ وَيَرَى أَعْمَالَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا عَلَى حَذَرٍ، إِنَّمَا هَذِهِ أَمَانَةٌ ائْتَمَنَنِي عَلَيْهَا رَبِّي أُبَلِّغُهَا عِبَادَهُ عُذْرًا مِنْهُ إِلَيْهِمْ وَحُجَّةً احْتَجَّ بِهَا عَلَى مَنْ يَعْلَمُهُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، فَمَنْ عَمِلَ بِمَا فِيهِ نَجَا وَمَنْ تَبِعَ مَا فِيهِ اهْتَدَى، وَمَنْ خَاصَمَ بِهِ فَلَحَ وَمَنْ قَاتَلَ بِهِ نُصِرَ وَمَنْ تَرَكَهُ ضَلَّ حَتَّى يُرَاجِعَهُ تَعَلَّمُوا مَا فِيهِ وَسَمِّعُوهُ آذَانَكُمْ وَأَوْعُوهُ أَجْوَافَكُمْ وَاسْتَحْفِظُوهُ قُلُوبَكُمْ فَإِنَّهُ نُورُ الْأَبْصَارِ وَرَبِيعُ الْقُلُوبِ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ كَفَى بِهِ أَمْرًا وَمُعْتَبَرًا وَزَجْرًا وَعِظَةً وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَهَذَا هُوَ الْخَيْرُ الَّذِي لَا شَرَّ فِيهِ. كِتَابُ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِلْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ، أَمَرَهُمْ أَنْ يَدْعُوَ إِلَى مَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ وَيَنْهَى عَمَّا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ وَيَدُلُّ عَلَى مَا فِيهِ مِنْ رُشْدٍ وَيَنْهَى عَمَّا فِيهِ مِنْ غَيٍّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ دَاوُدَ بْنِ الْمُحَبَّرِ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي بَقِيَّةُ دُعَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْإِسْلَامِ وَصَبْرُهُ عَلَى الْأَذَى فِي الْمَغَازِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

