Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ التَّطَوُّعِ · حديث 4843

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَمَّنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يَقُولُ: قَالَ: رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ إِيمَانًا؟ قَالَ: «أَحْسَنُهُمْ أَخْلَاقًا» قَالَ: فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ» قَالَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ هَجَرَ مَا نَهَاهُ اللَّهُ عَنْهُ» قَالَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ» قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «جَهْدُ الْمُقِلِّ» قَالَ: فَأَيُّ الصَّلَوَاتِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «طُولُ الْقُنُوتِ» ذَكَرَهُ مَعْمَرٌ عَنْ عَمْرٍو

4843 - حسن بصری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ! کون سے مؤمن ایمان کے اعتبار سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں ۔ اُس نے عرض کی : کون سا ایمان زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: صبر اور نرمی ۔ اُس نے دریافت کیا: کون سی ہجرت سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جو شخص اُس چیز سے لا تعلق ہو جائے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ۔ اُس نے دریافت کیا: کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس میں گھوڑے کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں اور خون بہا دیا جائے۔ اُس نے دریافت کیا: کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: آدمی کا مشقت کر کے تھوڑی چیز کو خرچ کرنا ۔ اُس نے دریافت کیا: کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس قیام طویل ہو ۔ معمر نے یہ روایت عمرو کے حوالے سے نقل کی ہے ۔

رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ ← الْحَسَنِ، ← معمر عمن ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on the merit of volunteering · Hadith 4843

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقُنُوتِ · حديث 4968

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الصُّبْحَ فَقَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ، وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ وَنَخَافُ عَذَابَكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَفَّارِينَ مُلْحَقٌ، اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ، وَخَالِفْ بَيْنِ كَلِمَتِهِمْ، وَأَنْزِلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ أَهْلَ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيُقَاتِلُونَ [ص:111] أَوْلِيَاءَكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ، وَاجْعَلْ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَالْحِكْمَةَ، وَثَبِّتْهُمْ عَلَى مِلَّةِ نَبِيِّكَ، وَأَوْزِعْهُمْ أَنْ يُوَفُّوا بِالْعَهْدِ الَّذِي عَاهَدْتَهُمْ عَلَيْهِ، وَانْصُرْهُمْ عَلَى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ، إِلَهَ الْحَقِّ، وَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ» قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَلَوْ كُنْتُ إِمَامًا قُلْتُ هَذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ

4968 - ابو رافع بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب کے پیچھے صبح کی نماز ادا کی تو اُنہوں نے رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی میں نے اُنہیں یہ پڑھتے ہوئے سنا : اے اللہ! بےشک ہم تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ہم تیری تعریف کرتے ہیں ہم تیرا کفر نہیں کرتے ہم تجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو شخص تیری نافرمانی کرتا ہے اُس سے لاتعلق ہو جاتے ہیں اور اُسے چھوڑ دیتے ہیں اے اللہ! ہم تیری عبادت کرتے ہیں تیرے ہی لیے نماز ادا کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں ور تیری رحمت کے اُمیدوار ہیں تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بےشک تیرا عذاب کافروں تک پہنچ جائے گا اے اللہ! کافروں کو عذاب دے اُن کے دلوں میں رغب ڈال دے اے اللہ! کافروں کو عذاب دے یعنی اہل کتا ب کو جو تیرے راستے سے روکتے ہیں اور تیرے رسولوں کو جھوٹا قرار دیتے ہیں تیرے دوستوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اے اللہ! تو مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی مغفرت کر دے اُن کے اندر بہتری ڈال دے اُن کے دلوں میں اُلفت پیدا کر دے اُن کے دلوں میں ایمان اور حکمت رکھ دے انہیں اپنے نبی کے دین پر ثابت قدم رکھ اور اُنہیں یہ چیز عطا ء کر دے کہ وہ اُس عہد کو پورا کرے جو عہد تو نے اُن سے لیا ہے اور تو اپنے اور اُن کے دشمنوں کے خلاف اُ ن کی مدد فرما اور ہمیں اُن میں شامل کر دے ۔ امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں: اگر میں امام ہوں تو پہلے یہ کلمات پڑھو ں گا پھر یہ دعا مانگوں گا : اے اللہ! تو مجھے اُن لوگوں میں ہدایت عطا ء کر دے جنہیں تو نے ہدایت عطا ء کی ہے ۔

