Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحيوانات والمخلوقات

Animals & Creation

23837 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11277

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَالنَّتْنُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ قَالَ الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ دراصل کنویں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبودار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی

قِيلَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ مَرَّةً ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11277

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11304

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا آدَمُ قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ فَحِينَئِذٍ يَشِيبُ الْمَوْلُودُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ قَالَ فَيَقُولُونَ فَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ قَالَ فَقَالَ النَّاسُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَبَّرَ النَّاسُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے آدم! کھڑے ہوجاؤ اور جہنم کی فوج نکالو وہ لبیک کہہ کر عرض کریں گے کہ پروردگار! جہنم کی فوج سے کیا مراد ہے؟ ارشاد ہوگا کہ ہر ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لئے نکال لو، یہ وہ وقت ہوگا جب نو مولود بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ عورت کا وضع حمل ہو جائے گا، اور تم دیکھو گے کہ لوگ مدہوش ہو رہے ہیں ، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نو سونناوے آدمی یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور ایک تم میں سے ہوگا، یہ سن کر صحابہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوجاؤ، بخدا! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوگے، بخدا! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہوگے، اس پر صحابہ نے پھر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس دن کالے بیل میں سفید بال کی طرح یا سفید بیل میں کالے بال کی طرح ہو گے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11304

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11327

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي قَزَعَةُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ قُلْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لَكَ فِي ذَلِكَ مِنْ خَيْرٍ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ الزَّكَاةِ فَقَالَ لَا أَدْرِي أَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا فِي مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ وَفِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَسَأَلْتُهُ عَنْ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَكَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ فَقَالَ إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا فَكَانَتْ عَزِيمَةً فَأَفْطَرْنَا ثُمَّ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ

قزعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس وقت ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے، جب لوگ چھٹ گئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ لوگ آپ سے جو سوالات کررہے تھے، میں آپ سے وہ سوال نہیں کروں گا، میں آپ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں ہے، بالآخر حیل و حجت اور تکرار کے بعد انہوں نے فرمایا کہ جس وقت ظہر کی نماز کھڑی ہوتی، ہم میں سے کوئی شخص بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، گھر آکر وضو کرتا اور پھر مسجد واپس آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہی ہوتے تھے۔ پھر میں نے ان سے زکوۃ کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے یا نسبت کئے بغیر) فرمایا کہ دو سو درہم پر پانچ درہم واجب ہیں اور چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری واجب ہے، جب ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو دو سو تک اس میں دو بکریاں واجب ہوں گی، پھر اگر ایک بھی زیادہ ہوجائے تو تین سو تک تین بکریاں ہوں گی، پھر ہر سو پر ایک بکری واجب ہوگی، اسی طرح پانچ اونٹوں پر ایک بکری واجب ہوگی، دس میں دو، پندرہ میں تین ، بیس میں چار اور پچیس سے پینتیس تک ایک بنت مخاض ٣٦ سے ٤٥ تک ایک بنت لبون،٤٦ سے ٦٠ تک ایک حقہ، ٦١ سے ٧٥ تک ایک جذعہ، ٧٦ سے ٩٠ تک دوبنت لبون،٩١ سے ١٢٠ تک دو حقے ہوں واجب ہوں گے، اس کے بعد ہر پچاس میں ایک حقہ اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون واجب ہوگی۔ پھر میں نے ان سے روزے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے کی حالت میں مکہ مکرمہ کا سفر کیا، ہم نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اور اس حال میں روزہ ختم کر دینا زیادہ قوت کا باعث ہوگا، یہ رخصت تھی، جس پر ہم میں سے بعض نے اپنا روزہ برقرار رکھا اور بعض نے ختم کرلیا، پھر جب ہم نے اگلا پڑاؤ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم دشمن کے سامنے آگئے ہو اور اس حال میں روزہ ختم کر دینا زیادہ قوت کا باعث ہوگا اس لئے روزہ ختم کر دو، یہ عزیمت تھی، اس لئے ہم نے روزہ ختم کر دیا، پھر فرمایا کہ اس کے بعد ایک مرتبہ سفر میں ہم نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ حالت روزہ میں بھی دیکھا تھا۔

قَزَعَةَ ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11327

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11400

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ اونٹ والے اپنے اوپر فخر کرنے لگے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون اور وقار بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے۔

افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عطية بن سعد ← الْحَجَّاجِ، ← حَمَّادٌ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11400

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11439

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحِلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَإِنَّهُ خَاتَمُهُمْ عَلَيْهَا فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ فَرَأَيْتُمْ الْوَطْبَ أَوْ الرَّاوِيَةَ أَوْ السِّقَاءَ مِنْ اللَّبَنِ فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا فَإِنْ سَقَاكُمْ فَاشْرَبُوا وَإِلَّا فَلَا وَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمِلِينَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ثُمَّ اشْرَبُوا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ کسی اونٹنی کے تھنوں پر بندھا ہوا دھاگا اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کھولے، کیوںکہ وہ ان کی مہر ہے، جب تم کسی جنگل میں ہو اور وہاں تمہیں دودھ کا کوئی مٹکا یا مشکیزہ نظر آئے تو تین مرتبہ اونٹ کے مالکان کو آواز دو، اگر وہ تمہیں پلا دیں تو پی لو، ورنہ مت پیو، اور اگر تم ضرورت مند ہو اور تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہو تو اسے تم میں سے دو آدمی روک لیں ، پھر اسے پی لو۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ ← شَرِيکٍ ← حَجَّاجٌ، وَأَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11439

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11461

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ النَّارِ بَعْدَمَا احْتَرَقُوا وَصَارُوا فَحْمًا فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيَنْبُتُونَ فِيهَا كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلَيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ السَّعْدَانَةُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ لوگ جہنم سے اس وقت نکلیں گے جب وہ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے تو غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11461

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11551

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةُ رَحْمَةٍ فَقَسَمَ مِنْهَا جُزْءًا وَاحِدًا بَيْنَ الْخَلْقِ فَبِهِ يَتَرَاحَمُ النَّاسُ وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں ، جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے، اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں ، اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11551

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11552

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ عِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَجَعَلَ عِنْدَكُمْ وَاحِدَةً تَرَاحَمُونَ بِهَا بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَبَيْنَ الْخَلْقِ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ضَمَّهَا إِلَيْهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے، اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں ، اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس ہیں اور قیامت کے دن وہ ایک رحمت بھی ان ننانوے کے ساتھ ملا دے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11552

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14314

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَكَانَ النَّبِيُّ إِنَّمَا يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی مجھے ہر سرخ وسیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مخصوص قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے جبکہ مجھے تمام لوگوں کی طرف عمودی طور پر بھیجا گیا ہے۔ ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لئے حلال نہیں رہا۔ رعب کے ذریعے ایک مہینے کی مسافت پر میری مدد کی گئی ہے اور میرے لئے روئے زمین کو پاکیزہ بخش اور مسجد قرار دیا گیا ہے اس لئے جس شخص کو جہاں بھی نماز ملے وہ وہیں نماز پڑھ لے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يَزِيدَ الْفَقِيرِ ← سَيَّارٍ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14314

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14334

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ح وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ وَنُهَاقَ الْحَمِيرِ مِنْ اللَّيْلِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا تَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا هَدَأَتْ الرِّجْلُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبُثُّ فِي لَيْلِهِ مِنْ خَلْقِهِ مَا شَاءَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا أُجِيفَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَغَطُّوا الْجِرَارَ وَأَكْفِئُوا الْآنِيَةَ قَالَ يَزِيدُ وَأَوْكِئُوا الْقِرَبَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم رات کے وقت کتے کے بھونکنے یا گدھے کے چلانے کی آواز سنو تو اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ یہ جانور وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھ سکتے جب رات ڈھل جائے تو گھر سے کم نکلا کرو کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بہت سی مخلوق کو پھیلا دیتا ہے جیسے چاہتا ہے دروازے بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا کرو کیونکہ جس دروازے کو بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا جائے اسے شیطان نہیں کھول سکتا مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو مٹکے ڈھک دیا کرو اور برتنوں کو اوندھا کر دیا کرو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى ← وَيَزِيدُ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14334

