Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحيوانات والمخلوقات

Animals & Creation

23837 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24756

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَبِي وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْمَعْنَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبِي قَالَ وَكِيعٌ إِنَّهُمْ تَذَاكَرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک مرتبہ ایک کنیسے کا تذکرہ کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور جس میں تصاویر بھی تھیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا تھا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنالیتے تھے، اور وہاں یہ تصویرں بنا لیتے تھے، وہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین مخلوق ہوں گے۔

أَبِي ← عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأَمَّ سَلَمَةَ، ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، ← أَبِي ← هِشَامٍ الْمَعْنَی ← أَبِي وَوَکِيعٌ ← هِشَامٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24756

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24758

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا نَبَحَتْ الْكِلَابُ قَالَتْ أَيُّ مَاءٍ هَذَا قَالُوا مَاءُ الْحَوْأَبِ قَالَتْ مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهَا بَلْ تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ فَيُصْلِحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَيْنِهِمْ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ

قیس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رات کے وقت بنو عامر کے چشموں کے قریب پہنچیں تو وہاں کتے بھونکنے لگے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا یہ کون سا چشمہ ہے؟ لوگوں نے بتایا مقام حوأب کا چشمہ، اس کا نام سنتے ہی انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اب میں یہیں سے واپس جاؤں گی، ان کے کسی ہمراہی نے کہا کہ آپ چلتی رہیں، مسلمان آپ کو دیکھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کے درمیان صلح کروادے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا تم میں سے ایک عورت کی اس وقت کیا کیفیت ہو گی جس پر مقام حوأب کے کتے بھونکیں گے۔

مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ ← مَاءُ الْحَوْأَبِ ← أَيُّ مَاءٍ هَذَا؟ ← لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا نَبَحَتْ الْكِلَابُ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24758

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21428

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنْ الْبُؤْسِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ كَمْ مَالُكَ قَالَ أَرْبَعُونَ مِنْ الْإِبِلِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبً لَابْتَغَى الثَّالِثَ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذَا فَقُلْتُ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ قَالَ فَمَرَّ بِنَا إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ فَقَالَ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ أُبَيٌّ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَأُثْبِتُهَا فَأَثْبَتَهَا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہمیں قحط سالی نے کھالیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تمہاراتعلق کس قبیلے سے ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل اس کے نسب نامے کو کریدتے رہے یہاں تک کہ اسے شناخت کرلیا اور پتہ یہ چلاکہ وہ تو مالی طور پر وسعت رکھتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر کسی شخص کے پاس (مال ودولت کی ایک دووادیاں بھی ہوں تب بھی وہ تیسری کی تلاش میں ہوگا اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ اضافہ کردیا کہ ابن آدم کا پیٹ تو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے پھر اللہ اس پر متوجہ ہوجاتا ہے جوتوبہ کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے بتایا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کل میرے پاس آنا چنانچہ اگلے دن وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا یہ ابن عباس کیا کہتاہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھایاہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا میں اسے لکھ لوں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں چنانچہ انہوں نے اسے لکھ لیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21428

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17675

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَصْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ يَعْنِي ابْنَ خَلَفٍ أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسقلہ کی چوٹی پر تشریف فرما تھے، اور لوگوں سے اسلام اور شہادت پر بیعت لے رہے تھے، راوی نے پوچھا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے محمد بن اسود بن خلف نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اللہ پر ایمان اور اس بات کی شہادت پر بیعت لے رہے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَصْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ ← أن أباه الأسود أتى النبي يبايع الناس يوم الفتح ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17675

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21473

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حِكْمَةً قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَكَذَا يَقُولُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ فِي حَدِيثِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ كَذَا يَقُولُ غَيْرُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو كَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21473

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21483

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو مَعْمَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ وَقَالَ فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ وَخَالَفَ أَبُو مَعْمَرٍ رِوَايَةَ مَنْ رَوَاهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ لِأَنَّهُ رَوَاهُ عَدَدٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ وَقَالُوا فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← فِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ لأَنَّهُ رَوَاهُ عَدَدٌ ← فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ وَخَالَفَ أَبُو مَعْمَرٍ رِوَايَةَ مَنْ رَوَاهُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَكَذَا ← الْحَدِيثَ. ← النَّبِيِّ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الرَّحمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ یَغُوث: ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← و، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21483