اللَّهُمَّ ← صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الصُّبْحَ فَقَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ ← أَبِي رَافِعٍ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The section of Qunoot · Hadith 4968

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقُنُوتِ · حديث 4982

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ يَقُولُ: الْقُنُوتُ فِي الْوِتْرِ وَالصُّبْحِ: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ، وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ الْجِدَّ، إِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالْكُفَّارِ مُلْحَقٌ، اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ وَالْمُشْرِكِينَ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ، وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَأَنْزِلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ عَذِّبِ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، اللَّهُمَّ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ، وَاجْعَلْ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَالْحِكْمَةَ، وَأَوْزِعْهُمْ أَنْ يَشْكُرُوا نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ، وَأَنْ يُوَفُّوا بِعَهْدِكَ الَّذِي عَاهَدْتَهُمْ عَلَيْهِ، وَتَوَّفَهُمْ عَلَى مِلَّةِ رَسُولِكَ، وَانْصُرْهُمْ عَلَى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ إِلَهَ الْحَقِّ وَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ»، فَكَانَ يَقُولُ هَذَا، ثُمَّ يَخِرُّ سَاجِدًا، وَكَانَ لَا يَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ بَعْضُ مَنْ يَسْأَلُهُ يَقُولُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ أيَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالدُّعَاءِ، وَالتَّسْبِيحِ، وَالتَّكْبِيرِ، فَيَقُولُ: " لَا أَنْهَاكُمْ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزِيدُونَ عَلَى هَذَا شَيْئًا، وَيَغْضَبُ إِذَا أَرَادُوهُ عَلَى الزِّيَادَةِ

4982 - حسن بصری فرماتے ہیں: وتر اور صبح کی نماز میں دعائے قنوت پرھی جائے گی جس کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ! بے شک ہم تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں تیری تعریف کرتے ہیں تیرا انکار نہیں کرتے ہیں جو تیری نافرمانی کرتا ہے اُس سے لا تعلق ہو جاتے ہیں اور اُسے ترک کر دیتے ہیں اے اللہ! ہم تیری ہی عبا دت کرتے ہیں تیرے لیے نماز پرھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں تیری طرف آتے ہیں اور تیری فرمانبرادری کرتے ہیں تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور تیری رحمت کی اُمید رکھتے ہیں بے شک تیرا عذاب کفار تک پہنچ جائے گا ۔ اے اللہ! کافروں کو عذاب دے اور اُن کے دلوں میں رعب ڈال دے اور اُن کے اتفاق کے درمیان اختلاف پیدا کر دے اُ ن پر اپنی سزا اور اپنا عذاب نازل کر دے جو تیرے راستے سے روکتے ہیںتیرے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اے اللہ! اُن کے درمیان اتفاق پیدا کر دے اُن کے دلوں میں اُلفت پیدا کر دے اُن کے دلو ں میں ایمان اور حکمت کو رکھ دے اور اُنہیں اس بات کی توفیق عطا ء فرما کہ وہ تیری نعمت کا شکر ادا کریں جو نعمت تو نے اُن پر کی ہے اور وہ اُ س عہد کو پورا کریں۔ راوی بیان کرتےہیں: کسی شخص نے اُن سے سوال کیا : اے ابو سعید ! کیا ان کلمات میں نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنے کا اضافہ کیا جاسکتا ہے یا کوئی اور دعا کی جا سکتی ہے سبحان اللہ پڑھی جا سکتی ہے یا اللہ اکبر پڑھا جا سکتا ہے ؟ تو حسن بصری نے جواب دیا: میں تم لوگوں کو اس سے منع نہیں کرتا لیکن میں نے نبی اکرمﷺ کے اصحاب سے سنا ہے کہ وہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں پڑھتے تھے اور شخص زیادہ پرھنے کا اردہ کرتا تھا اُس پر ناراضگی کا اظہار کرتے تھے۔

