Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الرؤى والأحلام

Dreams

2062 hadiths

مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 44- مَا جَاءَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. · حديث 38229

38229- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، وَأَشْيَاخٌ ، قَالَوا : رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الْمَنَامِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ دِيكًا أَحْمَرَ نَقَرَنِي ثَلاَثَ نَقَرَاتٍ ، بَيْنَ الثَّنِيَّةِ وَالسُّرَّةِ ، قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ، أُمُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ : قُولُوا لَهُ فَلِيُوصِ ، وَكَانَتْ تَعْبُرُ الرُّؤْيَا ، فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، أَمْ لاَ ، فَجَاءَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ الْكَافِرُ الْمَجُوسِيُّ ، عَبْدُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ جَعَلَ عَلَيَّ مِنَ الْخَرَاجِ مَا لاَ أُطِيقُ ، قَالَ : كَمْ جَعَلَ عَلَيْك ؟ قَالَ ، كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : وَمَا عَمَلُك ؟ قَالَ : أَجُوبُ الأَرْحَاءَ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ عَلَيْك بِكَثِيرٍ ، لَيْسَ بِأَرْضِنَا أَحَدٌ يَعْمَلُهَا غَيْرُك ، أَلاَ تَصْنَعُ لِي رَحًى ؟ قَالَ : بَلَى ، وَاللهِ لأَجْعَلَنَّ لَك رَحًى يَسْمَعُ بِهَا أَهْلُ الآفَاقِ. فَخَرَجَ عُمَرُ إِلَى الْحَجِّ ، فَلَمَّا صَدَرَ اضْطَجَعَ بِالْمُحَصَّبِ ، وَجَعَلَ رِدَاءَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَأَعْجَبَهُ اسْتِوَاؤُهُ وَحُسْنُهُ ، فَقَالَ : بَدَأَ ضَعِيفًا ، ثُمَّ لَمْ يَزَلَ اللَّهُ يَزِيدُهُ وَيُنْمِيهِ حَتَّى اسْتَوَى ، فَكَانَ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، ثُمَّ هُوَ يَنْقُصُ حَتَّى يَرْجِعَ كَمَا كَانَ ، وَكَذَلِكَ الْخَلْقُ كُلُّهُ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّ رَعِيَّتِي قَدْ كَثُرَتْ وَانْتَشَرَتْ ، فَاقْبِضْنِي إِلَيْك غَيْرَ عَاجِزٍ ، وَلاَ مُضَيِّعٍ. فَصَدَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَاتَتْ بِالْبَيْدَاءِ ، مَطْرُوحَةً عَلَى الأَرْضِ ، يَمُرُّ بِهَا النَّاسُ لاَ يُكَفِّنُهَا أَحَد ، وَلاَ يُوَارِيهَا أَحَدٌ ، حَتَّى مَرَّ بِهَا كُلَيْبُ بْنُ الْبُكَيْرِ اللَّيْثِي ، فَأَقَامَ عَلَيْهَا ، حَتَّى كَفَّنَهَا وَوَارَاهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ : مَنْ مَرَّ عَلَيْهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ فَقَالُوا : لَقَدْ مَرَّ عَلَيْهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، فِيمَنْ مَرَّ عَلَيْهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَدَعَاهُ ، وَقَالَ : وَيْحَكَ ، مَرَرْتَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَطْرُوحَةً عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ ، فَلَمْ تُوَارِهَا وَلَمْ تُكَفِّنْهَا ؟ قَالَ : مَا شَعَرْتُ بِهَا ، وَلاَ ذَكَرَهَا لِي أَحَدٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لاَ يَكُونَ فِيك خَيْرٌ ، فَقَالَ : مَنْ وَارَاهَا وَمَنْ كَفَّنَهَا ؟ قَالَوا : كُلَيْبُ بْنُ بُكَيْر اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : وَاللهِ لَحَرِيٌّ أَنْ يُصِيبَ كُلَيْبٌ خَيْرًا. فَخَرَجَ عُمَرُ يُوقِظُ النَّاسَ بِدِرَّتِهِ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ ، فَلَقِيَهُ الْكَافِرُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ ، فَطَعَنْهُ ثَلاَثَ طَعَنْاتٍ بَيْنَ الثَّنِيَّةِ وَالسُّرَّةِ ، وَطَعَنْ كُلَيْبَ بْنَ بُكَيْر فَأَجْهَزَ عَلَيْهِ ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ ، فَرَمَى رَجُلٌ عَلَى رَأْسِهِ بِبُرْنُسٍ ، ثُمَّ اضْطَبَعَهُ إِلَيْهِ ، وَحُمِلَ عُمَرُ إِلَى الدَّارِ ، فَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِالنَّاسِ ، وَقِيلَ لِعُمَرَ : الصَّلاَةُ ، فَصَلَّى وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ ، وَقَالَ : لاَ حَظَّ فِي الإِسْلاَمِ لِمَنْ لاَ صَلاَةَ لَهُ ، فَصَلَّى وَدَمُهُ يَثْعَبُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكَ بَأْسٌ ، وَإِنَّا لَنَرْجُو أَنْ يُنْسِئَ اللَّهُ فِي أَثَرِكَ ، وَيُؤَخِّرَك إِلَى حِينٍ ، أَوْ إِلَى خَيْرٍ. فَدَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ يُعْجَبُ بِهِ ، فَقَالَ : اُخْرُجْ ، فَانْظُرْ مَنْ صَاحِبِي ؟ ثُمَّ خَرَجَ فَجَاءَ ، فَقَالَ : أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، صَاحِبُك أَبُو لُؤْلُؤَةَ الْمَجُوسِيُّ ، غُلاَمُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَكَبَّرَ حَتَّى خَرَجَ صَوْتُهُ مِنَ الْبَابِ ، ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَجْعَلْهُ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، يُحَاجُّنِي بِسَجْدَةٍ سَجَدَهَا لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : أَكَانَ هَذَا عَنْ مَلأٍ مِنْكُمْ ؟ فَقَالُوا : مَعَاذَ اللهِ ، وَاللهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا فَدَيْنَاك بِآبَائِنَا ، وَزِدْنَا فِي عُمْرِكَ مِنْ أَعْمَارِنَا ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكَ بَأْسٌ. قَالَ : أَيْ يَرْفَأُ وَيْحَك ، اسْقِنِي ، فَجَاءَهُ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ حُلْوٌ فَشَرِبَهُ ، فَأَلْصَقَ رِدَاءَهُ بِبَطْنِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا وَقَعَ الشَّرَابُ فِي بَطْنِهِ خَرَجَ مِنَ الطَّعَنْاتِ ، قَالَوا : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، هَذَا دَمٌ اسْتَكَنَ فِي جَوْفِكَ ، فَأَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْ جَوْفِكَ ، قَالَ : أَيْ يَرْفَأُ ، وَيْحَك اسْقِنِي لَبَنًا ، فَجَاءَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ ، فَلَمَّا وَقَعَ فِي جَوْفِهِ خَرَجَ مِنَ الطَّعَنْاتِ ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ عَلِمُوا أَنَّهُ هَالِكٌ. قَالَوا : جَزَاك اللَّهُ خَيْرًا ، قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ فِينَا بِكِتَابِ اللهِ ، وَتَتَّبِعُ سُنَّةَ صَاحِبَيْك ، لاَ تَعْدِلُ عَنْهَا إِلَى غَيْرِهَا ، جَزَاك اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ ، قَالَ : بِالإِمَارَةِ تَغْبِطُونَنِي ، فَوَاللهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَنْجُو مِنْهَا كَفَافًا لاَ عَلَيَّ ، وَلاَ لِي ، قُومُوا فَتَشَاوَرُوا فِي أَمْرِكُمْ ، أَمِّرُوا عَلَيْكُمْ رَجُلاً مِنْكُمْ ، فَمَنْ خَالَفَهُ فَاضْرِبُوا رَأْسَهُ ، قَالَ : فَقَامُوا ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدُهُ إِلَى صَدْرِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : أَتُؤَمِّرُونَ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حَيٌّ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لاَ ، وَلِيُصَلِّ صُهَيْبٌ ثَلاَثًا ، وَانْتَظِرُوا طَلْحَةَ ، وَتَشَاوَرُوا فِي أَمْرِكُمْ ، فَأَمِّرُوا عَلَيْكُمْ رَجُلاً مِنْكُمْ ، فَإِنْ خَالَفَكُمْ فَاضْرِبُوا رَأْسَهُ ، قَالَ : اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا مِنِّي السَّلاَمَ ، وَقُلْ : إِنَّ عُمَرَ يَقُولُ : إِنْ كَانَ ذَلِكَ لاَ يَضُرُّ بِكِ ، وَلاَ يَضِيقُ عَلَيْكِ ، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَي ، وَإِنْ كَانَ يَضُرُّ بِكِ وَيَضِيقُ عَلَيْكِ ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ دُفِنَ فِي هَذَا الْبَقِيعِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ ، فَجَاءَهَا الرَّسُولُ ، فَقَالَتْ : إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَضُرُّ ، وَلاَ يَضِيقُ عَلَيَّ ، قَالَ : فَادْفِنُونِي مَعَهُمَا ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ : فَجَعَلَ الْمَوْتُ يَغْشَاهُ ، وَأَنَا أُمْسِكُهُ إِلَى صَدْرِي ، قَالَ : وَيْحَك ضَعْ رَأْسِي بِالأَرْضِ ، قَالَ : فَأَخَذَتْهُ غَشْيَةٌ ، فَوَجَدْتُ مِنْ ذَلِكَ ، فَأَفَاقَ ، فَقَالَ : وَيْحَك ، ضَعْ رَأْسِي بِالأَرْضِ ، فَوَضَعْتُ رَأْسَهُ بِالأَرْضِ ، فَعَفَّرَهُ بِالتُّرَابِ ، فَقَالَ : وَيْلُ عُمَرَ ، وَوَيْلُ أُمِّهِ إِنْ لَمْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو : وَأَهْلُ الشُّورَى : عَلِيٌّ ، وَعُثْمَان ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَسَعْدٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ.

