Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مصنف ابن أبي شيبة · 36- كتاب الزُّهْدِ ‹ 62- كلام الحسنِ البصرِيِّ رحمه الله. · حديث 36383

36383- حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ الأَسَدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : الإِيمَانُ عُرْيَانٌ ، وَلِبَاسُهُ التَّقْوَى ، وَمَالُهُ الْفِقْهُ ، وَزِينَتُهُ الْحَيَاءُ.

36383 - حضرت ابن ممبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایمان بر ہنہ ہوتا ہے اور اس کا لباس تقوی ہے اور اس کا مال فقہ ہے اور اس کی زینت حیا ہے ۔

الإِيمَانُ عُرْيَانٌ وَلِبَاسُهُ التَّقْوَى وَمَالُهُ الْفِقْهُ وَزِينَتُهُ الْحَيَاءُ. ← ابْنِ مُنَبِّهٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ الأَسَدِيِّ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 36- The Book of Asceticism › 62- The words of Hassan Al-Basri, may God have mercy on him. · Hadith 36383

مصنف ابن أبي شيبة · 36- كتاب الزُّهْدِ ‹ 62- كلام الحسنِ البصرِيِّ رحمه الله. · حديث 36452

36452- حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ : {وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ} قَالَ : مِنَ الإِيمَانِ.

36452 – حضرت حسن سے قرآ ن مجید کی آیت کے بارے میں منقول ہے کہ س سے مرا د ایمان سے محروم ہونا ہے ۔

مِنَ الإِيمَانِ. ← الْحَسَنِ {وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ} ← أَبِي الْأَشْهَبِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 36- The Book of Asceticism › 62- The words of Hassan Al-Basri, may God have mercy on him. · Hadith 36452

مصنف ابن أبي شيبة · 36- كتاب الزُّهْدِ ‹ 64- سعِيد بن جبيرٍ رحمه الله. · حديث 36490

36490- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : التَّوَكُّلُ عَلَى اللهِ جِمَاعُ الإِيمَانِ.

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اللہ پر توکل کرنا ایمان کی بنیاد ہے۔

التَّوَكُّلُ عَلَى اللهِ جِمَاعُ الإِيمَانِ. ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي سِنَانٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 36- The Book of Asceticism › 64- Saeed bin Jubair, may God have mercy on him. · Hadith 36490

مصنف ابن أبي شيبة · 24- كِتاب فضائِلِ القرآنِ ‹ 42- فِي مِثلِ من جمع القرآن والإِيمان. · حديث 30797

30797- حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مَثَلُ الَّذِي جَمَعَ الإِيمَانَ وَجَمَعَ الْقُرْآنَ مِثْلُ الأُتْرُجَّةِ الطَّيِّبَةِ الطَّعْمِ ، وَمَثَلُ الَّذِي لَمْ يَجْمَعَ الإِيمَانَ وَلَمْ يَجْمَعَ الْقُرْآنَ مِثْلُ الْحَنْظَلَةِ خَبِيثَةُ الطَّعْمِ وَخَبِيثَةُ الرِّيحِ.

حضرت حارث رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: مثال اس شخص کی جو ایمان اور قرآن کو جمع کرنے والا ہو ترنج کی سی ہے اس کو خوشبو عمدہ ہے اور مزہ لذیذ۔ اور مثال اس شخص کی جو نہ ایمان جمع کرے اور نہ ہی قرآن جمع کرے حنظل کے پھل کی سی ہے جو بد مزہ اور بد بو والا ہوتا ہے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 24- Book of the virtues of the Qur’an › 42- In a parable of the Qur’an and faith. · Hadith 30797

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 1- ما ذكِر فِي الإِيمانِ والإِسلامِ. · حديث 30945

30945- حَدَّثَنَا إسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا الإِيمَانُ ؟ فَقَالَ : الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا الإسْلامُ ، قَالَ : أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ ، وَلا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا الإِحْسَانُ ؟ قَالَ : أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّك تَرَاهُ فَإِنَّك إِنْ لاَ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاك.

حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ لوگوں میں کھلی جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں حآضر ہو کر عرض کی ا: اے ا للہ کے رسول ﷺ ایمان کی حقیقت کیا ہے ۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتاب کو اور اس سے ملاقات کرنے اور اس کے رسول کو دل سے مانو ۔ اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو دل سے مانو۔ اس آدمیں نے عرض کیا: اسلام کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارفشاد فرما یا : اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک مت ٹھہراؤ اور فرمض نمازقں کو قائم کرو اور فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ احسان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپﷺ نےا رشاد فرمایا : یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کلرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو ۔ پس اگر ایسا ممکن نہیں کہ تم اے دیکھ سکو پھر اس کا گمان کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبِي حَيَّانَ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 1- What is mentioned in faith and Islam. · Hadith 30945

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 1- ما ذكِر فِي الإِيمانِ والإِسلامِ. · حديث 30946

30946- حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : مَنِ الْوَفْدُ ، أَوْ مَنِ الْقَوْمُ ، قَالُوا : رَبِيعَةُ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ ، أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا ، وَلا نَدَامَى ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إنَّا نَأْتِيك مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ ، وَإِنَّا لاَ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَك إلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللهِ وَحْدَهُ ، وَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللهِ ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : شَهَادَةُ أَنْ لاَ إلَهَ إلاَّ اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَإِقَامُ الصَّلاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ ، فَقَالَ : احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوا بِهِ مَنْ وَرَاءَكُمْ.

30946 - حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچا تو رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: کس قبیلہ کا وفد ہے ؟ یا فرمایا: کون لوگ ہیں؟ صحابہ نے جواب دیا ! قبیلہ ربیعہ کےافراد ہیں : آپﷺ نے فرمایا: خوش آمدید ان لوگوں کو یا ا فرمایا وفد والوں کو نہ دنیا میں تمہارے لیے رسوائی ہے اور نہ آخرت کی شرمندگی ۔ پھر ان لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم آپﷺ کے پاس صرف ان مہینوں میں آسکتے ہیں جن میں لڑنا حرام ہے ۔ لہذا آپﷺ حق وباطل کے درمیان فرقی کرنے والے ایسے احکام ہمیں عطا ء فرما دیجئے ۔ جن پر ہم خود بھی عمل کریں اور ان لوگوں کو بھی اس کی اطلاع کریں جن کو ہم پیچھے وطن میں چھوڑ کر آئے ہیں۔ اور اس پر عمل کرنے کی وجہ سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ راوی کہتے ہیں: آپﷺ نے ان کو چار باتوں ک احکم دیا اور چار باتوں سے روک ا: آپ ﷺ نے ان کو ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا ۔ اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا: گواہی دینا اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود پر حق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا کہ مال غنیمت میں سے خمس دینا ۔ پھر فرمایا: ان کو یاد کرو اور جن کو تم نے پیچھے چھوڑا ہے ان کو اس کی اطلاع کرو۔

مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَی ← رَبِیعَۃَ، ← رَسُولُ اللهِ مَنِ الْوَفْدُ أَوْ مَنِ الْقَوْمُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا النَّبِيُّ ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 1- What is mentioned in faith and Islam. · Hadith 30946

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 1- ما ذكِر فِي الإِيمانِ والإِسلامِ. · حديث 30947

30947- حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَطِيَّةَ مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِشْر السَّكْسَكِيِّ ، قَالَ : قدِمْت الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللهِ ، مَالَك تَحُجُّ وَتَعْتَمِرُ وَتَرَكْت الْغَزْوَ فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَقَالَ : وَيْلَك إنَّ الإِيمَانَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ : تَعْبُدُ اللَّهَ وَتُقِيمُ الصَّلاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ : فَرَدَّهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللهِ ، تَعْبُدُ اللَّهَ وَتُقِيمُ الصَّلاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ : فَرَدَّهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللهِ ، تَعْبُدُ اللَّهَ وَتُقِيمُ الصَّلاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، كَذَلِكَ ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم.