الْحَسَنِ، ← عَمْرٍو، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The section of Qunoot · Hadith 4982

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقُنُوتِ · حديث 4989

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: يَقُولُ آخَرُونَ فِي الْقُنُوتِ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، اللَّهُمَّ لَكَ نُصَلِّي وَلَكَ نَسْجُدُ، وَإِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدَّ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحَقٌ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ، وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، اللَّهُمَّ أَسْلَمْنَا نَفُوسَنَا إِلَيْكَ، وَصَلَّيْنَا وُجُوهُنَا إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْنَا ظُهُورَنَا إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَرَسُولَكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنَهُمْ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ، وَاجْعَلْ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَالْحِكْمَةَ، وَأَوْزِعْهُمْ أَنْ يُوفُوا بِعَهْدِكَ الَّذِي عَاهَدْتَهُمْ [ص:120] عَلَيْهِ، وَتَوَفَّهُمْ عَلَى مِلَّةِ نَبِيِّكَ، وَانْصُرْهُمْ عَلَى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ، إِلَهَ الْحَقِّ، اللَّهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَأَنْزِلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ عَذِّبْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَارْضَ عَنَّا»

4989 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: دوسرے لوگوں نے دعائے قنوت کے یہ کلمات نقل کیے ہیں: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے اے اللہ! ہم تیرے ہی لیے نماز ادا کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے سجدہ کرتے ہیں تیری ہی عبادت کرتے ہیں تیرے ہی لیے نماز ادا کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں تیری ہی طرف دوڑ ر آتے ہیں تیری ہی فرمانبرداری کرتے ہیں تیری رحمت کی اُمید رکھتے ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بےشک تیرا عذاب کافروں تک پہنچ جائے گا ۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The section of Qunoot · Hadith 4989

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُمَثِّلُ بِالرَّجُلِ ثُمَّ يَقْتُلُهُ · حديث 18232

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ»

18232 - علقمہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: قتل کرنے میں سب سے زیادہ احتیاط کر نے والے اہل ایمان ہیں۔

ابْنُ مَسْعُودٍ: «إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ» ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › The man’s gate mimics the man and then kills him · Hadith 18232

