Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ عفير بن معدان عن سليم بن عامر · حديث 7730

7714 - حدثنا يحيى بن عبد الباقي المصيصي ثنا عمرو بن عثمان الحمصي ثنا الوليد بن مسلم عن عفير بن معدان أنه سمع سليم بن عامر يحدث عن أبي أمامة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : رأيت عمود الكتاب أنتزع من تحت وسادتي فأتبعه بصري فإذا هو نور ساطع حتى ظننت أنه قد هوى به فعمد به إلى الشام وإني أولت أن الفتن إذا وقعت أن الإيمان بالشام

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون کی بیوی خوبصورت خوشبو لگانے والی تھی‘ شوہر کے لیے اچھی حالت اور خوب اچھا لباس پہننا پسند کرتی تھی‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کو خراب حالت میں دیکھا‘ آپ نے فرمایا: یہ کیا حالت ہے؟ عرض کی: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں کچھ جن میں حضرت علی‘ عبداللہ بن رواحہ‘ عثمان بن مظعون شامل ہیں‘ عبادت کے لیے خلوت پسند کرتے ہیں اور عورتوں سے علیحدہ رہتے ہیں اور گوشت نہیں کھاتے‘ دن کو روزہ رکھنا اور رات کو قیام کرتے ہیں‘ میں نے ناپسند کیا کہ میری حالت کوئی دیکھے‘ جب وہ خلوت میں ہوں تو میں اپنی طرف بلاؤں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نعلین شریف پکڑی‘ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے پھر جلدی چلے یہاں تک کہ ان کے پاس داخل ہوئے‘ آپ نے ان کی حالت کے متعلق پوچھا‘ انہوں نے عرض کی : ہمارا مقصد بھلائی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے آسان دین دے کر بھیجا گیا ہے‘ مجھے رہبانیت کی بدعت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا ہے‘ خبردار! کچھ لوگوں نے رہبانیت کو ایجاد کیا تو وہ ان پر واجب ہو گئی‘ تو وہ اس کی رعایت نہ کر سکے جس طرح کرنی چاہیے تھی‘ ان پر فرض کی گئی‘ انہوں نے اس کا حق ادانہیں کیا‘ خبردار! گوشت کھاؤ‘ عورتوں سے جماع کرو اور روزہ رکھو‘ افطار کرو اور نماز پڑھو اور کلام کرو‘ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عفير بن معدان أنه ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7730

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ القاسم بن عبد الرحمن بن يزيد الشامي مولى معاوية عن أبي أمامة يكنى أبو عبد الرحمن يحيى بن الحارث الذماري عن القاسم · حديث 7753

7737 - حدثنا إسحاق بن حسان الأنماطي ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا يحيى بن الحارث الذماري عن القاسم عن أبي أمامة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أحب لله وأبغض لله وأعطى لله ومنع لله فقد استكمل الإيمان وإن من أقربكم إلي يوم القيامة أحاسنكم أخلاقا

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7753

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عمير عمير بن قتادة الليثي أبو عبيد · حديث 13791

105 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا عمرو بن خالد الحراني ثنا محمد بن سلمة الحراني عن بكر بن خنيس عن أبي بدر عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن أبيه عن جده قال Y كانت في نفسي مسألة قد أحزنتني لم اسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عنها و لم أسمع أحدا يسأله عنها فكنت أتحينه فدخلت ذات يوم و هو يتوضأ فوافقته على حالين كنت أحب أن أوافقه عليهما وجدته فارغا طيب النفس فقلت يا رسول الله ائذن لي فأسألك قال : ( نعم سل عما بدا لك ) قلت يا رسول الله ما الايمان ؟ قال : ( السماحة و الصبر ) قلت و أي المؤمنين أفضلهم ايمانا ؟ قال : ( أحسنهم خلقا ) قلت فأي المسلمين أفضل اسلاما ؟ قال : ( من سلم المسلمون يده و لسانه ) قلت فأي الجهاد أفضل ؟ فطأطأ رأسه فصمت طويلا حتى خفت أن أكون قد شققت عليه و تمنيت أن لم أكن سألته و قد سمعته بالأمس يقول : ( ان أعظم الناس في المسلمين جرما لمن سأل عن شيء لم يحرم عليهم فحرم من أجل مسألته ) فقلت أعوذ بالله من غضب الله و غضب رسوله فرفع رأسه فقال : ( كيف قلت ؟ ) قلت أي الجهاد أفضل ؟ قال : ( كلمة عدل عند امام جائر )

حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر اپنے والد سے ‘وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں‘فرمایا: میرے دل میں ایک سوال تھا جس نے مجھے پریشان کر رکھا تھا‘ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھا اور نہ کسی کو سنا جو اس کے بارے سوال کرے‘ پس میں ارادہ کیا کرتا تھا۔ پس میں ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ وضو فرما رہے تھے ‘پس میں نے دو حالوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موافقت کی‘ پس میں پسند کیا کرتا تھا کہ میں ان دو حالوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہی رہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فارغ اور خوشی کی حالت میں پالیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیں تو میں آپ سے ایک استفسار کروں۔ فرمایا: جی ہاں! جو بات تیرے سامنے ہے ‘پوچھ! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ فرمایا: درگزر کرنا اور لوگوں کی تکلیف پر صبر کرنا۔ میں نے عرض کی: ایمان کے لحاظ سے کون سا مؤمن سب سے افضل ہے؟ فرمایا: جس کے خلاق اچھے ہیں۔ میں نے عرض کی: اسلام کے لحاظ سے کون مسلمان افضل ہے؟ - فرمایا: جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔ میں نے عرض کی : جہاد کون سا افضل ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا لیا اور کافی دیر خاموش رہے ‘یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ میں نے آپ کو مشقت میں ڈال دیا ہے اور میں نے تمنا کی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہی نہ کرتا ‘حالانکہ میں نے ایک دن پہلے آپ سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : حرم کے لحاظ سے مسلمانوں میں سے بڑا وہ ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہ ہو اور اس کے سوال کرنے کے سبب اس کی حرمت کا اظہار کر دیا جائے۔ پس میں نے کہا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اُٹھا کر فرمایا: تُو نے کیسے سوال کیا؟ میں نے عرض کی کون سا جہاد افضل ہے؟ فرمایا: ظالم حکمران کے سامنے عدل کی بات کرنا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← أَبِي بَدْرٍ ← بكر بن خنيس ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13791

