Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحيوانات والمخلوقات

Animals & Creation

23837 hadiths

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب البيوع ‹ (45) جامع البيوع · حديث 2708

2708 - قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الإِبِلَ وِ الْغَنَمَ، أَوِ الْبَزَّ أَوِ الرَّقِيقَ أَوْ شَيْئًا مِنَ الْعُرُوضِ جِزَافًا: فإِنَّهُ لاَ يَكُونُ الْجِزَافُ فِيمَّا يُعَدُّ عَدًّا.

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 2708

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب المكاتب ‹ (4) بيع المكاتب · حديث 2829

2829 - قَالَ مالك: وَإِنْ كَاتَبَ الْمُكَاتَبَ سَيِّدُهُ بِعَرْضٍ مِنَ الْعُرُوضِ مِنَ الإِبِلِ وِ الْبَقَرِ وِ الْغَنَمِ وِ الرَّقِيقِ، فَإِنَّهُ يَصْلُحُ لِلْمُشْتَرِي أَنْ يَشْتَرِي بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ عَرْضٍ مُخَالِفٍ لِلْعُرُوضِ الَّذي كَاتَبَهُ سَيِّدُهُ عَلَيْهَا , يُعَجِّلُه إياه وَلاَ يُؤَخِّرُهُ.

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 2829

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الأقضية ‹ (5) إلحاق الولد بأبيه · حديث 2889

2889 - حدثنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - كَانَ يُلِيطُ أَوْلاَدَ الْجَاهِلِيَّةِ بِمَنِ ادَّعَاهُمْ فِي الإِسْلاَمِ، قال سليمان فَأَتَى رَجُلاَنِ كِلاَهُمَا يَدَّعِي وَلَدَ امْرَأَةٍ، فَدَعَا عُمَرُ قَائِفًا , فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَقَالَ الْقَائِفُ: لَقَدِ اشْتَرَكَا فِيهِ , فَضَرَبَهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ، قال: ما يدريك؟ ثُمَّ دَعَا الْمَرْأَةَ، فَقَالَ: أَخْبِرِينِي خَبَرَكِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ هَذَا لأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ يَأْتِيها، وَهِيَ فِي الإِبِلٍ لأَهْلِهَا، فَلاَ يُفَارِقُهَا حَتَّى يَظُنَّ وَتَظُنَّ أَنَّ قَدِ اسْتَمَرَّ بِهَا حَملٌ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهَا، فَهَرِقَتْ الدِمَاءٌ، ثُمَّ خَلَفَ هَذَا، تَعْنِي الآخَرَ، ولاَ أَدْرِي مِنْ أَيِّهِمَا هُوَ؟ قَالَ: فَكَبَّرَ الْقَائِفُ , فَقَالَ عُمَرُ لِلْغُلاَمِ: وَالِ أَيَّهُمَا شِئْتَ.

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 2889

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب النحل والعطية ‹ (2) باب ما يجوز من النحل للِصِّغَارِ · حديث 2943

2943 - وَإِنْ كَانَ النَّحْلُ عَبْدًا أَوْ وَلِيدَةً أَوْ شَيْئًا مَعْلُومًا مَعْرُوفًا، ثُمَّ أَشْهَدَ عَلَيْهِ، وَأَعْلَنَ بِهِ ثُمَّ مَاتَ الأَبُ، وَهُوَ يَلِي ابْنَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ لأَبِيهِ.

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 2943

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الرهون ‹ (9) باب اللقطة · حديث 2975

2975 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا قَالَ فَضَالَّةُ: الْغَنَمِ؟ قَالَ: لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ فَضَالَّةُ: الْإِبِلِ؟ قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا.