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ الْقَسَامَةِ · حديث 18261

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: " أَنَّ الْقَسَامَةَ , فِي الدَّمِ لَمْ تَزَلْ عَلَى خَمْسِينَ رَجُلًا فَإِنْ نَقَصَتْ قَسَامَتُهُمْ أَوْ نَكَلَ مِنْهُمْ رَجُلٌ وَاحِدٌ رُدَّتْ قَسَامَتُهُمْ حَتَّى حَجَّ مُعَاوِيَةُ فاتَّهَمَتْ بَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مُصْعَبَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيَّ , وَمُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ التَّيْمِيَّ , وَعُقْبَةَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ابْنَ شَعُوبٍ اللَّيْثِيَّ , بِقَتْلِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ هَبَّارٍ فَاخْتَصَمُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ إِذْ حَجَّ وَلَمْ يُقِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ بَيِّنَةً إِلَّا بالتُّهْمةِ فَقَضَى مُعَاوِيَةُ بِالْقَسَامَةِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ وَعَلَى أَوْلِيَائِهِمْ فَأَبَوْا بَنُو زُهْرَةَ , وَبَنُو تَمِيمٍ , وَبَنُو اللَّيْثِ , أَنْ يَحْلِفُوا عَنْهُمْ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِبَنِي أَسَدٍ: احْلِفُوا. فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: نَحْنُ نَحْلِفُ عَلَى الثَّلَاثَةِ جَمِيعًا فَنَسْتَحِقُّ فَأَبَى مُعَاوِيَةُ وَقَالَ: أَقْسِمُوا عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ فَأَبَى ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَّا أَنْ يُقْسِمُوا عَلَى الثَّلَاثة فَأَبَى مُعَاوِيَةُ أَنْ يُقْسِمُوا إِلَّا عَلَى وَاحِدٍ فَقَضَى مُعَاوِيَةُ بِالْقَسَامَةِ [ص:33] فَرَدَّهَا عَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ ادَّعَى عَلَيْهِمْ فَحَلَفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَبَرِئُوا فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ مَا قَصُرَتِ الْقَسَامَةُ ثُمَّ ادَّعَى فِي إِمَارَةِ مَرْوَانَ عَطَاءُ بْنُ يَعْقُوبَ مَوْلَى سِبَاعٍ قَتْلَ أَخِيهِ رَبِيعَةَ عَلَى ابْنِ بَلْسَانَةَ وَصَاحِبَيْهِ وَكَانُوا خُلُعًا فُسَّاقًا فَأَبَى أَوْلِيَاؤُهُمْ أَنْ يَحْلِفُوا عَنْهُمْ وَلَمْ يَرَهُمْ مَرْوَانُ رِضًى فَيُحَلِّفَهُمْ كَمَا أَحْلَفَ مُعَاوِيَةُ فَاسْتَحْلَفَ مَرْوَانُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سِبَاعٍ , وَابْنَيْهِ مُحَمَّدًا وَعَطَاءً ابْنَيْ يَعْقُوبَ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسِينَ يَمِينًا مَرْدُودَةً عَلَيْهِمْ ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِمُ ابْنَ بَلْسَانَةَ وَصَاحِبَيْهِ فَقَتَلُوهُمْ وَقَضَى عَبْدُ الْمَلِكِ بِمِثْلِ قَضَاءِ مَرْوَانَ ثُمَّ رُدَّتِ الْقَسَامَةُ إِلَى الْأَمْرِ الْأَوَّلِ " قَالَ: وَكَانَ مَعْمَرٌ يُحَدِّثُ قَبْلَ ذَلِكَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: نَحْنُ نَحْلِفُ فَنَسْتَحِقُّ عَلَيْهِمْ فَأَبَى عَلَيْهِمْ وَقَالَ أَقْسِمُوا عَلَى وَاحِدٍ فَأَبَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ , وَأَبَى مُعَاوِيَةُ فَرَدَّدَ مُعَاوِيَةُ الْأَيْمَانَ فَكَانَ يُحَدِّثُ بِهَذَا يَخْتَصِرُهُ اخْتِصَارًا وَذَكَرَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مِثْلَهُ

18261 - سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: قتل کے مقدمے میں قسامت شروع سے پچاس افراد سے متعلق رہی اگر ان لوگوں کی قسامت میں کمی ہوتی یا ان مین سے کوئی ایک شخص انکار کر دیتا تو ان کی قسامت کو مسترد کر دیا جاتا تھا یہاں تک کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ حج کے لئے تشریف لائےتو بنو اسد بن عبدالعزیز نے مصعب بن عبدالرحمٰن زہری اور معاذ بن عبداللہ بن معمر تیمی اور عقبہ بن معاویہ بن شعوب لیثی پر اسماعیل بن ہبار کے قتل کا الزام لگایا اور اپنا مقدمہ حضرت معاوئی کے سامنے پیش کیا جو حج کے لیے آئے ہوئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کوئی ثبو پیش نہیں کر سکے تھے صرف الزام تھا تو حضرت معاویہ نے یہ فیصلہ دیا کہ جن لوگوں کے خلاف دعویٰ کی اگیا ہے وہ اور ان کے اولیا ء قسامت کریں گے بنو زہرہ بنو تمیم اور بنو لیث کے افراد ایسا کر نے سے انکر کر دیا کہ ان حضرات کی طرف سے قسم اٹھائیں تو حضرت معاویہ نے بنو اسد سے کہا: تم لوگ حلف اٹھا لو حضرت عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم تینوں کے خلاف حلف اٹھا ئیں گے اور بدلے کے مستحق ہو جائیں گے لیکن حضرت معاویہ نے ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی انہوں نے یہ فرمایا کہ تم ایک شخص کے خلاف قسم اٹھا لو حضرت عبداللہ بن زبیر نے اصراد کیا کہ وہ لوگ تین افراد کے خلاف ہی قسم اٹھائیں۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › The swearing-off section · Hadith 18261

