Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الرؤى والأحلام

Dreams

1987 hadiths

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 573

573 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكَشِّيُّ قثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ قثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ فَيَسْأَلُ عَنْهَا، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: «أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ: رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا مِنَ السَّمَاءِ، فَوُزِنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ، فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ» .

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام سے جس کو کوئی اچھا خواب آتا تو اس کے بارے میں سوال کرتے ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے ؟ ایک آدمی نے عرض کیا میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک میزان اترا اور اس میں آپ ﷺ کا اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو آپ ﷺ سیدنا ابو بکر سے وزن میں بھاری رہے پھر سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کا وزن کا گیا تو سیدنا ابو بکر کا پلڑ اوزنی ہوا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اورسیدنا عثمان کا ورزن کیا گیا تو سیدنا عمر وزنی ثابت ہوئے پھر وہ میزان اوپر اٹھا لیا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ اس خواب سے کبیدہ خاطر ہوئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا : یہ نبوت والی خلافت ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا باد شاہی عطا کرے گا۔ (1)

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 573

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَشَايِخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَمِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ أَيْضًا · حديث 623

623 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ قثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ قَالَ: نا نَصْرٌ، عَنْ حُسَامٍ يَعْنِي ابْنَ مِصَكٍّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُوَلِّيَ الرُّؤْيَا أَبَا بَكْرٍ» .

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو بکر ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ خوابوں کی تعبیر آپ کے حوالے کر دوں۔ (3)

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← حُسَامٍ يَعْنِي ابْنَ مِصَكٍّ، ← نَصْرٌ ← الْحُسَيْنُ قثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik. · Hadith 623

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ] · حديث 2127

2127 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الرُّؤْيَا بُشْرَى مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَهِيَ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَإِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ سَمُومِ جَهَنَّمَ، وَإِنَّ مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ، وَمَنْ عَقَبَ الصَّلَاةَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَرَضِيَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يُغْرِبُ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :" خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں ، اور یہ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک ہیں ، اور تمہاری آگ جہنم کی تپش کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے، جو شخص مسجد میں آتا ہے ، اور نماز کا انتظار کرتا ہے ، وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک اسے حدث لاحق نہیں ہو جاتا اور جو شخص ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک اسے حدث لاحق نہیں ہوتا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبید اسحاق عطار ہے، اور وہ متروک ہے۔ ابو حاتم نے اسے پسند یدہ قرار دیا ہے ، اور امام ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب " الثقات "میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ۔ یہ غریب روایات نقل کرتا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter: Waiting for Prayer] · Hadith 2127

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ رَمْيِ الْجِمَارِ] · حديث 5583

5583 - وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ؟ قَالَ: صَدَقُوا ; إِنِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتِ، وَثَمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ فَقَالَ: يَا أَبَتِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرُهُ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ: أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ، فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَتْبَعُ ذَلِكَ الضَّرْبَ مِنَ الْكِبَاشِ قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ. ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى مِنًى. قَالَ: هَذَا مِنًى. قَالَ يُونُسُ: هَذَا مُنَاخُ النَّاسِ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ. ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ عَرَفْتَ؟ - قَالَ يُونُسُ: هَلْ عَرَفْتَ؟ - قَالَ: نَعَمْ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ. ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا، وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

