Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الرؤى والأحلام

Dreams

1987 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةِ] · حديث 11724

11724 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَإِنَّ السَّمُومَ الَّتِي خُلِقَتْ مِنْهَا الْجِنُّ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ» وَإِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَهُ طُرُقٌ تَقَدَّمَتْ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’نیک خواب نبوت کے ستّر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں اور’’ سموم‘‘ وہ چیز ہے جس کے ذریعے جنات کو پیدا کیا گیا‘یہ جہنم کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے اور تمہاری یہ (دنیاوی) آگ جہنم کی آگ کا ستّرواں حصہ ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابو مریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے۔ اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جو اس سے پہلے مساجد کی طرف پیدل چل کر جانے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of a good vision] · Hadith 11724

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ] · حديث 11730

11730 - وَعَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ: " مُتَعَمِّدًا ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فر مان نقل کرتے ہیں: ’’جو شخص جان بوجھ کر خواب کے بارے میں جھوٹ بولے گا قیامت کے دن اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جَو (کے دانوں میں) گرہ لگائے‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے ’’جان بوجھ کر‘‘ کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن عامر ثعلبی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَلِيٍّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter about whom lies in his dream] · Hadith 11730

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ فِيمَنْ رَأَى مَا يُحِبُّ أَوْ غَيْرَهُ] · حديث 11732

11732 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، فَمَنْ رَأَى خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -[عَلَيْهِ] وَلَيَذْكُرْهُا، وَمَنْ رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ شَرِّ رُؤْيَاهُ وَلَا يَذْكُرْهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْهَاشِمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’نیک خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں ، جو شخص بھلائی کی بات دیکھے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور اس کا ذکر کرے اور جو شخص اس کے علاوہ (یعنی کوئی ناگوار خواب) دیکھے تو وہ اپنے خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور اس کا ذکر نہ کرے تو وہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ سلیمان بن داؤد ہاشمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter on who saw what he liked or something else] · Hadith 11732

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ فِيمَنْ رَأَى مَا يُحِبُّ أَوْ غَيْرَهُ] · حديث 11733

11733 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يُبَشَّرُهَا الْمُؤْمِنُ عَلَى جُزْءٍ مِنْ تِسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، فَمَنْ رَأَى ذَلِكَ فَلْيُخْبِرْ بِهَا، وَمَنْ رَأَى سِوَى ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْكُتْ وَلَا يُخْبِرْ بِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، وَحَدِيثُهُمَا حَسَنٌ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :(ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ’’ اُن لوگوں کے لئے دنیاوی زندگی میں خوشخبری ہے......‘‘۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’نیک خواب جس کے ذریعے مومن شخص کو خوشخبری دی جاتی ہے یہ نبوت کے انچاس اجزاء میں سے ایک جزء ہے ، جو شخص ایسا خواب دیکھے تو وہ اس کے بارے میں کسی کو بتا دے اور جو شخص اس کے علاوہ (یعنی کوئی نا گوار یا ڈراؤنا) خواب دیکھے تو وہ خواب شیطان کی طرف سے ہو گا تاکہ وہ شیطان اسے غمگین کر دے اس شخص کو اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور خاموش رہنا چاہیے اور اس خواب کے بارے میں (کسی کو) نہیں بتانا چاہیے‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ابن لہیعہ کے حوالے سے دراج سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter on who saw what he liked or something else] · Hadith 11733

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ فِيمَنْ رَأَى مَا يُحِبُّ أَوْ غَيْرَهُ] · حديث 11735

11735 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللَّهِ وَالسَّيِّئَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَذَكَرَهُ فِي الضُّعَفَاءِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یارسول اللہ! میں ایسے خواب دیکھتا ہوں جو مجھے بیمار کر دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور بُرا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے جب تم میں سے کوئی شخص کوئی ایسا (بُرا) خواب دیکھے تو اسے اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہے تو وہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن سلیم ہے، اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن انہوں نے اس کا ذکر کتاب ’’الضعفاء ‘‘میں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter on who saw what he liked or something else] · Hadith 11735

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ مَا يَدُلُّ عَلَى صِدْقِ الرُّؤْيَا] · حديث 11736

11736 - عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ، وَرُبَّمَا قَالَ: " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ ". قَالَ: فَإِذَا رَأَى الرَّجُلُ رُؤْيَا سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ [إِلَيْهِ]. قَالَ: فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، سَمِعْتُ فِيهَا وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا قَدْ جِيءَ بِفُلَانِ [بْنِ فُلَانٍ] وَفُلَانِ [بْنِ فُلَانٍ] حَتَّى عَدَّتِ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا - وَقَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ - فَجِيءَ بِهِمْ، عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخُبُ أَوْدَاجُهُمْ، فَقِيلَ: اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْبَيْدَخِ - أَوْ قَالَ: نَهْرِ الْبَيْدَخِ - فَغُمِسُوا فِيهِ، فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَعَدُوا عَلَيْهَا، وَأُتِيَ بِصَحْفَةٍ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - فِيهَا بُسْرَةٌ، فَأَكَلُوا مِنْهَا [فَمَا يَقْلِبُونَهَا لَشَقٍّ إِلَّا أَكَلُوا] مِنْ فَاكِهَةٍ مَا أَرَادُوا وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا، وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ عَدَّتْهُمُ الْمَرْأَةُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ ". فَجَاءَتْ، فَقَالَ: " قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ ". فَقَصَّتْ، فَقَالَ: هُوَ كَمَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھے خواب پسند تھے، بعض اوقات آپ یہ دریافت کر لیتے تھے : کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں : جب کسی شخص نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تھا تو وہ اس کے بارے میں دریافت کر لیتا تھا ، اگر اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا تھا تو وہ آپ کے نزدیک (یا اس شخص کے نزدیک) عمدہ خواب ہوتا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک خاتون آئی ، اس نے عرض کی : یارسول اللہ! میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں جنت میں داخل ہوئی ہوں ، وہاں میں نے گونج کی آواز سنی، جس کی وجہ سے جنت میں گونج پیدا ہوئی تھی ، جب میں نے دیکھا تو فلاں بن فلاں صاحب آ رہے ہیں فلاں بن فلاں صاحب آ رہے ہیں یہاں تک کہ اُس خاتون نے بارہ افراد شمار کروائے یہ وہ لوگ تھے ، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے ایک جنگی مہم پر بھیج چکے تھے (اس خاتون نے بتایا) جب وہ لوگ آئے تو ان کے جسم پر عمدہ قسم کے کپڑے تھے اور ان کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا ، یہ بات کہی گئی کہ انہیں بیدخ کی سر زمین کی طرف لے جاؤ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بیدخ کی نہر کی طرف لے جاؤ اور وہاں انہیں ڈبکی دو ، پھر وہ لوگ وہاں سے نکلے تو ان کے چہرے یوں تھے جیسے چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے ، پھر وہ سونے کی کرسیوں کے پاس آئے اور ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھال لایا گیا، جس میں کھجوریں موجود تھیں ، ان لوگوں نے ان میں سے کھانا شروع کیا وہ ان تھالوں میں سے مختلف پھل کھاتے رہے ، میں نے بھی ان کے ساتھ پھل کھایا۔ راوی کہتے ہیں : اس جنگی مہم کے حوالے سے جب اطلاع دینے والا شخص آیا تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ یہ یہ صورت حال پیش آئی اور فلاں حضرات شہید ہو گئے ہیں ، تو اس نے اُنہی بارہ افراد کا شمار کروایا جن کا شمار اس خاتون نے کروایا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اُس عورت کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ عورت آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُس شخص کے سامنے اپنا خواب بیان کرو! اس عورت نے خواب بیان کیا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ اُسی طرح تھا ، جس عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے (وہ خواب) بیان کیا تھا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

أَنَسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of what indicates the truthfulness of the vision] · Hadith 11736

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ بَابٌ فِيمَا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ] · حديث 11751

11751 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ كَأَنَّ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا، فَأَوَّلْتُهُ قَتْلًا يَكُونُ فِيكُمْ، وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ، وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهُ الْمَدِينَةَ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ ". فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طَرِيقُهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ، وَفِي إِسْنَادِ هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تلوار ذالفقار’’نفضل ‘‘کے طور پر دی اور یہ وہی تلوار ہے کہ جس کے بارے میں آپ نے غزوہ اُحد کے موقع پر خواب میں دیکھا اور ارشاد فرمایا: کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جیسے میری تلوار’’ ذالفقار‘‘ کی دھار خراب ہو گئی ہے تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ تم میں سے لوگ مارے جائیں گے اور میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے دنبے کو پیچھے بٹھایا ہوا ہے تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ یہ دشمن کا دنبہ ہے اور میں نے خواب دیکھا کہ جیسے میں ایک محفوظ زرہ میں ہوں تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد مدینہ منورہ ہے اور میں نے گائے کو دیکھا کہ اسے ذبح کیا گیا ہے تو اللہ کی قسم ! گائےکی تعبیر اچھی ہی ہو گی اللہ کی قسم ! گائےکی تعبیر اچھی ہی ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : تو اُسی طرح ہوا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے اس سے پہلے اس روایت کا ایک طریق غزوہ اُحد سے متعلق باب میں گزر چکا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمٰن بن ابو زناد ہے، اور وہ ضعیف ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › Chapter about what the Prophet, may God bless him and grant him peace, saw in a dream] · Hadith 11751

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ] · حديث 11756

11756 - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَرَاءَى بِي». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’نیک خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور بُرے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں ، جو شخص (خواب میں) کوئی ایسی چیز دیکھے ، جو اسے ناگوار گزرے تو اسے اپنے بائیں تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور شیطان سے ، اللہ کی پناہ مانگ لینی چاہیے ، تو وہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا اور شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ہے‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں :)میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’صحیح‘‘میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

«الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي قَتَادَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of the vision of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, in sleep] · Hadith 11756

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا] · حديث 11767

11767 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا تَقُصَّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ أَوْ نَاصِحٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ تم خواب صرف کسی (تعبیر کے) عالم یا خیر خواہ شخص کے سامنے بیان کرو‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمر بجلی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter expressing visions] · Hadith 11767