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ الْقَسَامَةِ · حديث 18265

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ فِي كِتَابٍ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْأَيْمَانِ أَنْ يَحْلِفَ الْأَوْلِيَاءُ , فَالْأَوْلِيَاءُ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ عَدَدُ عَصَبَتِهِ يَبْلُغُ الْخَمْسِينَ , رُدَّتِ الْأَيْمَانُ عَلَيْهِمْ , بَالِغًا مَا بَلَغُوا»

18265 - عبدالعزیز بن عمر بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مکتوب میں یہ تحریر تھا کہ نبی اکرمﷺ نے قسموں کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ اولیا ء درجہ بدرجہ حلف اٹھا ئیں گے اور جب آدمی کے عصبہ رشتے داروں میں ا تنی تعداد نہ ہو جو پچاس تک پہنچتی ہو تو دیگر اولیا ء کی طرف قسمیں لوٹائی جائیں گی ۔

عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ فِي كِتَابٍ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › The swearing-off section · Hadith 18265

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ الْقَسَامَةِ · حديث 18273

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: «إِنْ نَقَصَتْ قَسَامَةُ رَجُلٍ مِنْهُمْ , رُدَّتْ» قَالَ: " كَذَلِكَ كَانَتِ الْقَسَامَةُ يَقُولُ: رُدَّتْ لَمْ تُكَرَّرْ عَلَيْهِمُ الْأَيْمَانُ "

18273 - معمر نے زہری کا یہ بیان نقل کیا ہے اگر ان میں سے ایک شخص کی قسامت کم ہو تو اسے واپس کر دیا جائے گا وہ بیان کرتے ہیں: قسامت اسی طرح ہو تی ہے وہ فرماتے ہین: اسے واپس کر دیا جائے گا ان لوگوں سے قسموں میں تکرار نہیں کی جائے گی ۔

رُدَّتْ لَمْ تُكَرَّرْ عَلَيْهِمُ الْأَيْمَانُ ← كَذَلِكَ كَانَتِ الْقَسَامَةُ ← «إِنْ نَقَصَتْ قَسَامَةُ رَجُلٍ مِنْهُمْ رُدَّتْ» ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › The swearing-off section · Hadith 18273

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ الْقَسَامَةِ · حديث 18275

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: ضَرَبَ رَجُلٌ رَجُلًا بِعَصًا , فَعَاشَ يَوْمًا وَقَالَ: ضَرَبَنِي فُلَانٌ , فَمَاتَ , فَأَتَى قَوْمُهُ عَبْدَ الْمَلِكِ يَسْأَلُونَهُ الْقَوَدَ , «فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُقْسِمُوا عَلَيْهِ , فَحَلَفَ مِنْهُمْ سِتَّةُ رَهْطٍ , خَمْسِينَ يَمِينًا , يُرَدِّدُ الْأَيْمَانَ عَلَيْهِمْ , ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَيْهِمْ قَوَدًا بِصَاحِبِهِمْ»

18275 - ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک شخص نے دوسرے کو عصا کے ذریعے مارا دوسرا شخص ایک دن زندہ رہا اس نے یہ بتا دیا کہ فلاں نے مجھے مارا پھر اس کا انتقال ہو گیا اس کی قوم کے افراد عبدالملک کے پاس آئے اور اس سے قصاص کا مطالبہ کیا تو عبدالملک نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس ضرب لگانے والے کے خلاف قسم اٹھائیں ان میں سے چھ افراد نے پچاس قسمیں اٹھائیں عبدالملک ان سے بار بار قسمیں لیتا رہا پھر ان کے ساتھی کے قصاص کے بدلے مین ضرب لگانے والے کو اس نے ان لوگوں کے حوالے کر دیا ۔