حضرت یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب اور دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شہادت سے پہلے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغے نے ان کی ناف اور سینے کے درمیان چونچ ماری ہے ۔ حضرت اسماء بنت عمیس تعبیر کی ماہرتھیں ، انہوں نے یہ خواب سنا تو فرمایا کہ ان سے کہو کہ وصیت کر دیں ۔ میں نہیں جانتا کہ یہ تعبیران تک پہنچی یا نہیں ۔ کچھ دنوں بعد مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا میں چکیاں بناتا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو بہت زیادہ نہیں کیونکہ یہاں تمہارے علاوہ کوئی یہ کام نہیں کرتا ،کیاتم مجھے ایک چکی بنا کر دو گے؟ اس نے کہا میں آپ کوایسی چکی بنا کر دوں گا کہ اس کی شہرت سارے عالم میں ہوگی ۔۲) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے لئے چل پڑے پس جب آپ رضی اللہ عنہ پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ رمی جمار کی جگہ لیٹ گئے اور اپنی چادر کو اپنے سر کے نیچے رکھ لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے چاند کی طرف دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی خوبصورتی اور برابری بہت پیاری لگی اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میرا بتداء میں کمزور سا ظاہر ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور اس کو بڑھاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ برابر ہو جاتا ہے۔ اور پھر یہ کمال حسن تک پہنچ جا تا ہے ۔ پھر یہ کم ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک دوبارہ و یسا ہی ( پہلے جیسا ) ہو جا تا ہے ۔ ساری مخلوق کی حالت ایسی ہی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا۔اے اللہ ! میری رعایا بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ اور بہت پھیل گئی ہے پس تو مجھے اپنی طرف واپس بلالے عاجز اور ضائع کیے بغیر ۔۳) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ واپس آئے تو ان کے سامنے ذکر کیا گیا کہ مسلمانوں کی ایک عورت مقام بیداء میں مر گئی تھی ، وہ زمین پر پڑی ہوئی تھی اور لوگ اس کے پاس سے گزرتے جارہے تھے۔ کسی نے بھی اس کو کفن نہ دیا اور نہ ہی اس کو دفنایا یہاں تک کہ حضرت کلیب بن بکیر لیثی اس عورت کے پاس سے گزرے تو وہ اس کے پاس ٹھہرے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اس کو کفنایا اور دفنایا۔ یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ مسلمانوں میں سے کون لوگ اس کے پاس سے گزرے تھے؟ لوگوں نے جواب دیا۔ اس کے پاس سے گزرنے والے لوگوں میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اورفرمایا تو ہلاک ہو جائے ۔ تو ایک مسلمان عورت پر سے جو راستہ میں زمین پر گری پڑی تھی گزرا اور تو نے اس کا کفنایا ، دفنایا کیوں نہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ مجھے تو اس کا پتہ ہی نہیں چلا اور نہ ہی مجھ سے کسی نے اس کے بارے میں ذکر کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تو خیر سے خالی نہ ہو۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ اس عورت کو کس نے کفنایا اور دفتایا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ کلیب بن بکیر لیثی نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کی قسم! کلیب اس بات کا حق دار ہے کہ اس کو خیر پہنچے۔۴) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو صبح کی نماز کے لئے بیدار کرنے کے لئے نکلے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کوابولولو کافر ملا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کی ناف اور سینے کے درمیان تین وار کئے ۔ اور حضرت کلیب بن بکیر کو مارا اور ان کا کام تمام کر دیا۔لوگوں نے آوازیں بلند کیں تو ایک آدمی نے اس پر بڑی چادر پھینک دی۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر گھر لے جایا گیا ۔ اور حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا۔ نماز ! تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ۔ جس آدمی کی نماز نہیں ، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے اس حالت میں نماز ادا فرمائی کہ آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹپک رہا تھا۔ پھر لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ اے امیر المؤمنین! آپ کو کوئی زخم نہیں ہیں ۔ اور یقینا ً ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے فیض کو مزید باقی رکھے گا اور آپ رضی اللہ عنہ کومزید ایک وقت تک یا ایک خیر ( کے کام ) تک مہلت دے گا ۔۵) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے ۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابن عباس رضی اللہ عنہ سے محبت تھی ۔۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم دیکھو کہ مجھے قتل کر نے والا کون ہے؟ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ باہر چلے گئے پھر واپس آئے تو فرمایا۔اے امیر المؤمنین! آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کا قاتل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ابولؤلؤ مجوسی ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا۔ یہاں تک ( بلند آواز میں کہا کہ) آپ رضی اللہ عنہ کی آواز دروازے سے باہر نکل گئی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے قاتل کو مسلمان آدمی نہیں بنایا کہ بروز قیامت وہ میرے ساتھ کسی ایسے سجدہ کی وجہ سے مخاصمت کرتا جو اس سے صرف خدا کے لئے کیا ہوتا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ کیا یہ آدمی تمہارے قوم میں سے ہے؟ لوگوں نے کہا۔ اللہ کی پناہ ! ہم تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ پر اپنے آباء کو فداء کر دیں اور آپ کی عمر میں اپنی عمروں سے اضافہ کردیں ۔ آپ کوکوئی زیادہ زخم نہیں ہیں ۔ ۶) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے میرفاء! تو مر جائے ! مجھے کچھ پلاؤ۔ چنانچہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک پیالہ لے کر حاضر ہوا جس میں بیٹھی نبیذ تھی پس آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو پیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر کو اپنے پیٹ کے ساتھ چمٹالیا۔ راوی کہتے ہیں : پس جب یہ مشروب آپ رضی اللہ عنہ پیٹ میں پہنچا تو یہ زخموں سے باہر نکل آیا۔لوگوں نے کہا۔الحمد للہ ۔ یہ خون آپ کے پیٹ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ کے پیٹ سے باہر نکال دیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔اے یرفاء! تو مر جائے ۔ مجھے دودھ پلاؤ ۔ چنانچہ وہ دودھ لے کر حاضر ہوا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نوش فرمایا ۔ پس جب وہ بھی آپ کے پیٹ میں پہنچا تو زخموں سے باہر آ گیا۔ چنانچہ لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو انہیں معلوم ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (اب) فوت ہو جائیں گے۔ ۷) لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا کرے۔ یقینا ً آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب پر عمل کرتے تھے اور اپنے دو پیشواؤں کی سنت کی پیروی کرتے تھے۔ اس کے سوا آپ کسی چیز کی طرف نہیں جھکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ کیا تم لوگ امارت کی وجہ سے مجھ پرشک کر رہے ہو؟ خدا کی قسم ! مجھے تو یہ بات محبوب ہے کہ میں امارت ( کے حساب ) سے برابر برابر نکل جاؤں۔ نہ مجھے کوئی نفع ہو نہ کوئی نقصان ہو ۔ تم اٹھ جاؤ اور اپنے معاملہ میں مشاورت کرو ۔ تم اپنے میں سے ایک آدمی کو خود پر امیر بنالو۔ پھر جو کوئی اس کی مخالفت کرے تو تم اس کی گردن مار دو۔ راوی کہتے ہیں : پس لوگ اٹھ گئے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے سینہ کی طرف آپ رضی اللہ عنہ نے تکیہ لگایا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ کیا تم امیر مقرر کر رہے ہو جبکہ امیرالمؤمنین زندہ ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں! اور صہیب کو چاہیے کہ تین دن لوگوں کو نماز پڑھائے ۔اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتظار کرواور (پھر ) تم اپنے معاملہ میں باہم مشاورت کرو ۔اور تم خود پر اپنے میں سے ایک آدمی کو امیر مقر کر لو پھر اگر کوئی تمہارے مخالفت کرے تو اس کے سر کو اڑا دو ۔ ۸) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ تم جاؤ امی عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف اور انہیں میری طرف سے سلام کہواور کہو کہ عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہا ہے اگر آپ کو تکلیف اورتنگی نہ ہوتو میں اس بات کو پسند کرتا ہوں ۔ کہ میں اپنے دو ساتھیوں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ دفن کیا جاؤں ۔اوراگر آپ کو تکلیف اور تنگی ہو تو میری عمر کی قسم ! بقیع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ اور امہات المؤمنین میں سے ایسے لوگ دفن ہوئے ہیں جو عمر سے بہتر تھے ۔ پس قاصد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ مجھے اس بات میں قطعاً کوئی تکلیف اورتنگی نہیں ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ مجھے ان دونوں کے ہمراہ دفن کر دینا۔۹) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ پھر موت نے ان کو آ ڈھانپا اور میں نے ان کو اپنے سینہ کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔تو مر جائے ۔ میرا سرزمین پر رکھ دے۔ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوغشی طاری ہوگئی تو میں اسی طرح رہا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوا ۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ تو مر جائے ۔میرا سرزمین پر رکھ دے ۔ پس میں نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرزمین پر رکھ دیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے سرکو خاک آلود کر لیا۔ اور فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے عمر کو معاف نہ کیا تو عمر ہلاک ہو جائے گا اور اس کے ماں ہلاک ہو جائے گی ۔۱۰) محمد بن عمرو کہتے ہیں : اہل شوری ٰیہ تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ،حضرت سعد رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ ۔

يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ وَأَشْيَاخٌ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 44- What was stated in the succession of Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 38229

مصنف ابن أبي شيبة · 26- كِتَابُ الرّؤيا ‹ 12- رؤيا خزيمة بنِ ثابِتٍ رضي الله عنه. · حديث 31160

31160- حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : قِيلَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ : إنَّ فُلاَنًا يَضْحَكُ ، قَالَ : وَلِمَ لاَ يَضْحَكُ ، فَقَدْ ضَحِكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ ، حُدِّثْت أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : ضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَيْهِ رَجُلٌ ضَحِكًا مَا رَأَيْته ضَحِكَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَدْ عَلِمْت مَا الرُّؤْيَا ، وَمَا تَأْوِيلُهَا ، رَأَى كَأَنَّ رَأْسَهُ قُطِعَ ، قَالَ : فَذَهَبَ يَتْبَعُهُ ، فَالرَّأْسُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالرَّجُلُ يُرِيدُ أَنْ يَلْحَقَ بِعَمَلِهِ عَمَلَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ لاَ يُدْرِكُهُ.