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا] · حديث 11772

11772 - وَعَنِ ابْنِ زُمَيْلٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ قَالَ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَهُ: " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا " سَبْعِينَ مَرَّةً، ثُمَّ يَقُولُ: سَبْعِينَ بِسَبْعِمِائَةٍ، لَا خَيْرَ لِمَنْ كَانَتْ ذُنُوبُهُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِمِائَةٍ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا فَيَقُولُ: " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا؟ ". قَالَ ابْنُ زُمَيْلٍ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " خَيْرًا تَلْقَاهُ وَشَرًّا تَوَقَّاهُ، وَخَيْرٌ لَنَا وَشَرٌّ عَلَى أَعْدَائِنَا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اقْصُصْ رُؤْيَاكَ ". فَقُلْتُ: رَأَيْتُ جَمِيعَ النَّاسِ عَلَى طَرِيقٍ رَحْبٍ سَهْلٍ لَاحِبٍ، وَالنَّاسُ [عَلَى الْجَادَةِ] مُنْطَلِقُونَ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَشْفَى ذَلِكَ الطَّرِيقُ عَلَى مَرْجٍ لَمْ تَرَ عَيْنَايَ مِثْلَهُ، يَرِفُّ رَفِيفًا وَيَقْطُرُ نَدَاهُ، فِيهِ مِنْ أَنْوَاعِ الْكَلَإِ، فَكَأَنِّي بِالرَّعْلَةِ الْأُولَى حِينَ أَشْفَوْا عَلَى الْمَرْجِ، كَبَّرُوا، ثُمَّ رَكِبُوا رَوَاحِلَهُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَمِنْهُمُ الْمُرْتَقِي، وَمِنْهُمُ الْآخِذُ الضِّغْثَ، وَمَضَوْا عَلَى ذَلِكَ. قَالَ: ثُمَّ قَدِمَ عَظِمُ النَّاسِ، فَلَمَّا أَشْفَوْا عَلَى الْمَرْجِ كَبَّرُوا، فَقَالُوا: خَيْرُ الْمَنْزِلِ. فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَمِيلُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ لَزِمْتُ الطَّرِيقَ حَتَّى آتِيَ أَقْصَى الْمَرْجِ، فَإِذَا أَنَا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مِنْبَرٍ فِيهِ سَبْعُ دَرَجَاتٍ، وَأَنْتَ فِي أَعْلَاهَا دَرَجَةً، فَإِذَا عَنْ يَمِينِكَ رَجُلٌ آدَمٌ شَثْنٍ، أَقْنَى إِذَا هُوَ تَكَلَّمَ، يَسْمُو فَيَفْرَعُ الرِّجَالَ طُولًا، وَإِذَا عَنْ يَسَارِكَ رَجُلٌ تَارٌّ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَثِيرُ خِيلَانِ الْوَجْهِ، كَأَنَّمَا حَمَّمَ شَعْرَهُ بِالْمَاءِ، إِذَا هُوَ تَكَلَّمَ أَصْغَيْتُمْ لَهُ إِكْرَامًا لَهُ، وَإِذَا أَمَامَكُمْ شَيْخٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِكَ خَلْقًا، وَوَجْهًا، كُلُّهُمْ يَؤُمُّونَهُ يُرِيدُونَهُ، فَإِذَا أَمَامَ ذَلِكَ نَاقَةٌ عَجْفَاءُ شَارِفٌ، وَإِذَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ تَتَّقِيهَا. قَالَ: فَانْتُقِعَ لَوْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَمَّا مَا رَأَيْتَ مِنَ الطَّرِيقِ السَّهْلِ الرَّحْبِ اللَّاحِبِ فَذَلِكَ مَا حُمِلْتُمْ عَلَيْهِ مِنَ الْهُدَى فَأَنْتُمْ عَلَيْهِ، وَأَمَّا الْمَرْجُ الَّذِي رَأَيْتَ فَالدُّنْيَا وَغَضَارَةُ عَيْشِهَا، مَضَيْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي لَمْ نَتَعَلَّقْ بِهَا [شَيْئًا] وَلَمْ تَتَعَلَّقْ بِنَا، ثُمَّ جَاءَتِ الرَّعْلَةُ الثَّانِيَةُ بَعْدَنَا، وَهُمْ أَكْثَرُ مِنَّا، ضِعَافًا فَمِنْهُمُ الْمُرْبِعُ، وَمِنْهُمُ الْآخِذُ الضِّغْثَ، وَنَحْوَهُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ عَظِيمُ النَّاسِ فَمَالُوا فِي الْمَرْجِ يَمِينًا وَشِمَالًا [فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ]. وَأَمَّا أَنْتَ فَمَضَيْتَ عَلَى طَرِيقٍ صَالِحَةٍ فَلَمْ تَزَلْ عَلَيْهَا حَتَّى تَلْقَانِي. وَأَمَّا الْمِنْبَرُ الَّذِي رَأَيْتَ فِيهِ سَبْعَ دَرَجَاتٍ وَأَنَا فِي أَعْلَاهَا دَرَجَةً فَالدُّنْيَا، سَبْعَةُ آلَافِ سَنَةٍ، وَأَنَا فِي آخِرِهَا أَلْفًا. وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِي الْآدَمُ الشَّثْنُ فَذَاكَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِذَا تَكَلَّمَ يَعْلُو الرِّجَالَ بِفَضْلِ كَلَامِ اللَّهِ إِيَّاهُ. وَالَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِي التَارُّ الرَّبْعَةُ الْكَثِيرُ خِيلَانِ الْوَجْهِ كَأَنَّهُ حَمَّمَ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ فَذَاكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - تُكْرِمُهُ لِإِكْرَامِ اللَّهِ إِيَّاهُ. وَأَمَّا الشَّيْخُ الَّذِي رَأَيْتَ أَشْبَهَ النَّاسِ بِي خَلْقًا وَوَجْهًا فَذَاكَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كُلُّنَا نَؤُمُّهُ وَنَقْتَدِي بِهِ. وَأَمَّا النَّاقَةُ الَّتِي رَأَيْتَ وَرَأَيْتَنِي أَتَّقِيهَا فَهِيَ السَّاعَةُ، عَلَيْنَا تَقُومُ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَ أُمَّتِي ". قَالَ: فَمَا سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رُؤْيَا بَعْدَهَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ فَيُحَدِّثُهُ بِهَا مُتَبَرِّعًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت ابن زمیل جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تھے ، تو اپنی ٹانگ موڑ کر یہ ارشاد فرماتے تھے : ( یعنی یہ پڑھتے تھے:)’’اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور حمد اس کے لئے مخصوص ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے‘‘۔یہ آپ ستر مرتبہ پڑھتے تھے ، پھر یہ فرماتے تھے: ان ستّر کا ثواب سات سو ہو گا اور اس شخص کے لئے بھلائی نہیں ہے جس کے گناہ ایک دن میں سات سو سے زیادہ ہوں، پھر آپ لوگوں کی طرف رُخ کر لیتے تھے آپ کو خواب پسند تھے ، آپ یہ فرماتے تھے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی (نمایاں قسم کا) خواب دیکھا ہے؟ حضرت ابن زمیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: (ایک مرتبہ میں نے عرض کی :)یا رسول اللہ! میں نے دیکھا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ بھلائی ہو گی، جس کا تم سامنا کرو گے یا برائی ہو گی جس سے تمہیں بچا لیا گیا ہو گا ، وہ ہمارے حق میں بہتر ہو گا اور ہمارے دشمنوں کے حق میں بُرا ہو گا ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، تم اپنا خواب بیان کرو! میں نے عرض کی : میں نے خواب میں لوگوں کو دیکھا کہ سب لوگ ایک کشادہ اور آسمان راستے پر گامزن ہیں ، لوگ اس راستے پر چل رہے ہیں اور وہ راستہ جا کر ایک چراگاہ میں ختم ہوتا ہے ، میری آنکھوں نے اس جیسی چرا گاہ نہیں دیکھی ، وہ سبزہ موجود تھا ، اس میں مختلف نوعیت کی گھاس پھوس تھی، میں گو یا آگے جانے والے لوگوں میں شامل تھا جب وہ لوگ اس چراگاہ میں پہنچے تو ان لوگوں نے تکبیر کہی اور پھر وہ راستے میں ہی سوار ہو گئے ، ان لوگوں میں سے کچھ لوگ سواریوں کو چرانے لگے اور کچھ لوگ گھاس کے گٹھے بنانے لگے ، وہ لوگ یہ کام کر رہے تھے کہ اسی دوران پھر بہت سے لوگ آ گئے ، جب وہ چراگاہ میں پہنچے تو انہوں نے تکبیر کہی اور بولے: یہ پڑاؤ کا بہترین مقام ہے ، میں گویا اس وقت بھی ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں مائل ہو رہے تھے ، جب میں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو میں راستے پر ہی رہا ، یہاں تک کہ چراگاہ کے آخری حصے میں آ گیا ، تو یارسول اللہ ہمیں نے وہاں آپ کو دیکھا کہ آپ وہاں ایک منبر پر تشریف فرما ہیں ، جس میں سات درجات ہیں اور آپ اس کے سب سے بلند درجہ پر موجود ہیں ، آپ کے دائیں طرف ایک صاحب ہیں جو گندمی رنگت اور مضبوط جسم کے مالک ہیں ، جب وہ گفتگو کرتے تو نمایاں محسوس ہوتے ، وہ نمایاں طور پر طویل القامت محسوس ہوتے تھے ، جبکہ آپ کے بائیں طرف مناسب قدو قامت کے مالک ، سرخ رنگ کے مالک ایک فرد تھے ، جن کے چہرے پر تل زیادہ تھے ، یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے ہیں ، جب وہ بات کرتے تھے تو آپ لوگ ان کی عزت افزائی کے لیے مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ، اور آپ لوگوں کے سامنے ایک بزرگوار موجود تھے ، جو ظاہری جسامت اور چہرے سے سب لوگوں سے زیادہ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے ، سب لوگ ان کا قصد کرتے تھے ، ان کا ارادہ کرتے تھے ، اور وہاں پر سامنے ایک کمزور اونٹنی موجود تھی ، اور یوں محسوس ہوا ، یا رسول اللہ !جیسے آپ اس سے بچ رہے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں: گھڑی بھر کے لئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت متغیر ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہو گئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے جو کشادہ اور آسمان راستہ دیکھا ہے ، تو اُس سے مراد وہ ہدایت ہے ، جس پر تم لوگ گامزن ہو ، جہاں تک چرا گاہ کا تعلق ہے جو تم نے دیکھی تو اس سے مراد دنیا اور اس کی زندگی کا عیش و آرام ہے ، میں اور میرے اصحاب دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور ہمارا اس عیش و آرام سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، اور دنیا کا ہمارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، پھر ہمارے بعد دوسرا گروہ آئے گا جو تعداد میں ہم سے زیادہ ہو گا ان میں سے کچھ لوگ تھوڑا لینے والے ہوں گے اور کچھ گٹھے اکٹھے کریں گے ، پھر بہت سے لوگ آ جائیں گے اور چراگاہ میں دائیں بائیں پھیل جائیں گے، تو بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اور بے شک ہم نے اس کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، جہاں تک تمہارا تعلق ہے تو تم ایک سیدھے راستے پر چل رہے ہو اور مسلسل اس پر گامزن رہو گے ، یہاں تک کہ تم مجھ سے آملو گے ، جہاں تک اس منبر کا تعلق ہے کہ جو تم نے دیکھا کہ اس میں سات درجات ہیں اور میں اس کے بلند ترین در جے پر ہوں تو دنیا سات ہزار سال کی ہو گی اور ’’میں‘‘ آخری ہزار سال میں ہوں ، جہاں تک اُس شخص کا تعلق ہے جسے تم نے میرے دائیں طرف دیکھا ، جو گندمی رنگت کا مضبوط جسم کا شخص تھا ، تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے جب وہ کلام کرتے تھے تو دیگر لوگوں پر فائق محسوس ہوتے تھے ، اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں یہ فضیلت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کلام کیا ہے ، جہاں تک اُن صاحب کا تعلق ہے ، جنہیں تم نے میرے بائیں طرف دیکھا ، جو مناسب قدو قامت کے مالک ، سرخ رنگ کے مالک ایک فرد تھے، جن کے چہرے پر تل زیادہ تھے ، یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے چہرے پر پانی ڈالا گیا ہے تو وہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تھے اور یہ عزت افزائی اس لیے تھی ، کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں عزت عطا کی ہے ، جہاں تک اُن بزرگوار کاتعلق ہے جنہیں تم نے دیکھا کہ وہ ظاہری جسامت اور شکل وصورت کے اعتبار سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے تو وہ ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ، اور ہم ان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی اقتداء کرتے ہیں ، جہاں تک اس اونٹنی کا تعلق ہے جو تم نے دیکھی اور تم نے مجھے دیکھا کہ میں اس سے بچ رہا ہوں، تو اس سے مراد قیامت ہے ، جو ہم پر قائم ہو گی ، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ، اور میری اُمت کے بعد کوئی اُمت نہیں ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی کسی خواب کے بارے میں دریافت کیا تو کوئی شخص آتا تھا اور فضیلت کے طور پر آپ کو (اپنا خواب) بیان کرتا تھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عطاء قرشی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔

ابْنِ زُمَيْلٍ الْجُهَنِيِّ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter expressing visions] · Hadith 11772

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ صِفَةِ النَّارِ] ‹ [بَابٌ] · حديث 18578

18578 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى، وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَإِنَّ نَارَكُمْ - يَعْنِي هَذِهِ - جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ سَمُومِ جَهَنَّمَ، وَمَا دَامَ الْعَبْدُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ "». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Attribute of Fire] › [Door] · Hadith 18578

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ] · حديث 9947

9947 - وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: كَانَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِنَةً مَعَ أَخِيهَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَرَأَتْ رُؤْيَا قُبَيْلَ بَدْرٍ فَفَزِعَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَخِيهَا عَبَّاسٍ مِنْ لَيْلَتِهَا حِينَ فَزِعَتْ وَاسْتَيْقَظَتْ مِنْ نَوْمِهَا فَقَالَتْ: قَدْ رَأَيْتُ رُؤْيَا وَقَدْ خَشِيتَ مِنْهَا عَلَى قَوْمِكَ الْهَلَكَةَ. قَالَ: وَمَا رَأَيْتِ؟ قَالَتْ: لَنْ أُحَدِّثَكَ حَتَّى تُعَاهِدَنِي أَنْ لَا تَذْكُرَهَا، فَإِنَّهُمْ إِنْ يَسْمَعُوهَا آذَوْنَا فَأَسْمَعُونَا مَا لَا نُحِبُّ، فَعَاهَدَهَا عَبَّاسٌ، فَقَالَتْ: رَأَيْتُ رَاكِبًا أَقْبَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ يَصِيحُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا آلَ غَدْرٍ، وَيَا آلَ فُجْرٍ، اخْرُجُوا مِنْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ. ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَرَخَ فِي الْمَسْجِدِ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ، وَمَالَ عَلَيْهِ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، وَفَزِعَ النَّاسُ لَهُ أَشَدَّ الْفَزَعِ، ثُمَّ أَرَاهُ مَثُلَ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَرَخَ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ: يَا آلَ غَدْرٍ، وَيَا آلَ فُجْرٍ، اخْرُجُوا فِي لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ حَتَّى أَسْمَعَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، ثُمَّ عَمَدَ لِصَخْرَةٍ عَظِيمَةٍ فَنَزَعَهَا مِنْ أَصْلِهَا ثُمَّ أَرْسَلَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَأَقْبَلَتِ الصَّخْرَةُ لَهَا دَوِيٌّ حَتَّى إِذَا كَانَتْ عَلَى أَصْلِ الْجَبَلِ ارْفَضَّتْ فَلَا أَعْلَمُ بِمَكَّةَ بَيْتًا وَلَا دَارًا إِلَّا قَدْ دَخَلَهَا فِرْقَةٌ مِنْ تِلْكَ الصَّخْرَةِ، فَلَقَدْ خَشِيتُ عَلَى قَوْمِكَ أَنْ يَنْزِلَ بِهِمْ شَرٌّ. فَفَزِعَ مِنْهَا عَبَّاسٌ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا فَلَقِيَ مِنْ لَيْلَتِهِ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ خَلِيلًا لِلْعَبَّاسِ فَقَصَّ عَلَيْهِ رُؤْيَا عَاتِكَةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَذْكُرَهَا لِأَحَدٍ، فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ، وَذَكَرَهَا عُتْبَةُ لِأَخِيهِ شَيْبَةَ، وَارْتَفَعَ حَدِيثُهَا حَتَّى بَلَغَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَاسْتَفَاضَتْ. فَلَمَّا أَصْبَحُوا غَدَا الْعَبَّاسُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَصْبَحَ فَوَجْدَ أَبَا جَهْلٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، وَزَمْعَةَ بْنَ الْأَسْوَدِ، وَأَبَا الْبَخْتَرِيِّ فِي نَفَرٍ يَتَحَدَّثُونَ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَى عَبَّاسٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ نَادَاهُ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، إِذَا قَضَيْتَ طَوَافَكَ فَائْتِنَا. فَلَمَّا قَضَى طَوَافَهُ أَتَى فَجَلَسَ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، مَا رُؤْيَا رَأَتْهَا عَاتِكَةُ؟ قَالَ: مَا رَأَتْ مِنْ شَيْءٍ قَالَ: بَلَى، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي هَاشِمٍ بِكَذِبِ الرِّجَالِ حَتَّى جِئْتُمُونَا بِكَذِبِ النِّسَاءِ، إِنَّا كُنَّا وَأَنْتُمْ كَفَرَسَيْ رِهَانٍ، فَاسْتَبَقْنَا الْمَجْدَ مُنْذُ حِينٍ فَلَمَّا حَاذَتِ الرَّكْبُ، قُلْتُمْ مِنَّا نَبِيٌّ، فَمَا بَقِيَ إِلَّا أَنْ تَقُولُوا: مِنَّا نَبِيَّةٌ، وَلَا أَعْلَمُ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْذَبَ رَجُلًا وَلَا أَكْذَبَ امْرَأَةً مِنْكُمْ، فَآذَوْهُ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ الْأَذَى. وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: زَعَمَتْ عَاتِكَةُ أَنَّ الرَّاكِبَ قَالَ: اخْرُجُوا فِي لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَلَوْ قَدْ مَضَتْ هَذِهِ الثَّلَاثُ تَبَيَّنَ لِقُرَيْشٍ كَذِبُكُمْ، وَكَتَبْنَا سِجِلًّا ثُمَّ عَلَّقْنَاهُ بِالْكَعْبَةِ إِنَّكُمْ أَكْذَبُ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ رَجُلًا وَامْرَأَةً، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي قُصَيٍّ أَنَّكُمْ ذَهَبْتُمْ بِالْحِجَابَةِ وَالنَّدْوَةِ وَالسِّقَايَةِ وَاللِّوَاءِ حَتَّى جِئْتُمُونَا زَعَمْتُمْ بِنَبِيٍّ مِنْكُمْ، فَآذَوْهُ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ الْأَذَى. وَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: مَهْلًا يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ، هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ، فَإِنَّ الْكَذِبَ فِيكَ وَفِي أَهْلِ بَيْتِكَ، فَقَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، مَا كُنْتَ بِجَاهِلٍ وَلَا خَرِفٍ، وَنَالَ عَبَّاسٌ مِنْ عَاتِكَةَ أَذًى شَدِيدًا فِيمَا أَفْشَى مِنْ حَدِيثِهَا، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ لَيْلَةِ الثَّالِثَةِ مِنَ اللَّيَالِي الَّتِي رَأَتْ فِيهَا عَاتِكَةُ الرُّؤْيَا، جَاءَهُمُ الرَّكْبُ الَّذِي بَعَثَ أَبُو سُفْيَانَ ضَمْضَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ، فَقَالَ: يَا آلَ غَدْرٍ، انْفِرُوا فَقَدْ خَرَجَ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ لِيَعْرِضُوا لِأَبِي سُفْيَانَ، فَأَحْرِزُوا