المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عفير بن معدان عن سليم بن عامر · حديث 7730
7714 - حدثنا يحيى بن عبد الباقي المصيصي ثنا عمرو بن عثمان الحمصي ثنا الوليد بن مسلم عن عفير بن معدان أنه سمع سليم بن عامر يحدث عن أبي أمامة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : رأيت عمود الكتاب أنتزع من تحت وسادتي فأتبعه بصري فإذا هو نور ساطع حتى ظننت أنه قد هوى به فعمد به إلى الشام وإني أولت أن الفتن إذا وقعت أن الإيمان بالشام
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون کی بیوی خوبصورت خوشبو لگانے والی تھی‘ شوہر کے لیے اچھی حالت اور خوب اچھا لباس پہننا پسند کرتی تھی‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کو خراب حالت میں دیکھا‘ آپ نے فرمایا: یہ کیا حالت ہے؟ عرض کی: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں کچھ جن میں حضرت علی‘ عبداللہ بن رواحہ‘ عثمان بن مظعون شامل ہیں‘ عبادت کے لیے خلوت پسند کرتے ہیں اور عورتوں سے علیحدہ رہتے ہیں اور گوشت نہیں کھاتے‘ دن کو روزہ رکھنا اور رات کو قیام کرتے ہیں‘ میں نے ناپسند کیا کہ میری حالت کوئی دیکھے‘ جب وہ خلوت میں ہوں تو میں اپنی طرف بلاؤں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نعلین شریف پکڑی‘ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے پھر جلدی چلے یہاں تک کہ ان کے پاس داخل ہوئے‘ آپ نے ان کی حالت کے متعلق پوچھا‘ انہوں نے عرض کی : ہمارا مقصد بھلائی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے آسان دین دے کر بھیجا گیا ہے‘ مجھے رہبانیت کی بدعت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا ہے‘ خبردار! کچھ لوگوں نے رہبانیت کو ایجاد کیا تو وہ ان پر واجب ہو گئی‘ تو وہ اس کی رعایت نہ کر سکے جس طرح کرنی چاہیے تھی‘ ان پر فرض کی گئی‘ انہوں نے اس کا حق ادانہیں کیا‘ خبردار! گوشت کھاؤ‘ عورتوں سے جماع کرو اور روزہ رکھو‘ افطار کرو اور نماز پڑھو اور کلام کرو‘ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔
النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عفير بن معدان أنه ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7730