30947 - حضرت یزید بن بشر السکسکی فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو میں حضرت عبداللہ بن عمر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو اہل عراق میں سے ایک آدمی آپ کے پاس آکر کہنے لگا : اے عبداللہ! آپ کو کیا ہوا صرف حج اور عمرہ کرتے ہیں اور آپ نے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کو ترک کر دیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: تیری ہلاکت ہو ایمان کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ۔ تو اللہ کی عبادت کرے اور نماز کی پابندی کرے اور زکوٰۃ اد اکر دے اور بیت اللہ کا حج کرے اور رمضان کے روزے رکھے راوی کہتے ہیں اس نے پھر وہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اے اللہ کے بندے ! ایمان تو یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور نماز کی پابندی کرے اور زکوٰۃ دے اور بیت اللہ کا حکم کرے اور رمضان کے روزے رکھے ۔ راوی کہتے ہیں اس نے پھر وہ سوال دہرایا تو آپ نے فرمایا: اے اللہ کے بندے ایمان تو یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور نماز کی پابندی کرے اور زکوٰۃ دے اور بیت اللہ کا حج کرے اور رمضان کے روزے رکھے رسول اللہﷺ نے اس طرح ہم سے فرمایا تھا ۔

يَزِيدَ بْنِ بِشْرٍ السَّكْسَكِيِّ، ← عَطِيَّةَ، مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 1- What is mentioned in faith and Islam. · Hadith 30947

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 1- ما ذكِر فِي الإِيمانِ والإِسلامِ. · حديث 30948

30948- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ عُمَرُ : عُرَى الإِيمَانِ أَرْبَعٌ : الصَّلاةُ وَالزَّكَاةُ وَالْجِهَادُ وَالأَمَانَةُ.

30948 – امام ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمسایا : ایمان کی ا بتدای تو چار چیزیں ہیں نماز زکوٰۃ جہاد اور امانت۔

عُمَرُ عُرَى الإِيمَانِ أَرْبَعٌ الصَّلاةُ وَالزَّكَاةُ وَالْجِهَادُ وَالأَمَانَةُ. ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 1- What is mentioned in faith and Islam. · Hadith 30948

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 1- ما ذكِر فِي الإِيمانِ والإِسلامِ. · حديث 30952

30952- حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : أَرْبَعٌ لَنْ يَجِدَ رَجُلٌ طَعْمَ الإِيمَانِ حَتَّى يُؤْمِنَ بِهِنَّ : لاَ إلَهَ إلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَبِأَنَّهُ مَيِّتٌ ، ثُمَّ مَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ.

30952 - حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں ایسی ہیں کہ آدمی ہر گز ایمان کا ذائعقہ نہیں پا سکتا یہاں تک کہ وہ ان چار چیزوں پر دل سے یقیم نہ کر لے : وہ چیزیں یہ ہیں : یقین کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ اکیلا ہے اور یقیناً میں اللہ کا رسول ہوں اللہ نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے ۔ اور اس بات کا یقین کہ وہ مرے گا اور مرنے کے بعد پھر اٹھایا جائے گا ۔ اور وہ ہر قسم کی تقدیر کو دل سے مان لے ۔

عَلِيٍّ، ← رجل من بني أسد ← رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 1- What is mentioned in faith and Islam. · Hadith 30952

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 2- ما قالوا فِي صفةِ الإِيمانِ. · حديث 30955

30955- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : الإسْلامُ عَلانِيَةٌ وَالإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ ، ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ : التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا.

حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نےا رشاد فرمایا: اسلام تو ظاہر انقیاد کا نام ہے اور ایمان دل میں ہوتا ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تقویٰ یہاں ہوتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 2- What they said in terms of faith. · Hadith 30955

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 2- ما قالوا فِي صفةِ الإِيمانِ. · حديث 30957

30957- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : الإِيمَانُ يَبْدَأُ نُقْطَةً بَيْضَاءَ فِي الْقَلْبِ ، كُلَّمَا ازْدَادَ الإِيمَانُ ازْدَادَتْ بَيَاضًا حَتَّى يَبْيَضَّ الْقَلْبُ كُلُّهُ ، وَالنِّفَاقُ يَبْدَأُ نُقْطَةً سَوْدَاءَ فِي الْقَلْبِ كُلَّمَا ازْدَادَ النِّفَاقُ ازْدَادَتْ سَوَادًا حَتَّى يَسْوَدَّ الْقَلْبُ كُلُّهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ شَقَقْتُمْ ، عَنْ قَلْبِ مُؤْمِنٍ لَوَجَدْتُمُوهُ أَبْيَضَ ، وَلَوْ شَقَقْتُمْ ، عَنْ قَلْبِ مُنَافِقٍ لَوَجَدْتُمُوهُ أَسْوَدَ الْقَلْب .

23957 - حضرت عبداللہ بن عمرو بن ھند الجملی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا: ایمان کی شروعات دل میں ایک سفید نقطہ سے ہوتی ہے ۔ جیسے جیسے ایمان بڑھتا رہتا ہے سفیدی میں بھی اضافہ ہوتا ہے یہاں تک کہ ایمان کے نور سے مومن کا سارا دل سفید ہو جاتا ہے اور نفاق کی شروعات دل میں ایک سیاہ نقطہ سے ہوتی ہے جیسے جیسے نفاق بڑھتا ہے سیاہی میں بھی زیادتی ہوتی ہے یہاں تک کہ سارا دل ہی نفاق کی ظلمتوں سے کالا ہو جاتا ہے ۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم مومن کے دل کو چیر کر دیکھو تو ضرور تم اس کو سفید پاؤ گے اور اگر تم منافق کے دل کو چیز کر دیکھو تو ضرور تم اس کو سیا ہ پاؤ گے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ ← عَوْفٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 2- What they said in terms of faith. · Hadith 30957

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 2- ما قالوا فِي صفةِ الإِيمانِ. · حديث 30960

30960- حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : الإِيمَانُ هَيوبٌ.

30960- حضر ت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر نے ارشاد فرمایا: ایمان خوف زدہ ہونے کا نام ہے ۔

الإِيمَانُ هَيوبٌ. ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَمْرٍو، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 2- What they said in terms of faith. · Hadith 30960

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 2- ما قالوا فِي صفةِ الإِيمانِ. · حديث 30963

30963- حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أبي جَعْفَرٍ الْخطْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ خُمَاشَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : الإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ ، قِيلَ لَهُ : وَمَا زِيَادَتُهُ ، وَمَا نُقْصَانُهُ ، قَالَ : إذَا ذَكَرْنَاهُ وَخَشِينَاهُ فَذَلِكَ زِيَادَتُهُ ، وَإِذَا غَفَلْنَا وَنَسِينَا وَضَيَّعْنَا فَذَلِكَ نُقْصَانُهُ.

30963 - حضرت عمیر بن حبیب بن خماشہ نے ارشاد فرمایا : ایمان میں کمی زیادتی ہوتی ہے ان سے پوچھا گیا : ایمان کی کمی زیادتی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب ہم اس کا ذکر کریں اور اس ذات سے ڈریں تو یہ ایمان ک ازیادہ ہونا ہے اور جب ہم اس سے غافل ہو جائیں اور اسے بھول جائیں اور ہم اس کو ضائع کریں تو یہ اس کا کم ہو نا ہے ۔

إذَا ذَكَرْنَاهُ وَخَشِينَاهُ فَذَلِكَ زِيَادَتُهُ وَإِذَا غَفَلْنَا وَنَسِينَا وَضَيَّعْنَا فَذَلِكَ نُقْصَانُهُ. ← الإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ قِيلَ لَهُ وَمَا زِيَادَتُهُ وَمَا نُقْصَانُهُ ← جَدِّهِ عُمَيْرِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ خُمَاشَةَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 2- What they said in terms of faith. · Hadith 30963

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 2- ما قالوا فِي صفةِ الإِيمانِ. · حديث 30964

30964- حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ لاَ تَنْزِعْ مِنِّي الإِيمَانَ كَمَا أَعْطَيْتنيه.