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21490

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقُمْنَا جَمِيعًا فَدَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ هَذَا فَقَرَأَ قِرَاءَةً غَيْرَ قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأَا فَقَرَأَا قَالَ أَصَبْتُمَا فَلَمَّا قَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قَالَ كَبُرَ عَلَيَّ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي غَشِيَنِي ضَرَبَ فِي صَدْرِي فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَقًا فَقَالَ يَا أُبَيُّ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ

حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا ایک آدمی آیا اور اس طرح قرآن پڑھنے لگا جسے میں نہیں جانتا تھا پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں پڑھا ہم اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی مسجد میں آیا اور اس طرح قرآن پڑھا جس پر مجھے تعجب ہوا پھر یہ دوسرا آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں اسے پڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پڑھنے کے لئے فرمایا چنانچہ ان دونوں نے تلاوت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصویب فرمائی اس دن اسلام کے حوالے سے جو وسوسے میرے ذہن میں آئے کبھی ایسے وسوسے نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور میں پانی پانی ہوگیا اور یوں محسوس ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل اور میکائیل علیہم السلام آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے میں نے اپنے رب کے پاس پیغام بھیجا کہ میری امت پر آسانی فرما اس طرح ہوتے ہوتے سات حروف تک بات آگئی اور اللہ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھئے اور ہر مرتبہ کے عوض آپ مجھ سے ایک درخواست کریں میں اسے قبول کرلوں گا چنانچہ میں نے دو مرتبہ تو اپنی امت کی بخشش کی دعاء کرلی اور تیسری چیز کو اس دن کے لئے رکھ دیا جب ساری مخلوق حتٰی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میرے پاس آئیں گے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21490

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17724

حَدَّثَنَا يَعْلَى أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّالَّةِ مِنْ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَسْقِيهَا قَالَ نَعَمْ مِنْ كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْرٌ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان بھٹکے ہوئے اونٹوں کا مسئلہ پوچھا جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔

نَعَمْ مِنْ كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْرٌ ← الضَّالَّةِ مِنْ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَسْقِيهَا ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17724

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17727

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّالَّةِ مِنْ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي قَدْ لُطْتُهَا لِإِبِلِي هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي شَأْنِ مَا أَسْقِيهَا قَالَ نَعَمْ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْرٌ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان بھٹکے ہوئے اونٹوں کا مسئلہ پوچھا جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عمه سراقه بن مالك بن جعشم ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17727

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21498

حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ فَدَخَلَ رَجُلٌ آخَرُ فَصَلَّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ فَدَخَلَ هَذَا فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا فَقَرَءُوا فَقَالَ قَدْ أَحْسَنْتُمْ فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنْ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي ضَرَبَ صَدْرِي قَالَ فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَقًا فَقَالَ لِي أُبَيٌّ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ لِي اقْرَأْ عَلَى حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَرَدَّ عَلَيَّ أَنْ اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتَهَا سُؤْلَكَ أُعْطِيكَهَا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا ایک آدمی آیا اور اس طرح قرآن پڑھنے لگا جسے میں نہیں جانتا تھا پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں پڑھا ہم اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی مسجد میں آیا اور اس طرح قرآن پڑھا جس پر مجھے تعجب ہوا پھر یہ دوسرا آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں اسے پڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پڑھنے کے لئے فرمایا چنانچہ ان دونوں نے تلاوت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصویب فرمائی اس دن اسلام کے حوالے سے جو وسوسے میرے ذہن میں آئے کبھی ایسے وسوسے نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور میں پانی پانی ہوگیا اور یوں محسوس ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل اور میکائیل علیہم السلام آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے میں نے اپنے رب کے پاس پیغام بھیجا کہ میری امت پر آسانی فرما اس طرح ہوتے ہوتے سات حروف تک بات آگئی اور اللہ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھئے اور ہر مرتبہ کے عوض آپ مجھ سے ایک درخواست کریں میں اسے قبول کرلوں گا چنانچہ میں نے دو مرتبہ تو اپنی امت کی بخشش کی دعاء کر لی اور تیسری چیز کو اس دن کے لئے رکھ دیا جب ساری مخلوق حتٰی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میرے پاس آئیں گے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي: ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21498