ضَرَبَ رَجُلٌ رَجُلًا بِعَصًا فَعَاشَ يَوْمًا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › The swearing-off section · Hadith 18275

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ الْقَسَامَةِ · حديث 18283

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: " إِنْ قُتِلَ رَجُلٌ بِحِذَاءِ قَوْمٍ , أَوْ بِعَرَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ , فَوُجِدَ عِنْدَهُ أَثَرٌ , وَكَانَتْ عِنْدَهُ شُبْهَةٌ أَوْ لَطْخَةٌ , فَإِنْ لَمْ يَفِ قَسَامَةُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ , أَوْ نَكَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ , أَوْ لَمْ يَفِ قَسَامَةُ الْمُدَّعِينَ أَوْ نَكَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ , فَالْعَقْلُ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ قُتِلَ بِحِذَائِهِمْ , وَمِنْ أَجْلِ الشُّبْهَةِ , فَإِنْ لَمْ يُقْتَلْ بِحِذَاءِ قَوْمٍ , وَلَمْ يُوجَدْ عِنْدَهُ أَثَرٌ , وَلَمْ تَكُنْ عِنْدَهُ شُبْهَةٌ , وَلَمْ يَفِ قَسَامَةُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ أَوْ نَكَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ , أَوْ لَمْ يَفِ قَسَامَةَ الْمُدَّعِينَ , أَوْ نَكَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ , فَقَدْ بَطَلَ الدَّمُ وَهَلَكَ , قَالَ: كَذَلِكَ الْأَمْرُ الْأَوَّلُ , فَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ النَّاسُ الْيَوْمَ فَتُرَدَّدُ الْأَيْمَانُ "

18283 - ابن شہاب بیان کرتے ہیں: اگر کوئی شخص کسی قوم کے مد مقابل یا بے آب و گیا ہ جگہ پر قتل ہو جاتا ہے اور اس کے پاس کوئی نشان پایا جاتا ہے یا اس کے پاس شبہ والی کوئی بات ہوتی ہے یا اشارہ ہوتا ہے تو اگر جن لوگوں کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے ان کی قسامت مکمل نہیں ہوتی یا ان میں سے کوئی ایک شخص انکار کر دیتا ہے یا دعویٰ کرنے والوں کی قسامت مکمل نہیں ہوتی یا ان میں سے کوئی شخص انکار کر دیتا ہے تو ان لوگوں پردیت کی ادائیگی لازم ہو گی کیونکہ وہ شخص لامز ہو گی کیونکہ وہ شخص ان لوگوں کے علاقے کے پاس قتل ہوا ہے اور شبہ بھی پایا جا رہا ہے اور اگر وہ کسی قوم کے علا کے مد مقابل قتل نہ ہوا ہو ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › The swearing-off section · Hadith 18283

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ الْقَسَامَةِ · حديث 18285

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: «إِذَا لَمْ يُكْمِلُوا خَمْسِينَ , رُدِّدَتِ الْأَيْمَانُ عَلَيْهِمْ»

18285 - مغیرہ نے ابراہیم نخعی کا یہ قول نقل کیا ہے جب ان کی تعداد مکمل پچاس نہ ہو تو ان سے بار بار قسمیں لی جائیں گی ۔

«إِذَا لَمْ يُكْمِلُوا خَمْسِينَ رُدِّدَتِ الْأَيْمَانُ عَلَيْهِمْ» ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › The swearing-off section · Hadith 18285

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ الْقَسَامَةِ · حديث 18290

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ , أَنَّ فِي كِتَابٍ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا: «فِي الْقَتِيلِ يُوجَدُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ دِيَارٍ أَنَّ الْأَيْمَانَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ , فَإِنْ نَكَلُوا , حَلَفَ الْمُدَّعُونَ واسْتَحَقُّوا , فَإِنْ نَكَلَ الفَرِيقَانِ جَمِيعًا , كَانَتِ الدِّيَةُ نِصْفَيْنِ , نِصْفٌ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ , وَنِصْفٌ يُبْطِلُهُ أَهْلُ الدَّعْوَى , إِذْ كَرِهُوا أَنْ يَسْتَحِقُّوا بِأَيْمَانِهِمْ»