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ جعفر بن الزبير عن القاسم · حديث 7957

7941 - حدثنا إبراهيم بن صالح الشيرازي ثنا عثمان بن الهيثم ثنا جعفر بن الزبير عن القاسم عن أبي أمامة Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أول قطرة تقطر من دم الشهيد تكفر بها ذنوبه والثانية يكسى حلل الإيمان والثالثة يزوج من الحور العين

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤذن کی آواز لمبی ہونے کی حد تک اس کی مغفرت کر دی جائے گی اور اس کا اجر ان سب لوگوں کے برابر ہو گا جو اس کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7957

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ فضالة بن جبير عن أبي أمامة وقال محمد بن عرعرة فضال بن الزبير الغداني والصحيح فضال بن جبير · حديث 8035

8019 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا محمد بن عرعرة ثنا فضال بن الزبير عن أبي أمامة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن في قلبه وجد حلاوة الإيمان أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما وأن يحب المرء لا يحبه إلا الله وأن لا يرجع في الكفر بعد أن أنقذه الله منه كما يكره أن يلقى في النار

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ اور بے شک جو تھوڑا اور کافی ہے وہ بہتر ہے‘ سستی سے زیادہ کام کرنے سے‘ اے لوگو! یہ دونوں بھلائی اور برائی کے ٹیلے ہیں‘ اس نے برائی کے ٹیلے کو بھلائی کے ٹیلے سے تمہیں زیادہ پسندیدہ نہیں بنایا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← فضال بن الزبير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8035

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عصمة عصمة بن مالك الخطمى · حديث 14178

492 - و باسناده عن عصمة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ثلاثة لا ينظر الله اليهم غدا شيخ زان و رجل اتخذ الايمان بضاعة يحلف في كل حق و باطل و فقير مختال مزهو )

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تین آدمی جن کی طرف قیامت کے دن اللہ نظر رحمت نہیں فرمائے گا ‘ وہ یہ ہیں : بوڑھا زانی ‘ وہ آدمی جس نے جائز حق اور ناحق کے لیے قسم اٹھائی اور وہ فقیر جو مانگنے والا ہو اور تکبر کرنے والا ہو۔

عِصْمَةُ ← و بإسناده

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14178

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 14251

565 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو أسامة عن اسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن أبي مسعود قال Y أشار رسول الله صلى الله عليه و سلم نحو اليمين فقال : ( ان الايمان ههنا و ان القسوة و غلظ القلوب في الفدادين حيث يطلع قرن الشيطان في ربيعة و مضر )

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کیا ‘ فرمایا: ایمان یہاں ہے اور سخت دلی اونٹ چرانے والوں میں ہے ‘ قبیلہ ربیعہ اور مضر میں شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔

أشار رسول الله صلى الله عليه و سلم نحو اليمين ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14251

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 14252

566 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا يحيى بن سعيد عن اسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن أبي مسعود قال Y أشار رسول الله صلى الله عليه و سلم نحو اليمين فقال : ( الايمان ههنا الايمان ههنا الا ان القسوة و غلظ القلوب في الفدادين حيث يطلع قرن الشيطان في ربيعة و مضر )

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کیا‘ فرمایا: ایمان یہاں ہے اور خبردار! سخت دلی اونٹ چرانے والوں میں ہے ‘ قبیلہ ربیعہ اور مضر میں شیطان کا سینگ طلوع ہوگا ۔

أشار رسول الله صلى الله عليه و سلم نحو اليمين ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14252

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 14253

567 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا علي بن نصر ثنا وهب بن جرير ثنا شعبة عن اسماعيل عن قيس عن أبي مسعود Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( الايمان ههنا و أشار بيده الى اليمن و الجفاء و غلظ القلوب في الفدادين عند أصول أذناب الابل حيث يطلع قرن الشيطان في ربيعة و مضر )

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کیا‘ فرمایا: ایمان یہاں ہے اور سخت دلی اونٹ چرانے والوں میں ہے ‘ قبیلہ ربیعہ اور مضر میں شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14253

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 14254

568 - حدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا عثمان بن ابي شيبة ثنا عبد الله بن ادريس و جرير عن اسماعيل عن قيس عن أبي مسعود قال Y أشار رسول الله صلى الله عليه و سلم نحو اليمن فقال : ( الايمان ههنا القسوة و غلظ القلوب في الفدادين عند أصول أذناب الابل حيث يطلع قرن الشيطان في ربيعة و مضر )

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کیا‘ فرمایا: ایمان یہاں ہے اور سخت دلی اونٹ چرانے والوں میں ہے ‘ قبیلہ ربیعہ اور مضر میں شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔

أشار رسول الله صلى الله عليه و سلم نحو اليمن ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← عبد الله بن ادريس و جرير ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14254

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ بيان بن بشر عن قيس عن أبي مسعود · حديث 14263

577 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا عمر بن اسماعيل بن مجالد ثنا أبي عن بيان عن قيس عن عقبة بن عمرو Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نظر نحو اليمين فقال : ( الايمان يمان و ان القسوة و غلظ القلوب عند أذناب الابل في الفدادين في ربيعة و مضر حيث يطلع قرنا الشيطان )

حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف نگاہ کر کے فرمایا: ایمان ‘ یمن والوں کا ہے ‘ بے شک دل کی سختی اور دلوں کا موٹا پن بنور بیعہ اور بنومضر کے اونٹ چرانے والوں میں اونٹوں کی دموں کے پاس ہے یہاں تک کہ شیطان کے دو سینگ نکلیں۔

عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← قَيْسٍ ← بَيَانٍ ← أَبِي ← عمر بن إسماعيل بن مجالد ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14263

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ابن لهيعة عن أبي عشانة · حديث 14536

851 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا قتيبة بن سعيد ثنا ابن لهيعة عن أبي عشانة عن عقبة بن عامر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( الايمان يمان و مضر عند أذناب الابل )

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یمن والوں کا‘ بنور بیعہ میں سختی اور دل کا موٹا پن ہے اور قبیلہ مضر والے اونٹ کی دُم کے پاس ہیں۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أبي عشانة ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14536

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ نسبته · حديث 14873

165 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا محمد بن يحيى الأزدي ثنا داود بن المحبر بن فخذم بن سليمان مولى أبي بكرة قال ثنا أبي المحبر بن فخذم عن المسور بن عبد الله الباهلي عن بعض ولد الجارود عن الجارود Y أنه أخذ هذه النسخة من نسخة عهد العلاء الذي كتب له النبي صلى الله عليه و سلم وحين بعثه إلى البحرين : ( بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من محمد رسول الله النبي الأمي القرشي الهاشمي رسول الله ونبيه إلى خلقه كافة للعلاء بن الحضرمي ومن معه من المسلمين عهدا أعهده إليهم اتقوا الله أيها المسلمون ما استطعتم فإني قد بعثت عليكم العلاء بن الحضرمي وأمرته أن يتقي الله وحده لا شريك له وأن يلين فيكم الجناح ويحيسن فيكم السيرة ويحكم بينكم وبين من لقيه من الناس بنما أمر الله في كتابه من العدل وأمرتكم بطاعته إذا فعل ذلك فإن حكم فعدل وقسم فأقسط واسترحم فرحم فاسمعوا له وأطيعوا وأحسنوا مؤازرته ومعاونته فإن له عليكم من الحق طاعته وحقا عظيما لا تقدرون كل قدره ولا يبلغ القول كنه عظمة حق الله وحق رسوله وكما أن لله ولرسوله على الناس عامة وعليكم خاصة حقا واجبا في طاعته والوفاء بعهده ورضي الله عمن اعتصم بالطاعة حق كذلك للمسلمين على ولاتهم حق واجب وطاعة فإن في الطاعة دركا لكل حين ونجاة من كل شر يتقى وأنا أشهد على من وليته شيئا من أمر المسلمين قليلا أو كثيرا فليستخيروا الله عند ذلك ثم ليستعملوا عليهم أفضلهم في أنفسهم إلا وأصابت العلاء بن الحضرمي مصيبة الموت فخالد بن الوليد سيف الله يخلف فيكم العلاء بن الحضرمي فاستمعوا له وأطيعوا أحسنوا مؤازرته وطاعته فسيروا على بركة الله وعونه ونصره وعاقبة رشده وتوفيقه من لقيتم من الناس فادعوهم إلى كتاب الله المنزل وسنة رسوله واحلال ما أحل الله لهم في كتابه وتحريم ما حرم الله عليهم في كتابه وأن يخلعوا الأنداد ويبرأوا من الشرك والكفر والنفاق وأن يكفروا بعبادة الطواغيت واللاتي والعزى وأن يتركوا عبادة عيسى بن مريم وعزيز بن مروة والملائكة والشمس والقمر والنيران وكل شيء متخذ نصبا من دون الله وأن يتبرأوا مما بريء الله ورسوله فإذا فعلوا ذلك فأقروا به فقد دخلوا في الولاية سموهم عند ذلك بما في كتاب الله الذي تدعونهم إليه كتاب الله المنزل مع الروح الأمين على صفيه من العالمين محمد بن عبد الله رسول الله ونبيه أرسله رحمه للعالمين عامة الأبيض منهم والأسود والأنس والجن كتاب فيه بيان لكل شيء كان قبلكم وما هو كائن بعدكم ليكون حاجزا بين الناس حجز الله به بعضهم عن بعض وهو كتاب الله مهيمنا على الكتب مصدقا لما فيها من التوراة والانجيل والزبور يخبركم الله فيه بما قد كان قبلكم مما قد فاتكم دركه في آبائكم الأولين الذين اقتصر رسل الله وأنساؤه كيف كان حوانهم لرسله وكيف كان تصديقهم بآيات الله وكيف كان تكذيبهم بآيات الله فأخبركم الله في كتابه شأنهم وأعمالهم وأعمال من هلك منهم بذنبه ليجتنبوا مثل ذفلك أن يعملوا مثله كي لا تحل عليهم من سخطه ونقمته مثل الذي حل عليهم من سوء أعمالهم وتهاونهم بأمر الله واخبركم الله عز و جل في كتابه هذا بانجاء من نجا ممن كان قبلكم لكي تعملوا مثل أعمالهم فكتب لكم في كتابه هذا تبيان لكل شيء ذلك كله برحمة منه لكم وشفقا من ربكم عليكم وهو هدى من الله من الله من الضلالة تبيان من العمي وإقالة من العثرة