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17779

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ بِمَكَّةَ إِمْلَاءً قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِنَا فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ قَالَ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ جَعْدٌ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِيَةٌ وَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خِلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لُبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي هُوَ كَسَنَةٍ أَيَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ قَالَ فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَمَدُّهُ خَوَاصِرَ وَأَسْبَغُهُ ضُرُوعًا وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّوا عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ شَيْءٌ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ قَالَ وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فَيُقْتَلُ فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ قَالَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ الشَّرْقِيِّ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ فَحَوِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتِنُهُمْ فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكِيُّ عَنْ كَعْبٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ فَتَطْرَحُهُمْ بِالْمُهَبَّلِ قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا يَزِيدَ وَأَيْنَ الْمُهَبَّلُ قَالَ مَطْلَعُ الشَّمْسِ قَالَ وَيُرْسِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَطَرًا لَا يَكُنْ مِنْهُ بَيْتُ وَبَرٍ وَلَا مَدَرٍ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ قَالَ فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنْ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى أَنَّ اللَّقْحَةَ مِنْ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنْ النَّاسِ وَاللَّقْحَةَ مِنْ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ وَالشَّاةَ مِنْ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ قَالَ فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ أَوْ قَالَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحَمِيرِ وَعَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ وَعَلَيْهِ تَقُومُ السَّاعَةُ