30964 - حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ! مجھ سے ایمان کو مت چھیننا جیسا کہ آپ نے مجھے عطا کیا ہے ۔

اللَّهُمَّ لاَ تَنْزِعْ مِنِّي الإِيمَانَ كَمَا أَعْطَيْتنِيهِ. ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← سُفْيَانَ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 2- What they said in terms of faith. · Hadith 30964

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 2- ما قالوا فِي صفةِ الإِيمانِ. · حديث 30965

30965- حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَعْقِل ، عَنْ غَالِبِ عَنْ بَكْرٍ ، قَالَ : لَوْ سُئلتُ عَنْ أَفْضَلِ أَهْلِ هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالُوا : تَشْهَدُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ مُسْتَكْمِلُ الإِيمَانِ بَرِيءٌ مِنَ النِّفَاقِ ، لَمْ أَشْهَدْ ، وَلَوْ شَهِدْت لَشَهِدْت ، أَنَّهُ فِي الْجَنَّةِ ، وَلَوْ سُئِلْت عَنْ رَجُلٍ ، أَشَرِّ أَو أَخْبَثِ ، الشَّكُّ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، رَجُلٍ فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّهُ مُنَافِقٌ مُسْتَكْمِلُ النِّفَاقِ بَرِيءٌ مِنَ الإِيمَانِ ، لَمْ أَشْهَدْ ، وَلَوْ شَهِدْت لَشَهِدْت أَنَّهُ فِي النَّارِ.

30965 - حضرت غالب بن بکر فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے مسجد کے سب سے افضل آدمی کے بارے میں سوال کیا جائے کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ کام ایمان والا مومن ہے اور نفاق سے بری ہے ۔ تو میں نے گواہی نہیں دوں گا اور اگر گواہی دوں گا تو یہ گواہی اس بات کی گواہ ہو گی کہ وہ جنت میں ہے ۔اگر مجھ سے سب سے برے آدمی کے بارے میں سوال کیا جائے اور کوگ کہیں کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ مکمل نفاق والا منافق ہے اور ایمان سے محروم ہے تو میں گواہی نہیں دوں گا کیونکہ اگر میں گواہی دوں تو وہ گواہی اس بات کی ہو گی کہ وہ جہنم میں ہے ۔

تشهد ← أَفْضَلِ أَهْلِ هَذَا الْمَسْجِدِ ← لَوْ سُئلتُ ← بَكْرٌ، ← غَالِبٍ ← حَمَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 2- What they said in terms of faith. · Hadith 30965

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 2- ما قالوا فِي صفةِ الإِيمانِ. · حديث 30966

30966- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَان بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ لِغُلامٍ مِنْ غِلْمَانِهِ : أَلا أُزَوِّجُك فَمَا مِنْ عَبْدٍ يَزْنِي إلاَّ نَزَعَ اللَّهُ مِنْهُ نُورَ الإِيمَانِ.

30966 - حضرت عثمان بن ابی صفیہ الانصاری فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے اپنے لڑکوں میں سے ایک لڑکے سے کہا: کیا میں تیرا نکاح نہ کر دوں ؟ پس نہیں ہے کوئی بندہ جو زنا کرے مگر اللہ اس سے ایمان کا نور چھین لیتا ہے ۔

عُثْمَان بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 2- What they said in terms of faith. · Hadith 30966

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 3- مَنْ قَالَ أنا مؤمِنٌ. · حديث 30971