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14493

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي بَنِي سَلِمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ هَذَا الْعَامَ قَالَ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَفْعَلَ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَشْرٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ أَهِلِّي فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَلَبَّى النَّاسُ وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَهُ مِنْ الْكَلَامِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُمْ شَيْئًا فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ شِمَالِهِ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ جَابِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَاسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي جَعْفَرًا فَقَرَأَ فِيهَا بِالتَّوْحِيدِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَصَدَقَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا الْكَلَامِ ثُمَّ نَزَلَ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ عَلَيْهَا كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا فَلَمَّا كَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ وَهُوَ فِي أَسْفَلِ الْمَرْوَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فَقَالَ لِلْأَبَدِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ فَقَدِمَ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ بِالْكُوفَةِ قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِي هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْهُ جَابِرٌ فَذَهَبْتُ مُحَرِّشًا أَسْتَفْتِي بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ قُلْتُ إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ وَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ أَبِي قَالَ صَدَقَتْ صَدَقَتْ صَدَقَتْ أَنَا أَمَرْتُهَا بِهِ قَالَ جَابِرٌ وَقَالَ لِعَلِيٍّ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ قَالَ وَمَعِي الْهَدْيُ قَالَ فَلَا تَحِلَّ قَالَ فَكَانَتْ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي أَتَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ وَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَ قَدْ وَقَفْتُ هَاهُنَا وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ

امام باقر فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ بنوسلمہ میں تھے ہم نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول نو برس مدینہ میں رہے حج نہیں کیا ہجرت کے بعد دسویں سال آپ نے لوگوں میں اعلان کروادیا کہ اللہ کے رسول حج کرنے والے ہیں تو مدینہ میں بہت لوگ آئے ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور تمام اعمال آپ کی مانند کریں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیس ذی قعدہ کو نکلے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی تو انہوں نے وہی سے کسی کو بھیج کر اللہ کے رسول سے دریافت کیا کہ کیا کروں فرمایا کہ نہا لو اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر احرام باندھ لو خیر آپ قصوی اونٹنی پر سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی مقام بیضاء میں سیدھی ہوئی آپ نے کلمہ تو حید پکارا اور یہ کہا لبیک اللھم لبیک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لوگوں نے بھی یہی تلبیہ کیا جو آپ نے کیا کچھ لوگوں نے اس میں ذی المعارج وغیرہ کا بھی اضافہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے سنتے بھی رہے لیکن انہیں کچھ نہیں کہا میں نے تاحد نگاہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں دائیں پیدل اور سوار دیکھے یہی حال پیچھے دائیں اور بائیں کا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے ان پر قرآن نازل ہوتا تھا وہ اس کا مطلب جانتے تھے لہذا وہ جو بھی کرتے ہم بھی اس طرح کرتے تھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہماری نیت صرف حج کی تھی جب ہم بیت اللہ پہنچے تو آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلے پھر مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعتیں پڑھ کر فرمایا " واتخذو من مقام ابراہیم مصلی' اور آپ نے ان دو رکعتوں میں " قل یا ایھا الکافرون " اور قل ھو اللہ احد پڑھی پھر بیت اللہ کے قریب واپس آئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا اور دروازے سے صفا کی طرف نکلے جب آپ صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی" ان الصفا والمروۃ من شعائراللہ " ہم بھی اسی سے ابتداء کریں گے جسے اللہ نے پہلے ذکر فرمایا چنانچہ آپ نے صفاسے ابتداء کی صفا پر چڑھے جب بیت اللہ پر نظر پڑی توتکبیر کہہ کر فرمایا لا الہ اللہ وحدہ لاشریک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ۔ ۔ پھر اس کے درمیان یہ دعاکی اور یہی کلمات تین بار دہرائے پھر وہ مروہ کی طرف چلے جب آپ کے پاؤں وادی کے نشیب میں اترنے لگے تو آپ نے نشیب میں رمل کیا (کندھے ہلا کر تیز چلے) جب اوپر چڑھنے لگے تو پھر معمول کی رفتار سے چلنے لگے اور مروہ پر بھی وہی کیا جو صفاپر کیا جب آپ نے مروہ پر ساتواں چکرلگالیا تو فرمایا اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی اپنے ساتھ نہ لاتا اور حج کو عمرہ میں بدل دیتا تو تم میں سے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے اور اس حج کو عمرہ میں بدل لے توسب لوگ حلال ہو گئے پھر سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کی یہ حکم ہمیں اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تو اللہ کے رسول نے انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر فرمایا عمرہ حج میں اس طرح داخل ہوگیا ہے پھر تین مرتبہ فرمایا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے اور حضرت علی یمن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں لے کرپہنچے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ حلال ہو کر رنگین کپڑے پہنے ہوئے سرمہ لگائے ہوئے ہیں تو انہیں اس پر تعجب ہوا حضرت فاطمہ نے کہا میرے والد نے مجھے یہی حکم دیا ہے حضرت علی کوفہ میں فرمایا کرتے تھے اس کے بعد میں اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا فاطمہ کے اس عمل پر غصہ کی حالت میں اور اللہ کے رسول سے وہ بات پوچھنے کے لئے جوفاطمہ نے ان کے حوالہ سے ذکر کی کہ ایام حج میں حلال ہو کر رنگین کپڑے اور سرمہ لگائیں تو آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا میں نے ہی اسے یہ حکم دیا تھا پھر فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا حضرت علی فرماتے ہیں میں نے کہا اے اللہ میں بھی وہی احرام باندھتا ہوں جو آپ کے رسول نے احرام باندھا تھا آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ تو ہدی ہے تو تم بھی حلال مت ہونا اور حضرت علی یمن سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے جو اونٹ لائے تھے سب ملا کر سو ہو گئے پھر آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے اور باقی علی کرم اللہ وجہہ کو دیدیئے جوانہوں نے نحر کیا اور ان کو آپ نے اپنی ہدی میں شریک کر لیا پھر آپ کے حکم کے مطابق ہر اونٹ سے گوشت کا ایک پارچہ لے کر ایک دیگ میں ڈال کر پکایا گیا پھر آپ اور حضرت علی نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر اللہ کے رسول نے فرمایا میں نے قربانی یہاں کی ہے اور منی پورا ہی قربان گاہ ہے اور عرفات میں وقوف کر کے فرمایا میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پوراعرفات ہی وقوف کی جگہ ہے اور مزدلفہ میں وقوف کر کے فرمایا میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔

حَجَّةِ النَّبِيِّ فَحَدَّثَنَا ← أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ فِي بَنِي سَلَمَةَ فَسَأَلْنَاهُ ← أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14493

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14496

قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهَا كُلِّهَا وَقَعَدَ لَهَا وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرًا الْأَنْصَارِيَّ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ایک آدمی نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اونٹوں کا حق کیا ہے آپ نے فرمایا پانی پر اس کا دودھ دوہنا اس کا ڈول کسی کو مانگنے پر دینا اس کا نر مانگنے پر کسی کودینا اسے ہبہ کردینا اور جہاد فی سبیل اللہ کے موقع پر اس پر سوار ہونا۔

رَجُلٌ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14496

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14510

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بعُكَاظٍ وَمَجَنَّةَ وَفِي الْمَوَاسِمِ بِمِنًى يَقُولُ مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ كَذَا قَالَ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِجَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ مِنْ يَثْرِبَ فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا فَقُلْنَا حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُكَ قَالَ تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنْ الْمُنْكَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمْ الْجَنَّةُ قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ فَقَالَ رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنَّ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جَبِينَةً فَبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ عُذْرٌ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ قَالُوا أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا وَشَرَطَ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ ضَاحِيَةً مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ فِي كَلَامِ أَسْعَدَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منی میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جا جا کر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کرے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گذرتے وہ انگلیوں سے انکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہو جاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایساباقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہوگئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے ، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شر ط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی۔ حضرت اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں سے نکال کر لے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کرسکو تو تمہاراجروثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذراسی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کر دو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہوجائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو بخداہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پرہم سے بیعت لے لی۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14510