18290 - عبدالعزیز بن عمر بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مکتوب میں یہ تحریر تھا ہم تک جو روایت پہنچی ہے اس کے مطابق نبی اکرمﷺ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ایک مقتول جو کسی علاقے کے درمیان میں پایا گیا تھا تو جن لوگوں کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے ان پر قسم اٹھانا لازم ہو گا اگر وہ انکار کر دیتے ہیں تو دعویٰ کرنے والے قسم اٹھا کر مستحق بن جائیں گے اگر دونوں فریق انکا رکر دیتے ہیں تو دیت دو حصو میں تقسیم ہو گی ۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › The swearing-off section · Hadith 18290

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ قَسَامَةِ الْخَطَإِ · حديث 18305

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ في كِتَابٍ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا أَهْلِ مَعْمَعَةٍ تَفَرَّقُوا عَنْ قَتْلٍ , أَوْ جُرْحٍ فَأَدَّاهُ جُرْحُهُ ذَلِكَ إِلَى الْمَوْتِ , فَادَّعَى الْمَجْرُوحُ عَلَى بَعْضِ الَّذِينَ ضَرَبُوا دُونَ بَعْضٍ , وَشَهِدَ بِذَلِكَ أَهْلُ المَعْمَعَةِ مَنْ لَا يُعْلَمُ عَلَيْهِ بُغْيَةٌ , وَلَا يُتَّهَمُ بِعَدَاوَةٍ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ , فَإِنَّ أَهْلَ الْقَتِيلِ , يَدْرَءُونَ بِالْأَيْمَانِ , مِنْ أَجْلِ مَا كَانَ لَهُمْ مِنْ وَرْبِ الْمَارَّةِ , فَيَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا: بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَنَّ فُلَانًا هُوَ قَتَلَ صَاحِبَنَا , وَمَا مَاتَ إِلَّا مِنْ ضَرْبِهِ "

18305 - عبدالعزیز بن عمر بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدا لعزیز کے مکتوب میں یہ بات تحریر تھی نبی اکرمﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے جس بھی لڑائی کے لوگ کسی قتل یا زخم سے متفرق ہوں اور اس زخم کے نتیجے میں اس شخص کی موت واقع ہو جائے اور زخمی ہونے والے شخص نے ان میں سے بعض لوگوں کے خلاف دعویٰ کیا ہو جنہوں نےمارا تھا اور بعض کے خلاف دعویٰ نہ کیا ہو اور لڑائی کے لوگ اس بات کی گواہی دے دیں ایسا شخص گواہی دے جس کے بارے میں سر کشی کا علم نہ ہو اور کسی دشمنی کا الزام نہ ہو ۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › Error sharing section · Hadith 18305

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ اللُّقَطَةِ ‹ بَابٌ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ الْإِيمَانِ · حديث 18716

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: لَمَّا بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ لِقِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ , قَالَ: «تَبَيَّنُوا فَأَيُّمَا مَحِلَّةٍ , سَمِعْتُمْ فِيهَا الْأَذَانَ , فَكُفُّوا , فَإِنَّ الْأَذَانَ شِعَارُ الْإِيمَانِ»

18716 - معمر نے زہری کا یہ بیان نقل کیا ہے جب حضرت ابو بکر نے مرتد لوگوں سے جنگ کے لئے لشکر بھجوایا تو فرمایا تم اس بات کی تحقیق کر لینا جس بھی بستی میں تمہیں اذاد کی آواز سنائی دے وہاں لڑنے سے بچنا کیونکہ اذان کی آواز سنائی دے وہاں لڑنے سے بچنا کیونکہ اذان ایمان کا مخصوص نشان ہے ۔

«تَبَيَّنُوا فَأَيُّمَا مَحِلَّةٍ سَمِعْتُمْ فِيهَا الْأَذَانَ فَكُفُّوا فَإِنَّ الْأَذَانَ شِعَارُ الْإِيمَانِ» ← لَمَّا بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ لِقِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · Snapshot book › Chapter on disbelief after faith · Hadith 18716