فضالة الإبل ← لك أو لأخيك أو للذئب ← فضالة الغنم ← «اعْرِفْ عِفَاصَهَا، وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا»، ← اللقطة ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَسَأَلَهُ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ ← يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 2975

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الرهون ‹ (11) باب ضوال الإبل · حديث 2981

2981 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ: كَانَتْ ضَوَالُّ الإِبِلِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِبِلاً مُؤَبَّلَةً تتَنَاتَجُ، لاَ يَمَسُّهَا أَحَدٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَمَرَ بمَعْرفتِهَا وتعريفها، ثُمَّ تُبَاعُ، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا، أُعْطِيَ ثَمَنَهَا.

ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٌ، أَنَّهُ ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 2981

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 484

وعن انس ان ابا بكر الصديق رضي الله عنه كتب له: هذه فريضة الصدقة التي فرضها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على المسلمين والتي امر الله بها رسوله: «‏‏‏‏في كل اربع وعشرين من الإبل فما دونها الغنم: في كل خمس شاة فإذا بلغت خمسا وعشرين إلى خمس وثلاثين فيها بنت مخاض اثنى فإن لم تكن فابن لبون ذكر فإذا بلغت ستا وثلاثين إلى خمس واربعين ففيها بنت لبون انثى فإذا بلغت ستا واربعين إلى ستين ففيها حقة طروق الجمل فإذا بلغت واحدة وستين إلى خمس وسبعين ففيها جذعة فإذا بلغت ستا وسبعين إلى تسعين ففيها بنتا لبون فإذا بلغت إحدى وتسعين إلى عشرين ومائة ففيها حقتان طروقتا الجمل فإذا زادت على عشرين ومائة ففي كل اربعين بنت لبون وفي كل خمسين حقة ومن لم يكن معه إلا اربع من الإبل فليس فيها صدقة إلا ان يشاء ربها. وفي صدقة الغنم في سائمتها إذع كانت اربعين إلى عشرين ومائة شاة شاة فإذا زادت على عشرين ومائة إلى مائتين ففيها شاتان فإذا زادت على مائتين إلى ثلاثمائة ففيها ثلاث شياه فإذا زادت على ثلاثمائة ففي كل مائة شاة. فإذا كانت سائمة الرجل ناقصة من اربعين شاة شاة واحدة فليس فيها صدقة إلا ان يشاء ربها ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة وما كان من خلطين فإنهما تتراجعان بينهما بالسوية ولا يخرج في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس إلا ان يشاء المصدق وفي الرقة: في مائتي درهم ربع العشر فإن لم تكن إلا تسعين ومائة فليس فيها صدقة إلا ان يشاء ربها ومن بلغت عنده من الإبل صدقة الجذعة،‏‏‏‏ وليست عنده جذعة وعنده حقة فإنها تقبل منه ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده الحقة وعنده الجذعة فإنها تقبل منه الجذعة ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين» .‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو فریضہ زکٰوۃ کے سلسلہ میں یہ تحریر لکھ کر دی تھی۔ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمایا تھا اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا کہ اونٹوں کی چوبیس یا اس سے کم تعداد پر بکریاں ہیں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری، جب تعداد پچیس سے بڑھ کر پینتیس ہو جائے تو اس تعداد پر ایک سالہ اونٹنی۔ اگر میسر نہ ہو تو پھر دو سالہ نر بچہ اور جب چھتیس سے تعداد بڑھ کر پینتالیس تک پہنچ جائے تو ان میں دو سالہ اونٹنی اور جب چھیالیس سے بڑھ کر ساٹھ تک تعداد پہنچ جائے تو ان میں تین سالہ جوان اونٹ جفتی کے قابل اونٹنی اور جب اکسٹھ سے بڑھ کر پچھتر تک پہنچ جائے تو ان میں چار سالہ اونٹ اور جب چھہتر سے تعداد بڑھ کر نوے ہو جائے تو ان میں دو ‘ دو سالہ دو اونٹنیاں اور پھر اکانوے سے بڑھ کر تعداد ایک سو بیس تک پہنچ جائے تو ان میں تین ‘ تین سالہ دو جوان اونٹنیاں۔ جو اونٹ کی جفتی کے قابل ہوں۔ اور جب تعداد ایک سو بیس سے زائد ہو جائے تو پھر ہر چالیس اونٹوں پر ایک دو سالہ اونٹنی اور ہر پچاس پر تین سالہ اور جس کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو اس تعداد پر کوئی زکٰوۃ نہیں الایہ کہ ان کا مالک چاہے اور بکریوں کی زکٰوۃ کہ جو باہر چرنے جاتی ہوں ‘ چالیس سے لے کر ایک سو بیس کی تعداد پر صرف ایک بکری زکٰوۃ میں وصول کی جائے گی۔ جب یہ تعداد ایک سو بیس سے بڑھ کر دو سو تک پہنچ جائے گی تو دو بکریاں زکٰوۃ میں وصول کی جائیں گی۔ پھر جب دو سو سے بڑھ کر تین سو تک پہنچ جائے گی تو تین بکریاں وصول کی جائیں گی۔ جب تعداد تین سو سے بڑھ جائے گی تو ہر سو بکری پر ایک بکری زکٰوۃ وصول کی جائے گی ‘ اگر کسی کی باہر جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم تعداد میں ہوں تو مالک پر کوئی زکٰوۃ نہیں الایہ کہ مالک چاہے۔ زکٰوۃ کے ڈر سے نہ تو الگ الگ چرنے والیوں کو اکٹھا کیا جائے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو الگ الگ۔ اور جو جانور دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہوں وہ مساوی طور پر زکٰوۃ کا حصہ نکالیں۔ زکٰوۃ کی مد میں بوڑھا اور نہ یک چشم جانور اور نہ سانڈ لیا جائے الایہ کہ زکٰوۃ دینے والا خود چاہے۔ اور چاندی کے سکوں کا نصاب دو سو درہم ہے اس میں سے چالیسواں حصہ زکٰوۃ ہے۔ اگر کسی کے پاس دو سو درہم سے ایک درہم بھی کم ہے تو اس پر زکٰوۃ واجب نہیں الایہ کہ اس کا مالک خود دینا چاہے۔ اور جس کے اونٹوں کی زکٰوۃ میں چار سالہ اونٹ واجب الوصول ہو اور اس کے پاس اس عمر کا اونٹ نہ ہو اور اس کے پاس تین سالہ ہو جوان اونٹنی تو اس سے دو بکریاں اور تین سالہ جفتی کے لائق جوان اونٹنی وصول کی جائے بشرطیکہ بکریاں بآسانی دستیاب ہو سکیں یا بیس درہم دینا ہوں گے اور جس کی زکٰوۃ میں تین سالہ جوان اونٹنی آتی ہو اور اس کے پاس چار سالہ اونٹ ہو تو اس سے وہی چار سالہ اونٹ ہی وصول کر لیا جائے گا مگر زکٰوۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے گا (بخاری)