حضرت نواس بن سمعان کلابی سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دجال کا بیان کیا تو اس کی ذلت بھی بیان کی ( کہ وہ کانا ہے اور اللہ کے نزدیک ذلیل ہے) اور اس کی بڑائی بھی بیان کی (کہ اس کا فتنہ سخت ہے اور وہ عادت کے خلاف باتیں دکھلا دے گا) یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ ان کھجوروں میں ہے ( یعنی ایسا قریب ہے گویا حاضر ہے یہ آپ کے بیان کا اثر اور صحابہ کے ایمان کا سبب تھا) جب ہم لوٹ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے (یعنی دوسرے وقت) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے ڈر کا اثر ہم میں پایا ( ہمارے چہروں پر گھبراہٹ اور خوف سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اس کی ذلت بھی بیان کی اور اس کی عظمت بھی بیان کی یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ انہی کھجور کے درختوں میں ہے۔ آپ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کے سوا اوروں کا مجھے زیادہ ڈر ہے تم پر اور دجال اگر میری موجودگی میں نکلا تو میں اس سے حجت کروں گا تمہاری طرف سے ( تم الگ رہو گے) اور اگر اس وقت نکلے جب میں تم میں نہ ہوں (بلکہ میری وفات ہو جائے) تو ہر ایک شخص اپنی حجت آپ کر لے اور اللہ میرا خلیفہ ہے ہر مسلمان پر۔ دیکھو! دجال جوان ہے اس کے بال بہت گھنگھریالے ہیں اس کی آنکھ ابھری ہوئی ہے، دیکھو دجال خلسہ سے نکلے گا جو شام اور عراق کے درمیان (ایک راہ راہ) ہے اور فساد پھیلاتا پھرے گا دائیں طرف اور بائیں طرف ملکوں میں اے اللہ کے بندوں مضبوط رہنا ایمان پر ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چالیس دن تک جن میں ایک دن سال بھر کا ہوگا اور ایک دن ایک مہینے کا اور ایک دن ایک ہفتے کا اور باقی دن تمہارے ان دنوں کی طرح ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم! وہ دن جو ایک برس کا ہوگا کیا اس میں ہم کو ایک دن کی (پانچ نمازیں) کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اندازہ کر کے نماز پڑھ لو، ہم نے عرض کیا، وہ زمین میں کس قدر جلد چلے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی مثال بارش کی سی ہے جو ہوا کے بعد آتی ہے، وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور ان کو اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے (معاذ اللہ وہ الوہیت کا دعوی کرے گا) پھر وہ آسمان کو حکم دے گا ان پر پانی بر سے گا اور زمین کو حکم دے گا وہ اناج اگائے گی اور ان کے جانور شام کو آئیں گے ( چراگاہ سے لوٹ کر) ان کی کوہان خوب اونچی یعنی خوب موٹے تازے ہو کر اور ان کے تھن خوب بھرے ہوئے دودھ والے اور ان کی کوکھیں پھولی ہوں گی پھر ایک قوم کے پاس آئے گا ان کو اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی بات نہ مانیں گے ( اس کے اللہ ہونے کو رد کر دیں گے) آخر دجال ان کے پاس سے لوٹ جائے گا صبح کو ان کا مالک قحط زدہ ہوگا اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا۔ پھر دجال ایک کھنڈر پر سے گزرے گا اور اسے کہے گا اپنے خزانے نکال، اس کھنڈر کے سب خزانے اس کے ساتھ ہولیں گے جیسے شہد کی مکھیاں بڑی مکھی یعنی یعسوب کے ساتھ ہوتی ہیں ، پھر ایک شخص کو بلائے گا جو اچھا موٹا تازہ جوان ہوگا اور تلوار سے اس کو مارے گا۔ وہ دو ٹکڑے ہوجائے گا اور ہر ایک ٹکڑے کو دوسرے ٹکڑے سے تیر کے (گرنے کے) فاصلہ تک کر دے گا۔ پھر اس کا نام لے کر اس کو بلائے گا، وہ شخص زندہ ہو کر آئے گا اس کا منہ چمکتا ہوگا اور ہنستا ہوگا۔ خیر دجال اور لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اتنے میں اللہ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا اور وہ سفید مینار پر دمشق کے مشرق کی جانب اتریں گے۔ دو زرد کپڑے پہنے ہوئے (جو ورس یا زعفران میں رنگے ہوں گے) اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازو پر رکھے ہوئے، حضرت عیسی چلیں گے اور دجال کو باب لد پر پائیں گے، وہاں اس مردود کو قتل کریں گے، لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ وحی بھیجے گا، حضرت عیسی پر اے عیسی میں اپنے بندوں میں سے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ ان سے کوئی لڑ نہیں سکتا تو میرے ( مومن) بندوں کو طور پہاڑ پر لے جا اور اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو بھیجے گا اور جیسے اللہ نے فرمایا من کل حدب ینسلون یعنی ہر ایک ٹیلے پر سے پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے، حضرت عیسی اور آپ کے ساتھی اللہ کی بارگاہ میں دعا کریں گے تو اللہ یاجوج ماجوج کے لوگوں پر ایک پھوڑا بھیجے گا ( اس میں کیڑا ہوگا) ان کی گردنوں میں وہ دوسرے دن صبح کو سب مرے ہوئے ہوں گے جیسے ایک آدمی مرتا ہے اور حضرت عیسی اور آپ کے ساتھی پہاڑ سے اتریں گے اور ایک بالشت برابر جگہ نہ پائیں گے جو ان کی چکنائی، بدبو اور خون سے خالی ہو آخر وہ پھر دعا کریں گے اللہ کی جناب میں اللہ تعالیٰ کچھ پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر ہوں گی وہ ان کی لاشیں اٹھا کر لے جائیں گے اور جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا وہاں ڈال دیں گے پھر اللہ تعالیٰ پانی برسائے گا کوئی گھر خواہ وہ کچا ہو یا پکا اس پانی کو نہ روک سکے گا یہ پانی ان سب کو دھو ڈالے گا یہاں تک کہ زمین آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گی پھر زمین سے کہا جائے گا اب اپنے پھل اگا اور اپنی برکت پھر لا، اس دن کئی آدمی مل کر ایک انار کھائیں گے اور سیر ہو جائیں گے اور انار کے چلکے سے سایہ کریں گے (چھتری کی طرح) اتنے بڑے بڑے انار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ دودھ میں برکت دے گا یہاں تک کہ ایک دودھ والی اونٹنی لوگوں کی کئی جماعتوں پر کافی ہوگا ایک گائے دودھ والی ایک قبیلہ کے لوگوں کو کافی ہوگی اور ایک بکری دودھ والی ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہوگی اور ایک بکری دودھ والی ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہوجائے گی لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں کے تلے اثر کرے گی اور ہر ایک مومن کی روح قبض کرے گی اور باقی لوگ گدھوں کی طرح لڑتے جھگڑتے یا جماع کرتے (اعلانیہ) رہ جائیں گے ان ہی لوگوں پر قیامت ہوگی۔

النواس بن سمعان الكلابي ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ، قَاضِي حِمْصَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ بِمَكَّةَ إِمْلَاءً

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17779

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17781

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِىَّ قَالَ وَكَذَا قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ النَّاسُ عَلَيْهِ

حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند سمجھو کہ لوگ اس سے واقف ہوں ۔

الْبِرِّ وَالْإِثْمِ ← سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْأَنْصَارِيُّ ← وكذا ← أَبِيهِ أَنَّ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِىَّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17781

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17782

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ أَبُو الْمُغِيرَةِ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَعْلَمَهُ النَّاسُ

حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند سمجھو کہ لوگ اس سے واقف ہوں ۔