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ · حديث 13680

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، مِرَارًا يَقُولُ: «الْعَيْنُ تَزْنِي، وَالْفَمُ يَزْنِي، وَالْقَلْبُ يَزْنِي، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلُ تَزْنِي فَعَدَّدَهُنَّ كَذَلِكَ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ» قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: «لَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ حِينَ يَشْرَبُ» قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: «وَإِذِ اعْتَزَلَ خَطِيئَتَهُ رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ»

عطا ء بیان کرتے ہیں؛ میں نے کئی مرتبہ حضرت ابو ہریہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ناک بھی زنا کرتی ہے منہ بھی زنا کرت اہے دل بھی زنا کرتا ہے دونوں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں پاؤں بھی زنا کرتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ نے تمام اعضا ء شمار کروائے پھر شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اس کی تکذیب کر دیتی ہے ۔

أَبَا هُرَيرَةَ مِرَارًا ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The door does not commit adultery when a fornicator commits adultery while he is believing · Hadith 13680

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ · حديث 13682

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَغُلُّ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نَهْبَةً يَرْفَعُ إِلَيْهِ النَّاسُ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ زَالَ مِنْهُ الْإِيمَانُ قَالَ: يَقُولُ: الْإِيمَانُ كَالظِّلِّ. عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

13682 - طاؤس کے صاحبزادے نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا شراب پینے والا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The door does not commit adultery when a fornicator commits adultery while he is believing · Hadith 13682

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ · حديث 13685

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: «لَا يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ حِينَ يَزْنِي، فَإِذَا زَالَ رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ لَيْسَ إِذَا تَابَ مِنْهُ، وَلَكِنْ إِذَا ارْتَجَعَ عَنِ الْعَمَلِ» قَالَ: وَحَسِبْتُ أَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

13685 - نافع بن جبیر بیان کرتے ہیں: زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا جب وہ یہ کام ختم کر دیتا ہے تو ایمان اس کی واپس آجاتا ہے یہ اس وقت نہیں ہوت ا جب وہ اس کام سے توبہ کرتا ہے بلکہ وہ اس کام کو ختم کر تا ہے اس وقت ہوتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالے سے ذکر کی ہے ۔

عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The door does not commit adultery when a fornicator commits adultery while he is believing · Hadith 13685

مسند بزار · مُسْنَدُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ‹ وَمِمَّا رَوَى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ · حديث 1045

1045 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: نا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: نا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ، أَوِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا , وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا , وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا , وَصَغِيرِنَا , وَكَبِيرِنَا مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَا فَأَحْيهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ» [ص:255] وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ

أَبِيهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي نَجِيحٍ، أَوِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ

Musnad e Bazzar · The chain of narrators of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him › And from what was narrated by Abu Salamah ibn Abd al-Rahman, on the authority of his father · Hadith 1045

مسند بزار · مُسْنَدُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ‹ وَمِمَّا رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ · حديث 1315

1315 - وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا الْتَقَوْا لَقِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِالْبَشَاشَةِ، فَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبًا الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ»

قُلْتُ ← الْعَبَّاسُ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← وحدثنا يوسف بن موسى

Musnad e Bazzar · The chain of narration of Al-Abbas bin Abd Al-Muttalib, may God be pleased with him › And from what Abd Allah Ibn Al-Harith narrated on the authority of Al-Abbas · Hadith 1315

مسند بزار · الْجُزْءُ الرَّابِعَ عَشَرَ ‹ وَمِمَّا رَوَى عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ · حديث 1318

1318 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا» [ص:146] وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَلَا نَعْلَمُ لَهُ طَرِيقًا إِلَّا هَذَا الطَّرِيقَ

الْعَبَّاسُ: ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ،

Musnad e Bazzar · Part Fourteen › And from what was narrated by Amer ibn Saad, on the authority of al-Abbas ibn al-Muttalib · Hadith 1318

chevron_left Previous
1…282930…484
Next chevron_right