له: هذه فريضة الصدقة التي فرضها رسول الله صلى الله عليه ← أَنَسٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ

Bulugh Al Maram · The Book of Zakat › Chapter · Hadith 484

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 612

وعن ابن عباس رضي الله عنهما انه كان يقبل الحجر الاسود ويسجد عليه. رواه الحاكم مرفوعا والبيهفي موقوفا.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دیتے اور اس کے سامنے سجدہ کرتے۔ اسے حاکم نے مرفوع اور بیہقی نے موقوف روایت کیا ہے۔

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 612

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 636

وعن عاصم بن عدي رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ارخص لرعاة الإبل في البيتوته عن منى يرمون يوم النحر،‏‏‏‏ ثم يرمون الغد ومن بعد الغد ليومين،‏‏‏‏ ثم يرمون يوم النفر.رواه الخمسة وصححه الترمذي وابن حبان.

سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو منی سے باہر رات گزارنے کی اجازت دے دی کہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں پھر دوسرے اور تیسرے دو روز بھی کنکریاں ماریں پھر کوچ کے سنگریزے ماریں۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 636

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 670

وعنه قال: قلت: يا رسول الله! إني ابيع الإبل بالبقيع،‏‏‏‏ فابيع بالدنانير،‏‏‏‏ وآخذ الدراهم،‏‏‏‏ وابيع بالدراهم،‏‏‏‏ وآخذ الدنانير،‏‏‏‏ آخذ هذى من هذه،‏‏‏‏ واعطي هذه من هذا،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا باس ان تاخذها بسعر يومها ما لم تتفرقا وبينكما شيء» .‏‏‏‏ رواه الخمسة،‏‏‏‏ وصححه الحاكم.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ ”میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میں بقیع میں اونٹوں کی تجارت کرتا ہوں۔ دینار میں فروخت کر کے درہم وصول کرتا ہوں اور (کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ) میں فروخت تو درہم میں کرتا ہوں اور دینار وصول کرتا ہوں (یعنی) دینار کے بدلے میں درہم اور درہم کے بدلے میں دینار لیتا ہوں۔ اس کے عوض وہ لیتا ہوں اور اس کے بدلے میں یہ دیتا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر اسی روز کے بھاؤ سے ان کا تبادلہ کر لو اور خرید و فروخت کرنے والوں کے ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے رقم کا کوئی حصہ کسی کے ذمہ باقی نہ رہے تو جائز ہے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔

قُلْتُ ← وعنه

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 670

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 681

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه،‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال:«‏‏‏‏لا تصروا الإبل والغنم،‏‏‏‏ فمن ابتاعها بعد،‏‏‏‏ فهو بخير النظرين بعد ان يحلبها،‏‏‏‏ إن شاء امسكها،‏‏‏‏ وإن شاء ردها وصاعا من تمر» . متفق عليه،‏‏‏‏ ولمسلم: «‏‏‏‏فهو بالخيارثلاثة ايام» ‏‏‏‏ وفي رواية له علقها البخاري: «‏‏‏‏ورد معها صاعا من طعام لا سمراء» ‏‏‏‏ قال البخاري: والتمر اكثر.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کا دودھ فروخت کرتے وقت ان کے تھنوں میں روکے نہ رکھو۔ جو شخص ایسا جانور خرید لے تو اسے دو باتوں میں سے بہتر کے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے، چاہے اس جانور کو اپنے پاس رکھ لے اور چاہے تو ایک صاع کھجور ساتھ دے کر واپس کر دے۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اسے تین دن تک اختیار ہے اور مسلم کی ایک روایت میں ہے، جسے بخاری نے تعلیقا نقل کیا ہے کہ ”اس کے ساتھ ایک صاع کسی کھانے والی چیز سے واپس کرے، گندم نہیں۔“ بخاری نے کہا کہ اکثر روایات میں کھجور کا ذکر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 681

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 708

وعنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم امره ان يجهز جيشا فنفدت الإبل فامره ان ياخذ على قلائص الصدقة قال: فكنت آخذ البعير بالبعيرين إلى إبل الصدقة. رواه الحاكم والبيهقي ورجاله ثقات.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا۔ اونٹ ختم ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کے اونٹوں پر (ادھار اونٹ) لینے کا حکم ارشاد فرمایا راوی کہتے ہیں میں ایک اونٹ، صدقہ کے دو اونٹوں کے بدلہ لیتا تھا۔ اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اس کے ثقہ ہیں۔

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 708

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1238

وعن النواس بن سمعان رضي الله عنه قال: سالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن البر والإثم فقال: «‏‏‏‏البر حسن الخلق والإثم ما حاك في صدرك وكرهت ان يطلع عليه الناس» ‏‏‏‏ اخرجه مسلم.

سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو ناپسند سمجھے کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔“ (مسلم)

الْبِرِّ وَالْإِثْمِ ← سالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ،

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1238

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1295

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏خصلتان لا يجتمعان في مؤمن: البخل وسوء الخلق» ‏‏‏‏ اخرجه الترمذي وفي سنده ضعف.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” دو خصلتیں ایسی ہیں جو کسی مومن میں جمع نہیں ہو سکتیں بخل اور برا اخلاق۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1295

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1318

وعن ابي الدرداء رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ما من شيء في الميزان اثقل من حسن الخلق» ‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والترمذي وصححه.

سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اچھے خلق سے زیادہ کوئی اور چیز ترازو میں وزنی نہیں ہے۔ “ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ،

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1318

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1327

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏اكثر ما يدخل الجنة تقوى الله وحسن الخلق» اخرجه الترمذي وصححه الحاكم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو چیز اکثر جنت میں جانے کا سبب بنے گی وہ اللہ کا ڈر اور حسن خلق ہے۔“ اسے ترمذی نے نکالا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1327

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1328

وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إنكم لا تسعون الناس باموالكم ولكن ليسعهم منكم بسط الوجه وحسن الخلق» اخرجه ابو يعلى وصححه الحاكم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم لوگوں میں رسائی مال کے ذریعہ پیدا نہیں کر سکتے اس لئے تمہیں چاہیئے کہ حسن خلق و کشادہ روئی سے لوگوں کے اندر رسائی پیدا کرو۔“ اسے ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

وعنه

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1328

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 70

وعن جابر بن سمرة رضي الله عنه ان رجلا سال النبي صلى الله عليه وآله وسلم:اتوضا من لحوم الغنم؟ قال: «‏‏‏‏إن شئت» ‏‏‏‏ قال: اتوضا من لحوم الإبل؟ قال: «‏‏‏‏نعم» . اخرجه مسلم.

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کیا میں بکری کا گوشت کھاؤں تو بعد میں وضو کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر دل چاہے تو کر لو۔“ اس شخص نے پھر عرض کیا اور اونٹ کے گوشت سے؟ فرمایا ”اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا چاہیئے۔“ (مسلم)

نَعَمْ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ ← أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ← إِنْ شِئْتَ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 70

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 168

وعن ابن عمر رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى ان يصلى في سبع مواطن: المزبلة والمجزرة والمقبرة وقارعة الطريق والحمام ومعاطن الإبل وفوق ظهر بيت الله تعالى. رواه الترمذي وضعفه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے کوڑا کرکٹ (ڈالنے) کی جگہ، ذبح خانہ، قبرستان، شارع عام، حمام، اونٹ باندھنے کی جگہ (باڑا) اور بیت اللہ کی چھت پر۔ ترمذی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 168

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 183

وعن ابي ذر الغفاري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يقطع صلاة الرجل المسلم إذا لم يكن بين يديه مثل مؤخرة الرحل؛ المراة والحمار والكلب الاسود» . الحديث. وفيه: «‏‏‏‏الكلب الاسود شيطان» .‏‏‏‏ اخرجه مسلم. وله عن ابي هريرة نحوه دون الكلب. ولابي داود والنسائي عن ابن عباس رضي الله عنهما نحوه دون آخره،‏‏‏‏ وقيد المراة بالحائض.

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مسلمان مرد کی نماز کو جب کہ اس کے آگے پالان کے پچھلے حصہ کے برابر سترہ نہ ہو عورت، گدھا اور کالا کتا توڑ دیتا ہے۔ “ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں کہ ” کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ “ (مسلم) اور اس میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بھی ہے مگر اس میں کتے کا ذکر نہیں ہے۔ نیز ابوداؤد اور نسائی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے مگر اس میں حدیث کا آخری حصہ نہیں ہے اور عورت کے متعلق حائضہ ہونے کی قید لگائی ہے۔

أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 183

chevron_left Previous
1…293031…1,192
Next chevron_right