جارود بیان کرتے ہیں: انہوں نے یہ نسخہ حضرت علاء رضی اللہ عنہ کے نسخے سے نقل کیا تھا جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تحریر کروایا تھا۔ جب آپ نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا تھا (اس میں تحریر تھا:) " الله تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے بھیجا گیا مکتوب ہے جو امی نبی ہیں قر یشی ہیں ہاشمی ہیں اور اس کی ساری مخلوق کی طرف اللہ کے رسول اور نبی ہیں یہ علاء بن حضرمی اور اس کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کے لئے ایک عہد ہے جوان کے ساتھ کیا جارہا ہے اے مسلمانو! جہاں تک تم سے ہو سکےتم اللہ تعالی سے ڈرو کیونکہ میں تم پر علاء بن حضرمی کو امیر بنا کر بھیج رہا ہوں میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے وہ (اللہ) ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ تمہارے ساتھ نرمی کا سلوک کرے تمہارے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تمہارے درمیان فیصلہ دے اور جو بھی شخص اس سے ملے اس کے بارے میں اس کے مطابق فیصلہ دے جو اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ دے میں تم لوگوں کو اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیتا ہوں جب وہ ایسا کرلے گا اگر وہ فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لے تقسیم کرتے ہوۓ انصاف سے کام لے جب اس سے رحم مانگا جائے تو رحم کرے تو تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو اور اس کی اچھے طریقے سے مدد کرو اور اس کا ساتھ دو کیونکہ میرا تم پر حق ہے جو اطاعت کے حوالے سے ہے حق کے حوالے سے ہے عظمت کے حوالے سے ہے تم اسے مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی قول اللہ اوراس کے رسول کے حق کی عظمت کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے جس طرح اللہ اور اس کے رسول کا تمام لوگوں پرعمومی طور پر اور تم لوگوں پر خاص طور پر حق ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور ان کے عہد کو پورا کیا جائے تو جو شخص اطاعت کو مضبوطی سے تھام لے گا اللہ تعالی اس سے راضی ہوجائے گا اور یہ حق اسی طرح تمام مسلمانوں کے لئے ہے جو ان کے حکمرانوں پر ہوگا یہ واجب حق ہے اور فرمانبرداری ہے کیونکہ فرمانبرداری بھلائی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اور ہر قسم کی برائی سے نجات کا ذریعہ ہے میں ہر اس شخص کے حوالے سے اللہ تعالی کو گواہ بناتا ہوں جسے میں مسلمانوں کے کسی بھی معاملے کا نگران بناؤں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو تو ایسی صورت میں انہیں اللہ تعالی سے بھلائی طلب کرنی چاہیے اور اپنی ذات کے بارے میں اپنے اوپر اپنے میں سے سب سے زیادہ فضیلت والے شخص کو عامل مقرر کرنا چاہیے خبردار! اگر علاء بن حضرمی کو موت کی مصیبت لاحق ہو جاتی ہے تو اللہ کی تلوار خالد بن ولید ان لوگوں میں علاء بن حضرمی کا قائم مقام ہوگا تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اس کی بھر پور طریقے سے فرمانبرداری کرنا اور ساتھ دینا الله تعالی کی برکت اس کی مدد اس کی نصرت اس کی ہدایت اس کی عاقبت اور اس کی تو فیق کی بنیاد پر چلتے ر ہنا لوگوں میں سے جس سے تمہاری ملاقات ہو انہیں اللہ کی کتاب اس کی سنت اس کے رسول کی سنت کی طرف دعوت دینا اور اس چیز کو حلال قرار دینے کی طرف دعوت دینا ہے الله تعالی نے ان لوگوں کے لئے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے اور اس چیز کو حرام قرار دینے کی دعوت دینا جس چیز کو اس نے اپنی کتاب میں حرام قراردیا ہے اور کسی کو اللہ کا شر یک ٹھہرانے سے الگ ہوجانا شرک سے کفر سے نفاق سے لاتعلق ہوجانا طواغيب لات اور عزیٰ کی عبادت کا انکار کرنا اور حضرت عیسی بن مریم یا حضرت عزیر بن حروہ یا فرشتوں یا سورج یا چاند یا آگ یا ان کو چھوڑ کر جس کسی کو بھی معبود بنایا گیا ہو ان سب کی عبادت ترک کر دینا اور اس چیز سے لاتعلق ہوجانا جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہو جب وہ لوگ ایسا کر لیں گے اور اس بات کا اقرار کر لیں گے تو وہ ولایت میں داخل ہوجائیں گے اور ان لوگوں کو اس وقت وہ نام دیا جائے گا جو اللہ کی کتاب میں ہے جس کے ساتھ تم انہیں بلاتے ہو وہ اللہ کی کتاب جسے روح الامین لے کر نازل ہوئے تھے جو تمام جہانوں میں سے اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے حضرت محمد بن عبد الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر نازل ہوئے تھے جو اللہ کے رسول اور اس کے نبی ہیں اللہ تعالی نے انہیں تمام جہانوں کے لئے عمومی طور پر رحمت بنا کر بھیجا ہے جن میں سفیدفام سیاه فام اور جنات (سب شامل ہیں ) یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تم سے پہلے کی ہر چیز کا واضح بیان ہے اور تمہارے بعد جو کچھ ہوگا اس کا بھی واضح بیان ہے تا کہ یہ لوگوں کے درمیان رکاوٹ بن جائے اس کے ذریعے اللہ تعالی لوگوں کو ایک دوسرے سے روک لے گا اور یہ اللہ تعالی کی ایسی کتاب ہے جو دیگر کتابوں کی نگران ہے اور اس سے پہلے تورات انجیل اور زبور میں جو کچھ گزر چکا ہے اس کی تصدیق کرنے والی ہے اس میں الله تعالی نے تمہیں ان چیزوں کے بارے میں خبر دی ہے جوتم سے پہلے تھیں جن کا تعلق تمہارے آباؤ اجداد سے تھا تم وہاں تک نہیں پہنچے تھے ان لوگوں کے پاس اللہ کے رسول اور انبیاء آئے تھے تو ان لوگوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا اور ان لوگوں نے اللہ تعالی کی آیات کی کیسے تصدیق کی تھی اور کیسے انہوں نے اللہ تعالی کی آیات کی تکذیب کی تھی تو الله تعالی نے اپنی کتاب میں ان لوگوں کے معاملے ان لوگوں کے اعمال اور ان میں سے جو لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے ان کے اعمال کے بارے میں بتایا ہے تو تم ایسا کرنے سے اجتناب کرنا کہ تم ان کی طرح مل کر ایسا نہ ہو کہ تم پربھی الله تعالی کی ناراضگی اور انتقام حلال ہوجائے جس طرح ان کے برے اعمال کی وجہ سے اور اللہ تعالی کے حکم کو کمتر سمجھنے کی وجہ سے ان پر حلال ہوا تھا الله تعالی نے تمہیں اپنی کتاب میں یہ بتایا ہے کہ تم سے پہلے کے لوگوں میں سے جنہوں نے نجات پائی تھی انہوں نے کیسے نجات پائی تھی تاکہ تم ان لوگوں کے اعمال کے مطابق عمل کرواس نے تمہارے لئے اپنی کتاب میں یہ تمام چیزیں واضح بیان کے طور پر بیان فرمائی ہیں۔ جواس کی طرف سے تمہارے لئے رحمت ہیں اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر مہربانی ہیں اور یہ اللہ تعالی کی طرف گمراہی کے مقابلے میں ہدایت ہے اور نابینا پن کے مقابلے میں واضح بیان ہے اور لغزش کے مقابلے میں بچت ہے اور فتنے سے نجات ہے اورظلمت سے نور ہے اور حدث سے شفاء ہے ہلاکت سے بچاؤ ہے گمراہی سے ہدایت ہے اس میں دنیا اور آخرت کے در میان چیزوں کا بیان ہے اور تمہارے دین کی تکمیل ہے جب تم ان لوگوں کے سامنے یہ پیشکش کرو گے وہ تمہارے سامنے اس بات کا اقرار کر لیں گے تو وہ ولایت کو مکمل کر لیں گے اس وقت تم ان کے سامنے اسلام کی پیشکش کرنا اسلام سے مراد پانچ نمازیں ادا کر ناز کوة دینا بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا نماز سے پہلے وضو کرناوالدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا مسلمانوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا والدین کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا خواہ وہ مشرک ہوں (وہ شامل ہیں) جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ لوگ مسلمان ہوں گے ایسی صورت میں تم انہیں ایمان کی طرف دعوت دینا اور ان کے سامنے اپنے شرعی احکام اور ایمان کے بنیادی اصولوں کو بیان کرنا ( اور وہ یہ ہیں) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے ان کا کوئی شریک نہیں ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو کچھ لے کے آئے ہیں وہ حق ہے اور اس کے علاوہ سب کچھ باطل ہے اللہ تعالی پر ایمان رکھنا اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں اس کے انبیاء اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنا اس کتاب پر ایمان رکھنا جو اس کے آگے ہے اور جو اس نے پہلے تورات انجیل اورز بورگزرچکی ہیں واضح نشانیوں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے جنت جہنم ( پرایمان رکھنا ) اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے لئے خیر خواہی رکھنا جب وہ ایسا کر لیں گے اور اس بات کا اقرار کر لیں گے تو وہ مسلمان اور مومن ہوں گے۔ پھر اس کے بعد تم انہیں احسان کی طرف دعوت دینا کہ وہ اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان معاملے اور عہد کی ادائیگی جو عہد اس نے اپنے رسول سے لیا اور جوعہد اس کے رسول نے اس کی مخلوق اور مسلمانوں کے حکمرانوں سے لیا اس کی ادائیگی کے بارے میں اچھائی سے کام لے مسلمان حکمرانوں کی زبانی اور عملی طور پر ہر اعتبار سے مدد کریں اور باقی مسلمانوں کے لئے بھلائی چاہیں، جس طرح کوئی شخص اپنی ذات کے لئے بھلائی چاہتا ہے اور وہ اپنے پروردگار کے بیان کردہ مواعید کی تصدیق کریں اس کی بارگاہ میں حاضری اس کی ناراضگی دنیا سے رخصت ہونے اپنی ذات کا محاسبہ کرنے روزانہ نئے سرے سے ایسا کرنے اور جو اللہ تعالی نے چیزیں فرض قرار دی ہیں ان کی ادائیگی کا اہتمام کرنے جو خفیہ اور اعلانیہ طور پر ہوان سب چیزوں کا دھیان رکھیں جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ مسلمان بھی ہوں گے مومن بھی ہوں گے اور احسان کرنے والے بھی ہوں گے پھر تم ان کے سامنے کبیرہ گناہوں کو بیان کرنا اور اس حوالے سے ان کی رہنمائی کرنا اور کبیرہ گناہوں سے ہونے والی ہلاکت کے حوالے سے انہیں ڈرانا کیونکہ کبیرہ گناہ ہلاکت کا شکار کرنے والے ہیں ان میں سب سے پہلا الله تعالی کے ساتھ شرک کرنا ہے بے شک الله تعالی اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور ( دوسری چیز ) جادو ہے جادوگر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اور ایک چیز قطع رحمی ہے اور اللہ تعالی ان لوگوں پرلعنت کرے گا اور ایک چیز میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ہے ایسے لوگ اللہ تعالی کی ناراضگی کے ہمراہ واپس آتے ہیں اور ایک چیز خیانت ہے ان لوگوں نے جو خیانت کی ہوئی ہوگی وہ قیامت کے دن اسے ساتھ لے کے آ ئیں گے ان لوگوں کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا اور ایک چیز مومن جان کو قتل کرنا ہے جس کا بدل جہنم ہے اور ایک چیز پاکدامن عورت پر زنا کا الزام لگانا ہے اور ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ایک چیز یتیم کا مال کھانا ہے۔ ایسے لوگ اپنے پیٹ میں آگ ڈالتے ہیں اور عنقریب وہ جہنم تک پہنچ جائیں گے اور ایک چیز سود کھانا ہے ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہیں جب وہ لوگ کبیرہ گناہوں سے بچ جائیں گے تو وہ مسلمان بھی ہوں گے مومن بھی ہوں گے احسان کرنے والے بھی ہوں گے اور بچنے والے بھی ہوں گے اور یہ لوگ تقوی کو مکمل کر لیں گے اس کے بعد تم انہیں عبادت کی دعوت دینا اور عبادت روزہ رکھنا نوافل پڑھنا خشوع کرنا رکوع کرناسجود کرنا اور رجوع کرنا احسان کرنا الحمد للہ پڑھنا تمجید تہلیل تکبیر پڑھنا زکوة کے بعد ( نفلی) صدقہ دینا تواضع کرنا سکنیت اختیار کرنا پرسکون رہنا اچھا سلوک کرنا دعا کرناگریہ وزاری کرنا اور اللہ تعالی کی بادشاہی اور اپنی بندگی کا اقرار کرنا اور نیک عمل کی کثرت پرمستقل رہنا (شامل ہیں ) جب وہ لوگ ایسا کر لیں گے تو وہ لوگ مومن بھی ہوں کے احسان کرنے والے بھی ہوں گے پرہیز گار بھی ہوں گے اور عبادت گزار بھی ہوں گے جب وہ لوگ عبادت کو مکمل کر لیں گے تو ایسی صورت نہیں تم انہیں جہاد کی دعوت دینا اور ان کے سامنے اس کو بیان کرنا اور انہیں اس چیز کی رغبت دینا جس کے بارے میں الله تعالی نے رغبت دی ہے جس کا تعلق جہاد کی فضیلت اس کے ثواب کی فضیلت سے ہے جو الله تعالی کی بارگاہ میں حاصل ہوگا اگر وہ اس بات کو مان لیتے ہیں تو تم ان سے بیعت لینا اور انہیں اس چیز کی طرف دعوت دینا کہ تم ان سے اللہ کی سنت اور اس کے رسول کی سنت کی طرف بیعت لے رہے ہو تم پر الله تعالی کے عہد اور اس کے ذمہ کو پورا کرنا لازم ہے اور اس میں سات كفالات ہیں یہ کہ بیعت کے حوالے سے تم اپنے ہاتھوں کو نہ توڑو اور میرے مقرر کردہ مسلمانوں کے نگرانوں کے معاملے کو ختم نہ کرو جب وہ لوگ ایسا کرلیں گے تم ان سے بیعت لے لینا اور اللہ تعالی سے ان کے لئے مغفرت طلب کرنا جب تم لوگ نکلو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جواللہ تعالی کی خاطر غضب کا اظہار کرنے اس کے دین کی مددکرنے کے لئے ہو تو جن بھی لوگوں سے تم ملوان لوگوں کو بھی اس چیز کی دعوت دینا جس چیز کی طرف تم نے ان لوگوں کو دعوت دی تھی جس کا تعلق اللہ تعالی کی کتاب سے ہے اسلام سے ہے ایمان سے ہے احسان سے ہے تقوی سے ہے عبادت گزاری سے ہے ہجرت سے ہے تو جو شخص بھی ان میں سے پیروی کرے گا وہ جواب دینے والا مون اچھائی کرنے والا پرہیز گار عبادت گزار اور مہا جر ہوگا اسے وہ چیز ملے گی جو تمہیں ملتی ہے اور اس پر وہ چیز لازم ہو گی جوتم پر لازم ہوتی ہے اور جو شخص اس بات کا انکار کرے تو تم پر لازم ہے کہ تم اس کے ساتھ جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے معاملے کی طرف لوٹ آئے یا پھر مال فئے کی ادائیگی کی طرف لوٹ جائے اور جس شخص کے ساتھ تم معاہد ہ کرو اورتم اسے اللہ کا ذمہ دے دوتو تم اس کو پورا کرو جوش اسلام لے آئے اور تمہیں رضامندی دیدے وہ تم میں سے ہو گا اور تم اس میں سے ہو گے اور جو شخص اس بنیاد پرتمہارے ساتھ اس کے بعد بھی جنگ کرے جو تم نے اس کے سامنے بیان کیا تھا توتم اس کے ساتھ جنگ کرو جو تمہارے ساتھ لڑائی کرے تم اس کے ساتھ لڑائی کرو جو شخص تمہارے ساتھ فریب کرے تم اسے فریب کا جواب دو جو تمہارے لئے (دشمن یا طاقت ) کو جمع کرے توتم اس کے لئے جمع کرو جو شخص تمہیں دھوکہ دے تم اسے دھوکہ کا جواب دو جوشخص تمہیں فریب دے تم اس کے فریب کا جواب دو البتہ تم زیادتی نہ کرنا جو شخص تمہارے خلاف تدبیریں کرے تم اسے جواب دولیکن تم پوشیدہ یا اعلانیہ طور پر زیادتی نہ کرنا کیونکہ جو ظلم کے بعد مدد کا طلبگار ہو گا تو ان لوگوں کے خلاف کوئی راستہ نہیں ہو گا تم لوگ یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی تمہارے ساتھ ہے وہ ہیں اور تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو وہ اس کو جانتا ہے تم اللہ تعالی سے ڈرواور احتیاط کے ساتھ رہنا یہ امانت ہے جس کے بارے میں میرے پروردگار نے مجھے امین بنایا ہے کہ میں اس کی تبلیغ اس کے بندوں تک کردوں یہ اس کی طرف سے ان لوگوں کے لئے عذر ہے اور حجت ہے جس کے ذریعے وہ ان لوگوں کے خلاف حجت فرمائے گا اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے واقف ہوگا اور اس کا تعلق ساری مخلوق سے ہے جو شخص اس بارے میں عمل کرے گا وہ نجات پا جائے گا جو شخص اس بارے میں پیروی کرے گا وہ ہدایت حاصل کر لے گا جوشخص اس (حکم) کی بنیاد پر جھگڑا کرے گاوہ فلاح پائے گا جو شخص اس کی بنیاد پرلڑائی کرے گا اس کی مدد ہوگی جو شخص اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہو گا یہاں تک کہ اس کی طرف واپس آجائے اس میں جو کچھ موجود ہے تم اس کا علم حاصل کر لو اپنے کانوں کو یہ بات سنوا دو اور اپنے ذہنوں میں اسے محفوظ کرلو اپنے دلوں میں اسے یاد کر لو کیونکہ یہ بینائی کا نور ہے دلوں کی بہار ہے سینوں میں موجود چیز کے لئے شفاء ہے معاملے اعتبار زجر نصیحت اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت کے حوالے سے یہ کافی ہے یہی وہ بھلائی ہے کہ جس میں کوئی شر نہیں ہے۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو اللہ کے رسول ہیں ان کی طرف سے یہ مکتوب ہے جوعلاء بن حضرمی کے لئے ہے جو اس وقت تحریر کروایا کہ جب انہوں نے اس کو بحرین کی طرف بھیجا تھا تا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دعوت دے انہوں ن لوگوں کو یہ حکم دیا کہ اس میں جو حلال ہے اس کی طرف وہ دعوت دیں اور اس میں جن حرام چیزوں کا ذکر ہے اس سے منع کرے اور اس میں جس ہدایت کا ذکر ہے اس کی طرف رہنمائی کریں اور جن گمراہیوں کا ذکر ہے اس سے لوگوں کوروکے۔ یہ روایت امام طبرانی نے داؤد بن محبرکی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ( علامہ ہیثمی فر ماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسلام کی طرف دعوت دینا اور اذیتوں پر صبر کرنا اس بارے میں دیگر احادیث مغازی سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا۔

الْجَارُودِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › [Chapter of it in supplication to Islam, its statutes, and its Sunnahs] · Hadith 9596

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزُّهْدِ] ‹ [بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالسَّلَفِ] · حديث 18262

18262 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَ: «فَاتَنِي الْعَشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ; فَجَعَلْتُ أَتَقَلَّبُ لَا يَأْتِينِي النَّوْمُ، فَقُلْتُ: لَوْ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي، فَفَعَلْتُ، ثُمَّ اسْتَنَدْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ، فَدَخَلَ عُمَرُ، فَلَمَّا رَآنِي أَنْكَرَنِي، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ. فَقَالَ: مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟! قُلْتُ: الْجُوعُ. قَالَ: وَأَنَا أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَى سَوَادَنَا أَنْكَرَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَانِ؟ فَبَدَرَنِي عُمَرُ فَقَالَ: هَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهَذَا عُمَرُ فَقَالَ: " مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟! ". فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ. فَقَالَ: " وَأَنَا مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، انْطَلِقَا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ ". فَأَتَيْنَا الْبَابَ، فَاسْتَأْذَنَّا فَخَرَجَتِ الْمَرْأَةُ، قَالَ: " أَيْنَ فَلَانٌ؟ ". قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ مِنْ حُشِّ بَنِي حَارِثَةَ، فَفَتَحَتِ الْبَابَ، فَدَخَلْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ قَدْ مَلَأَ قِرْبَةً عَلَى ظَهْرِهِ، عَلَّقَهَا عَلَى كِرْنَفَةٍ مِنْ كَرَانِيفِ النَّخْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، مَا زَارَ النَّاسَ خَيْرٌ مِنْ زَوْرٍ زَارُونِي اللَّيْلَةَ، ثُمَّ جَاءَ بِعِذْقِ بُسْرٍ، فَجَعَلْنَا نَنْتَقِي فِي الْقَمَرِ، وَنَأْكُلُ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ وَجَالَ فِي الْغَنَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ، أَوْ ذَاتَ الدَّرِّ ". فَذَبَحَ لَنَا شَاةً، وَسَلَخَهَا، وَقَطَّعَهَا فِي الْقِدْرِ، وَأَمَرَ الْمَرْأَةَ فَعَجَنَتْ وَخَبَزَتْ، ثُمَّ جَاءَ بِثَرِيدَةٍ وَلَحْمٍ فَأَكَلْنَا. ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ وَقَدْ تَخَفَّقَتْهَا الرِّيحُ فَبَرَدَتْ، فَسَقَانَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَنَا لَمْ يُخْرِجْنَا إِلَّا الْجُوعُ، ثُمَّ لَمْ نَرْجِعْ حَتَّى أَصَبْنَا هَذَا، هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". ثُمَّ قَالَ لِلْوَاقِعِيِّ: " أَمَا لَكَ خَادِمٌ يَكْفِيكَ هَذَا؟ ". قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " فَانْظُرْ أَوَّلَ سَبْيٍ يَأْتِينِي فَائْتِنِي آمُرُ لَكَ بِخَادِمٍ ". فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ أَتَاهُ سَبْيٌ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: " مَا جَاءَ بِكَ؟ ". قَالَ: مَوْعِدُكَ الَّذِي وَعَدْتَنِي، قَالَ: " قُمْ، فَاخْتَرْ مِنْهُمْ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَخْتَارُ لِي، قَالَ: " خُذْ هَذَا الْغُلَامَ، وَأَحْسِنْ إِلَيْهِ ". فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَأَخْبَرَهَا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا قَالَ لَهُ، فَقَالَتْ: فَقَدْ أَمَرَكَ أَنْ تُحْسِنَ إِلَيْهِ ; فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ، فَقَالَ: وَمَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَتْ: أَنْ تُعْتِقَهُ. قَالَ: فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ فِي ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَتَمَّ مِنْهُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of asceticism] › [A section in the life of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, and the forefathers] · Hadith 18262

مسند الفاروق · كتاب الصلاة ‹ أثر عن عمر · حديث 71

71) قال محمد بن عبد الله الأنصاري (4): ثنا سليمان التَّيمي، عن محمد بن سيرين، عن أبي هريرة، عن عمرَ بن الخطاب قال: تصلِّي المرأةُ في ثلاثةِ أثوابٍ: درعٍ، وخمارٍ، وإزارٍ. إسناد صحيح على شرطهما. _________ (1) في «سننه» (4/ 429 رقم 4119) في اللباس، باب قدر الذيل. (2) في «سننه» (2/ 1185 رقم 3581) في اللباس، باب ذيل المرأة كم يكون؟ (3) ورجَّحه -أيضًا- الدارقطني في «العلل» (2/ 75). وفي الباب عن أم سَلَمة -رضي الله عنها-: أخرجه مالك (2/ 698) في اللباس، باب ما جاء في إسبال المرأة ثوبها، وأبو داود (4/ 428 رقم 4114) والنسائي (8/ 598 رقم 5353) في الزينة، باب ذيول النساء، وابن حبان (12/ 265 رقم 5451 - الإحسان) من طريق نافع مولى ابن عمر، عن صفية بنت أبي عبيد، عن أم سَلَمة -رضي الله عنها- قالت: سُئل النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن ذيل المرأة، فقال: «شبرًا». فقلت: يا رسولَ الله، إذًا تبدو أقدامُهُنَّ. قال: «فذراعًا، لا يزِدن عليه». وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، كما قال الشيخ الألباني في «السلسلة الصحيحة» (4/ 478). (4) في «جزئه» (ص 34 رقم 11). وأخرجه -أيضًا- ابن أبي شيبة (2/ 36 رقم 6167) في الصلاة، باب المرأة في ثوب تصلي، وأحمد بن مَنيع في «مسنده»، كما في «المطالب العالية» (1/ 162 رقم 332) كلاهما (ابن أبي شيبة، وابن منيع) عن ابن عُليَّة، عن سليمان التَّيمي، به.