31160 - حضرت جریر بن حآزم سے روایت ہے کہ محمد بن سیرین سے کہا گیا کہ فلاں آدمی پنستا ہے آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ ہنسے ؟ جبکہ اس سے بہترین ذات ہنسی ہے مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ ایک آدمی کا خواب سن کر اس قدر ہنسے کہ میں نے آپ کو اس سے زیادہ کسی چیز پر ہنستے ہوئے نہیں دیکھاھ محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے علم ہے کہ کیا خواب تھا اور اس کی تعبیر ہے ؟

قِيلَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَفَّانُ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 26- Book of Revelation › 12- Revelation Khuzaymah ibn Thabit, may God be pleased with him. · Hadith 31160

مصنف ابن أبي شيبة · 26- كِتَابُ الرّؤيا ‹ 13- ما حفِظت فِيمن عَبَّر مِن الفقهاءِ. · حديث 31164

31164- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شِبْلٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ : {وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ} قَالَ : عِبَارَةُ الرُّؤْيَا.

31164 - حضرت مجاہد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ سے مراد خوابوں کی تعبیر ہے ۔

عِبَارَةُ الرُّؤْيَا. ← مُجَاهِدٍ {وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ} ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 26- Book of Revelation › 13- Memphis was not preserved from the jurists. · Hadith 31164

مصنف ابن أبي شيبة · 41- كِتاب الجملِ ‹ 1- فِي مسِيرِ عائِشة وعلِيٍّ وطلحة والزّبيرِ رضي الله عنهم. · حديث 38912