ابوطفیل بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ چیز سنت ہے انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے سچ کہا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب مناسک ادا کرنے کا حکم دیا گیا تو شیطان سعی کے ایک مقام پر ان کے سامنے آیا اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑ لگائی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے نکل گئے پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے تو شیطان ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا پھر وہ درمیانی جمرہ کے پاس ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں وہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹا دیا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جسم پر ایک سفید قمیض تھی ۔ انہوں نے کہا: اے ابا جان! میرے پاس اور کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے جس میں آپ مجھے کفن دیں تو آپ اسے اتار دیں اور اس میں مجھے کفن دے دیجئے گا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اسے اتارنے لگے تو ان کے پیچھے سے پکار کر کہا گیا: اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچ کر دیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک سینگوں والا سفید رنگ کا سیاہ آنکھوں والا دنبہ موجود تھا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم اس قسم کے دنبے تلاش کیا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں: پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر جمرہ قصوی کی طرف گئے شیطان ان کے سامنے آیا انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا پھر حضرت جبرائیل انہیں لے کر منیٰ کی طرف گئے اور بولے یہ منیٰ ہے یونس بیان کرتے ہیں: یعنی لوگوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے پھروہ انہیں لے کر مزدلفہ آئے اور بولے یہ مشعر حرام ہے پھروہ انہیں لے کر عرفہ گئے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم یہ بات جانتے ہو عرفہ کا یہ نام کیوں رکھا گیا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں ! انہوں نے فرمایا: حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا: کیاتم نے پہچان لیا ہے ( یہاں ایک لفظ یونس نامی راوی نے مختلف نقل کیا ہے ) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفہ رکھا گیا ہے پھرانہوں نے فرمایا: کیا آپ جانتے ہیں تلبیہ کیسے ہوتا ہے میں نے جواب دیا وہ کیسا ہوتا تھا؟ انہوں نے بتایا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کریں تو تمام پہاڑ ان کے سامنے پست ہو گئے اور وادیاں کے سامنے بلند کر دی گئیں تو ان کے درمیان انہوں نے حج کا اعلان کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُکَ ← وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [The door of the throwing of pebbles] · Hadith 5583

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ رَمْيِ الْجِمَارِ] · حديث 5584

5584 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ، فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ: يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي ; لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحُ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي. فَشَدَّهُ، فَلَمَّا أَحَدَّ الشَّفْرَةَ وَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ: أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت جبرائیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے شیطان ان کے سامنے آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ ( زمین میں پھنس گیا ) پھر وہ درمیانی جمرہ کے پاس آئے تو شیطان ان کے سامنے آیا انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا پھر وہ جمر ہ قصویٰ کے پاس آئے تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو ( یہاں متن میں یہی مذکور ہے لیکن درست یہ ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا) تو انہوں نے اپنے والد سے کہا: اے میرے ابا جان جب آپ مجھے ذبح کرنے لگیں گے تو آپ مجھے باندھ دیجئے گا کیونکہ اگر میں تڑپا تو میرے خون کے چھینٹے آپ پر پڑیں گے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں باندھ دیا جب انہوں نے چھری تیز کی اور انہیں ذبح کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو پیچھے سے انہیں یہ کہا گیا: اے ابراہیم ! تم نے خواب کوسچا کردیا‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [The door of the throwing of pebbles] · Hadith 5584

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابٌ فِيهِ ذِكْرُ الْأَنْبِيَاءِ] ‹ [بَابٌ فِي ذِكْرِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ وَبَنِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ] · حديث 13759

13759 - عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ؟ قَالَ: صَدَقُوا، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ - قَالَ سُرَيْجٌ: شَيْطَانٌ - فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، قَالَ: قَدْ تَلَّهُ. قَالَ يُونُسُ: وَلَمْ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ، قَالَ: أَبَتِ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرَهُ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ، فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ: (أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا). فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ» ". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْحَجِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ لَهُ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهَا أَنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ، وَفِيهَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

ابو طفیل بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ہے‘ اور یہ چیز سنت ہے‘ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ان لوگوں نے ٹھیک کہا ہے‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب مناسک حج کا حکم دیا گیا‘ تو سعی والی جگہ پر‘ شیطان ان کے سامنے آیا‘ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دوڑ کا مقابلہ کیا‘ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے‘ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے‘ تو وہاں شیطان ان کے سامنے آیا‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں‘ تو وہ چلا گیا‘ پھر وہ جمرہ وسطی کے پاس ان کے سامنے آیا‘ انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں‘ راوی کہتے ہیں: وہاں انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا (تاکہ انہیں قربان کریں) حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جسم پر سفیدقمیض موجود تھی‘ انہوں نے کہا: اے میرے ابا جان! میرے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے‘ جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں‘ تو آپ اسے اتروا لیں‘ تاکہ آپ اس میں مجھے کفن دے سکیں‘ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے اتارنے لگے تھے کہ اسی دوران پیچھے سے پکار کر کہا گیا:”اے ابراہیم علیہ السلام!تم نے اپنے خواب کو سچ ثابت دکھایا ہے‘‘۔ ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہاں مڑ کے دیکھا‘ تو وہاں سفید رنگ کا خوبصورت آنکھوں والا دنبہ موجودتھا‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے‘ جو اس سے پہلے سےحج سے متعلق باب میں گزر چکی ہے۔یہ روایت امام احمدنے نقل کی ہے‘ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں‘ صرف ابو عاصم غنوی کا معاملہ مختلف ہے‘ اور وہ ثقہ ہے۔ اس سے پہلے ان صحابی کے حوالے سے ایک طریق گزر چکا ہے‘ جسے امام احمد اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے‘ اور اس میں یہ بات ذکر ہے‘ جن کو ذبح کیا گیا تھا وہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُکَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [A book in which the prophets are mentioned] › [Chapter on the mention of Abraham al-Khalil and his sons, may God’s prayers be upon our Prophet, and upon them, and peace] · Hadith 13759