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 71

Sahih

مسند الفاروق · كتاب الجنائز ( ‹ حديث آخر · حديث 193

193) قال الإمام أحمد (2): ثنا مؤمَّل، ثنا حماد، ثنا زياد بن مِخراق، عن شَهر، عن عُقبة بن عامر، حدَّثني عمر: أنَّه سَمِعَ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من مات يؤمنُ باللهِ واليومِ الآخرِ، قيل له: اُدخُلِ الجنَّةَ من أيِّ أبوابِ الجنَّةِ الثمانيةِ شئتَ». هذا إسناد حسن (3)، وليس في شيء من الكتب السِّتة. _________ (1) وأخرجه -أيضًا- أحمد (1/ 63 رقم 447) وابن خزيمة في «التوحيد» (2/ 774) وابن حبان (1/ 434 رقم 204 - الإحسان) والحاكم (1/ 172، 351) وأبو نعيم في «الحلية» (2/ 296) والضياء في «المختارة» (1/ 361، 457 - 458 رقم 250، 332، 333) من طريق عبد الوهاب بن عطاء، به. وقد توبع عبد الوهاب بن عطاء، تابَعَه يزيد بن زُرَيع، كما عند الضياء في «المختارة» (1/ 360 رقم 249). وانظر: «علل الدارقطني» (2/ 7 رقم 82) و (3/ 29 رقم 264). (2) في «مسنده» (1/ 16 رقم 97). وأخرجه -أيضًا- إسحاق بن راهويه في «مسنده»، كما في «المطالب العالية» (3/ 241 رقم 2880) عن مؤمَّل، به. (3) في إسناده: شَهْر، وهو: ابن حَوشب، وهو كثير الأوهام والإرسال، ولم أجد من نصَّ على سماعه من عُقبة، وقد قال الحافظ في «المطالب العالية»: حديث عُقبة عن عمرَ في «الصحيح» [«صحيح مسلم» 1/ 209 رقم 234] بغير هذا السِّياق.

عُمَرَ، ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← شَهْرٍ ← زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ، ← الإِمَامُ أَحْمَدُ

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 193

مسند الفاروق · كتاب الزكاة ‹ حديث في الفقراء · حديث 236

236) قال أبو حاتم محمد بن حبَّان البُستي في «صحيحه» (1): أنا أبو عَروبة، ثنا المغيرة بن عبد الرحمن الحرَّاني، ثنا يحيى بن السَّكَن، ثنا حماد بن سَلَمة، عن داود بن أبي هند، عن الشَّعبي، عن مسروق / (ق 93) قال: قال عمرُ بن الخطاب رضي الله عنه: قال النبيُّ صلى الله عليه وسلم: «مَن سأل النَّاسَ لِيُثْرِيَ به مالَهُ؛ فإنَّما هو رَضْفٌ (2) من النَّارِ يَتَلقَّفُهُ (3)، مَن شاءَ فَلْيُقِلَّ، ومَن شاءَ فَلْيُكْثِرْ». هكذا رواه الحافظ أبو عبد الله المقدسي في كتابه «المختارة» (4). وقد أورده الحافظ أبو حفص عمر بن أحمد بن عثمان البغدادي (5)، عن محمد بن محمد بن سليمان الباغَندي، عن أيوب بن سليمان السُّلَمي، عن يحيى بن السَّكَن، به. ثم قال: تفرَّد به يحيى بن السَّكَن، عن داود (6)، لا أعلم حدَّث به غيره، وهو حديث صحيح غريب (7). فيه دلالة على أن الفقير هو الذي لا يجد ما يكفيه. _________ (1) (8/ 185 رقم 3391 - الإحسان). (2) الرَّضْف: الحجارة المحمَّاة على النار، واحدتها رَضْفة. «النهاية» (2/ 231). (3) كذا ورد بالأصل. وفي المطبوع: «يَتَلَهَّبُهُ». وفي مطبوع «المختارة» -كما سيأتي-: «يَتَلَقَّمُهُ». (4) (1/ 399 رقم 282). (5) هو الإمام أبو حفص ابن شاهين، انظر ترجمته في «سير أعلام النبلاء» (16/ 431). (6) قوله: «يحيى بن السَّكَن، عن داود» كذا ورد بالأصل. وفي مطبوع «المختارة»: «يحيى بن السَّكَن، عن حماد، عن داود». (7) في إسناده: يحيى بن السَّكَن ضعَّفه صالح جَزَرة، وقال أبو حاتم: ليس بالقوي. انظر: «الجرح والتعديل» (9/ 155 رقم 643) و «ميزان الاعتدال» (4/ 380 رقم 9525). وقد أخرجه ابن أبي شيبة (2/ 425 رقم 10675) في الزكاة، باب من كره المسألة ونهى عنها ... ، عن أبي معاوية، عن الشَّعبي، عن عمرَ، موقوفًا. وهذا منقطع بين الشَّعبي وعمر. وفي الباب: عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعًا: «مَن سأل الناس أموالهم تَكثُّرًا؛ فإنما يسأل جَمرًا، فليستقل أو ليستكثر». أخرجه مسلم (2/ 720 رقم 1041) في الزكاة، باب كراهة المسألة للناس.

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مسروق (ق ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو عَرُوبَةَ، ← أبو حاتم محمد بن حبَّان البُستي في «صحيحه»

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 236

مسند الفاروق · كتاب البيوع ‹ أثر في كون الإنبات دليلاً على البلوغ · حديث 415

415) قال أبو عبيد: وهذا شبيه بما حدثنا هشيم، عن عبد الملك بن عُمَير، عن عطية القُرَظي: أنَّ رسولَ الله أَمَرَ بقتلِ مَن أنبت من بني قريظة (1). _________ (1) وأخرجه -أيضًا- أحمد (4/ 383) و (5/ 311) والمحاملي في «الأمالي» (ص 196 رقم 177 - رواية ابن البَيِّع) من طريق هشيم، به. ووقع عندهما تصريح هشيم بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه. وقد توبع هشيم على روايته: تابَعَه جماعة، وهم: الثوري، وابن عيينة، وشعبة، وأبو عَوَانة الوضَّاح بن عبد الله اليشكري، وجرير بن عبد الحميد، وداود الطائي. انظر رواياتهم عند أبي داود (5/ 86 رقم 4404، 4405) في الحدود، باب في الغلام يصيب الحد، والترمذي (4/ 123 رقم 1584) في السير، باب في النزول على الحكم، والنسائي (6/ 467 رقم 3430) في الطلاق، باب متى يقع طلاق الصبي، و (8/ 467 رقم 4996) في قطع السارق، باب حد البلوغ ... ، وابن ماجه (2/ 849 رقم 2541) في الحدود، باب من لا يجب عليه الحد، وأحمد (4/ 383) و (5/ 312) وابن الأعرابي في «معجمه» (1/ 220 رقم 392) وابن حبان (11/ 104 رقم 4781، 4782 - الإحسان) والحاكم (2/ 123). والحديث قال عنه الترمذي: هذا حديث حسن صحيح. وقال الحاكم: صحيح الإسناد. ووافقه الذهبي، والحافظ في «التلخيص الحبير» (3/ 42).

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← أبو عبيد: وهذا شبيه بما

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 415

مسند الفاروق · كتاب البيوع ‹ حديث آخر · حديث 453

453) وقد رواه أبو داود في «سننه» (1) من طريق أخرى، فقال: ثنا موسى بن إسماعيل، ثنا حماد، عن قيس، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله قال: بِعْنا أمَّهاتِ الأولادِ على عهدِ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم، فلما كان عمرُ نهانا فَانْتَهَينا. وهذا إسناد صحيح على شرط مسلم (2)، ولله الحمد. _________ (1) (4/ 360 رقم 3954) في العتق، باب عتق أمهات الأولاد. وأخرجه -أيضًا- ابن حبان (10/ 166 رقم 4324 - الإحسان) والحاكم (2/ 18 - 19) والبيهقي (10/ 347) من طريق حماد، به. (2) وقال في جزئه في «بيع أمهات الأولاد» (ص 98): وهذا -أيضًا- على رسم مسلم؛ لأن حمادًا -هو: ابن سَلَمة- انفرد به مسلم، وقيس -هو ابن سعد المكي- ثقة، أخرج له أيضًا. وقال الحاكم: صحيح على شرط مسلم. ووافقه الذهبي. وجوَّد إسناده العقيلي في «الضعفاء» (2/ 74). لكن قال ابن عبد البر في «التمهيد» (3/ 136 - 138): وأما طريق الاتباع للجمهور الذي يشبه الإجماع، فهو المنع من بيعهنَّ، وعلى المنع من بيعهنَّ جماعة فقهاء الأمصار، منهم: مالك، وأبو حنيفة، والشافعي، وأصحابهم، والثوري، والأوزاعي، والليث بن سعد، وجمهور أهل الحديث، وقد قال الشافعي في بعض كُتُبه بإجازة بيعهن، ولكنه قطع في مواضع كثيرة من كُتُبه بأنه لا يجوز بيعهن، وعلى ذلك عامة أصحابه، والقول ببيع أمَّهات الأولاد شذوذ تعلَّقت به طائفة ... ، وقد صحَّ عن عمرَ في جماعة من الصحابة المنع من بيعهن ... ، إلى أن قال: والحجج متساوية في بيعهن للقولين جميعًا من جهة النظر، وأما العمل والاتباع فعلى مذهب عمرَ رضي الله عنه. وقال الحافظ في «الفتح» (5/ 165): ولم يستند الشافعي في القول بالمنع إلا إلى عمر، فقال: قلتُه تقليدًا لعمر. قال بعض أصحابه: لأنَّ عمر لمَّا نهى عنه فانتهوا صار إجماعًا، يعني فلا عبرة بندور المخالف بعد ذلك، ولا يتعيَّن معرفة سند الإجماع.