38912- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلاَءُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَاصَرْنَا تَوَّجَ , وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ : مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَلَمَّا أَنَ افْتَتَحْنَاهَا ، قَالَ : وَعَلَيَّ قَمِيصٌ خَلَقٌ انْطَلَقْتُ إِلَى قَتِيلٍ مِنَ الْقَتْلَى الَّذِينَ قَتَلْنَا مِنَ الْعَجَمِ ، قَالَ : فَأَخَذْتُ قَمِيصِ بَعْضِ أُولَئِكَ الْقَتْلَى ، قَالَ : وَعَلَيْهِ الدِّمَاءُ ، فَغَسَلْته بَيْنَ أَحْجَارٍ ، وَدَلَّكْته حَتَّى أَنْقَيْته , وَلَبِسْته وَدَخَلْتُ الْقَرْيَةَ ، فَأَخَذْت إبْرَةً وَخُيُوطًا ، فَخِطْت قَمِيصِي ، فَقَامَ مُجَاشِعٌ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لاَ تَغُلُّوا شَيْئًا ، مَنْ غَلَّ شَيْئًا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَوْ كَانَ مِخْيَطًا. 2- فَانْطَلَقْت إِلَى ذَلِكَ الْقَمِيصِ فَنَزَعْته وَانْطَلَقْت إِلَى قَمِيصِي فَجَعَلْتُ أَفْتُقُهُ حَتَّى وَاللهِ يَا بُنَيَّ جَعَلْت أُخَرِّقُ قَمِيصِي تَوَقِّيًا عَلَى الْخَيْطِ أَنْ يَنْقَطِعَ فَانْطَلَقْت بِالْخُيُوطِ وَالإِبْرَةُ وَالْقَمِيصُ الَّذِي كُنْت أَخَذْته مِنَ الْمَقَاسِمِ فَأَلْقَيْته فِيهَا ، ثُمَّ مَا ذَهَبْتُ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى رَأَيْتهمْ يَغُلُّونَ الأَوْسَاقَ ، فَإِذَا قُلْتَ : أَيُّ شَيْءٍ هَذَا ، قَالُوا : نَصِيبًا مِنَ الْفَيْءِ أَكْثَرَ مِنْ هَذَا. 3- قَالَ عَاصِمٌ : وَرَأَى أَبِي رُؤْيَا وَهُمْ مُحَاصِرُو تَوَّجَ فِي خِلاَفَةِ عُثْمَانَ ، وَكَانَ أَبِي إِذَا رَأَى رُؤْيَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إلَيْهَا نَهَارًا ، وَكَانَ أَبِي قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : فَرَأَى كَأَنَّ رَجُلاً مَرِيضًا وَكَأَنَّ قَوْمًا يَتَنَازَعُونَ عِنْدَهُ ، قد اخْتَلَفَتْ أَيْدِيهِمْ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ وَكَانَت امْرَأَةٌ عَلَيْهَا ثِيَابٌ خُضْرٌ جَالِسَةً كَأَنَّهَا لَوْ تَشَاءُ أَصْلَحَتْ بَيْنَهُمْ ، إذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَلَبَ بِطَانَةَ جُبَّةٍ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْ مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ ، أَيَخْلَقُ الإِسْلاَم فِيكُمْ , وَهَذَا سِرْبَالُ نَبِيِّ اللهِ فِيكُمْ لَمْ يَخْلَقْ ، إذْ قَامَ آخَرُ مِنَ الْقَوْمِ فَأَخَذَ بِأَحَدِ لَوْحَي الْمُصْحَفِ فَنَفَضَهُ حَتَّى اضْطَرَبَ وَرَقُهُ. 4- قَالَ : فَأَصْبَحَ أَبِي يَعْرِضُهَا وَلاَ يَجِدُ مَنْ يُعَبِّرُهَا ، قَالَ : كَأَنَّهُمْ هَابُوا تَعْبِيرَهَا قَالَ : قَالَ أَبِي : فَلَمَّا أَنْ قَدِمْت الْبَصْرَةَ فَإِذَا النَّاسُ قَدْ عَسْكَرُوا ، قَالَ : قُلْتُ : مَا شَأْنُهُمْ ، قَالَ : فَقَالُوا : بَلَغَهُمْ أَنَّ قَوْمًا سَارُوا إِلَى عُثْمَانَ فَعَسْكَرُوا لِيُدْرِكُوهُ فَيَنْصُرُوهُ ، فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ ، فَقَالَ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ صَالِحٌ ، وَقَدِ انْصَرَفَ عَنْهُ الْقَوْمُ ، فَرَجَعُوا إِلَى مَنَازِلِهِمْ فَلَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلاَّ قَتْلُهُ ، قَالَ : فَقَالَ أَبِي : فَمَا رَأَيْت يَوْمًا قَطُّ كَانَ أَكْثَرَ شَيْخًا بَاكِيًا تَخَلَّلُ الدُّمُوعُ لِحْيَتَهُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ. 5- فَمَا لَبِثْتُ إِلاَّ قَلِيلاً حَتَّى إِذَا الزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ قَدْ قَدِمَا الْبَصْرَةَ ، قَالَ : فَمَا لَبِثْت بَعْدَ ذَلِكَ إِلاَّ يَسِيرًا , حَتَّى إِذَا عَلِيٌّ أَيْضًا قَدْ قَدِمَ ، فَنَزَلَ بِذِي قَارٍ ، قَالَ : فَقَالَ لِي شَيْخَانِ مِنَ الْحَيِّ : اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ ، فَلْنَنْظُرْ إِلَى مَا يَدْعُو ، وَأَيُّ شَيْءٍ الذي جَاءَ بِهِ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْقَوْمِ وَتَبَيَّنَّا فَسَاطِيطَهُمْ إِذَا شَابٌّ جَلْدٌ غَلِيظٌ خَارِجٌ مِنَ الْعَسْكَرِ ، قَالَ الْعَلاَءُ :رَأَيْتُ أَنَّهُ قَالَ : عَلَى بَغْلٍ ، فَلَمَّا أَنْ نَظَرْت إلَيْهِ شَبَّهْته الْمَرْأَةَ الَّتِي رَأَيْتهَا عِنْدَ رَأْسِ الْمَرِيضِ فِي النَّوْمِ ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِيَّ : لَئِنْ كَانَ لِلْمَرْأَةِ الَّتِي رَأَيْت فِي الْمَنَامِ عِنْدَ رَأْسِ الْمَرِيضِ أَخٌ إِنَّ ذَا لأَخُوهَا. 6- قَالَ : فَقَالَ لِي أَحَدُ الشَّيْخَيْنِ اللَّذَيْنِ مَعِي : مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا ، قَالَ : وَغَمَزَنِي بِمِرْفَقِهِ ، فقَالَ الشَّابُّ : أَيَّ شَيْءٍ قُلْتَ ؟ قَالَ : فَقَالَ أَحَدُ الشَّيْخَيْنِ : لَمْ يَقُلْ شَيْئًا ، فَانْصَرِفْ ، قَالَ : لِتُخْبِرَنِي مَا قُلْتَ ، قَالَ : فَقَصَصْت عَلَيْهِ الرُّؤْيَا ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْت ، قَالَ : وَارْتَاعَ ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَقُولُ : لَقَدْ رَأَيْت لَقَدْ رَأَيْت ، حَتَّى انْقَطَعَ عَنَّا صَوْتُهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِبَعْضِ مَنْ لَقِيت مَنِ الرَّجُلِ الَّذِين رَأَيْنَا آنِفًا ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : فَعَرَفْنَا ، أَنَّ الْمَرْأَةَ عَائِشَةُ. 7- قَالَ : فَلَمَّا أَنْ قَدِمْت الْعَسْكَرَ قَدِمْت عَلَى أَدْهَى الْعَرَبِ ، يَعْنِي عَلِيًّا ، قَالَ : وَاللهِ لَدَخَلَ عَلَيّ فِي نَسَبِ قَوْمِي حَتَّى جَعَلْت أَقُولُ : وَاللهِ لَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ مِنِّي ، حَتَّى قَالَ : أَمَا إِنَّ بَنِي رَاسِبٍ بِالْبَصْرَةِ أَكْثَرُ مِنْ بَنِي قُدَامَةَ ، قَالَ : قُلْتُ أَجَلْ ، قَالَ : فَقَالَ : أَسَيِّدُ قَوْمِكَ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : لاَ ، وَإِنِّي فِيهِمْ لَمُطَاعٌ ، وَلِغَيْرِي أَسُودُ ، وَأَطْوَعُ فِيهِمْ مِنِّي ، قَالَ : فَقَالَ : مَنْ سَيِّدُ بَنِي رَاسِبٍ ؟ قُلْتُ : فُلاَنٌ ، قَالَ : فَسَيِّدُ بَنِي قُدَامَةَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : فُلاَنٌ لآخَرَ ، قَالَ : هَلْ أَنْتَ مُبَلِّغُهُمَا كِتَابَيْنِ مِنِّي قُلْتُ : نَعَمْ. 8- قَالَ : أَلاَ تُبَايِعُونَ ، قَالَ : فَبَايَعَ الشَّيْخَانِ اللَّذَانِ مَعِي ، قَالَ : وَأَضَبَّ قَوْمٌ كَانُوا عِنْدَهُ ، قَالَ : وَقَالَ أَبِي بِيَدِهِ : فَقَبَضَهَا وَحَرَّكَهَا كَأَنَّ فِيهِمْ خِفَّةٌ ، قَالَ : فَجَعَلُوا يَقُولُونَ : بَايِعْ بَايِعْ ، قَالَ : وَقَدْ أَكَلَ السُّجُودُ وُجُوهَهُمْ ، قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْقَوْمِ : دَعُوا الرَّجُلَ ، فَقَالَ أَبِي. إنَّمَا بَعَثَنِي قَوْمِي رَائِدًا وَسَأُنْهِي إلَيْهِمْ مَا رَأَيْت ، فَإِنْ بَايَعُوك بَايَعْتُك ، وَإِنِ اعْتَزَلُوك اعْتَزَلْتُك ، قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ : أَرَأَيْت لَوْ أَنَّ قَوْمَك بَعَثُوك رَائِدًا فَرَأَيْتَ رَوْضَةً وَغَدِيرًا ، فَقُلْتُ : يَا قَوْمُ ، النُّجْعَةَ النُّجْعَةَ ، فَأَبَوْا ، مَا أَنْتَ مُنْتَجِعٌ بِنَفْسِكَ ، قَالَ : فَأَخَذْت بِإِصْبَعٍ مِنْ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قُلْتُ : نُبَايِعُك عَلَى أَنْ نُطِيعَك مَا أَطَعْت اللَّهَ ، فَإِذَا عَصَيْته فَلاَ طَاعَةَ لَكَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : نَعَمْ ، وَطَوَّلَ بِهَا صَوْتَهُ ، قَالَ : فَضَرَبْت عَلَى يَدِهِ. 9- قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ وَكَانَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ ، قَالَ : فَقَالَ : إِمَا انْطَلَقْت إِلَى قَوْمِكَ بِالْبَصْرَةِ فَأَبْلِغْهُمْ كُتُبِي وَقَوْلِي ، قَالَ : فَتَحَوَّلَ إلَيْهِ مُحَمَّدٌ ، فَقَالَ : إِنَّ قَوْمِي إِذَا أَتَيْتهمْ يَقُولُونَ : مَا قَوْلُ صَاحِبِكَ فِي عُثْمَانَ ، قَالَ : فَسَبَّهُ الَّذِينَ حَوْلَهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ جَبِينَ عَلِيٍّ يَرْشَحُ كَرَاهِيَةً لِمَا يَجِيئُونَ بِهِ ، قَالَ : فَقَالَ مُحَمَّدٌ : أَيُّهَا النَّاسُ ، كُفُّوا فَوَاللهِ مَا إيَّاكُمْ أَسْأَلُ ، وَلاَ عَنْكُمْ أُسْأَلُ ، قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ : أَخْبِرْهُمْ ، أَنَّ قَوْلِي فِي عُثْمَانَ أَحْسَنُ الْقَوْلِ ، إِنَّ عُثْمَانَ كَانَ مَعَ {الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ}. 10- قَالَ : قَالَ أَبِي : فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى قَدِمَ عَلَيَّ الْكُوفَةِ ، جَعَلُوا يَلْقونِي فَيَقُولُونَ : أَتَرَى إخْوَانَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يُقَاتِلُونَنَا ، قَالَ : وَيَضْحَكُونَ وَيَعْجَبُونَ ، ثُمَّ قَالُوا : وَاللهِ لَوْ قَدَ الْتَقَيْنَا تَعَاطَيْنَا الْحَقَّ ، قَالَ : فَكَأَنَّهُمْ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ لاَ يَقْتَتِلُونَ ، قَالَ : وَخَرَجْت بِكِتَابِ عَلِي ، فَأَمَّا أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ كَتَبَ إلَيْهِمَا فَقَبِلَ الْكِتَابَ وَأَجَابَهُ ، وَدَلَلْت عَلَى الآخَرِ فَتَوَارَى ، فَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا : كُلَيْبٌ ما أُذِنَ لِي , فَدَفَعْت إلَيْهِ الْكِتَابَ ، فَقُلْتُ : هَذَا كِتَابُ عَلِي ، وَأَخْبَرْته أَنِّي أَخْبَرْته أَنَّك سَيِّدُ قَوْمِكَ ، قَالَ : فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ الْكِتَابَ ، وَقَالَ : لاَ حَاجَةَ لِي إِلَى السُّؤْدُدِ الْيَوْمَ ، إنَّمَا سَادَاتُكُمَ الْيَوْمَ شَبِيهٌ بِالأَوْسَاخِ ، أَوِ السَّفَلَةِ ، أَو الأَدْعِيَاءِ ، وَقَالَ : كَلِّمْهُ ، لاَ حَاجَةَ لِي الْيَوْمَ فِي ذَلِكَ ، وَأَبَى أَنْ يُجِيبَهُ. 11- قَالَ فَوَاللهِ مَا رَجَعْت إِلَى عَلِيٍّ حَتَّى إِذَا الْعَسْكَرَانِ قَدْ تَدَانَيَا فَاسْتَبَّت عِبْدَانُهُمْ ، فَرَكِبَ الْقُرَّاءُ الَّذِينَ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَطْعَنَ الْقَوْمُ ، وَمَا وَصَلْت إِلَى عَلِيٍّ حَتَّى فَرَغَ الْقَوْمُ مِنْ قِتَالِهِمْ ، دَخَلْتُ عَلَى الأَشْتَرِ فَإِذَا بِهِ جِرَاحٌ ، قَالَ عَاصِمٌ : وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قَرَابَةٌ مِنْ قِبَلِ النِّسَاءِ ، فَلَمَّا أَنْ نَظَرَ إِلَى أَبِي ، قَالَ وَالْبَيْتُ مَمْلُوءٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَ : يَا كُلَيْبُ ، إنَّك أَعْلَمُ بِالْبَصْرَةِ مِنَّا ، فَاذْهَبْ فَاشْتَرِ لِي أَفْرَهَ جَمَلٍ تَجْده فِيهَا , قَالَ : فَاشْتَرَيْت مِنْ عَرِيفٍ لِمَهَرَةَ جَمَلَهُ بِخَمْسِ مِئَةٍ ، قَالَ : اذْهَبْ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ وَقُلْ : يُقْرِئُك ابْنُك مَالِكٌ السَّلاَمَ ، وَيَقُولُ : خُذِي هَذَا الْجَمَلَ فَتَبَلَّغِي عَلَيْهِ مَكَانَ جَمَلِكَ ، فَقَالَتْ : لاَ سَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ بِابْنِي ، قَالَ : وَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَهُ. 12- قَالَ : فَرَجَعْت إلَيْهِ فَأَخْبَرْته بِقَوْلِهَا ، قَالَ : فَاسْتَوَى جَالِسًا ثُمَّ حَسَرَ عَنْ سَاعِدِهِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : إِنَّ عَائِشَةَ لَتَلُومُنِي عَلَى الْمَوْتِ الْمُمِيتِ ، إنِّي أَقْبَلْت فِي رِجْرِجَةٍ مِنْ مَذْحِجٍ ، فَإِذَا ابْنُ عَتَّابٍ قَدْ نَزَلَ فَعَانَقَنِي ، قَالَ ، فَقَالَ : اقْتُلُونِي وَمَالِكًا ، قَالَ : فَضَرَبْته فَسَقَطَ سُقُوطًا أَمْرَدًا ، قَالَ ، ثُمَّ وَثَبَ إلَيّ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : اقْتُلُونِي وَمَالِكًا ، وَمَا أُحِبُّ ، أَنَّهُ قَالَ : اقْتُلُونِي وَالأَشْتَرَ ، وَلاَ أَنَّ كُلَّ مِذْحَجِيَّةٍ وَلَدَتْ غُلاَمًا , فَقَالَ أَبِي : إنِّي اعْتَمَرْتهَا فِي غَفْلَةٍ ، قُلْتُ : مَا يَنْفَعُك أَنْتَ إِذَا قُلْتَ أَنْ تَلِدَ كُلُّ مُذْحَجِيَّةٍ غُلاَمًا ، فَقَالَ أَبِي : إِنِّي اعْتَمَرْتُهَا فِي غَفْلَة ، قُلْتُ : مَا يَنْفَعُكَ أَنْتَ إِذَا قُلْتُ : أَنْ تَلِدَ كُلّ مُذْحِجِيَّةَ غُلاَمًا. 13- قَالَ : ثُمَّ دَنَا مِنْهُ أَبِي ، فَقَالَ : أَوْصِ بِي صَاحِبَ الْبَصْرَةِ فَإِنَّ لِي مَقَامًا بَعْدَكُمْ ، قَالَ : فَقَالَ : لَوْ قَدْ رَآك صَاحِبُ الْبَصْرَةِ لَقَدْ أَكْرَمَك ، قَالَ : كَأَنَّهُ يَرَى ، أَنَّهُ الأَمِيرُ , قَالَ : فَخَرَجَ أَبِي مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ ، قَالَ : فَقَالَ : قَدْ قَامَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَبْلُ خَطِيبًا ، فَاسْتَعْمَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، وَزَعَمَ أَنَّهُ سَائِرٌ إِلَى الشَّامِ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَرَجَعَ أَبِي فَأَخْبَرَ الأَشْتَرَ ، قَالَ : فَقَالَ لأَبِي : أَنْتَ سَمِعْته ، قَالَ : فَقَالَ أَبِي : لاَ قَالَ : فَنَهَرَهُ وَقَالَ : اجْلِسْ ، إِنَّ هَذَا هُوَ الْبَاطِلُ ، قَالَ : فَلَمْ أَبْرَحْ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ مِثْلَ خَبَرِي ، قَالَ : فَقَالَ : أَنْتَ سَمِعْت ذَاكَ ، قَالَ : فَقَالَ : لاَ ، فَنَهَرَهُ نَهْرَةً دُونَ الَّتِي نَهَرَنِي ، قَالَ : وَلَحَظَ إلَيَّ وَأَنَا فِي جَانِبِ الْقَوْمِ ، أَيْ إِنَّ هَذَا قَدْ جَاءَ بِمِثْلِ خَبَرِكَ. 14- قَالَ : فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عَتَّابٌ التَّغْلِبِيُّ وَالسَّيْفُ يَخْطِرُ ، أَوْ يَضْطَرِبُ فِي عُنُقِهِ ، فَقَالَ : هَذَا أَمِيرُ مُؤْمِنِيكُمْ قَدَ اسْتَعْمَلَ ابْنُ عَمِّهِ عَلَى الْبَصْرَةِ ، وَزَعَمَ أَنَّهُ سَائِرٌ إِلَى الشَّامِ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : قَالَ لَهُ الأَشْتَرُ : أَنْتَ سَمِعْته يَا أَعْوَرُ ، قَالَ : إي وَاللهِ يَا أَشْتَرُ , لأَنَا سَمِعْته بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ ، قَالَ : فَتَبَسَّمَ تَبَسُّمًا فِيهِ كُشُورٌ ، قَالَ : فَقَالَ : فَلاَ نَدْرِي إذًا عَلاَمَ قَتَلْنَا الشَّيْخَ بِالْمَدِينَةِ. 15- قَالَ : ثُمَّ قَالَ : لِمُذْحَجِيَّتِهِ قُومُوا فَارْكَبُوا ، فَرَكِبَ ، قَالَ : وَمَا أَرَاهُ يُرِيدُ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَهَمَّ عَلِيٌّ أَنْ يَبْعَثَ خَيْلاً تُقَاتِلُهُ ، قَالَ : ثُمَّ كَتَبَ إلَيْهِ ، أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعَنِّي مِنْ تَأْمِيرِكَ أَنْ لاَ تَكُونَ لِذَلِكَ أَهْلاً ، وَلَكِنِّي أَرَدْت لِقَاءَ أَهْلِ الشَّامِ وَهُمْ قَوْمُك ، فَأَرَدْت أَنْ أَسْتَظْهِرَ بِكَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : وَنَادَى فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ ، قَالَ : فَأَقَامَ الأَشْتَرُ حَتَّى أَدْرَكَهُ أَوَائِلُ النَّاسِ ، قَالَ : وَكَانَ قَدْ وَقَّتَ لَهُمْ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ ، فِيمَا رَأَيْت ، فَلَمَّا صَنَعَ الأَشْتَرُ مَا صَنَعَ نَادَى فِي النَّاسِ قَبْلَ ذَلِكَ بِالرَّحِيلِ