عِيَرَكُمْ، فَفَزِعَتْ قُرَيْشٌ أَشَدَّ الْفَزَعِ، وَأَشْفَقُوا مِنْ قِبَلِ رُؤْيَا عَاتِكَةَ، وَنَفَرُوا عَلَى كُلِّ صَعْبٍ وَذَلُولٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ' جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی ہیں' وہ اپنے بھائی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں' بدر سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے خواب دیکھا تو گھبرا گئیں انہوں نے اسی رات اپنے بھائی حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیغام بھیجا جب وہ گھبرائیں تھیں اور نیند سے بیدار ہوئی تھیں' انہوں نے بتایا: میں نے خواب دیکھا ہے مجھے اس حوالے سے تمہاری قوم کے ہلاکت کا شکارہونے کااندیشہ ہے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا:تم نے کیا دیکھا ہے' تو اس خاتون نے کہا : میں یہ آپ کو اس وقت تک بیان نہیں کروں گی جب تک آپ مجھ سے یہ عہد نہیں کرتے کہ آپ اس کا ذکر کسی کے آگے نہیں کریں گے' کیونکہ اگر لوگوں نے اس خواب کوسن لیا ' تو وہ ہمیں اذیت پہنچائیں گے اور ہمیں ایسی باتیں سنائیں گے' جو ہمیں اچھی نہیں لگیں گی توحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ یہ عہد کر لیا اس خاتون نے بتایا میں نےایک سوار کودیکھا جواپنی سواری پر سوار ہوکر مکہ کے بالائی علاقہ کی طرف سے آیا اور اس نے بلند آوازمیں چیخ کر یہ کہا: اے غدار لوگوں کی آل! اے فاجر لوگوں کی آل ! دو یا تین راتوں میں تم نکل کھڑے ہو پھر وہ اپنی سواری پر سوار رہتے ہوئےمسجدمیں داخل ہوا اور ا س نے مسجد میں تین مرتبہ چیخ کر یہ اعلان کیا مرد خواتین اور بچے اس کی طرف گئے لوگ اس کی وجہ سے انتہائی پریشان ہو چکے تھے پھر میں نے دیکھا کہ جیسے وہ اپنی سواری پر سوار ہوکر خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گیا ہے اوروہاں بھی اس نے تین مرتبہ چیخ کر یہ اعلان کیا ہے اے غدار لوگوں کی آل اے فاجر لوگوں کی آل'دویا تین راتوں میں نکل کھڑےہو یہاں تک کہ اس کی آواز پورے مکہ میں پھیل گئی پھر وہ ایک بڑی چٹان کی طرف بڑھا اس نے اس چٹان کواسکی جڑ سے الگ کیا اور پھر اسے اہل مکہ کی طرف پھینکا وہ چٹان آئی اس کے اندر سے آواز آرہی تھی ' یہاںتک کہ جب وہ پہاڑ کی جڑ تک پہنچی تو وہ ٹوٹ گئی اور میرےعلم کے مطابق مکہ کے ہر گھر اور ہرمحلےکے اندر اس چٹان کاکوئی حصہ داخل ہو گیا تو مجھے آپ کی قوم کے بارے میں یہ اندیشہ لاحق ہو گیا ہےکہ ان پر کوئی بری صورت حال آنےوالی ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس پر پریشان ہو گئے وہ اس خاتون کے پاس سے نکلے اسی رات ان کی ملاقات ولید بن عتبہ بن ربیعہ سےہوئی جوحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کادوست تھا۔ انہوں نے عاتکہ کا خواب اسے سنایا اور اسے ہدایت کی کہ وہ کسی کے سامنے اس کا ذکرنہ کرے ولید نے اس بات کا ذکر اپنے باپ کے سامنے کردیا عتبہ نے اس کا ذکر اپنے بھائی شیبہ کے سامنے کر دیا اور پھریہ بات پھیل گئی ' یہاں تک کہ ابو جہل بن ہشام کے پاس بھی پہنچ گئی اگلے دن صبح جب حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیت اللہ کاطواف کررہےتھے'توانہوں نے ابو جہل ' عتبہ بن ربیعہ ' شیبہ بن ربیعہ ' امیہ بن خلف ' زمعہ بن اسود اورابوبختری کو' کچھ لوگوں کےدرمیان بات چیت کرتے ہوئے پایا جب ان لوگوں نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا تو ابو جہل بن ہشام نے انہیں بلند آواز میں پکار کر کہا: اے ابو الفضلً جب آپ طواف مکمل کر لیں ' تو ہمارے پاس آئیے گا جب انہوں نے طواف مکمل کیا تو وہ آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے توابو جہل نے کہا: ابو الفضل وہ خواب کیا ہے 'جوعاتکہ نے دیکھا ہے؟ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا :اس نے کچھ نہیں دیکھا ابو جہل نے کہا: جی ہاں۔ (یعنی دیکھا ہے) اے بنو ہاشم ! کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں تھے کہ آپ کے مرد جھوٹ بولیں' یہاں تک کہ اب آپ ہمارے پاس خواتین کے جھوٹ لے کر آنے لگ گئے ہیں'ہم اور آپ پہلے دوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح تھے ' ایک طویل عرصہ تک ہم بزرگی میں سبقت کی کوشش کرتے رہے' پھر جب سوار برابر ہو گئے ' تو آپ لوگوں نے کہا: ہمارےاندر ایک نبی بھی ہے اب صرف یہی چیز باقی رہ گئی ہےکہ آپ یہ کہیں کہ ہمارے اندر ایک خاتون نبی بھی ہے' میرے علم کے مطابق کوئی گھرانہ ایسا نہیں ہے' جو آپ کے گھرانے سے زیادہ جھوٹے مردوالا ہو' یا جھوٹی عورت والا ہو' تو اس دن ابو جہل نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شدید اذیت پہنچائی ' ابو جہل نے کہا: عاتکہ کا یہ کہنا ہے کہ ایک سوار نے یہ کہا ہے کہ تم لوگ دو یا تین راتوں میں نکل کھڑے ہو' تو یہ تین دن گزر جائیں گے اور تمہارا جھوٹ قریش کے سامنے واضح ہو جائے گا' اور پھر ہم ایک تحریر لکھیں گے اور اسے خانہ کعبہ کے ساتھ لٹکا دیں گے کہ آپ مرد وں اور خواتین کے حوالے سے عربوں میں سے سب سے زیادہ جھوٹے گھرانے کولوگ ہیں کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں ہیں اے بنو قصی! کہ آپ لوگوں نے حجابہ'ندوہ' سقایہ اور لواء کا منصب لیا ہواتھااب آپ ہمارے پاس آ گئے ہیں اور اپنے میں سے ایک نبی کے بارے میں بیان کرنے لگ گئے ہیں تو اس دن ابو جہل نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شدید اذیت پہنچائی ۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا: اے نالائق ! صبر کرو تم صرف ایک بد بودار شخص ہو جھوٹ تمہارے اندر ہے اور تمہارے گھرانے کے اندر ہے حاضرین میں سے کسی نے ان سے کہا: اے ابو الفضل آپ نہ تو سخت مزاج تھے اور نہ ہی بد زبانی کرتے تھے پھر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سیدہ عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا' کیونکہ انہوں نے سیدہ عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات پھیلائی تھی جب تیسری رات کی شام ہوئی جو اس رات کے حساب سے تھی جس میں سیدہ عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خواب دیکھا ' توایک سوار ان کے پاس آیا جسے ابو سفیان نے بھیجا تھا وہ ضمضم بن عمرو غفاری تھا اس نے کہا: اے غدار لوگوں کی آل تم لوگ نکل کھڑے ہو کیونکہ محمد اور ان کے ساتھی نکل پڑے ہیں تاکہ ابو سفیان کے قافلے پر حملہ آور ہوں 'تو تم اپنے قافلے کوبچا لو! تو قریش گھبرا گئے ' اور وہ عاتکہ کے خواب کے حوالے سے پریشان ہو گئے 'اور ہر کمزور اور صحت مند اونٹ پر سوار ہو کر نکل کھڑے ہوئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے " مرسل" روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے۔

عُرْوَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [The battle of Badr] · Hadith 9947

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ] · حديث 9948

9948 - وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَغَيْرِهِ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّ عَاتِكَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَتْ فِي صِدْقِ رُؤْيَاهَا وَتَكْذِيبِ قُرَيْشٍ لَهَا حِينَ أَوْقَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدْرٍ: أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَيَأْتِكُمْ ... بِتَأْوِيلِهَا فُلٌّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ رَأَى فَأَتَاكُمْ بِالْيَقِينِ الَّذِي رَأَى ... بِعَيْنَيْهِ مَا يَفْرِي السُّيُوفُ الْقَوَاضِبُ فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا ... يُكَذِّبُنِي بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ وَمَا فَرَّ إِلَّا رَهْبَةَ الْمَوْتِ مِنْهُمْ ... حَكِيمٌ وَقَدْ ضَاقَتْ عَلَيْهِ الْمَذَاهِبُ أَفَرَّ صَبَاحُ الْقَوْمِ عَزْمٌ قُلُوبِهِمْ فَهُنَّ ... هَوَاءٌ وَالْحُلُومُ عَوَازِبُ مَرَوْا بِالسُّيُوفِ الْمُرْهَفَاتِ دِمَاءَكُمْ ... كِفَاحًا كَمَا يُمْرِي السَّحَابَ الْخَبَائِبُ فَكَيْفَ رَأَى يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ... بَنُو عَمِّهِ وَالْحَرْبُ فِيهِ التَّجَارِبُ أَلَمْ يُغْشِهِمْ ضَرْبًا يَحَارُ لِوَقْعِهِ الْـ ... جَبَانُ وَتَبْدُو بِالنَّهَارِ الْكَوَاكِبُ أَلَا يَأْتِي يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدٌ ... إِذَا عَضَّ مِنْ عَوْنِ الْحُرُوبِ الْغَوَارِبُ كَمَا بَرَزَتْ أَسْيَافُهُ مِنْ مَلِيلَتِي ... زَعَازِعَ وَرْدًا بَعْدَ إِذْ هِيَ صَالِبُ حَلَفْتُ لَئِنْ عُدْتُمْ لَنَصْطِلَمْنَكُمْ ... مُجَافًا تَرَدَّى حَافَّتَيْهَا الْمَقَانِبُ كَأَنَّ ضِيَاءَ الشَّمْسِ لَمْعُ بُرُوقِهَا ... لَهَا جَانِبَا نُورٍ شُعَاعٌ وَثَاقِبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

مصعب بن عبداللہ اور دیگر حضرات نے قریش کے بارے میں یہ بات نقل کیہے کہ سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب نے اپنے خواب کی سچائی اور قریش کے ان کے تکذیب کرنے کےحوالے سے غزوہ بدر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان لوگوں کو نقصان پہنچانے کے بعد یہ اشعار کہے: "کیا وہ خواب سچا نہیں تھا جس کی تعبیر قوم سے مڑکربھاگنے والا شخص لے کے آیا ہےاس نے دیکھا پھر وہ تمہارے پاس وہ یقین لے کے آیا جو اس نے اپنی دونوں آنکھوں سےدیکھا تھاجوتیزدھاروالی تلواریں جھوٹ نہیں بولتی ہیں تم لوگوں نےیہ کہا کہ آپ نےجھو ٹ کہاہے حالانکہ میں نےجھوٹ نہیں بولاتھاسچائی کےحوالے سے وہی شخص مجھے جھوٹا قراردے گا جو خود جھوٹا ہوگا وہ بھاگنے والا فرد صرف موت کےخوف سےبھاگاتھا وہان میں سے سمجھ دار تھا جس کے لیے راستہ تنگ ہو گئے تھے کیا قوم کو چیخ کر بلانے والا شخص ان کے دلوں کے عزم سے بھاگا تھا یہ تو خواہشات ہیں اور ایسے خواب ہیں جن کا کوئی گھر بار نہیں ہے وہ تیز دھار والی تلوار لے کر تمہاری جانوں کے مد مقابل آ گئے جس طرح جنوب کی طرف سے آنے والا بادل آتا ہے جب ان لوگوں کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سامنا ہوا تو اس دن انہوں نے کیا دیکھا جو ان کے چچا زاد ہیں اور جنگ میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو ایسی ضرب کے ذریعے ڈھانپ نہیں لیا جس کے پڑنے سے بزدل شخص حیران رہ جاتا ہے اور دن کے وقت تارے نظر آ جاتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامنا کرنے کے دن کیا یہ صورتحال نہیں آئی جب جنگ کی مدد نے کندھوں کو نوچ لیا ان کی تلواریں اندرونی جوش کی وجہ سے یوں نمایاں ہوئیں جیسے تیز ہوا آتی ہے حالانکہ پہلے ان میں بخار تھا میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ اگر تم نے دوبارہ ایسا کیا تو وہ لوگوں کو جڑسے اکھاڑ دیں گے اور ایک طرف کر دینگے جس کے دونوں کناروں پر حملہ آور موجود ہوں گے یوں لگتا ہے جیسے سورج کی روشنی اپنی کرنوں کی چمک کے ہمراہ دونوں طرف نور رکھتی ہے ایک شعاع ہے اور ایک شہاب ثاقب ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔

غَيْرِهِ مِنْ قُرَيْشٍ ← مصعب بن عبد الله

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [The battle of Badr] · Hadith 9948

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي عَائِكَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا] · حديث 15396