ونجاة من الفتنة ونور من الظلمة وشفاء من الأحداث وعصمة من الهلكة ورشد من الغواية وتبيان ما بين الدنيا والآخرة وفيه كمال دينكم فإذا عرضتم عليهم هذا فأقروا كلكم فقد استكملوا الولاية فاعرضوا عليهم عند ذلك الاسلام والاسلا م الصلوات الخمس وإيتاء الزكاة وحج البيت وصيام شهر رمضان والغسل من الجنابة والطهور قبل الصلاة وبر الوالدين وصلة الرحم المسلمة وحسن صحبة الوالدين المشركين فإذا فعلوا ذلك فقد أسلموا فادعوهم عند ذلك إلى الإيمان وابعثوا لهم شرائعكم ومعالم الإيمان شهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وإن ما جاء به محمد الحق وأن ما سواه الباطل والإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله وأنبيائه واليوم الآخر والإيمان بهذا الكتاب ما بين يديه وما خلفه بالتوراة والانجيل والزبور والإيمان بالبينات والموت والحياة والبعث بعد الموت والحساب والجنة والنار والإيمان بالله ولرسوله وللمؤمنين كافة فإذا فعلوا ذلك واقروا به فهم مسلمون مؤمنون ثم تدعوهم بعد ذلك إلى الإحسان أن يحسنوا فيما بينهم وبين الله في أداء الأمانة وعهده الذي عهده إلى رسوله وعهد رسوله إلى خلقه وائمة المؤمنين والتسليم لأئمة المسمين من كل غائلة لسان ويد وأن يبتغوا لبقية المسلمين خيرا كما يبتغي أحدهم لنفسه والتصديق بمواعيد الرب عز و جل ولقائه ومعاتبته والوداع من الدنيا في كل ساعة والمحاسبة للنفس عن استئناف كل يوم وليلة والتعاهد لما فرض الله يؤديه إليه في السر والعلانية فإذا فعلوا ذلك فهم مسملون محسنون مؤمنون ثم انعتوا لهم الكبائر ودلوهم عليها وخوفوهم من الهلكة في الكبائر إن الكبائر من الموبقات أولهن الشرك بالله لا يغفر أن يشرك به والسحر وما للساحر من خلاق وقطيعة الرحم يلعنهم الله والفرار من الزحف يبوؤوا بغضب من الله والغلول فيأتوا بما غلوا يوم القيامة لا يقبل الله منهم وقتل النفس المؤمنة جزاؤه جهنهم وقذف المحصنة لعنوا في الدنيا والآخرة وأكل مال اليتيم يأكلومن في بطونهم نارا وسيصلون سعيرا وأكل الربا فائذنوا بحرب من الله ورسوله فإذا انتهوا من الكبائر فهم مسلمون مؤمنون محسنون متقون فقد استكملوا التقوى فادعوهم بعد ذلك إلى العبادة والعبادة الصيام والقيام والخشوع والركوع والسجود والإنابة والإحسان والتحميد والتهليل والتسبيح ولاتكبير والصدقة بعد الزكاة والتواضع والسكينة والسكون والمواساة والدعاء والتضرع والإقرار بالملكة والعبودية واستقلاله لما كثر من العمل الصالح فإذا فعلوا ذلك فهم مسلمون مؤمنون محسنون متقون عابدون وقد استكملوا العبادة فادعوهم عند ذلك إلى الجهاد وبينوا لهم ورغبوهم فيما رغبهم الله فيه من فضل الجهاد وفضل ثوابه عند الله فإن انتدجبوا لهم فبايعوهم وادعوهم حتى تبايعوهم إلى سنة الله وسنة رسوله عليكم عهد الله وذمته وسبع كفالات منه لا تنكثوا أيديكم من بيعته ولاتنقضون أمر ولاتي من ولاة المسلمين فإذا أقروا بذلك فبايعوهم وأتسغفروا الله لهم فإذا خرجتم تقاتلون في سبيل الله غضبا لله ونصرا لدينه فمن لقوا من الناس فليدعوهم إلى مثل الذي دعو إليه من كتاب الله وإسلامه وإيمانه وإحسانه وتقواه وعباداته وهجرته فمن تبعهم فهو المستجيب المؤمن المحسن التقي العابد المهاجر له ما لكم وعليه ما عليكم ومن أبى هذا عليكم فقاتلوه حتى يفي إلى أمر الله ويفيء إلى فتنته ومن عاهدتم وأعطيتم ذمة الله كفوا له بها ومن أسلم وأعطاكم الرضا فهو منكم وأنتم منه ومن قاتلكم على هذا من بعد ما بينتموه له فقاتلوه ومن حاربكم فحاربوه أو كايدكم فكيدوا له أو جمع لكم فاجمعوا له أو غالكم فغولوه أو خادعكم فاخدعوه من غير أن تعتدوا أو ماكركم فامكروا به من غير أن تعتدوا سرا وعلانية فإنه من ينتصر من بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل واعملوا أن الله معكم يراكم ويرى أعمالكم ويعلم ما تصنعون كله فاتقوا الله وكونوا على حذر في إنما هذه أمانة ائتمنني عليها ربي أبلغها عباده عذرا منه إليهم وحجة منه احتج بها على من بلغه من الخلق جميعا فمن عمل بما فيه نجا ومن اتبع ما فيه اهتدى ومن خاصم به فلح ومن قاتل به نصر ومن تركه ضل حتى يراجعه تعلموا ما فيه واسمعوه آذانكم وعوه أجوافكم واستحفظووه قلوبكم فإنه نور الأنصار وربيع القلوب وشفاء لما في الصدور وكفى به أمرا ومعتبرا وزاجرا وعظة وداعيا إلى الله ورسوله هذا هو الخير الذي لا شر فيه كتاب محمد بن عبد الله رسول الله صلى الله عليه و سلم للعلاء بن الحضرمي حين بعثه إلى البحرين يدعو إلى الله عز و جل ورسوله أمره أن يدعو إلى ما فيه من حلال وينهاه عما فيه من حرام ويدل على ما فيه من رشد وينهى عما فيه من غي