الْبِرِّ وَالْإِثْمِ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، ← يَحْيَی بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ ← صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْقُدُّوسِ أَبُو الْمُغِيرَةِ الْخَوْلَانِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17782

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17783

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيَّ يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ النَّاسُ عَلَيْهِ

حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند سمجھو کہ لوگ اس سے واقف ہوں ۔

الْبِرِّ وَالْإِثْمِ ← النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيَّ يَذْكُرُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17783

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17810

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ وَقَالَ هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي قَالَ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ قَالَ عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ

حضرت عبدالرحمن بن قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر ان کی پشت سے ان کی اولاد اور ساری مخلوق کو نکال کر فرمایا یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ، کسی شخص نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مواقع تقدیر کی بنیاد پر۔

قَائِلٌ ← هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي" ← إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← مُعَاوِيَةَ، ← ليث يعني ابن سعد ← الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17810

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25053

حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَا حَدَّثَںَا أَبُو بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللہِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الشُّؤْمُ سُؤءُ الْخُلُقِ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی نماز گدھے ، کافر، کتے اور عورت کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی، حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں تو گندے جانوروں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔

عَائِشَةَ ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← حَدَّثَںَا أَبُو بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللہِ ← أَبُو الْیَمَانِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25053

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25054

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّؤْمُ سُوءُ الْخُلُقِ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست بد اخلاقی کا نام ہے۔

عَائِشَةَ ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو الْیَمَانِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25054

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25161

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْأَبِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ فَقَالَتْ مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ تَرْجِعِينَ عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ

قیس کہتے ہیں کہ جب عائشہ صدیقہ رات کے وقت بنو عامر کے چشموں کے قریب پہنچیں تو وہاں کتے بھونکنے لگے، حضرت عائشہ نے پوچھا یہ کون ساچشمہ ہے؟ لوگوں نے بتایا مقام حوأب کا چشمہ، اس کا نام سنتے ہی انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اب میں یہیں سے واپس جاؤں گی، ان کے کسی ہمرا ہی نے کہا کہ آپ چلتی رہیں، مسلمان آپ کو دیکھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کے درمیان صلح کر وادے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا تم میں سے ایک عورت کی اس وقت کیا کیفیت ہو گی جس پر مقام حوأب کے کتے بھونکیں گے۔

نُبَاحَ الْكِلَابِ فَقَالَتْ مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ ← لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْأَبِ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ عَائِشَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25161

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18104

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ وَكَانَ ثِقَةً عَنِ أَبُو لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ إِلَى الْحَجِّ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْإِبِلَ ضِعَافٌ نَخْشَى أَنْ لَا تَحْمِلَنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا فِي ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ فَارْكَبُوهُنَّ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِنَّ كَمَا أُمِرْتُمْ ثُمَّ امْتَهِنُوهُنَّ لِأَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حج کے موقع پر صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ سواری کے لئے مرحمت فرمایا: ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) شاید یہ کمزوری کی وجہ سے ہمارا بوجھ نہ اٹھا سکے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر اونٹ کے کوہان میں ایک شیطان ہوتا ہے، جب تم اس پر سوار ہونے لگو تو اللہ کا نام لے کر سوار ہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، پھر اسے اپنے قابو میں کرلو، اللہ تعالیٰ اسے سواری کے قابل بنا دے گا۔

فَقُلْنَا لَهُ ← حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ إِلَى الْحَجِّ ← أَبُو لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ وَكَانَ ثِقَةً ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18104

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18115

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ قَالَ يَعْلَى وَكُنْتُ مِمَّا يَلِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا بَلَغْتُ الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ وَحَدَرْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِأَسْتَلِمَ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قُلْتُ أَلَا تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ قَالَ أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بَلَى قَالَ أَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ يَعْنِي الْغَرْبِيَّيْنِ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَانْفُذْ عَنْكَ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، میں بیت اللہ کے قریب تھا، جب میں حجر اسود کے ساتھ مغربی کونے پر پہنچا اور استلام کرنے کے لئے اپنے ہاتھ کو اٹھایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا کیا آپ ان دونوں کونوں کا استلام نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے کہا کیوں نہیں ، انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں مغربی کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں ، انہوں نے فرمایا تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں ؟ انہوں نے فرمایا تو پھر اسے ختم کرو۔

يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18115

chevron_left Previous
1…454647…1,192
Next chevron_right