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14517

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ فَذَبَحُوهَا وَمَلَئُوا مِنْهَا الْقُدُورَ فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَابِرٌ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقٍ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ ذَا وَأَطْيَبُ مِنْ ذَا قَالَ فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطُّيُورِ وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ وَالْخِلْسَةَ وَالنُّهْبَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر لوگ بھوک کا شکار تھے انہوں نے پالتوں گدھوں کو پکڑ کر ذبح کیا اور ہانڈیاں بھر کرچڑھا دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اپنی ہانڈیاں الٹا دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب اللہ تمہیں ایسا رزق عطا فرمائے گا جوا سے حلال اور زیادہ پاکیزہ ہو گا چنانچہ اس دن ہم نے ابلتی ہوئی ہانڈیاں اٹھادی تھیں اور اسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتوں گدھوں اور خچروں کا گوشت ، کچلی والے جانور اور پنجے والے پرندے ، باندھ کر نشانہ بنائے جانے والے جانور اور جانور کے منہ سے چھڑائے ہوئے مرنے والے جانور اور جانور سے چھین کرمر جانے والے جانور کو حرام قرار دیا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عكرمة يعني ابن عمار ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14517

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14551

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ قَالَ قُلْنَا وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیلو چن رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے سیاہ دانے اکٹھے کرو کہ وہ بہت عمدہ ہوتا ہے ہم نے عرض کی کہ کیا آپ بھی بکریاں چراتے رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور ہر نبی نے بکریاں چرائیں ہیں۔

قُلْنَا وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ ← جَابِرٍ أَنَّهُ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14551

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1788

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ قَالَ الْعَبَّاسُ بَلَغَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ مَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ مَنْ أَنَا قَالُوا أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ خَلْقِهِ وَجَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ فِرْقَةٍ وَخَلَقَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ قَبِيلَةٍ وَجَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا

It was narrated that al- Muttalib bin Abu Wada'ah said: al- ' Abbas said: The Prophet (PBUH) heard of some of what the people were saying, so he ascended the minbar and said: "Who am I?” They said: You are the Messenger of Allah. He said: "I am Muhammad bin 'Abdullah bin 'Abdul-Muttalib. Allah created creation and He made me among the best of His creation. Then He made them into two groups, and He put me in the best group. And He created tribes, and He put me in the best tribe. And He made them families, and He put me in the best family. So I am the best of you in family and the best of you as an individual."

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← أَنْتُ رَسُولُ اللَّهِ ← مَنْ ← فصعد المنبر، ← النَّاسُ: ← العباس بلغه بعض ما ← الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1788

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1803

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ فَرَأَى النَّاسَ يُوضِعُونَ فَأَمَرَ مُنَادِيَهُ فَنَادَى لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ

It was narrated that al-Fadl bin 'Abbas - who rode seated behind the Prophet (PBUH) when he moved on from 'Arafah - said: He (the Prophet (PBUH) saw the people moving quickly, so he ordered his caller to call out: "It is not righteous- ness to move quickly with horses and camels; be calm."

الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1803

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14629

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنْ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ کتوں کو ختم کرو چنانچہ اگر کوئی عورت دیہات سے بھی اپنا کوئی کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مارڈالتے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا صرف اس کالے سیاہ کتے کو مارا کرو جو دونقطوں والا ہو کیونکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14629

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14792

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فُتِحَتْ حُنَيْنٌ بَعَثَ سَرَايَا فَأَتَوْا بِالْإِبِلِ وَالشَّاءِ فَقَسَمَهَا فِي قُرَيْشٍ قَالَ فَوَجَدْنَا أَيُّهَا الْأَنْصَارُ عَلَيْهِ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَنَا فَخَطَبَنَا فَقَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّكُمْ أُعْطِيتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ لَوْ سَلَكَتْ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ شِعْبًا لَاتَّبَعْتُ شِعْبَكُمْ قَالُوا رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین میں فتح حاصل کر لی تو آپ نے مختلف دستے روانہ فرمائے وہ اونٹ اور بکریاں لے کر آئے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں تقسیم کردیا ہم انصار نے اس بات کو اپنے دل میں محسوس کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ نے ہمیں جمع کر کے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں اللہ کے رسول مل جائے واللہ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسری گھاٹی میں ہو تو میں تمہاری گھاٹی کو اختیار کروں گا اس پر وہ کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ہم راضی ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14792

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14901

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَسَنٌ وَيُونُسُ قَالُوا ثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ الْخَيْلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں کا گوشت کھایا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خچروں اور پالتوں گدھوں سے منع فرمایا تھا لیکن گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا تھا۔

الْخَيْلِ» ← الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ وَلَمْ يَنْهَنَا ← ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ وَحَسَنٌ وَيُونُسُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14901

chevron_left Previous
1…414243…1,192
Next chevron_right