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ] ‹ بَابُ قِلَّةِ الْأَكْلِ] · حديث 7962

7962 - وَعَنْ جَعْدَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَجُلًا عَظِيمَ الْبَطْنِ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ: " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا لَكَانَ خَيْرًا لَكَ». 7962 - وَفِي رِوَايَةٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى لَهُ رَجُلٌ رُؤْيَا، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ فَقَصَّهَا عَلَيْهِ، وَكَانَ عَظِيمَ الْبَطْنِ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ: " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ». رَوَاهُ [كُلُّهُ] الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ الَّذِي رَأَى الرُّؤْيَا لِلرَّجُلِ. وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

حضرت جعدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ایک بڑے پیٹ والے شخص کو دیکھا تو اپنی انگلیاں اس کے پیٹ میں لگا کے فرمایا: اگر یہ اس کے علاوہ کسی اور میں ہوتا تو یہ تمہارے حق میں بہتر تھا۔

جَعْدَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Food Book] › Chapter on lack of eating] · Hadith 7962

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ السُّؤَالِ لِلِانْتِفَاعِ وَإِنْ كَثُرَ] · حديث 724

724 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ انْحَرَفْنَا إِلَيْهِ، فَمِنَّا مَنْ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقُرْآنِ، وَمِنَّا مَنْ يَسْأَلُهُ عَنِ الْفَرَائِضِ، وَمِنَّا مَنْ يَسْأَلُهُ عَنِ الرُّؤْيَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الرَّوِيُّ، ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فجر کی نماز ادا کر لیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری طرف رخ کر لیتے تھے ۔ ہم، میں سے کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قرآن کے بارے میں سوال کرتا تھا ، ہم میں سے کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وراثت کے بارے میں دریافت کرتا تھا ، اور ہم میں سے کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خواب (کی تعبیر )کے بارے میں دریافت کرتا تھا ۔ یہ روایت طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر روی ہے ، جسے امام ابو داؤد اور امام ابو زرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

الْفَرَائِضِ، وَمِنَّا مَنْ يَسْأَلُهُ ← الْقُرْآنِ، وَمِنَّا مَنْ يَسْأَلُهُ ← «كَانَ النَّبِيُّ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ انْحَرَفْنَا إِلَيْهِ، فَمِنَّا مَنْ يَسْأَلُهُ ← اَبِیْ مُوْسیٰ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter of the Question: The Benefit, Even if it Increases] · Hadith 724

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ سُؤَالِ الْعَالِمِ عَنْ مَا لَا يُعْلَمْ] · حديث 738