عاصم بن کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم بیان کرتے ہیں کہ ہم نے تو ج ( شہر ) کا محاصرہ کیا جبکہ ہمارے لشکر کے امیر بنی سلیم قبیلہ کے مجاشع بن مسعود تھے جب ہم اس شہر کو فتح کر چکے تو میرے بدن پر ایک بوسیدہ کرتا تھا تو میں عجم کے ان مقتولین کی طرف گیا جن کو ہم نے تہہ تیغ کیا تھا۔ ایک مقتول کی قمیص میں نے اتار لی جس پر خون کے نشان تھے میں نے اسے پتھروں کے درمیان دھویا اور خوب رگڑ کر اسے اچھی طرح صاف کر لیا اور پھر زیب تن کر کے آبادی کی طرف گیا اور مال غنیمت سے ایک سوئی اور دھاگہ لیا اور اپنی پھٹی ہوئی قمیص کی سلائی کی ۔ مجاشع بن مسعود کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے اے لوگو! تم کسی بھی شئے میں خیانت نہ کرو جس نے خیانت کی قیامت کے دن اسے حساب دینا پڑ ے گا اگرچہ دھاگہ ہی کیوں نہ ہو۔ پس میں نے قمیص اتار دی اور اپنی قمیص کو پھاڑ نے لگا تا کہ (مال غنیمت کا ) دھاگہ ٹوٹ نہ جائے پھر میں سوئی اور قمیص کو لے کر مال غنیمت کے پاس پہنچا اور میں نے یہ چیزیں واپس رکھ دیں پھر میں نے لوگوں کو اس دنیا میں دیکھا کہ دو کئی کئی وسق میں خیانت کرتے ہیں جب میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہے تو وہ جواب دیتے مال غنیمت میں ہمارا اس سے بھی زیادہ حصہ بنتا ہے عاصم کہتے ہیں کہ میرے والد ماجد نے خواب دیکھا جب وہ خلافت عثمان کے زمانے میں توج کے محاصرہ کے لیے گئے ہوئے تھے۔ میرے والد نے جب یہ خواب دیکھا تو بڑے واضح طریقے سے دیکھا میرے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی سعادت بھی حاصل کی تھی ۔انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مریض آدمی ہے اس کے پاس لوگ جھگڑ رہے ہیں اور ان کے ہاتھ ایک دوسرے کی طرف اٹھ رہے ہیں اور آوازیں بلند ہورہی ہیں ۔ ان کے قریب ایک عورت سبز لباس میں ملبوس بیٹھی ہے اور ایسے معلوم ہو رہی ہے جیسے وہ ان کے درمیان صلح کرانے کی خواہاں ہے اسی اثنا میں ایک آدمی کھڑا ہوتا ہے اور اپنے جیسے کے استر پلٹتا ہے پھر کہتا ہے اے مسلمانو! کیا تمہارا اسلام بوسیدہ ہو گیا جبکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتا ہے جو ابھی پرانا نہیں ہوا اس دوران دوسرا شخص کھڑا ہوا اور قرآن کریم کی ایک جلد کو پکڑ کر جھٹکا جس کی وجہ سے قرآن کریم کے اوراق پھیلنے لگے۔ عاصم کہتے ہیں کہ میرے والد نے یہ خواب تعبیر بتانے والوں کے سامنے بیان کیا مگر کوئی اس خواب کی تعبیر نہ بتاسکا بلکہ تعبیر بتانے والے یہ خواب سن کر گھبرا جاتے تھے۔ عاصم کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا کہ میں بصرہ آیا تو دیکھا کہ لوگ لشکر تیار کر رہے ہیں میں نے پوچھا انہیں کیا ہوا تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ ان لوگوں کو یہ اطلاع ملی ہے کہ کچھ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف گئے ہیں ( تا کہ ان کے خلاف شورش برپا کریں ) اب یہ لوگ ) اہل بصرہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے جار ہے ہیں ۔ پھر ابن عامر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ امیر المومنین نے صلح کر لی ہے اور ان کے پاس جانے والا لشکر لوٹ چکا ہے ( یہ سن کر ) اہل بصرہ بھی اپنے گھروں کو لوٹ گئے اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت نے ان کو سخت رنج میں مبتلا کیا۔ میں نے اتنی کثیر تعداد میں بوڑھے لوگوں کو اتنا روتے ہوئے پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ ان کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر ہوں ۔ پھر تھوڑا ہی عرصہ گزرا کہ حضرت زبیر اور طلحہ رضی اللہ عنہ بصرہ تشریف لائے پھر کچھ ہی عرصہ بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ذی قار ( جگہ کا نام ) میں ٹھہرے۔ قبیلے کے دو بوڑھے مجھ سے کہنے لگے کہ آؤ ان کے ( علی رضی اللہ عنہ ) پاس چلتے اور دیکھتے ہیں کہ یہ کیا دعوت دیتے ہیں اور کیا موقف لے کر آئے ہیں ۔ پس ہم نکلے اور ان کی طرف بڑھے جب ہم ان کے قریب ہوئے تو ان کے گروہ ہمیں نظر آنے لگے ۔اچا تک ہماری ایک نوجوان پر نظر پڑی جو سخت کھال والا تھا اور لشکر کے ایک جانب تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میں اس عورت سے بہت مشابہت رکھتا تھا جس کو میں نے خواب میں مریض کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ اگر اس عورت جس کو میں نے خواب میں مریض کے سرہانے بیٹھے ہوئے دیکھا تھا کا کوئی بھائی ہوتو یہ اسی کا بھائی ہے۔ میرے ساتھ جو دو بزرگ شخص تھے ان میں سے ایک کہنے لگا آپ کی اس شخص سے کیا غرض ہے اور میری کہنی کو پکڑ کر دبایا۔ وہ جوان ہماری گفتگوسن کر کہنے لگا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں میرے ایک ساتھی نے کہا کچھ نہیں آ جائیں ۔ مگر اس نوجوان نے اصرار کیا کہ آپ بتائیں آپ کیا کہہ رہے تھے ۔ پس میں نے اس کو اپنا خواب سناد یا تو نوجوان کہنے لگا یہ خواب آپ نے دیکھا ہے پھر وہ گھبرایا اور گھبراہٹ میں یہی کہتارہا کہ یہ خواب آپ نے دیکھا ہے؟ یہ خواب آپ نے دیکھا ہے؟ اسی طرح کہتا رہاحتی کہ اس کی آواز ہم سے دور ہوتے ہوتے منقطع ہوگئی ۔ میں نے کسی سے پوچھا یہ کون شخص تھا جو ہم سے ملا تو اس نے جواب دیا محمد بن ابی بکر عاصم کے والد محترم فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے پہچان لیا کہ وہ عورت ( جوخواب میں مریض کے سرہانے بیٹھی تھی ) عائشہ تھی ۔ پس جب میں لشکر میں پہنچا تو میں نے وہاں عرب کے سب سے زیادہ دانا انسان کو پایا یعنی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عاصم کے والد محترم بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم حضرت علی رضی اللہ عنہ مجھ سے میری قوم کے متعلق گفت وشنید کرنا چاہتے تھے میں نے سوچا کہ وہ تو میری قوم کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بصرہ میں بنی راسب بنی قدامہ سے زیادہ ہیں ناں! میں نے کہا جی ہاں ۔ انہوں نے مجھ سے سوال کیا آپ اپنی قوم کے سردار ہیں میں نے جواب دیا جی نہیں ۔اگر چہ میری بھی قوم اطاعت کرتی ہے مگر مجھ سے بڑے اور قابل اطاعت سردار بھی میری قوم میں موجود ہیں ۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا بنی را سب کا سردار کون ہے میں نے کہا فلاں پھر انہوں نے بنی قدامہ کے بارے میں سوال کیا کہ ان کا سردار کون ہے میں نے جواب دیا فلاں ۔ پھر فرمایا کیا میرے دو خط ان دونوں سرداروں کو پہنچا دو گے میں نے کہا جی ضرور ، پھر فرمانے لگے کیا تم لوگ بیعت نہیں کرو گے تو حضرت عاصم کے والد ماجد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے ساتھ جو دو بزرگ تھے انہوں نے بیعت کر لی ۔ پس وہ لوگ جوان کے پاس تھے ناراض ہوئے میرے والد نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے کچھ کہا اور اپنے ہاتھ کو بند کیا اور حرکت دی گویا کہ ان لوگوں میں ایک طرح کی خفت تھی پس انہوں نے کہنا شروع کیا بیعت کرلو بیعت کرلوان لوگوں کے چہرے پر سجدوں کے بڑے واضح نشان تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایاتم اس آدمی کو چھوڑ دو پھر عاصم کے والد ماجد رضی اللہ عنہ گویا ہوئے کہ مجھے میری قوم نے رہنما بنا کر بھیجا ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں ان کو اس تمام معاملے سے آگاہ کر دوں جو میں نے دیکھا ہے ۔اگر وہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کے لیے تیار ہوئے تو میں بھی آپ سے بیعت کرلوں گا اور اگر انہوں نے آپ سے روگردانی کی تو میں بھی آپ سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا دیکھو تمہاری قوم نے تمہیں رہنما بنا کر بھیجا ہے پس آپ نے باغ اور کنواں دیکھ لیا پھر بھی تم اگر اپنی قوم سے گھاس اور پانی کی تلاش کا کہوتو اگر تمہاری قوم نے انکار کر دیا تو پھر آپ خود پانی اور گھاس تلاش نہ کر سکو گے۔ میں نے ان کی انگلی پکڑی اور کہا ہم آپ سے بیعت کرتے ہیں کہ ہم آپ کی اطاعت کریں گے اس وقت تک جب تک اللہ تعالی ٰکی اطاعت پر قائم رہیں گے ۔ پس اگر آپ نے اللہ تعالی ٰکی نافرمانی کی تو پھر ہمارے اوپر آپ کی اطاعت لازم نہیں ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ٹھیک ہے اور آواز کو لمبا کیا۔ پس میں نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ مارا پھر محمد بن حاطب کی طرف متوجہ ہوا جو لوگوں کے ایک جانب بیٹھے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا بصرہ میں اپنی قوم کی طرف جا کر میرے دونوں خط اور دونوں باتیں ان تک پہنچا دینا۔ پھر محمد بن حاطب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف آئے اور کہنے لگے۔ جب میں اپنی قوم کی طرف آیا تو میری قوم کے لوگ پوچھنے لگے کہ ان کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے تو میں نے جواب دیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے آس پاس کے لوگ تو انہیں برا بھلا کہہ رہے تھے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیشانی سے ناپسندیدگی کا اظہار ہورہا تھا بوجہ ان لوگوں کے برا بھلا کہنے کے ۔ تو محمد بن حاتم نے کہا اے لوگوٹھہر جاؤ اللہ کی قسم نہ تم سے میں نے سوال کیا ہے اور نہ تمہارے بارے میں مجھ سے سوال کیا گیا ہے پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں میری سب سے اچھی بات ان کو بتا دینا کہ وہ اہل ایمان میں سے تھے نیک اعمال کرنے والے تھے پھر اللہ سے ڈرنے والے تھے اور حسن سلوک کرنے والے تھے اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے عاصم کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا میں وہاں ہی تھا کہ اہل کوفہ میرے پاس آئے اور مجھ سے ملاقات کرنے لگے پھر کہنے لگے کہ کیا آپ دیکھ رہے ہیں ہمارے بصرہ کے بھائی ہم سے قتال کرنا چاہتے ہیں یہ بات انہوں نے ہنتے ہوئے اور تعجب کر تے ہوئے کہی پھر کہنے لگے اللہ کی قسم اگر ہماری ان سے مڈ بھیڑ ہوئی تو ہم ضروران سے اپنا حق لیں گے عاصم کے والد ماجد فر ماتے ہیں کہ وہ ایسے لگ رہے تھے جیسے قتال نہیں کر یں گے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خط لے کر نکلا پس جن دو سرداروں کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خط لکھا تھا ان میں سے ایک نے خط لیا اور جواب دیا پھر مجھے دوسرے کا پتا بتایا گیا لوگ اسے کلیب کہتے تھے مجھے اجازت ملی اور میں نے خط اس تک پہنچایا اور بتایا کہ یہ خط حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہے اور میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تھا کہ آپ قوم کے سردار ہیں پس اس نے خط لینے سے انکار کر دیا اور کہا مجھے آج سرداری کی کوئی ضرورت نہیں بے شک تم لوگوں کا سرداری آج ایسی ہے جیسے گندگی ، کمینوں اور مشکوک النسب لوگوں کی سرداری ۔ پھر کہا آپ انہیں کہہ دینا مجھے سرداری کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اور خط کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تک واپس پہنچ بھی نہیں پایا تھا کہ دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے اورلوگ لڑنے کے لیے سیدھے ہو گئے ۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو قراء تھے وہ سوار ہوئے جب نیزہ بازی شروع ہوئی پھر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس وقت ملا جب لوگ قتال سے فارغ ہو چکے تھے۔ میں اشتر کے پاس گیا وہ زخمی تھے ۔ عاصم کہتے ہیں ہمارے اور اس کے مابین عورتوں کی طرف سے کوئی رشتہ داری تھی جب اشتر نے میرے والد ماجد کی طرف دیکھا جب کہ اس کا گھر اس کے ساتھیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اشتر نے کہا اے کلیب تم ہم سب سے زیادہ اہل بصرہ کو جانتے ہو۔ آپ جائیے اور میرے لیے ایک سریع الحرکت اونٹ خرید لو پس میں نے ایک سردار سے ایک جوان اونٹ پانچ سو درہم کے عوض خریدا۔ پھر کہنے لگا اسے عائشہ رضی اللہ عنہ کےپاس لے جاؤ اور ان سے کہنا آپ کا بیٹا مالک آپ سے سلام عرض کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یہ اونٹ قبول کر لیجیے اور اس پر سوار ہوکر اپنے اونٹ کی جگہ پہنچ جائیں ۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر سلامتی نہ ہو اور وہ میرا بیٹا نہیں ہے اور اونٹ لینے سے انہوں نے انکار کر دیا۔ میں واپس اس کے پاس آیا اور اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کافرمان پہنچا دیا۔ کلیب کہتے ہیں کہ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا پھر اپنی کلائی سے آستین ہٹائی پھر کہنے لگا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ مرنے والے کی موت پر مجھے ملامت کر رہی ہیں میں تو قلیل سی جماعت میں آیا تھا۔ پھر اچانک ابن عتاب آئے اور مجھ سے مقابلہ کیا اور کہنے لگا تم مجھے اور مالک کو قتل کر دو پس میں نے مارا اور وہ بہت بری طرح گرا پھر میں ابن زبیر کی طرف لپکا انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے اور مالک کوقتل کر دو اور میں پسند نہیں کرتا کہ وہ یہ کہہ دے کہ مجھے اور اشتر کوقتل کر دو اور نہ یہ پسند کرتا ہوں کہ ہماری عورتیں غلاموں کوجنم دیں عاصم کہتے ہیں کہ میرے والد ماجد فرماتے ہیں کہ پھر اکیلے میں اس سے ملا اور اس سے کہا کہ آپ کے غلام جننے والے قول نے آپ کو کیا فائدہ دیا وہ مجھ سے قریب ہو گیا اور کہنے لگا کہ آپ صاحب بصرہ ( علی رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں مجھ کو وصیت کیجیے کیونکہ میرا مقام آپ کے بعد ہی ہے کلیب نے اسے کہا کہ اگر صاحب بصرہ نے آپ کو دیکھا تو آپ کا ضرور اکرام کریں گے ۔ عاصم بن کلیب کے والد ماجد کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو امیر سمجھنے لگا۔ پس میرے والد محترم وہاں سے اٹھے اور باہر آ گئے تو میرے والد کو ایک آدمی ملا اس نے خبر دی کہ امیر المومنین نے خطبہ دیا اور عبداللہ ابن عباس کو بصرہ کا عامل مقرر کیا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فلاں دن شام کی طرف جانے والے ہیں ۔ پس میرے والد محترم کو کہا یہ بات تو نے خود سنی ہے تو میرے والد نے کہا نہیں تو اشتر نے میرے والد کو ڈانٹا اور کہا بیٹھ جاؤ بے شک یہ جھوٹی خبر ہے میرے والد کہتے ہیں کہ میں اسی جگہ بیٹھا تھا کہ ایک اور شخص نے ایسی ہی خبر دی ۔اشتر نے اس سے بھی یہی سوال کیا کہ کیا تم نے خود دیکھا ہے اس نے کہا نہیں پھر اسے بھی کچھ کہا یہ بھی تمہارے جیسی خبر لے کر آیا ہے جبکہ میں لوگوں کی ایک سمت میں بیٹھا تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد عتاب تغلبی آیا اس کی گردن میں تلوار لٹک رہی تھی ۔ یہ تمہارے مومنین کا امیر ہے؟ فلاں فلاں دن وہ شام کی طرف جانے والا ہے۔اشتر نے اس سے کہا اے کانے! تو نے یہ بات خود سنی ہے؟ اس نے کہا ہاں اشتر ! اللہ کی قسم میں نے خود اپنے ان دو کانوں سے سنی ہے۔اشتر مسکرایا پھر کہنے لگا اگر ایسا ہوا تو ہم نہیں جانتے کہ ہم نے شیخ (امیر المومنین ) کو مدینہ میں کیوں قتل کیا ؟ پھر اپنے لشکر یوں کو سوار ہونے کا حکم دیا اور خود سوار ہوا کہنے لگا کہ ان کا معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کی طرف ارادہ ہے۔ علی رضی اللہ عنہ اس کے لشکر سے فکر مند ہوئے پھر اس کی طرف خط لکھا کہ میں نے تم کو امیر اس لیے نہیں بنایا کہ مجھے اہل شام جو تمہاری ہی قوم ہے کے خلاف تمہاری مدد درکار ہے ورنہ امیر نہ بنانے کی یہ وجہ تھی کہ تم اس کے لیے اہل نہ تھے پس پھر لوگوں میں کوچ کر نے کے لیے ندا ءلگائی پس اشتر کھڑ اہوا یہاں تک کہ سب سے آگے والے لوگوں کے ساتھ مل گیا۔اس نے ان کے لیے پیر کا دن مقرر کیا تھا میرے خیال کے مطابق پس جب اشتر نے وہ کرلیا جو کرنا تھا تو اس نے لوگوں میں اس سے پہلے کوچ کرنے کے لیے آواز لگوائی ۔