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← قَيْسٍ ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← وقد رواه أبو داود في «سننه» من طريق أخرى،

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 453

مسند الفاروق · كتاب النكاح ( ‹ حديث آخر · حديث 543

543) قال عبد بن حميد في «مسنده» (2): ثنا ابن أبي شيبة، ثنا يحيى بن آدم، عن يحيى بن زكريا، عن صالح بن حي، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباس، عن عمرَ: أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم طَلَّق حفصةَ ثم رَاجَعَها. ورواه أبو داود (3)، والنسائي (4)، وابن ماجه (5)، وابن حبان في «صحيحه» (6) من طرق، عن يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن صالح -وهو: ابن صالح بن حَي الهَمَداني-، به. وهذا إسناد جيد قويّ ثابت (7). _________ (1) يعني: في كتابه «جامع المسانيد والسُّنن»، ولم أجده في القسم الذي أخرجه قلعجي. (2) «المنتخب من مسنده» (1/ 96 رقم 43). (3) في «سننه» (3/ 114 رقم 2283) في الطلاق، باب في المراجعة. (4) في «سننه» (6/ 523 رقم 3562) في الطلاق، باب الرجعة. (5) في «سننه» (1/ 650 رقم 2016) في الطلاق، باب منه. (6) (10/ 100 رقم 4275 - الإحسان). (7) وصحَّحه الحاكم (2/ 197) على شرط الشيخين، ووافقه الذهبي. وأخرجه الضياء في «المختارة» (1/ 274 رقم 164، 165) مصحِّحًا له. وحسَّن إسناده الحافظ في «الفتح» (9/ 286).

عُمَرَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← صَالِحِ بْنِ حَيَّ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عبد بن حميد في «مسنده»

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 543

مسند الفاروق · كتاب النكاح ( ‹ أثر في النهي عن الحلف بالأمانة · حديث 570

570) وعن بُرَيدة بن الحُصَيب: أنَّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَن حَلَفَ بالأَمانةِ؛ فليس منَّا». رواه أبو داود (3). _________ (1) (ص 70 رقم 213) ومن طريقه: أبو نعيم في «الحلية» (4/ 116). (2) كذا ورد بالأصل. وفي المطبوع: «الكناسة». (3) في «سننه» (4/ 77 رقم 3248) في الأيمان والنذور، باب كراهية الحلف بالأمانة. وأخرجه -أيضًا- أحمد (5/ 352) والطحاوي في «شرح مشكل الآثار» (3/ 372 رقم 1342) وابن حبان (10/ 205 رقم 4363 - الإحسان) والحاكم (4/ 298) من طريق الوليد بن ثعلبة الطَّائي، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه ... ، فذكره. قال الحاكم: صحيح الإسناد. ووافقه الذهبي. وصحَّحه المنذري في «الترغيب والترهيب» (2/ 717) والنووي في «رياض الصالحين» (1709) والشيخ الألباني في «السلسلة الصحيحة» (1/ 196).

بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ،

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 570

مسند الفاروق · كتاب الحدود ‹ أثر آخر · حديث 714

714) وقد روى الحاكم أبو عبد الله النيسابوري في «مستدركه» (1) من حديث أبي الأحوص سلاَّم بن سُليم قال: حدثنا مسلم الأعور، عن أبي وائل قال: غزوتُ مع عمرَ الشَّامَ، فنزلنا منزلاً، فجاء دهقَان (2) فسَجَد (3)، فقال عمرُ: ماهذا؟! قال: هكذا نفعل بالملوك! قال: اسجد لربِّك الذي خَلَقك. قال: يا أميرَ المؤمنين، قد صنعتُ لك طعامًا، فأتني. قال: هل في بيتك تصاويرُ العجم؟ قال: نعم. قال: لا حاجة لي في بيتك، انطَلِق، فابعث لنا بلون من الطعام، لا تزدنا عليه، ففعل، فأكل منه. وقال لغلامه: هل في إداوتك شيءٌ من ذلك النَّبيذ؟ قال: نعم، فأتاه، فصبَّه في إناء، ثم شمَّه، فوَجَده مُنكرَ الريح، فصبَّ عليه ماءً، ثم شمَّه، فوَجَده مُنكرَ الريح، فصبَّ عليه الماءَ ثلاثَ مراتٍ، ثم شَرِبَه. ثم قال: إذا رابكم من شرابكم شيءٌ، فافعلوا به هكذا. قال الحاكم: هذا صحيح. قلت: لكن مسلم الأعور: ضعَّفوه، فقال أحمد بن حنبل: لا يُكتب حديثه. وقال البخاري: يتكلَّمون فيه (4). _________ (1) (3/ 82) من طريق مُسدَّد، عن أبي الأحوص. وهو عنده مسدَّد في «مسنده»، كما في «المطالب العالية» (2/ 256 رقم 1844). (2) الدهقان: بضم الدال وكسرها، رئيس القرية ومُقدَّم الثُّنَّاء وأصحاب الزراعة. «النهاية» (2/ 145). (3) قوله: «فجاء دهقَان فسَجَد» كذا ورد بالأصل. وفي المطبوع: «فجاء دهقان يستدل على أمير المؤمنين حتى أتاه، فلما رأى الدهقانُ عمرَ سَجَدَ». (4) انظر: «العلل ومعرفة الرجال» (2/ 476 رقم 3121) و «التاريخ الكبير» (7/ 271 رقم 1145). ولهذا الحديث علَّة، فقد قال الدارقطني في «العلل» (2/ 161 رقم 189): يَرويه أبو الأحوص سلاَّم بن سُليم، واختُلف عنه، فرواه محمد بن الحسن الأسدي -المعروف بالتلِّ-، عن أبي الأحوص، عن عاصم بن بَهْدلة، عن أبي وائل، ووَهِمَ فيه، والصواب: عن أبي الأحوص، عن مسلم الأعور، عن أبي وائل. كذلك رواه جماعة من الحفاظ عن أبي الأحوص، عن مسلم الأعور، عن أبي وائل أنه سَمِعَه من عمرَ. ورواه جرير بن عبد الحميد، عن مسلم الأعور، عن أبي وائل، عن رجل من قومه، عن عمرَ. ومسلم الأعور ضعيف، وهذا الحديث يَرويه الأعمش، عن أبي وائل، عن حذيفة، عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم، وحديث الأعمش أولى بالصواب. قلت: حديث حذيفة رضي الله عنه: أخرجه ابن حبان (12/ 163 رقم 5344 - الإحسان) وأبو نعيم في «الحلية» (5/ 58) والخطيب في «تاريخه» (11/ 421) من طريق الأعمش، عن أبي وائل: أنَّ حذيفةَ استسقى، فأتاه الخادمُ بقدحٍ مفضَّضٍ، فردَّه، وقال: سَمِعتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يقول: «هو لهم في الدنيا، ولنا في الآخرة». وهو عند البخاري (9/ 554 رقم 5426) و (10/ 94، 96، 284، 291 رقم 5632، 5633، 5831، 5837 - فتح) في الأشربة، باب الشرب في آنية الذهب، وباب آنية الفضة، وفي اللباس، باب لبس الحرير للرجال، وقدر ما يجوز منه، وباب افتراش الحرير، ومسلم (3/ 1637 رقم 2067) في اللباس والزينة، باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة ... ، من طريق عبد الرحمن بن أبي ليلى -زاد مسلم: وعبد الله بن عُكَيم-، عن حذيفة رضي الله عنه.