738 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: يَا أَبَا حَسَنٍ، رُبَّمَا شَهِدْتَ وَغِبْنَا، وَرُبَّمَا شَهِدْنَا وَغِبْتَ. ثَلَاثٌ أَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ هَلْ عِنْدَكَ مِنْهُنَّ عِلْمٌ؟ قَالَ عَلِيٌّ: وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَمْ يَرَ مِنْهُ خَيْرًا، وَالرَّجُلُ يُبْغِضُ الرَّجُلَ وَلَمْ يَرَ مِنْهُ شَرًّا؟ قَالَ: نَعَمْ؛ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الْأَرْوَاحَ فِي الْهَوَى أَجْنَادٌ مُجَنَّدَةٌ، تَلْتَقِي فَتَشَامَّ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ». قَالَ: وَاحِدَةٌ. وَقَالَ: الرَّجُلُ يُحَدِّثُ الْحَدِيثَ إِذْ نَسِيَهُ إِذْ ذَكَرَهُ؟ قَالَ عَلِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنَ الْقُلُوبِ قَلْبٌ إِلَّا وَلَهُ سَحَابَةٌ كَسَحَابَةِ الْقَمَرِ، بَيْنَمَا الْقَمَرُ يُضِيءُ إِذْ عَلَتْهُ سَحَابَةٌ فَأَظْلَمَ، إِذْ تَجَلَّتْ عَنْهُ فَأَضَاءَ، وَبَيْنَا الرَّجُلُ يُحَدِّثُ الْحَدِيثَ إِذْ عَلَتْهُ سَحَابَةٌ فَنَسِيَ، إِذْ تَجَلَّتْ عَنْهُ فَذَكَرَ». قَالَ عُمَرُ: اثْنَتَانِ. قَالَ: وَالرَّجُلُ يَرَى الرُّؤْيَا فَمِنْهَا مَا يَصْدُقُ وَمِنْهَا مَا يَكْذِبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ وَلَا أَمَةٍ يَنَامُ فَيَسْتَثْقِلُ نَوْمًا إِلَّا عُرِجَ بِرُوحِهِ إِلَى الْعَرْشِ، فَالَّتِي لَا تَسْتَيْقِظُ إِلَّا عِنْدَ الْعَرْشِ فَتِلْكَ الرُّؤْيَا الَّتِي تَصْدُقُ، وَالَّتِي تَسْتَيْقِظُ دُونَ الْعَرْشِ فَهِيَ الرُّؤْيَا الْتِي تَكْذِبُ». فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ كُنْتُ فِي طَلَبِهِنَّ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَصَبْتُهُنَّ قَبْلَ الْمَوْتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: حَدِيثُهُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ. وَهَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوالحسن ! بعض اوقات آپ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس )موجود تھے اور ہم موجود نہیں ہوتے تھے ، اور بعض اووقات ہم موجود ہوتے تھے اور آپ موجود نہیں ہوتے تھے ، میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا کہ کیا آپ کے پاس ان کے بارے میں کوئی علم ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ چیزیں کیا ہیں ؟ حضرت عمررضی اللہ عنہ بولے: بعض اوقات ایک شخص کسی دوسرے شخص کے ساتھ محبت رکھتا ہے، حالانکہ اس نے اس دوسرے شخص سے کوئی بھلا ئی نہیں دیکھی ہوتی ہے اسی طرح بعض اوقات کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے بغض رکھتا ہے ، حالانکہ اس نے اس دوسرے شخص سے کوئی برائی نہیں دیکھی ہوتی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا :جی ہاں !( یعنی میرے پاس اس حوالے سے علم ہے )نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :"ہوی ٰ میں (یعنی عالم ارواح میں )روحیں گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، وہ ایک دوسرے سے ملتی تھیں ، تو ان میں سے جو ایک دوسرے سے متعارف ہوئیں ، وہ (دنیا میں بھی)ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو وہاں لاتعلق رہیں ، وہ (دنیا میں بھی) ایک دوسرے سے نا مانوس رہتی ہیں "۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک بات ہوگئی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اوقات کوئی شخص کوئی بات بیان کرتا ہے اور پھر وہ بھول جاتا ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نےنبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرمایا ہوئے سنا ہے : "دلوں میں سے ہر ایک دل کی لیے ایک بادل ہوتا ہے ، جیسے چاند کا بادل ہوتا ہے ، کہ چاند چمک رہا ہوتا ہے اس پر بادل آ جاتا ہے، تو وہ تاریک ہو جاتا ہے ، جب بادل ہٹ جاتا ہے، تو وہ پھر چمکنے لگتا ہے ، اسی طرح کوئی شخص کوئی بات بیان کر رہا ہوتا ہے، اسی دوران اس پر باد آ جاتا ہے ، تو وہ بات بھول جاتا ہے اور جب وہ بادل ہٹ جاتا ہے تو اسے وہ با ت یاد آ جاتی ہے "۔حضرت عمر نے فرمایا : دو باتیں ہو گئی ہیں ، پھر حجرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی مختلف قسل کے خواب دیکھتا ہے ان میں سے کچھ خواب سچے ثابت ہوتے ہیں اور کچھ خواب جھوٹے ثابت ہوتے ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :جی ہاں ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :"جو بھی بندہ یا بندی سوتا ہے ، جب اس کی نیند گہری ہو جاتی ہیں تو اس کی روح کو عرش کی طرف لے جایا جاتا ہے ،اگر وہ شخص اس کے پاس پہنچ کر بیدار ہوتا ہے ، تو وہ ایسا خواب ہوتا ہے جو سچا ثابت ہوتا ہے ، اور جو عرش سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے ، تو وہ ایسے خواب ہوتے ہیں جو جھوٹے ثابت ہوتے ہیں "۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :تین باتیں تھیں ، جن کی مجھے تلاش تھی ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے ان کا جواب مل گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ازہر بن عبداللہ ہے عقیلی فرماتے ہیں : ابن عجلان کے حوالے سے اس کی نقل کردہ حدیث محفوظ نہیں ہے، اور یہ حدیث اسرائیل کے حوالے سے ابو اسحاق کے حوالے سے حارث کے حوالے سے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر "موقوف" ہونے کے طور پر معروف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ۔