فَلَمَّا ← حَاصَرْنَا تَوجَ وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالَ لَهُ مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبِي ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← الْعَلاَءُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 41- Sentence book › 1- In the path of Aisha, Ali, Talha, and Zubayr, may God be pleased with them. · Hadith 38912

مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 15- ما ذُكِرَ فِي أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضي الله عنه. · حديث 32624

32624- حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ , قَالَ : فَمَا أُعْجِبَ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا , فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرَةَ , حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْته مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا يُسْأَلُ عنها فَسَمِعْته يَقُولُ : رَأَيْت مِيزَانًا أُنْزِلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتُ فِيهِ أَنَا , وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتُ بِأَبِي بَكْرٍ , ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ , ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَان فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ , ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم خِلاَفَةٌ وَنُبُوَّةٌ , ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ , قَالَ : فَزُجَّ فِي أَقْفِيَتِنَا فَأُخْرِجْنَا.

32624 - حضرت ابو بکر فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی صورت میں حاضر ہوئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے کو ئی وفد اتنا پسند نہیں آیا جتنا ہمارا وفد پسند آیا ۔ پھر فرمایا : اے ابو بکر ! مجھے کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنی ہو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اور آپﷺ پسند فرماتے تھے کہ جب ان خؤابوں کے بارے میں پوچاھ جاتا ! آپ ﷺ نے فرمایا : میں ایک ترازو دیکھا جو آسمان سے اترا پس اس میں میرا اور ابو بکر کا وزن کیا گی اتو میرپکڑا ابوبکر سے بھاری ہو گیا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← قَبِيصَةُ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 15- What was mentioned in Abu Bakr Al-Siddiq, may God be pleased with him? · Hadith 32624

مسند ابن أبي شيبة · کتاب ‹ مَا رَوَاهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 26

26 - عُمَرُ، نا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ [ص:43]، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلِ كَانَ بَيْتُهُ بِمِصْرَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] ، فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ، هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، وَفِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ»

مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ ← هَذِهِ الْآيَةِ: {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: ← سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ← رَجُلِ كَانَ بَيْتُهُ بِمِصْرَ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي صَالِحٍ، [ص:346] ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عُمَرَ،

Musnad Ibne Abi Shaibah · Book › What Abu Darda narrated, may God be pleased with him, on the authority of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 26

مسند الشاميين · مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ مُسْنَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ‹ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنِ الزُّهْرِيِّ · حديث 270

270 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ شَابًّا عَزَبًا وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ وَكَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا رَأَى الرُّؤْيَا أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَعْبُرُهَا لَهُ

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ قُتَيْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ

Musnad Al Shammean · What has not been completed to us from the chain of transmission of Abd al-Rahman ibn Thabit ibn Thuban › Saeed bin Abd al-Aziz, on the authority of al-Zuhri · Hadith 270

مسند الشاميين · مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ مُسْنَدِ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ السَّكُونِيِّ وَيُكْنَى أَبَا عَدِيٍّ ‹ أَرْطَاةُ , عَنْ أَبِي الْمُعَلَّى بْنِ إِسْمَاعِيلَ · حديث 714

714 - حَدَّثَنَا وَاثِلَةُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ح , وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَا: ثنا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ»

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْمُعَلَّى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ← أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْحِمْصِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← وَاثِلَةُ بْنُ الْحَسَنِ،

Musnad Al Shammean · He did not end to us from the chain of transmission of Irtat ibn al-Mundhir al-Sukuni, and he was Aba Uday › Arrtat, on the authority of Abu al-Mualla bin Ismael · Hadith 714

مسند الشاميين · مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ مُسْنَدِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَأَصْلُهُ بَصْرِيٌّ نَزَلَ الشَّامَ وَمَاتَ بِهَا ‹ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ · حديث 2678

2678 - حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ صَالِحَةٌ، وَالتَّحْذِيرُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ مِنَ الرُّؤْيَا مَا يُحَدِّثُ بِهِ الرَّجُلُ نَفْسَهُ وَأَكْرَهُ الْغِلَّ، وَيُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ»

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← أَبُو زُرْعَةَ

Musnad Al Shammean · The chain of narration of Sa`id ibn Bashir did not end in us from the chain of transmission of Bashir and its origin was Basri. He descended the Levant and died in it › Saeed, on the authority of Qadada, on the authority of Muhammad ibn Sirin · Hadith 2678

مسند الشاميين · مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ مُسْنَدِ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو السَّكْسَكِيِّ ‹ صَفْوَانُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ · حديث 1025

1025 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَا: ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] فَقَالَ عُبَادَةُ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ , سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ , هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ , وَهُوَ كَلَامٌ يُكَلِّمُ بِهِ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ» [ص:119]

لَقَدْ سَأَلْتنِي ← شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عُبَادَةُ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي ← هَذِهِ الْآيَةِ: {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَهُ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Musnad Al Shammean · What has not been completed to us from the chain of narration of Suffan ibn Amru al-Saksky › Saffan on the authority of Humaid bin Abdullah Al-Muzni · Hadith 1025

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 584

584 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] قَالَ: «هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ»

حضرت سلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا که حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی اگر مﷺ سے اللہ عز وجل کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا:’’ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ‘‘ آپ نے فرمایا: اس سے مراد اچھا خواب ہے جومسلمان بند ہ د یکھے یا اس کو دکھایا جاۓ ۔

هي الرؤيا الصالحة يراها الرجل المسلم أو ترى له ← قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: ← نُبِّئْتُ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، سَأَلَ النَّبِيَّ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 584

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 634

634 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي قَتَادَةَ، فَقَالَ: وَأَنَا إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي، حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا مَنْ [ص:515] يُحِبُّ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَاسْتَيْقَظَ فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ»

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں بیمار ہوں میں نے یہ بات حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی آپ نے فرمایا :میں بھی خواب میں اپنے آپ کو بیمار دیکھنا تھا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے پس جب تم میں سے کوئی دیکھے جو اس کو پسند ہو تو وہ اپنے محبوب آدمی کو ہی بتائے اور جب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اٹھے اور اپنے بائیں طرف تھوکے تین مرتبہ اور اللہ سے پناہ مانگےاس کے شر اور شیطان کے شر سے اور کسی کو نہ بتائیں تو وہ اس کو نقصان نہیں دے گا ۔

بِهَا إِلَّا مَنْ [ص:515] يُحِبُّ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَاسْتَيْقَظَ فَلْيَتْفُلْ ← الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← إن كنت لأرى الرؤيا تمرضني حتى ← إن كنت لأرى الرؤيا فتمرضني فذكرت ذلك لأبي قتادة ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 634

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو بَكْرَةَ · حديث 907

907 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ مَعَ زِيَادٍ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرَةَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسَى اللهُ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ [ص:197]، إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا، رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ فَوَزَنَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: خِلاَفَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ وَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقَالَ زِيَادٌ لأَبِي بَكْرَةَ: مَا وَجَدْتَ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا تُحَدِّثُهُ غَيْرَ هَذَا؟ قَالَ: وَاللهِ لاَ أُحَدِّثُهُ إِلاَّ بِهِ حَتَّى أُفَارِقَهُ قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ زِيَادٌ يَطْلُبُ الإِذْنَ حَتَّى أُذِنَ لَنَا فَأُدْخِلْنَا فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ أَيْضًا بِمِثْلِ حَدِيثِهِ الأَوَّلِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: لاَ أَبَا لَكَ تُخْبِرُنَا أَنَّا مُلُوكٌ فَقَدْ رَضِينَا أَنْ نَكُونَ مُلُوكًا.

حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ذیاد کے ساتھ ، ہمارے ساتھ حضرت ابو بکرہ بھی تھے سو ہم ان کے پاس آئے حضرت ابو بکرہ سے حضرت امیر معاویہ نے کہا کہ ہم کو کوئی حدیث سنائیں جو آپ نے رسولﷺ سے سنی ہوہو سکتا ہے کہ اللہ ہم کو اس سے نفع دے !آپ نے فرمایا : ہاں! فرمایا کہ اللہ کے نبیﷺ اچھی خواب کو پسند کرتے تھےاور اس کے متعلق پوچھتے تھے۔ایک آدمی نے عرض کی :یا رسولﷺمیں نے خواب میں دیکھا ہے‘میں نے دیکھا کہ گو یا آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا‘ اس میں آپﷺ اور ابو بکر کا وزن کیا گیا‘ تو آپﷺ کا پلڑا حضرت ابو بکر سے بھاری ہو گیا‘پھر حضرت ابو بکر کا وزن کیا گیا حضرت عمر کے ساتھ تو حضرت ابو بکر کا پلڑا بھاری ہو گیا‘ حضرت عمر سے۔ پھر حضرت عمر کا وزن کیا گیا حضرت عثمان کے ساتھ ‘تو حضرت عمر کا پلڑا بھاری ہو گیا ‘ حضرت عثمان کے ساتھ پھر میزان کو اٹھا لیا گیا ۔یہ خواب رسولﷺ پر بھارے محسوس ہوا ، پھر فرمایا اس سے مراد نبوت کی خلافت ہے‘ پھر اللہ تعالٰی جس کو چاہے گا بادشاہی دے دے گا۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا‘ اور ہم کو گدی سے پکڑ کر باہر نکال دیا حضرت ذیاد نے اس کے بعد حضرت ابو بکر سے فرمایا : آپ نے رسولﷺکی حدیث میں اس کے علاوہ کچھ نہیں پایا تھا(حضرت ابو بکر نے)فرمایا: اللہ کی قسم! میں صرف یہی حدیث بیان کروں گایہاں تک کہ میں آپ سے جدا ہو جاو ں ‘کہتے ہیں کہ ذیاد مسلسل اجازت لیتے رہے یہاں تک کہ ہم کو اجازت دی گئی ٗپس ہم کو اندر آنے دیا گیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابو بکر !ہم سے رسولﷺ کی کوئی حدیث بیان کریں شاید اللہ ہم کو اس سے نفع دے۔کہتے ہیں کہ میں نے پھر وہی پہلے والی حدیث ان سے بیان کیٗ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تیرا انکار نہیں ہے کہ تو نے ہمیں یہ بتایا کہ ہم بادشاہ ہیںٗ بے شک ہم اس بات پر راضی ہیں کہ بادشاہ ہیں۔

رَجُلٌ: ← نَعَمْ، كَانَ نَبِيُّ اللهِ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا ← مِنْ رَسُولِ اللهِ عَسَى اللهُ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ ← حَدِيثًا ← لَهُ مُعَاوِيَةُ ← وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ مَعَ زِيَادٍ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرَةَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 907

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ · حديث 1069

1069 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [يونس: 64] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ»

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے اللہ عز وجل کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا: ’’وہ لوگ جو ایمان لاۓ اور ڈرتے رہے ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں‘‘ (سے کیا مراد ہے؟)تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ اچھا خواب ہے جومسلمان دیکھتا ہے یا اس کو دکھایا جا تا ہے ۔

قَوْلِهِ: {الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [يونس: ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← رَجُلٌ: ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبَا صَالِحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1069

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيِّ · حديث 1199

1199 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ رَأَى الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ قَالَ: فَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ: وَجَاءَ عَمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَنَا أَرَى الرُّؤْيَا وَيُؤَذِّنُ بِلَالٌ قَالَ: «فَأَقِمْ أَنْتَ» قَالَ: فَأَقَامَ عَمِّي

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے خواب میں اذان پڑھتے ہوئے فرشتہ کو دیکھا ، پس وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور آپ سے ( اس خواب کا ) تذکرہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا ، اور میرے چچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے خواب دیکھا ہے اور بلال اذان دیتے ہیں ، آپ نے فرمایا : تو اقامت کہہ لیا کر ۔ پس میرے چچا نے اقامت کہی۔

وجاء عمي إلى النبي ← فأذن بلال ← ذَلِكَ لَهُ، ← عمه عبد الله بن زيد أنه رأى الأذان في المنام فأتى النبي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← محمد بن عمرو الواقفي ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1199

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1572

1572 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ، لَا يَرَى فِي مَنَامِهِ رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، فَكَانَ يَمْكُثُ الْأَيَّامَ فِي غَارِ حِرَاءَ يَتَعَبَّدُ حَتَّى فَجَأَهُ الْحَقُّ يَوْمًا وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ»

حضرت عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ( کو عطائے نبوت ) کی ابتداء سچے خوابوں سے کی گئی جو آپ خواب دیکھتے ، وہ خواب صبح رون کی طرح ظاہر ہو جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تنہائی محبوب کر دی گئی ، سو آپ غار حرا میں چند دن ٹھہرتے ، وہاں عباد کرتے یہاں تک کہ ایک دن آپ کے پاس پیغام حق ( وحی ) بھی آپ پر غار حرا میں ہی آیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1572

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا رَوَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1693

1693 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُصُّونَهَا عَلَيْهِ، فَيَقُولُ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، فَقُلْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِنَفْسِي: لَوْ كَانَ فِيكِ خَيْرٌ لَرَأَيْتِ رُؤْيَا كَمَا يَرَى النَّاسُ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي، فَلَمَّا نِمْتُ رَأَيْتُ فِيَ مَنَامِي كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَانْطَلَقَا بِي حَتَّى وَقَفَا بِي عَلَى جَهَنَّمَ وَهُمَا يَعْتِلَانِي، فَإِذَا جَهَنَّمُ مَطْوِيَّةٌ، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ جَهَنَّمَ حَتَّى جَاءَ مَلَكٌ، فَقَالَ: لَمْ تُرَعْ، نِعْمَ الْمَرْءُ أَنْتَ لَوْ كُنْتَ تُكْثِرُ الصَّلَاةَ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهَا فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ» قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ پاک میں خواب دیکھتے ، تو اس کو حضور کی بارگاہ میں بیان کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی تعبیر فرماتے جو اللہ چاہتا، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر تجھ میں بھلائی ہے تو میں ضرور خواب دیکھوں گا جس طرح لوگ دیکھتے ہیں ، پھر میں نے دعا کی : اے اللہ ! اگر تو مجھ میں بہتری دیکھتا ہے تو مجھے خواب دکھا۔ پس جب میں سویا تو میں نے خواب دیکھا اپنی نیند میں کہ دو فرشتے ہیں ، ان کے ہاتھوں میں لوہے کے ہتھوڑے ہیں ، وہ دونوں مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ مجھے جہنم کے پاس لے آئے اور وہ دونوں مجھے قتل کرتے ہیں ، تو دیکھا کہ جہنم بھری ہوئی ہے ، میں نے کہا: میں پناہ مانگتا ہوں ، اللہ جہنم سے یہاں تک کہ ایک فرشتہ آیا اس نے کہا: تم نہیں دیکھتے ، تو اچھا آدمی ہے ، اگر تو کثرت سے نماز پڑھے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صبح ہوئی تو میں حضرت حفصہ کے پاس آیا ، میں نے سارا خواب ان کے سامنے بیان کیا، تو حج حفصہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ نیک آدمی ہے ۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عبداللہ کثرت سے نماز پڑھتے تھے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1693

السنن الكبرى للنسائي · كِتَابُ السَّهْوِ ‹ تَعْظِيمَ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الرُّكُوعِ · حديث 637

637 - أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ»، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، قَمَنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»

كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Al Kubra Al Nasai · The Omission Book › The greatness of the Lord, be blessed and exalted in the kneeling · Hadith 637

السنن الكبرى للنسائي · كِتَابُ السَّهْوِ ‹ الْأَمْرُ بِالِاجْتِهَادِ فِي الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ · حديث 711

711 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتً إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ، إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ، أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»

كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sunan Al Kubra Al Nasai · The Omission Book › The command to strive hard in supplication for prostration · Hadith 711

السنن الكبرى للنسائي · 43 - كِتَابُ التَّعْبِيرِ ‹ بَابُ الرُّؤْيَا · حديث 7574

7574 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ زُفَرِ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ قَالَ: «هَلْ أُرِيَ أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟» وَيَقُولُ: «إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ»

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← ابْنِ الْقَاسِمِ، وَاللَّفْظُ لَهُ ← مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ← مَعْنٌ ← عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ،

Sunan Al Kubra Al Nasai · 43 - Book of Expression › The door of the vision · Hadith 7574

chevron_left Previous
1…151617…104
Next chevron_right