أَبِي وَائِلٍ ← مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ،

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 714

Sahih

مسند الفاروق · كتاب الحدود ‹ حديث فيه السِّتر على أهل المعاصي، وأن الحدود تُدفَع بالشُّبهات · حديث 725

725) قال عبد الله بن المبارك: عن إبراهيم بن نَشيط، عن كعب بن علقمة، عن ابن الهيثم، عن عُقبة بن عامر أنه قال لعمرَ: يا أميرَ المؤمنين، إنَّ لنا جيرانًا يشربون الخمرَ، فيفعلون، ويفعلون، فيُرفَعون؟ قال: سَمِعتُ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يقول: «مَن رأى عَورةً فسَتَرها، كان كمَن أحيا مَوءودةً (1) في قبرِها». رواه أبو بكر الإسماعيلي من حديث ابن المبارك (2). _________ (1) الموءودة: المقتولة، كان العرب إذا وُلد لأحدهم في الجاهلية بنت دَفَنها في التراب وهي حيَّة. «النهاية» (5/ 143). (2) هذا الأثر يَرويه ابن المبارك، واختُلف عليه: فقيل: عنه، عن إبراهيم بن نَشِيط، عن كعب بن علقمة، عن ابن الهيثم، عن عُقبة بن عامر، عن عمرَ، مرفوعًا! وقيل: عنه، عن إبراهيم بن نَشِيط، عن كعب بن علقمة، عن ابن الهيثم، عن عُقبة بن عامر، مرفوعًا! وقيل: عنه، عن إبراهيم بن نَشِيط، عن كعب بن علقمة، عن أبي الهيثم قال: جاء قوم إلى عُقبة بن عامر! وقيل: عنه، عن إبراهيم بن نَشِيط، عن كعب بن علقمة، عن ابن الهيثم، عن عُقبة بن عامر! وقيل: عنه، عن إبراهيم بن نَشِيط، عن كعب بن علقمة: أن عُقبة بن عامر ... هكذا مرسلاً! أما الوجه الأول: فذكره المؤلِّف. وأما الوجه الثاني: فأخرجه الطيالسي (2/ 345 رقم 1098) ومن طريقه: البيهقي (8/ 331). وأما الوجه الثالث: فأخرجه البخاري في «الأدب المفرد» (ص 264 رقم 758). وأما الوجه الرابع: فأخرجه أبو داود (5/ 309 رقم 4891) في الأدب، باب في الستر على المسلم، والطبراني في «الكبير» (17/ 319 رقم 884) والقضاعي في «مسند الشهاب» (489، 491، 492). وأما الوجه الخامس: فأخرجه النسائي في «الكبرى» (4/ 307 رقم 7281). ورواه الليث بن سعد، واختُلف عليه: فقيل: عنه، عن إبراهيم بن نَشيط الخَوْلاني، عن كعب بن علقمة، عن أبي الهيثم، عن دخين كاتب عُقبة بن عامر! وقيل: عنه، عن إبراهيم بن نَشيط، عن كعب بن علقمة، عن دخين أبي الهيثم كاتب عُقبة، عن عُقبة! أما الوجه الأول: فأخرجه أبو داود (4892) في الموضع السابق، والنسائي في «الكبرى» (7283) وأحمد (4/ 153). وأما الوجه الثاني: فأخرجه الفَسَوي في «المعرفة والتاريخ» (2/ 503) وابن حبان (2/ 274 رقم 517 - الإحسان) والطبراني في «الكبير» (17/ 319 رقم 883) والبيهقي (8/ 331). ورواه ابن وهب، واختُلف عليه: فقيل: عنه، عن إبراهيم بن نَشيط، عن كعب بن علقمة، عن كثير مولى لعُقبة بن عامر، عن عُقبة! وقيل: عنه، عن إبراهيم بن نَشيط، عن كعب بن علقمة، عن كثير مولى لعُقبة بن عامر، مرسلاً! أما الوجه الأول: فأخرجه النسائي في «الكبرى» (7282). وأما الوجه الثاني: فأخرجه الحاكم (4/ 384). وقيل: عن ابن لَهِيعة، عن كعب بن علقمة، عن أبي كثير مولى عُقبة بن عامر، عن عُقبة! ومن هذا الوجه: أخرجه أحمد (4/ 147). وقد ضعَّف هذا الحديثَ الشيخ الألباني في «السلسلة الضعيفة» (3/ 423)، وقال: علَّة الحديث أبو الهيثم كثير هذا، وقد اضطَّرب فيه على كعب بن علقمة.

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← ابن الهيثم، ← كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 725

مسند الفاروق · كتاب التفسير ‹ ومن سورة آل عمران · حديث 807

807) قال أبو عبيد القاسم بن سلاَّم رحمه الله (6): ثنا حجَّاج، عن هارون بن موسى، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن أبيه، عن عمرَ: أنَّه صلَّى العشاءَ الآخرة، فاستفتح آل عمران، فقرأ: ألم. الله لا إله إلا هو الحيُّ القيَّام. قال هارون: وهي في مصحف عبد الله مكتوبة: «الحيُّ القيِّم». إسناد صحيح إلى عمرَ. _________ (1) العقيصة: الشَّعر المعقوص، وهو نحو من المضفور، وأصل العَقص: اللَّيُّ، وإدخال أطراف الشَّعر في أصوله. «النهاية» (3/ 275). (2) تَنقُزَان: أي: تَقفِزان وتَثِبان من شدَّة الجري. «النهاية» (5/ 105). (3) عُري: أي: لا سَرْجَ عليه ولا غيره. «النهاية» (3/ 225). (4) (11/ 83 رقم 4766 - الإحسان). (5) «المختارة» (1/ 377 رقم 262). (6) في «فضائل القرآن» (ص 296). وأخرجه -أيضًا- سعيد بن منصور (3/ 1029 رقم 486 - ط الصميعي) وابن أبي داود في «المصاحف» (1/ 286 - 287 رقم 150 - 153) من طريق محمد بن عمرو، به. وأورده البخاري في «صحيحه» (8/ 666 - فتح) في التفسير، باب سورة نوح، معلَّقا بصيغة الجزم، فقال: كما قرأ عمرُ الحيّ القيَّام.

عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← هَارُونُ بْنُ مُوسَى، ← حجاج، ← أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 807