ابْنِ عُمَرَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter of the Scientist’s Question About What He Does Not Know] · Hadith 738

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابٌ] · حديث 14279

14279 - وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حِجْرِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ. فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: خَيْرُ أَقْمَارِكِ يَا عَائِشَةُ. وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ مَرْفُوعًا أَنَّهَا قَصَّتْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ أَوَّلَهُ بِهَذَا فِي بَابِ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ تین چاند اتر کر میری گود میں آ گئے ہیں‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر تمہارا خواب سچ ثابت ہوا‘ تو تمہارے گھر میں اہل زمین کے تین بہترین لوگ دفن ہوں گے‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا‘ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا: اے عائشہ! یہ تمہارے چاندوں میں سب سے بہتر ہیں‘ (راوی بیان کرتے ہیں :) پھر (بعد میں) حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی ان کے گھر میں دفن کیا گیا۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے‘ روایت کے یہ الفاظ ان سے نقل کردہ ہیں‘ یہ انہوں نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے‘ معجم کبیر کے رجال‘‘ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں۔اس سے پہلے یہ مرفوع حدیث گزر چکی ہے: سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنایا تھا‘ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تعبیر بیان کی تھی‘ یہ خوابوں کی تعبیر سے تعلق باب میں گزری ہے‘ اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔

عَائِشَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Door] · Hadith 14279

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64]. · حديث 11068

11068 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يُبَشَّرُهَا الْمُؤْمِنُ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : (ارشاد باری تعالیٰ ہے :) ’’ان لوگوں کے لئے دنیاوی زندگی میں خوشخبری ہے‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ سچے خواب ہیں جن کے ذریعے کسی مومن کو بشارت دی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔

لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {To them is the glad tidings in this worldly life and in the hereafter} [Yunus: 64]. · Hadith 11068

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64]. · حديث 11069

11069 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِئَابٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: ({لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] قَالَ: " هِيَ الرُّؤْيَا يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًا.

حضرت جابر بن عبداللہ بن رئاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ’’ ان لوگوں کے لئے دنیاوی زندگی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ خواب ہیں جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید ہیں :) جوا سے دکھائے جاتے ہیں۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِئَابٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {To them is the glad tidings in this worldly life and in the hereafter} [Yunus: 64]. · Hadith 11069

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ} [يوسف: 42] وَغَيْرُ ذَلِكَ. · حديث 11087