حضرت جارود سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ نسخہ حضرت علاءکے زمانے کے نسخہ سے لیا جو ان کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا جب ان کو بحرین کی طرف بھیجا: اللہ کے نام سے شروع جو انتہائی مہربان ‘ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے! یہ خط اللہ کے نبی ورسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جواُمی نبی ہیں، قریشی ہاشمی ہیں ‘کی طرف سے اللہ کی تمام مخلوق کی طرف حضرت علاء حضرمی کے واسطہ سے اور جو ان کے ساتھ دیگر مسلمان موجود ہیں‘ یہ ایک وعدہ ہے جو میں ان سے کر رہا ہوں ‘اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو جہاں تک تمہاری طاقت ہے ‘بے شک میں نے تمہاری طرف حضرت علاء بن حضرمی اور ان کی بیوی کو بھیجا ہے کہ وہ اللہ وحدہ ‘لاشریک سے ڈر یں اور تمہارے ساتھ نرمی کا سلوک کر یں اور تمہارے ساتھ اچھے چال چلن کا مظاہرہ کریں‘ تمہارے درمیان اور مسلمانوں میں سے جو ان سے ملے ‘اُن کے درمیان فیصلہ کر یں اس چیز کے ساتھ جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دیا یعنی عدل کا اور میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ ان کی اطاعت کرو جب وہ عدل کر یں ‘اگر وہ فیصلہ کر یں اور عدل کر یں تقسیم کر یں‘ اور انصاف کریں ‘ان سے رحم کی اپیل کی جائے تو رحم کر یں ‘ان کی بات سنو اور اطاعت کرو اور اچھی طرح ان کی معاونت کرو ‘بے شک تمہارے اوپر حق ہے کہ ان کی اطاعت کر واور بہت بڑاحق ہے جس پر کماحقہ‘ تم قادر نہ ہوسکو اور ساری بات اللہ اور اس کے رسول کے حق تک نہیں پہنچ سکتی ہے جیسے اللہ اور اس کے رسول کا عام لوگوں پر حق ہے تمہارے اوپر خاص حق ہے‘ جو ان کی اطاعت اور ان کے وعدہ کو پورا کرنے میں واجب ہے۔ اللہ راضی ہوا‘ اس سے جس نے اطاعت کو لازم پکڑا ‘یہ اسی طرح تمام مسلمانوں کا ان کے والیوں پر حق ہے۔ بے شک اطاعت میں ہر خیر کو پانا ہے اور ہر اس شر سے نجات ہے جس سے بچنا ضروری ہے اور میں گواہ ہوں ‘ہر اُس آدمی پر جو مسلمانوں کے امر میں سے کسی شی کا والی بنا خواہ وہ تھوڑی ہے یا زیادہ۔ ایسے موقعہ پر اللہ سے خیر مانگو پھر لوگوں پر عامل بنے وہ آدمی جو ان میں سے زیادہ فضیلت والا ہے ‘ورنہ حضرت علاء بن حضرمی کوموت کی مصیبت پہنچے کی تو حضرت خالد بن ولید اللہ کی تلوار تمہارے اند ر حضرت علاء بن حضرمی کے نائب ہوں گے۔ ان کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ‘اچھی طرح ان کی اطاعت کرنا ‘اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ کی برکت اور مدد ونصرت کی راہ چلنے والے ہو گے ‘انجام کار اللہ کی طرف سے رہنمائی اور اس کی توفیق ہو گی‘ لوگوں میں سے جس سے تم ملو‘ اسے اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دو جو اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس کے رسول کی سنت کی طرف بلاؤ اور انہیں بتاؤ جو اللہ نے اپنی کتاب میں ان کے لیے حلال کیا اور اپنی کتاب میں جوان پر حرام کیا ‘اور یہ کہ اس کا مدمقابل نہ بنائیں ‘شرک سے برأت کا اظہار کر یں‘کفر اور نفاق سے دور ہوں ‘طاغوت اور لات وعزیٰ کی عبادت کا انکار کر یں ۔حضرت عیسیٰ بن مریم ‘حضرت عزیر بن مروہ ‘فرشتوں ‘سورج‘ چاند‘ آگ اور ہر وہ چیز جس کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر بت بنایا ہے ‘اس کی عبادت کو ترک کر دیں۔ ہر اس چیز سے برأت کا اظہار کر یں جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے برأت کی ہے۔ پس جب وہ یہ کام کر یں اور اقراری ہوں تو وہ تمہاری ولایت میں داخل ہو گئے ۔اس وقت ان کے سامنے نام لو ان چیزوں کا جواللہ کی کتاب میں ہیں‘ جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو ‘وہ اللہ کی کتاب ہے جو حضرت روح الامین کی معیت میں تمام عالموں میں سے چنے ہوئے بندے پر نازل ہوئی ہے‘ جن کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداللہ ہے ‘وہ اللہ کے رسول و نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘ اللہ نے آپ کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے ‘عام کر کے خواہ وہ سفید ہیں یا سیاہ ‘انسان ہیں یا جن ۔ یہ ایسی کتاب ہے جس میں ہرشی کا بیان ہے جو تم سے پہلے تھی ‘جو تمہارے بعد ہو گی تا کہ لوگوں کے درمیان رکاوٹ ہو ‘جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض سے روکا ہے‘ یہ کتاب پہلی کتابوں کی محافظ اور تورات‘ انجیل اور زبور میں جو ہے اس کی تصدیق کرنے والی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں بتا تا ہے جو تم سے پہلے تھا ‘اس میں سے تم نے فوت کیا جس کا پانا تمہارے پہلے آباء میں ‘جن کے پاس اللہ کے رسول و انبیاء تشریف لائے‘ ان کا اللہ کے رسولوں کو کیسا جواب تھا۔ اللہ کی آیتوں کی تصدیق تھی تو کس انداز میں اور تکذیب کس انداز میں تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تمہیں ان کے کام اور اعمال سے آ گاہ فرمایا ‘نیز ان لوگوں کے اعمال سے جو اپنے گناہ کے سبب ان سے پہلے ہلاک ہوئےتاکہ تم ان جیسے اعمال سے اجتناب کرو۔ ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں پر بھی ایسی ہی مصیبت آئے جیسی ان پر ان کے اعمال کے سبب آئی‘ اللہ کی ناراضگی اور انتقام کیونکہ انہوں نے اللہ کے حکم کو بجالانے میں سستی کا مظاہرہ کیا ‘اللہ نے تمہیں خبر دار کیا ہے اپنی اس کتاب میں پہلوں میں سے جس کو اس نے نجات دی‘ کیسے اس کو نجات دی تا کہ تم اس جیسے اعمال کرو۔ پس اس نے تمہارے لیے اس کو ہرشی کا بیان بنایا۔ یہ سب کچھ اس کی رحمت ہے تمہارے لیے اور تم پر تمہارے رب کی طرف سے شفقت ہے‘ یہ اللہ کی طرف سے ہدایت ہے گمراہی سے اور اندھے پن سے بیان ‘پھسلاہٹ سے بچنا‘ فتنہ سے نجات ‘تاریکی سے نور‘ حادثات سے شفاء ‘ہلاکت سے بچاؤ کا سبب گمراہی سے رُشد و ہدایت ‘نیز دنیا و آخرت کے درمیان پھیلی ہوئی ہر چیز کا بیان ہے۔ اس میں تمہارا مکمل دین ہے ‘پس جب اسے پیش کرو تو وہ تمہارے سامنے اقرار کریں تو وہ ولایت کو مکمل کرنے والے ہوں گے۔ اس وقت ان پر اسلام پیش کرو اور اسلام‘ پانچ نماز یں زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج ‘ماہِ رمضان کے روزے رکھنا‘جنابت سے غسل‘ نماز سے پہلے وضو کرنا‘ والدین سے نیکی کرنا ‘صلہ رحمی کرنا اور مشرک والدین سے اچھی صحبت رکھنا۔ پس جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ مسلمان بن گئے ‘اس وقت ان کو ایمان کی طرف بلاؤ ‘ان کیلئے اپنی شریعتوں کو واضح کرو اور ایمان کی علامات بتاؤ۔ اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ‘وہ لاشریک ہے ‘حضرت محمد اس کے بندے اور سچے رسول ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کرآئے وہ حق ہے اور اس کے علاوہ باطل ہے۔ اللہ پر ایمان ‘اس کے فرشتوں ‘اس کی کتابوں ‘اس کے رسولوں ‘نبیوں اور یومِ آخرت پر ایمان اور اس کتاب پر ایمان جو سامنے ہے اور جو پیچھے تھا ‘مثلا ً تو رات انجیل اور زبور ‘واضح دلیلوں پر ایمان ‘موت ‘حیات‘ موت کے بعد اٹھنا‘ حساب ‘جنت ‘دوزخ پر ایمان ۔ خیر خواہی اللہ ‘اس کے رسول اور تمام مسلمانوں کیلئے ‘پس جب انہوں نے ایسا کر لیا اور اقرار کیا تو وہ مسلمان بھی ہیں اور مؤمن بھی ہیں پھر ان کو احسان کی طرف دعوت دو کہ وہ احسان کریں اپنے اور اللہ کے درمیان جو کچھ معاملہ ہے‘ امانت کو ادا کرنے میں اس کے وعدہ کو پورا کرنے میں جو اس نے اپنے رسول سے لیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مخلوق اور مؤمنوں کے اماموں سے لیا۔ محفوظ رکھنا‘ مسلمانوں کے اماموں کو ہر تکلیف دِہ زبان اور ہاتھ سے۔ بقیہ مسلمانوں کیلئے خیر طلب کرنا جیسے ان میں سے کوئی اپنے لیے خیر طلب کرتا ہے ‘اللہ کے وعدوں ‘ملاقات‘ اس کی سزا ‘ہر گھڑی اس دنیا سے الوداع ہونے کی ‘ہر دن اور رات شروع ہونے پر اپنے نفس کے محاسبہ کی تصدیق کرنا۔ معاہدہ کرنا کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی چیز فرض فرمائے گا تو اسے پوشیدہ و اعلانیہ ادا کروں گا۔ پس جب لوگوں نے یہ کر لیا تو وہ مسلمان بھی ہیں‘محسن بھی اور مؤمن بھی ہیں ۔ پھر ان لوگوں کے سامنے وضاحت کر یں کہ کبیرہ گناہ کیا ہیں اور ان پر ان کی راہنمائی کریں۔ کبیرہ گنا ہوں کے ارتکاب کی صورت میں ہلاکت سے ان کو خوف دلائیں‘ بے شک کبیرہ گناہ ہلاک کرنے والے ہیں‘ ان میں سے پہلا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ہے۔ جادو ‘جادوگر کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ قطع تعلقی‘ قطع تعلقی کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ لشکر سے بھاگنا‘اللہ کے غضب کا حق دار بنا تا ہے۔خیانت کرنا ‘پس جن لوگوں نے خیانت کی ہوگی وہ قیامت کے دن ان چیزوں کو اُٹھا کر لائیں گے ‘اللہ قبول نہ فرمائے گا مؤمن کو قتل کرنا تو اس کی سزا جہنم ہے ‘پاکدامن پر تہمت لگانا تو ایسے لوگوں پر دنیا و آخرت میں لعنت کی گئی ہے۔ یتیم کا مال کھانا ‘جو کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جہنم رسید ہوں گے۔سود کھانا‘ جو سود کھاتے ہیں وہ اللہ و رسول کو جنگ کا چیلنج دیتے ہیں۔ پس جب وہ کبیرہ گناہوں سے رُک جائیں تو وہ مؤمن مسلمان ‘محسن اور متقی ہیں ۔ انہوں نے تقوی ٰکی ایک منزل حاصل کر لی ہے۔ اس کے بعد ان کو عبادت کی طرف بلائیں۔ عبادت یہ ہے: روزے رکھنا‘ رات کو قیام کرنا ‘خشوع کرنا ‘رکوع کرنا‘ سجود کرنا‘ اللہ کی طرف رجوع کرنا ‘اچھائی کرنا ‘حمد بیان کرنا ‘لا الہ الا اللہ پڑھنا ‘سبحان اللہ کہنا ‘اللہ اکبر کہنا ‘زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد صدقہ کرنا‘ عاجزی کرنا ‘سکینت ‘سکون ‘با ہم غمگساری ‘دعا‘ آہ وزاری (اللہ کی بارگاہ میں )اللہ کی ملکیت ‘عبودیت اور اس کے اپنی ہر صفت میں مستقل ہونے کا اقرار کر نا‘ عمل صالح کی فہرست لمبی ہے‘ پس جب وہ یہ کر لیں تو وہ مسلمان‘مؤمن‘محسن‘ متقی اور عابد ہیں ‘پس انہوں نے عبادت کا راستہ طے کر لیا ہے۔ اس وقت ان کو جہاد کی دعوت دیں‘ ان کیلئے پوری وضاحت کر یں ‘انہیں اس چیز میں رغبت دلائیں جس میں اللہ نے رغبت دلائی ہے ‘جہاد کی فضیلت سے (جنت) انہیں بتائیں کہ اللہ کے ہاں اس کا کتنا ثواب ہے‘ پس اگر وہ اس کے قابل ہو جائیں تو ان سے با قاعدہ بیعت لیں اور ان کو دعوت دیں حتیٰ کہ ان سے اللہ و رسول کی سنت کی بیعت لیں‘ تم پر اللہ کا وعدہ اور اس کا ذمہ ہے ‘اس کی طرف سے سات کفالتیں ہیں: تمہارے ساتھ اس کی بیعت نہ توڑیں ‘مسلمانوں کے والیوں میں سے میرے والیوں کے عہد کو نہ توڑیں‘ پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو ان کو بیعت کر یں‘ ان کیلئے اللہ سے بخشش مانگیں‘ پس جب تم نکلوتو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے نکلو ‘اگر کسی پر غصہ کروتو اللہ کی رضا کیلئے اور اس کے دین کی مدد کیلئے ‘لوگوں میں سے جوملیں تو ان کو دعوت دینی چاہیے اسی کی مثل کی طرف جس کی طرف دوسروں کو بلایا گیا۔ مثلاً اللہ کی کتاب ‘اس کے اسلام ‘ایمان ‘احسان ‘تقوی ٰ‘عبادت اور ہجرت کی طرف ۔ پس ان میں سے جو پیروی کرے تو وہ قبول کرنے والا مؤمن‘محسن‘ متقی‘ عابد اور مہاجر ہے ۔ اس کے وہی حقوق ہیں جو تمہارے ہیں ‘ان پر وہی فرائض ہیں جو تمہارے اوپر ہیں اور جس نے انکار کیا تمہارے اوپر لازم ہے کہ اس سے جنگ کر وحتیٰ کہ وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے اور فتنہ سے بچ جائے ۔ جوتم نے وعدہ کیا اور اللہ کا ذمہ دیا تو اسے پورا کرو‘ جو مسلمان ہوا اور اس نے تمہیں رضا عطا کی تو وہ تم سے اور تم اس سے ہو اور جس نے اس پرتم سے قتال کیا‘ اس کے بعد کہ تم نے اس کیلئے سب کچھ بیان کر دیا تو اس سے قتال کرو۔ جو تم سے جنگ کرے تم بھی اس سے جنت کر سکتے ہو جوتم سے مکر کرے اُسے اس کے مکر کی سزا دو‘ یا وہ تمہارے لیے لشکر جمع کرے تو تم اس کیلئے جمع کر و‘یا تمہیں دھوکہ دے تو تم اسے دھوکہ کی سزا دو‘ یا جوتم سے خیانت کرے تو اسے خیانت کی سزا دولیکن حد سے تجاوز نہ کرنا ‘یا جوتمہیں فریب دے اسے فریب کی سزا دو بغیر زیادتی کیے ‘پوشیدگی میں اور علانیہ طور پر کیونکہ جو ظلم کے بعد غالب آئیں تو ان پر کوئی راستہ نہیں ہے۔ جان لو! اللہ تمہارے ساتھ ہے ‘وہ تمہیں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے ‘جو تم کرتے ہو ‘وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ پس اللہ سے ڈرو اور محتاط ہو جاؤ اس بات میں کہ یہ امانت ہے جس پر مجھے میرے رب نے امین بنایا ہے کہ میں اس کے بندوں کو پہنچاؤں اس کی طرف سے ان کی طرف عذر‘ اس کی طرف سے حجت‘ جس کے ساتھ اس نے دلیل قائم کی ہے ‘اس کے خلاف جس کو اس کی تمام مخلوق میں سے یہ پیغام پہنچا ہے‘ اس میں جو ہے جس نے اس پر عمل کیا اُس نے نجات پائی ‘جو اس میں ہے جس نے اس کی پیروی کی اُس نے ہدایت پائی‘ جس نے اس کے ذریعے دشمن پر دلیل قائم کی اُس نے فلاح پائی ‘جس نے اس کو سامنے رکھ کر جہاد کیا اُس کی مدد کی گئی ‘جس نے اس کو چھوڑا وہ گمراہ ہوا یہاں تک کہ وہ رجوع کرلے‘ جو اس میں ہے اسے اچھی طرح سیکھ لو اور اسے اپنے کانوں کو سنوا لو ‘اپنے پیٹوں میں یاد رکھ لو اور اپنے دلوں کو یاد کر وا لو کیونکہ یہ آنکھوں کا نور‘ دلوں کو موسمِ بہار اور سینوں کی بیماری کیلئے شفاء ہے۔ حکم دینے‘ اعتبار کرنے ‘جھڑ کنے‘ نصیحت کرنے اور اللہ و رسول کی طرف بلانے کو کافی ہے‘ یہی وہ خبر ہے جس میں کوئی بُرائی نہیں ۔ حضرت محمد بن عبداللہ جو اللہ کے رسول ہیں‘ کا خط حضرت علاء بن حضرمی کیلئے جس وقت ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کی طرف بھیجا ‘وہ اللہ کے رسول کی طرف بلانے والے تھے‘ انہیں حکم صادر فرمایا کہ اس میں جو حلال ہے ‘اس کی طرف بلاؤ اور منع کرو اس سے جو حرام ہے اور راہنمائی کرواس پر جو اس میں ہدایت ہے اور جو گمراہی ہے ‘ اس سے روکو۔