مسند الفاروق · كتاب الجامع ‹ ما وردہ عنہ فی الایمان · حديث 907

907) قال الإمام أحمد (1): قرأتُ على يحيى بن سعيد: عثمان بن غياث، حدَّثني عبد الله بن بُرَيدة، عن يحيى بن يَعمَر وحميد بن الرحمن الحِمْيَري قالا: لَقِينا عبد الله بن عمرَ، فذَكَرنا القَدَر، وما يقولون فيه، فقال: إذا رَجَعتُم إليهم، فقولوا: إنَّ ابنَ عمر منكم برئٌ، وأنتم منه بُرَآءُ -ثلاث مرار-. ثم قال: أخبرني عمرُ بن الخطاب -رضي الله عنه- أنهم بينما هم جلوسٌ -أو قُعودٌ- عند النبيِّ صلى الله عليه وسلم جاءه رجلٌ يمشي، حَسَنُ الوجه، حَسَنُ الشَّعر، عليه ثيابُ بياض، فنظر القومُ بعضُهم إلى بعض: ما نَعرِف هذا، وما هذا بصاحب سَفَر، ثم قال: يا رسولَ الله، آتيك؟ قال: «نعم»، فجاء، فوضع رُكبَتَيهِ عند رُكبَتَيهِ، ويديه على فخذيه، فقال: ما الإسلام؟ قال: «شهادة أن لا إلهَ إلا الله، وأنَّ محمدًا رسولُ الله، وتقيمُ الصلاةَ، وتؤتي الزكاةَ، وتصومُ رمضان، وتحجُ البيت». قال: فما الإيمان؟ قال: «أن تؤمِنَ بالله، وملائكته، والجنَّة والنَّار، والبعث بعد الموت، والقَدَر كُلِّه». قال: فما الإحسان؟ قال: «أن تعمَلَ (2) كأنَّكَ تَرَاهُ، فإن لم تَكُن تَرَاهُ، فإنَّه يَرَاك». قال: فمتى السَّاعة؟ قال: «ما المسؤولُ عنها بأعلَمَ من السَّائلِ». قال: فما أشراطُها؟ قال: «إذا الحُفَاةُ العُرَاةُ العالَةُ رِعَاءُ الشَّاءِ تطاوَلُوا في البُنيانِ، وَوَلَدَتِ / (ق 354) الإمَاءُ أَربَابَهُنَّ (1)». قال: ثم قال: «عليَّ الرَّجُلَ»، فطلبوه، فلم يَرَوا شيئًا. فمَكَث يومين أو ثلاثة، ثم قال: «يا ابنَ الخطابِ، أتدري مَن السَّائلُ عن كذا وكذا؟»، قال: الله ورسوله أعلم. قال: «ذاك جبريلُ، جاءكم يُعلِّمُكُم دِينَكُم». قال: وسأله رجلٌ من جُهَينة أو مُزَينة، فقال: يا رسولَ الله، فيم نعملُ؟ في شيءٍ قد خلا، أو في شيءٍ يُستَأنَفُ الآن؟ قال: «في شيءٍ قد خَلاَ أو مضى»، فقال رجل -أو بعض القوم-: يا رسولَ الله، فِيمَ نعملُ؟ قال: «أهلُ الجنَّةِ يُيَسَّرُون لعملِ أهلِ الجنَّةِ، وأهلُ النَّارِ يُيَسَّرُون لعملِ أهلِ النَّارِ». قال يحيى: هو هكذا. ثم رواه أحمد -أيضًا- (2)، عن غُندَر ويزيد بن هارون. كلاهما عن كَهْمس، عن ابن بُرَيدة، به. وعن عبد الله بن يزيد، عن كَهْمس، عن عبد الله بن بُرَيدة، به. وقال غُندَر في حديثه: فلَبِثَ مَليًّا. وقال يزيد بن هارون وعبد الله بن يزيد: ثلاثًا. وقال أحمد -أيضًا- (3): ثنا وكيع، ثنا كَهْمس، عن سليمان بن بُرَيدة، عن يحيى بن يَعمَر، عن ابن عمرَ، عن عمرَ: أنَّ جبريل قال للنبيِّ صلى الله عليه وسلم: ما الإيمان؟ قال: «أن تؤمِنَ باللهِ، وملائكتِهِ، وكُتُبِه، ورُسُلِهِ، واليومِ الآخرِ، وبالقَدَرِ خيرِهِ وشَرِّهِ». فقال له جبريل: صَدَقتَ. قال: فعجبنا منه يسألُه ويصدِّقُه! قال: فقال النبيُّ صلى الله عليه وسلم: «ذاك جبريلُ، أتاكم يُعلِّمكم معالِمَ دينِكُم». وهكذا رواه -أيضًا- (1)، عن أبي نعيم، عن سفيان، عن علقمة بن مَرْثَد، عن / (ق 355) سليمان بن بُرَيدة، به، فقال فيه: «هذا جبريلُ، جاءكم يُعلِّمُكُم دِينَكُم، ما أتاني في صورةٍ إلا عَرَفتُهُ، غيرَ هذه الصورةِ». وكذا رواه -أيضًا- (2) عن أبي أحمد الزُّبيري، عن سفيان، بمعناه. وقد روى هذا الحديثَ بطوله الإمام علي ابن المديني، عن يحيى بن سعيد القطَّان، عن عثمان بن غياث كما تقدَّم. وعن وكيع، عن كَهْمس، عن عبد الله بن بُرَيدة، به. وعن سليمان بن حرب، عن حماد بن زيد، عن مَطَر الورَّاق، عن عبد الله بن بُرَيدة، وقال: هو حديث صحيح. قال عليّ: وعثمان بن غياث: ثقة، وكان رَوْح راويه عنه، وكان يزيد بن زُرَيع يقول: حدثني عثمان بن غياث، وكان مرجئًا (3)، وكان من خير المرجئة. وقد رواه مسلم بن الحجَّاج في «صحيحه» (1) منفردًا به عن البخاري (2)، فقال في أوَّل كتاب الإيمان منه: حدثني أبو خيثمة زُهَير بن حرب، ثنا وكيع، عن كَهْمس، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن يحيى بن يَعمَر (ح) وحدثنا عبيد الله بن معاذ العَنْبري، وهذا حديثه: ثنا أبي، ثنا كَهْمس، عن ابن بُرَيدة، عن يحيى بن يَعمَر قال: كان أوَّلَ مَن قال في القَدَر بالبصرة مَعبَدٌ الجُهَني (3)، فانطلقتُ أنا وحميد بن عبد الرحمن الحِمْيَري حاجَّين أو مُعتَمِرَين، فقلنا: لو لقينا أحدًا من أصحابِ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم فسألناه عمَّا يقول هؤلاء في القَدَر، فوُفِّقَ لنا عبد الله بن عمر بن الخطاب داخلاً المسجدَ، فاكتَنَفتُهُ أنا وصاحبي، / (ق 356) أحدُنا عن يمينه، والآخرُ عن شماله، فظننتُ أنَّ صاحبي سَيَكِلُ الكلامَ إليَّ، فقلت: أبا عبد الرحمن، إنَّه قد ظهر قِبَلَنا ناسٌ يقرأون القرآنَ، ويَتَقفَّرون العلمَ (4) -وذَكَر من شأنهم-، وأنهم يزعمون ألا قَدَرَ، وأنَّ الأمرَ أُنُفٌ (5). فقال: إذا لقيتَ أولئك، فأخبِرْهُم أنِّي بريءٌ منهم، وأنهم بُرَآءُ منَّي، والذي يَحِلفُ به عبد الله بن عمر، لو أنَّ لأحدهم مثلَ أُحُدٍ ذهبًا فأنفقَهُ، ما قَبِلَ اللهُ منه حتى يؤمنَ بالقَدَر. ثم قال: حدثني أبي عمرُ بنُ الخطابِ -رضي الله عنه- قال: بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ذاتَ يوم، إذ طلع علينا رجلٌ، شديدُ بياضِ الثيابِ، شديدُ سوادِ الشَّعرِ، لا يُرى عليه أثرُ السَّفر، ولا يَعرفُهُ منَّا أحدٌ، حتى جلس إلى النبيِّ صلى الله عليه وسلم، فأسنَدَ رُكبَتَيهِ إلى رُكبَتَيهِ، ووضع كفَّيه على فخذيه، وقال: يا محمدُ، أخبرني عن الإسلام؟ فقال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «الإسلامُ: أن تشهدَ أن لا إلهَ إلا اللهُ، وأنَّ محمدًا رسولُ الله، وتقيمَ الصلاةَ، وتؤتِيَ الزكاةَ (1)، وتحجَّ البيتَ إن استطعتَ إليه سبيلا». قال: صَدَقتَ. قال: فعجبنا له، يسألُه ويصدِّقُه. قال: فأخبرني عن الإيمان؟ قال: «تؤمِنُ باللهِ، وملائكتِهِ، وكُتُبِه، ورُسُلِه، واليومِ الآخرِ، وتؤمِنُ بالقَدَرِ خيرِهِ وشَرِّهِ». قال: صَدَقتَ. قال: فأخبرني عن الإحسان؟ قال: «أن تعبدَ اللهَ كأنَّك تَرَاهُ، فإن لم تَكُن تَرَاهُ، فإنَّه يَرَاك». قال: فأخبرني / (ق 357) عن السَّاعة؟ قال: «ما المسؤولُ عنها بأعلَمَ من السَّائلِ». قال: فأخبرني عن أَمَارَتِها؟ قال: «أن تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَها، وأن تَرى الحُفَاةَ العُرَاةَ، العالةَ، رعاءَ الشَّاءِ، يَتَطاوَلُون في البنيانِ». قال: ثم انطلق، فلبث مليًّا، ثم قال: «يا عمرُ، أتدري مَن الرَّجلُ؟»، قلت: الله ورسوله أعلم. قال: «فإنَّه جبريلُ، أتاكم يُعلِّمُكُم دِينَكُم». ثم رواه مسلم (2)، وأهل السُّنن (3) من طرق أخر، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن يحيى بن يَعمَر، به. ورواه أبو داود الطيالسي في «مسنده» (4)، عن حماد بن زيد، عن مَطَر الورَّاق، عن عبد الله بن بُرَيدة، به، نحوه. وقال فيه: فلم يَزَل يَدنو حتى كانت رُكبَتُهُ عند رُكبَةِ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم. ورواه مسلم -أيضًا- (5) من حديث معتمر بن سليمان، عن أبيه، عن يحيى بن يَعمَر، به. ورواه أبو داود السَّجِستاني -أيضًا- (1) من حديث الثوري، عن علقمة بن مَرْثَد، عن سليمان بن بُرَيدة، عن يحيى بن يَعمَر، به، وزاد بعد قوله: «وصوم رمضان: وتغتسل من الجنابة». وفي «صحيح ابن حبان» (2)، والجوزقي (3)، و «سنن الدارقطني» (4) من حديث المعتمر بن سليمان، عن أبيه، عن يحيى بن يَعمَر، عن ابن عمرَ، عن أبيه ... ، فذَكَره، وزادوا بعد قوله: «وتحجَّ البيتَ»: «وتَعتَمِرَ، وتُتمَّ الوُضُوءَ». وصحَّحه الدارقطني، وهو قوي الإسناد (1). وعند الحافظ أبي بكر البيهقي (2): ثم وَضَع يديه على رُكبَتَي النبيِّ صلى الله عليه وسلم. وفي لفظ أبي داود والنسائي: فلبثتُ ثلاثًا. وعند الترمذي وابن ماجه / (ق 358): فلَقِيني النبيُّ صلى الله عليه وسلم بعدَ ثلاثٍ، فقال: «يا عمرُ، أتدري مَن الرَّجلُ؟». فقلت: الله ورسوله أعلم. قال: «هو جبريلُ، أتاكم يُعلِّمُكُم دِينَكُم». وزاد الدارقطني: «فخذوا عنه، فوالذي نفسي بيده ما شُبِّه عليَّ منذ أتاني قبل مرتي هذه، وما عرفتُهُ حتى ولَّى». وقال الترمذي بعد روايته الحديث: هذا حديث حسن صحيح. قال: وقد روي هذا الحديث، عن ابن عمرَ، عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم، والصحيح عن ابن عمرَ، عن عمرَ، عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم. قلت: وقد استَقصيتُ جميع طرقه وألفاظه في أوَّل شرح البخاري -رحمه الله-، ولله الحمدُ والمنَّةُ.

لَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ ← يحيى بن يَعمَر وحميد بن الرحمن الحِمْيَري ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← على يحيى بن سعيد: عثمان بن غياث، ← الإِمَامُ أَحْمَدُ

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 907

مسند الفاروق · كتاب الجامع ‹ ما وردہ عنہ فی الایمان · حديث 909

909) ورواه الحافظ أبو بكر الإسماعيلي من حديث الزُّبيدي والأوزاعي ومحمد / (ق 359) بن مَيْسرة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيّب، عن عمرَ بن الخطاب، به (4). _________ (1) (ص 420 رقم 838). (2) كذا ورد بالأصل. وهو خطأ، وصوابه: «عبد الله بن دينار». (3) (1/ 304 - 305 رقم 195، 196). (4) وأخرجه -أيضًا- ابن وهب في «القدر» (ص 48 رقم 20) والفِريابي في «القدر» (ص 49 رقم 30) من طريق يونس بن يزيد. ومعمر في «جامعه» الملحق بـ «المصنَّف» (11/ 111 رقم 20063) وابن أبي عاصم في «السُّنة» (1/ 7 رقم 161) والفِريابي في «القدر» (ص 47 رقم 29) من طريق الزُّبيدي. جميعهم (يونس بن يزيد، ومعمر، والزُّبيدي) عن الزهري، عن سعيد بن المسيّب، عن عمرَ ... ، فذكره. وهذا إسناد رجاله ثقات، علَّته الاختلاف في سماع سعيد من عمر. وتابَعَهم الأوزاعي، واختُلف عليه، فأخرجه ابن أبي عاصم في «السُّنة» (1/ 71 رقم 162) عن بقيَّة. والدارقطني في «العلل» (2/ 92) عن يحيى القطَّان، تعليقًا. كلاهما (بقيَّة، ويحيى القطَّان) عن الأوزاعي، عن الزهري، به. وخالَفَهما أنس بن عياض، فرواه عن الأوزاعي، عن الزهري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة: أنَّ عمرَ بن الخطاب! ومن هذا الوجه: أخرجه الفِريابي في «القدر» (ص 49 رقم 31) وابن أبي عاصم في «السُّنة» (1/ 72 رقم 165) وابن حبان (1/ 312 رقم 108 - الإحسان) والبزَّار (3/ 18 رقم 2137 - كشف الأستار). وهذا الوجه خطأ، فقد قال البزَّار: رواه غير واحد عن الزهري، عن سعيد: أنَّ عمر قال ... ، لا نعلم أحدًا يُسندُهُ عن أبي هريرة، إلا أنس. وانظر: «علل الدارقطني» (2/ 91 - 92 رقم 134). وقد أخرج البخاري (3/ 225 رقم 1362 - فتح) في الجنائز، باب موعظة المحدِّث عند القبر، ومسلم (4/ 2039 رقم 2647) في القدر، باب كيفية خلق الآدمي في بطن أمه، من حديث علي -رضي الله عنه- قال: كنَّا في جنازة في بقيع الغَرْقَد، فأتانا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم، فقَعَد وقَعَدنا حولَه، ومعه مِخْصَرةٌ، فنَكَّس، فجعل يَنكُتُ بمِخْصَرتِهِ، ثم قال: «ما منكم من أحدٍ، ما من نفسٍ منفُوسةٍ إلا وقد كَتَب اللهُ مكانَها من الجنَّة والنَّار، وإلا وقد كُتِبَتْ شَقيةً أو سعيدةً». قال: فقال رجلٌ: يا رسولَ الله، أفلا نَمكُثُ على كتابِنا، ونَدَعُ العملَ؟ فقال: «مَن كان مِن أهلِ السَّعادةِ، فسَيَصيرُ إلى عملِ أهلِ السعادةِ، ومَن كان من أهلِ الشَّقاوةِ، فسَيَصيرُ إلى عملِ أهلِ الشَّقاوةِ، اعملوا، فكُلٌّ مُيسَّرٌ، أمَّا أهلُ السَّعادة فيُيَسَّرون لعملِ أهلِ السَّعادةِ، وأمَّا أهلُ الشَّقاوة فيُيَسَّرون لعملِ أهلِ الشَّقاوةِ، ثم قرأ: {فأما من أعطى واتقى. وصدق بالحسنى. فسنيسره لليسرى. وأما من بخل واستغنى. وكذب بالحسنى. فسنيسره للعسرى}».

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 909

مسند الفاروق · كتاب الجامع ‹ ومن فضل الصِّديق · حديث 972

972) قال البخاري (4): ثنا أبو نعيم، عن عبد العزيز بن أبي سَلَمة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر قال: قال عمرُ رضي الله عنه: أبو بكر سيِّدُنا، وأَعتَقَ سيِّدَنا. يعني: بلالاً. _________ (1) في «سننه» (5/ 566 رقم 3656) في المناقب، باب مناقب أبي بكر الصديق. (2) (15/ 278 رقم 6862 - الإحسان). (3) تنبيه: جاء بحاشية الأصل تقييد بخطِّ الحافظ ابن حجر هذا نصُّه: هذا الحديث عزاه للترمذي عن إبراهيم بن سعيد الجَوهري، وهو في «صحيح البخاري» [3668] عن إسماعيل، بهذا الإسناد مطوَّلا، في فضائل أبي بكر، فالعَجَب من هذا الحافظ كيف خفي عليه؟! (4) في «صحيحه» (7/ 99 رقم 3754) في فضائل الصحابة، باب مناقب بلال بن رباح.

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 972

مسند الفاروق · كتاب الجامع ‹ حديث في فضل زيد بن حارثة مولى النبيِّ صلى الله عليه وسلم وحِبِّه وولده أسامة الحِبِّ بن الحِبِّ رضي الله عنهما وأرضاههما · حديث 985

985) / (ق 404) قال الحافظ أبو يعلى الموصلي (2): ثنا مصعب -يعني ابن عبد الله (3) - ثنا عبد العزيز بن محمد -هو الدَّرَاوَردِي- عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمرَ قال: فَرَضَ عمرُ لأسامةَ أكثرَ ممَّا فَرَضَ لي، فقلت: إنما هِجرتي وهجرة أسامةَ واحدةٌ! فقال: إنَّ أباه كان أحبَّ إلى رسولِ الله صلى الله عليه وسلم من أبيك، وإنَّه كان أحبَّ إلى رسولِ الله صلى الله عليه وسلم منك، وإنما هاجَرَ بك أبوك. هذا حديث صحيح، رواه البخاري في كتاب الهجرة (4) عن إبراهيم بن موسى، عن هشام بن يوسف، عن ابن جريج، عن عبيد الله بن عمر العُمَري، به، أطول من هذا. قُتِلَ زيد بن حارثة أميرًا بمؤتةَ في سنة سبع من الهجرة رضي الله عنه. _________ (1) كَتَب المؤلِّف بجواره: «يؤخَّر»، إلا أنهَّ لم يبيِّن الموضع الذي يحوَّل إليه، فأبقيته على حاله. (2) في «مسنده» (1/ 148 - 149 رقم 162) -وعنه: أخرجه ابن حبان (15/ 517 رقم 7043 - الإحسان) -. (3) وهو في «حديث مصعب الزبيري» (ص 62 رقم 44 - رواية البغوي). (4) لم أجده في كتاب الهجرة من «صحيحه»، وإنما رواه في المناقب (7/ 253 رقم 3912 - فتح) باب هجرة النبيِّ وأصحابه إلى المدينة.

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ← مصعب -يعني ابن عبد الله ← الحافظ أبو يعلى الموصلي ← (ق

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 985

مسند الفاروق · كتاب الجامع ‹ أثر في فضل جَرير بن عبد الله البَجَلي رضي الله عنه وأرضاه · حديث 989

989) قال الترمذي في «الشمائل» (1): ثنا عمر بن إسماعيل بن مُجالِد، عن أبيه، عن بَيَان، عن قيس بن أبي حازم، عن جَرير بن عبد الله البَجَلي قال: عُرِضْتُ بين يَدَي عمرَ، فألقى جريرٌ رداءَه ومشى في إزار، فقال له: خُذ رداءَك. فقال عمرُ للقوم: ما رأيتُ رجلاً أحسنَ صورةً من جريرٍ إلا ما بَلَغنا من صورةِ يوسفَ الصَّديق عليه السلام. إسناده جيد قوي (2). وقد كان جَرير من أحسنِ الناسِ وجهًا، كما ثَبَت عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم أنه قال: «إنَّ على وَجهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ» (3)، فرَضِيَ اللهُ عن أصحابِ رسولِ الله أجمعين. _________ (1) (ص 182 رقم 223). (2) في هذا نظر؛ فشيخ الترمذي قال ابن معين: ليس بشيء، كذَّاب خبيث، رجل سُوء، حدَّث عن أبي معاوية، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم: «أنا مدينة العلم، وعليٌّ بابُها»، وهو حديث ليس له أصل. وقال النسائي: ليس بثقة، متروك الحديث. انظر: «تهذيب الكمال» (21/ 276 - 278). (3) أخرجه الحميدي (2/ 350 رقم 800) والبخاري في «الأدب المفرد» (ص 94 رقم 250) والنسائي في «الكبرى» (7/ 369 رقم 8244 - ط مؤسسة الرسالة) من طريق ابن عيينة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن جَرير -رضي الله عنه- قال: ما رآني رسولُ الله صلى الله عليه وسلم إلا تبسَّمَ في وجهي، وقال: «يَدخلُ عليكم من هذا الباب من خيرِ ذي يَمَن، على وَجْهِهِ مَسْحَةُ مَلَك». قال الشيخ الألباني في «السلسلة الصحيحة» (7/ 586): وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين. وله طريق أخرى: أخرجها النسائي في «الكبرى» (8246) وأحمد (4/ 364،360،359) وابن حبان (16/ 173 رقم 7199 - الإحسان) والحاكم (1/ 285) من طريق يونس بن أبي إسحاق، عن المغيرة بن شُبَيل، عن جرير -رضي الله عنه-، به. قال الحاكم: صحيح على شرط الشيخين. ووافقه الذهبي. وصحَّح إسناده الشيخ الألباني في «السلسلة الصحيحة» (7/ 587).

Musnad Al Farooq · Book › Chapter · Hadith 989

chevron_left Previous
1…91011…58
Next chevron_right