11087 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «عَجِبْتُ لِصَبْرِ أَخِي يُوسُفَ وَكَرَمِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حَيْثُ أُرْسِلَ إِلَيْهِ لِيُسْتَفْتَى فِي الرُّؤْيَا، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ حَتَّى أَخْرُجَ. وَعَجِبْتُ لِصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ حَتَّى أُتِيَ لِيُخْرَجَ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى أَخْبَرَهُمْ بِعُذْرِهِ، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَبَادَرْتُ الْبَابَ، وَلَوْلَا الْكَلِمَةُ لَمَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ حَيْثُ يَبْتَغِي [الْفَرَجَ] مِنْ عَبْدٍ غَيْرِ اللَّهِ، قَوْلُهُ: " اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْقُرَشِيُّ الْمَكِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مجھے اپنے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر اور ان کے اخلاق پر حیرانگی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے جب ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تاکہ خواب کی تعبیر بیان کی جائے تو اگر وہاں میں ہوتا میں نے یہ کام اس وقت تک نہیں کرنا تھا جب تک مجھے پہلے باہر نہ نکالا جا تا اور میں ان کے صبر اور اخلاق پر حیران ہوتا ہوں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے جب انہیں باہر لے جانے کے لئے پیغام آیا تو وہ نہیں نکلے جب تک انہوں نے اپنے بے گنا ہ ہونے کے بارے میں انہیں بتا نہیں دیا حالانکہ اگر میں ہوتا تو میں دروازے کی طرف لپکتا اور اگر وہ کلمہ نہ ہوتا تو و ہ قید خانے میں ہی ٹھہرے رہتے جب انہوں نے اللہ کے علاوہ ایک بندے سے کشادگی چاہی تھی اور یہ کہا تھا: ” تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید قرشی کی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Saying God Almighty: {Remember me with your Lord} [Yusef: 42] and other things. · Hadith 11087

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةِ] · حديث 11714

11714 - عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ "، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”میرے بعد نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں ‘‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مبشرات کیا ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’وہ نیک خواب جنہیں کوئی بندہ دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:)جوا سے دکھائی دیتے ہیں‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’انہیں نیک آدمی دیکھتا ہے‘‘۔

عَائِشَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of a good vision] · Hadith 11714

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةِ] · حديث 11715

11715 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’نیک خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام ابو یعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of a good vision] · Hadith 11715

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةِ] · حديث 11716

11716 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہیں‘‘۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of a good vision] · Hadith 11716

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةِ] · حديث 11720

11720 - وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: " الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ - أَوْ قَالَ: الصَّالِحَةُ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میرے بعد نبوت نہیں ہے ، صرف مبشرات ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مبشرات سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اچھے خواب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :) نیک خواب‘‘ ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

أَبِي الطُّفَيْلِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of a good vision] · Hadith 11720

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةِ] · حديث 11721

11721 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ فَلَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ ". قِيلَ: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’نبوت رخصت ہو گئی ، میرے بعد نبوت نہیں ہے ، صرف مبشرات ہونگے ، عرض کی گئی :مبشرات سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ نیک خواب، جنہیں آدمی دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :) جوا سے دکھائے جاتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of a good vision] · Hadith 11721

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةِ] · حديث 11722

11722 - وَعَنْ سَمُرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا: " إِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَأَوَّلَ الرُّؤْيَا، وَإِنَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةَ حَظٌّ مِنَ النُّبُوَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " يَتَأَوَّلُ الرُّؤْيَا "، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ سَاقِطٌ.

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے: ’’ابو بکر خوابوں کی تعبیر کر لیتا ہے ، اور نیک خواب نبوت کا ایک حصہ ہیں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ خوابوں کی تاویل کر لیتا ہے ‘‘۔ امام طبرانی کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ، امام بزار کی سند ساقط ہے ۔

سَمُرَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of a good vision] · Hadith 11722

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّعْبِيرِ] ‹ [بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةِ] · حديث 11723

11723 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ أَوِ الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَسَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَقَالَ فِيهِ: «جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا»، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم سلم نے ارشاد فرمایا: ’’سچے خواب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :) نیک خواب ، نبوت کے 76اجزاء میں سے ایک جزء ہیں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’70 اجزاء میں سے ایک جزء ہیں‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے معجم صغیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Literature of Expression] › [Chapter of a good vision] · Hadith 11723

chevron_left Previous
1…171819…100
Next chevron_right