30971- حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمِيرةَ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ فَقَامَ مُعَاذٌ بِحِمْصٍ فَخَطَبَهُمْ ، فَقَالَ : إنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، اللَّهُمَّ اقْسِمْ لآلِ مُعَاذٍ نُصِيبَهُمَ الأَوْفَى مِنْهُ ، قَالَ : فَلَمَّا نَزَلَ ، عَنِ الْمِنْبَرِ أَتَاهُ آتٍ ، فَقَالَ : إنَّ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ مُعَاذٍ قَدْ أُصِيبَ ، فَقَالَ : إنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إلَيْهِ رَاجِعُونَ ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ نَحْوَهُ ، قَالَ : فَلَمَّا رَآهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُقْبِلاً ، قَالَ : إِنَّهُ {الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ} ، قَالَ : فَقَالَ : يَا بُنَيَّ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ قَالَ : فَمَاتَ آلُ مُعَاذٍ إنْسَانًا إنْسَانًا حَتَّى كَانَ مُعَاذٌ آخِرَهُمْ ، قَالَ : فَأُصِيبَ ، فَأَتَاهُ الْحَارِثُ بْنُ عَمِيرَةَ الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ : فَأُغْشِيَ عَلَى مُعَاذٍ غَشْيَةً ، قَالَ : فَأَفَاقَ مُعَاذٌ وَالْحَارِثُ يَبْكِي ، قَالَ : فَقَالَ مُعَاذٌ : مَا يُبْكِيك ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَبْكِي عَلَى الْعِلْمِ الَّذِي يُدْفَنُ مَعَك ، قَالَ : فَقَالَ : إِنْ كُنْت طَالِبَ الْعِلْمِ لاَ مَحَالَةَ فَاطْلُبْهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَمِنْ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَمِنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ : وَإِيَّاكَ وَزَلَّةَ الْعَالِمِ ، قَالَ : قُلْتُ : وَكَيْف لِي أَصْلَحَك اللَّهُ أَنْ أَعْرِفَهَا ، قَالَ : إنَّ لِلْحَقِّ نُورًا يُعْرَفُ بِهِ ، قَالَ : فَمَاتَ مُعَاذٌ وَخَرَجَ الْحَارِثُ يُرِيدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ بِالْكُوفَةِ ، قَالَ : فَانْتَهَى إِلَى بَابِهِ فَإِذَا عَلَى الْبَابِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ يَتَحَدَّثُونَ ، قَالَ : فَجَرَى بَيْنَهُمَ الْحَدِيثُ حَتَّى ، قَالُوا : يَا شَامِيُّ أَمُؤْمِنٌ أَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالُوا : مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : إنَّ لِي ذُنُوبًا لاَ أَدْرِي مَا يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا. فَلَوْ أني أَعْلَمُ ، أَنَّهَا غُفِرَتْ لِي لأَنْبَأْتُكُمْ أَنِّي مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إذْ خَرَجَ عَلَيْهِمْ عَبْدُ اللهِ ، فَقَالُوا لَهُ : أَلا تَعْجَبُ مِنْ أَخِينَا هَذَا الشَّامِيِّ يَزْعُمُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ ، ولا يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : لَوْ قُلْتُ إحْدَاهُمَا لاتَّبَعَتُهَا الأُخْرَى ، قَالَ : فَقَالَ الْحَارِثُ : {إنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إلَيْهِ رَاجِعُونَ} صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُعَاذٍ ، قَالَ : وَيْحَك وَمَنْ مُعَاذٌ ، قَالَ : مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، قَالَ : وَمَا قَالَ ؟ قَالَ : إيَّاكَ وَزَلَّةَ الْعَالِمِ فَأحْلِفُ بِاللهِ ، أَنَّهَا مِنْك لَزَلَّةٌ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَمَا الإِيمَانُ إلاَّ أَنَّا نُؤْمِنُ بِاللهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْبَعْثِ وَالْمِيزَانِ ، وَإِنَّ لَنَا ذُنُوبًا لاَ نَدْرِي مَا يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا ، فَلَوْ أنا نَعْلَمُ أَنَّهَا غُفِرَتْ لَنَا لَقُلْنَا : إنَّا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : صَدَقْت وَاللهِ إِنْ كَانَتْ مِنِّي لَزَلَّةً.