15396 - وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَغَيْرِهِ مِنْ قُرَيْشٍ: أَنَّ عَاتِكَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ فِي صِدْقِ رُؤْيَاهَا وَتَكْذِيبِ قُرَيْشٍ لَهَا حِينَ أَوْقَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدْرٍ: أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَيَأْتِكُمْ ... بِتَأْوِيلِهَا فَلٌّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ رَأَى فَأَتَاكُمْ بِالْيَقِينِ الَّذِي رَأَى ... بِعَيْنَيْهِ مَا يَفْرِي السُّيُوفُ الْقَوَاضِبُ فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا ... يُكَذِّبُنِي بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ [وَمَا فَرَّ إِلَّا رَهْبَةَ الْمَوْتِ مِنْهُمْ ... حَكِيمٌ وَقَدْ ضَاقَتْ عَلَيْهِ الْمَذَاهِبُ] أَفِرُّ صَبَاحَ الْقَوْمِ عَزْمٌ قُلُوبُهُمْ ... فَهُنَّ هَوَاءٌ وَالْحُلُومُ عَوَازِبُ مَرَوْا بِالسُّيُوفِ الْمُرْهِفَاتِ دِمَاءَكُمْ ... كِفَاحًا كَمَا يَمْرِي السَّحَايِبُ جَانِبُ فَكَيْفَ رَأَى يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ... بَنُو عَمِّهِ وَالْحَرْبُ فِيهِ التَّجَارِبُ أَلَمْ يُغْشِهِمْ ضَرْبًا يَحَارُ لِوَقْعِهِ الْ ... جَبَانُ وَتَبْدُو بِالنَّهَارِ الْكَوَاكِبُ أَلَا بِأَبِي يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ... إِذَا عَضَّ مِنْ عَوْنِ الْحُرُوبِ الْغَوَارِبُ كَمَا بَرَزَتْ أَسْيَافُهُ مِنْ مَلِيكَتِي ... زُعَازِعُ وَرْدًا بَعْدَ إِذْ هِيَ صَالِبُ حَلَفْتُ لَئِنْ عُدْتُمْ لَيَصْطَلِمَنَّكُمْ ... بِجَأْوَاءَ يَرْدَى حَافِيَتُهَا الْمَقَانِبُ كَأَنَّ ضِيَاءَ الشَّمْسِ لَمْعُ بُرُوقِهَا ... لَهَا جَانِبَا نُورٍ شُعَاعٌ وَثَاقِبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَحَدِيثُ رِجَالِهِ حَسَنٌ وَلَكِنَّ الْإِسْنَادَ مُنْقَطِعٌ.

غَيْرِهِ مِنْ قُرَيْشٍ: أَنَّ عَاتِكَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← مصعب بن عبد الله

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on what came in the family of the daughter of Abd al-Muttalib, the paternal aunt of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him and be pleased with her] · Hadith 15396

مسند عبد بن حميد · کتاب ‹ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ · حديث 927

927 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثَنَا دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ»

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دراج أبو السمح، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى،

Musnad Abd Bin Hameed · Book › From the chain of narrators of Abu Sa`id al-Khudri · Hadith 927

مسند عبد بن حميد · کتاب ‹ مِنْ مُسْنَدِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1047

1047 - حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ»

جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ» ← يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا وَلْيَتَحَوَّلْ ← «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلْيَبْصُقْ ← النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،

Musnad Abd Bin Hameed · Book › From the chain of narrators of Jaber ibn Abdullah · Hadith 1047

مسند عبد بن حميد · کتاب ‹ مِنْ مُسْنَدِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1105

1105 - ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِئَابٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [يونس: 64] قَالَ: «هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ»

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِئَابٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ

Musnad Abd Bin Hameed · Book › From the chain of narrators of Jaber ibn Abdullah · Hadith 1105

مسند عبد بن حميد · کتاب ‹ مُسْنَدُ أَنَسِ بْنِ مَالْكٍ · حديث 1275

1275 - حَدَّثَنِي هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالْكٍ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَكَانَ فِيمَا يَقُولُ: «هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟» ، فَإِذَا رَأَى الرَّجُلُ الَّذِي لَا يَعْرِفُهُ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ أُخْبِرَ عَنْهُ بِمَعْرُوفٍ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ قَالَ: فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أُخْرِجْتُ، فَأُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ، فَإِذَا أَنَا بِفُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ، وَفُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ، حَتَّى عَدَّتِ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، وَقَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ، فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخُبُ أَوْدَاجُهُمْ فَقِيلَ لَهُمْ: اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهَرِ الْبَيْدَجِ فَغُمِسُوا فِيهِ فَخَرَجُوا وَجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، قَالَتْ: وَأُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَعَدُوا عَلَيْهَا وَجِيءَ بِصَحْفَةٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا بُسْرٌ، فَأَكَلُوا مِنْ بُسْرٍ مَا شَاءُوا فَمَا يُقَلِّبُونَهَا لُوَجْهٍ إِلَّا أَكَلُوا مِنْ فَاكِهَةٍ مَا شَاءُوا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأكَلْتُ مَعَهُمْ فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ كَذَا، وَكَانَ كَذَا وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا قَالَ: «عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ» ، فَجَاءتْ فَقَالَ: «قُصِّي رُؤْيَاكَ عَلَى هَذَا» فَقَالَ الرَّجُلُ: هُوَ كَمَا قَالَتْ: أُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ

أَنَسِ بْنِ مَالْكٍ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَكَانَ فِيمَا ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هاشم بن القاسم

Musnad Abd Bin Hameed · Book › The chain of custody of Anas ibn Malik · Hadith 1275

Sahih

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 422

422 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ وَأَتَيْتُ أَبَا قَتَادَةَ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلُمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَى فَإِنَّهُ لَنْ يَضُرَّهُ»

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: میں ایسے خواب دیکھا کرتا تھا۔ جن سے میں ڈر جاتا تھا۔ البتہ میں ڈھانپ نہیں لیا جاتا تھا (یعنی اتنا زیادہ نہیں ڈرتا تھا کہ مجھے بخار ہوجائے)میں حضرت ابوقتاده انصاری ؓکی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بات کی شکایت کی تو انہوں نے مجھے یہ بات بتائی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺکویہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے ”خواب الله تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ،تو جب کوئی شخص کوئی ایسا خواب دیکھے۔ جواسے پسندنہ آئےتو وہ اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے۔ اور جو خواب اس نے دیکھا ہے اس کے شر سے الله تعالیٰ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا“۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 422

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 423

423 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ أَرْبَعَةٌ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، وَعَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلُمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَى فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ» [ص:395]

حضرت ابو قتادہ ؓنبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتےہیں:"سچے خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، تو جب کوئی شخص ایسا پریشان خواب دیکھے جو اسے اچھانہ لگے تو وہ اپنے بائیں طرف تین مرتب تھوک دے اور جوخواب اس نے دیکھاہے اس کے شر سے الله تعالیٰ کی پناہ ما نگے تو وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔"

عَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ← أَرْبَعَةٌ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 423

chevron_left Previous
1…181920…100
Next chevron_right