الْجَارُودِ، ← بعض ولد الجارود ← المسور بن عبد الله الباهلي ← أَبِي الْمُحَبَّرُ بْنُ فَخْذَمٍ ← دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ بْنِ فَخْذَمِ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى أَبِي بَكْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14873

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ منصور بن زاذان عن الحسن عن عمران بن حصين · حديث 15117

409 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا محمد بن أبي نعيم الواسطي ثنا هشيم عن منصور بن زاذان عن الحسن عن عمران بن حصين قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( الحياء من الإيمان والإيمان في الجنة والبذاء من الجفاء والجفاء في النار )

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاءایمان سے ہے اور ایمان جنت میں لے جانے والا عمل ہے بے حیائی بدبختی ہے اور بدبختی جہنم میں لے جانے والا عمل ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15117

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 10607.1

قال معاوية : فما تقول في عمر بن الخطاب ؟ قال : رحم الله أبا حفص كان والله حليف الإسلام ومأوى الأيتام ومحل الإيمان وملاذ الضعفاء ومعقل الحنفاء للخق حصنا وللناس عونا قام لحق الله صابرا ومحتبسا حتى أظهر الله به الدين وفتح الديار وذكر الله في الأقطار والمناهل وعلى التلال وفي الضواحي والبقاع وعند الخنا وقورا وفي الرخاء والشدة شكورا ولله في كل وقت وآناء ذكورا فأعقب الله من تنقصه اللعنة إلى يوم الحسرة

حضرت امیر معاویہ نے کہا: پس آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو حضرت ابو خفص پر! قسم بخدا! وہ اسلام کے سچے حلیف تھے ‘تیموں کے ماویٰ ‘ایمان کا محل ‘کمزوروں کی پناہ گاہ ‘سچے لوگوں کے سمجھنے کی جگہ ‘مخلوق کیلئے محفوظ قلعہ ‘لوگوں کیلئے مددگار ‘اللہ کے حق کیلئے وہ صبر کرتے ہوئے اور اللہ کی رضا کی نیت کرتے ہوئے ڈٹ گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے دین کو غلبہ عطا فرمایا ‘ملک فتح ہوئے ‘کناروں اور گھاٹیوں میں اللہ کا ذکر بلند ہوا ‘ٹیلوں پر ‘اس کے بیرونی کناروں میں ‘زمین کے مختلف ٹکڑوں پر اللہ کو یاد کیا گیا ‘جہاں بدکلامی ہوتی وہاں وقار کا دامن نہ چھوڑتے ‘خوشحالی اور تنگ دستی میں اللہ کا ذکر کرنے والے ‘ہر وقت اور ہر گھڑی اللہ کا ذکر کرنے والے تھے ‘پس اللہ سزا دے ہر اُس آدمی کو قیامت کے دن تک جو لعنتی ان کا نقص نکالے۔

معاوية فما تقول في عمر بن الخطاب

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10607.1

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيٌّ · حديث 3778

3778 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: نا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: نا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ الطَّائِفِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ، بِلِسَانِهِ، وَلَمْ يُخْلِصِ الْإِيمَانَ إِلَى قَلْبِهِ» حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فِي خُدُورِهِنَّ، «لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَخْرِقَهَا عَلَيْهِ فِي بَطْنِ بَيْتِهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ: قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَلَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ "

یہ حدیث ابن جریج رضی اللہ عنہ سے صرف اسماعیل بن شیبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، اس کو روایت کرنے میں قدامہ بن محمد اکیلے ہیں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی سند سے روایت ہے ۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · The door of the eye › From whose name is Ali · Hadith 3778

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيٌّ · حديث 3789

3789 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ الصَّائِغُ الْبَغْدَادِيُّ قَالَ: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ الْقَاضِي قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَّةٌ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا يَحْيَى الْقَطَّانُ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ

یہ حدیث شعبہ سے یحیٰ القطان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، اس کو روایت کرنے میں ابراہیم بن محمد التیمی اکیلے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ الْقَاضِي، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ الصَّائِغُ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · The door of the eye › From whose name is Ali · Hadith 3789

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 6962

6962 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، [ص:96] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، أَرْفَعُهَا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ»

الطَّرِيقِ» ← «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، أَرْفَعُهَا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، [ص:96] ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سُلَیْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 6962

المعجم الاوسط للطبرانی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 1729

1729 - وَبِهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، وَهُمْ أَلْيَنُ أَفْئِدَةً، وَأَلْيَنُ قُلُوبًا. الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْقَسْوَةُ وَغِلَظُ الْقَلْبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَرْبَابِ الْإِبِلِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ»

وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Chapter of the thousand › From his name, Ahmad · Hadith 1729

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8794

8794 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَزَوَّجَ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الْإِيمَانِ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شادی کر لی اس نے آدھا ایمان مکمل کر لیا اور باقی کے متعلق اللہ سے ڈرے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← أَبِيهِ ← الْحَسَنُ بْنُ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8794

chevron_left Previous
1…545556…484
Next chevron_right