حضرت حارث بن عمیرہ الز بیدی فرماتے ہیں کہ جب شام میں طاعون پھیلا تو حضرت معاذ حمص کے مقام پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: یہ طاعون تمہارے رب کی رحمت ہے اور تمہارے نبی ﷺ کید عا ہے ۔ اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی موت ہے ۔ اے اللہ ! آل معاذ کو اس میں سے پورا پورا حصہ عطا فرما ۔ راوی کہتے ہیں: جب آپ منبر سے نیچے اترے تو ایک آنے والے لے کر خبر دی : بے شک عبدالرحمٰن بن معاذ طاعون میں مبتلا ہو گئے ۔ تو آپ نے فرمایا: ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اس کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں۔ پھر آپ اس کی طرف چلے : راوی کہتے ہیں جب عبدالرحمٰن نے آپ کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: : بے شک یہی حق ہے تیرے رب کی طرف سے پس تم ہر گز شک کرنے والوں میں سے مت ہونا راوی کہتے ہیں : پھر آپ نے یہ آیت پڑھئ: ضرور پائیں۔

الحارث بن عميرة الزبيدي ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 3- Who said I am a believer? · Hadith 30971

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 4- ما قالوا فِيما يُطوى عليهِ المؤمِن مِن الخِلالِ. · حديث 30972

30972- حَدَّثَنَا مُعْصَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : سَأَلْت رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم : مَاذَا يُنَجِّي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ ، فَقَالَ : الإِيمَانُ بِاللهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهُ أَوَ مَعَ الإِيمَانِ عَمَلٌ ، فَقَالَ : تَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَك اللَّهُ ، أَوْ يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ.

حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا : وہ کون سا عمل ہے جو بندے کو جہنم سے نجات دلاتا ہے ؟ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پر ایمان لانا ۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ ! کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو دے اس رزق سے جو اللہ نے تجھے دیا ۔ یا یوں فرمایا: وہ دے اس رزق میں سے جو اللہ نے اسے دیا ہے ۔

قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهُ أَوَ مَعَ الإِيمَانِ عَمَلٌ ← «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ» ← أَبُو ذَرٍّ سَأَلْت رَسُولَ اللهِ مَاذَا يُنَجِّي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ الزِّمَّانِيِّ ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← مُعْصَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 4- What they said about the believer is folded through the shadows. · Hadith 30972

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 4- ما قالوا فِيما يُطوى عليهِ المؤمِن مِن الخِلالِ. · حديث 30973

30973- حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِعَائِشَةَ : مَا الإِيمَانُ ؟ قَالَتْ : أُفَسِّرُ أَمْ أُجْمِلُ ، قَالَ : لاَ بَلْ أَجْمِلِي ، فقَالَتْ : مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ.

30973 - حضرت ام محمد فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ سے پوچھا : ایمان کی علامت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: میں تفصیل سے بیان کروں یا مختصر طور پر بیان کروں؟ اس نے کہا نہیں بلکہ اجما لا بیان کریں۔ تو آپ نے فرمایا: جس کو اس کی نیکی اچھے لگے اور اس کی برائی کھٹکے تو وہ مومن ہے ۔

لاَ بَلْ أَجْمِلِي فقَالَتْ مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ. ← أُفَسِّرُ أَمْ أُجْمِلُ ← لِعَائِشَةَ مَا الإِيمَانُ ← أُمِّ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلاً ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 4- What they said about the believer is folded through the shadows. · Hadith 30973

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 5- بابٌ. · حديث 30988

30988- حَدَّثَنَا عَفَّان ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ : إنَّ الإِيمَانَ لَيْسَ بِالتَّحَلِّي ، وَلا بِالتَّمَنِّي ، إنَّمَا الإِيمَانُ مَا وَقَرَ فِي الْقَلْبِ وَصَدَّقَهُ الْعَمَلُ.

30988 - حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : ایمان مزین ہونے اور خؤاہش کرنے کا نام نہیں۔ بے شک ایمان تو وہ ہے جو دل میں راسخ ہو اور عمل اس کی تصدیق کرے ۔

الْحَسَنِ، ← زَکَرِیَّا، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَفَّانُ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 5- Chapter. · Hadith 30988

chevron_left Previous
1…686970…484
Next chevron_right