Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ أَوَّلِ مَنْ خَطَبَ ثُمَّ صَلَّى · حديث 5649

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: يَا فُلَانُ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى الَّذِي عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ»

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں: عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینے کا آغاز مروان نے کہا: تو ایک شخص اُس کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا : اے مروان ! تم سنت کے برخلاف کر رہے ہو ! مروا ن نے کہا: اے فلاں ! یہاں وہ طریقہ ترک کر دیا گیا ہے ۔ تو حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا: جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے تو اس نے اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کر دیا ہے میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے جو شخص منکر چیز دیکھے اور اگر اُسے اپنے ہاتھ کے ذریعہ ختم کر سکتا ہو تو ایسا کر لے اگر وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنی زبان کے ذریعہ اور اگو وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل کے ذریعہ اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى الَّذِي عَلَيْهِ، ← مَرْوَانُ: يَا فُلَانُ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، ← يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ ← أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The two Eid prayers book › Chapter: The first person who sermon, then prays · Hadith 5649

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّعْزِيَةِ · حديث 6073

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، أَنَّ أُمَيَّةَ بْنَ صَفْوَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ صِحِيفَةً مَرْبُوطَةً بِقِرَابِ صَفْوَانَ أَوْ بِسَيْفِهِ، وَإِذَا فِيهَا: هَذَا مَا سَأَلَ إِبْرَاهِيمُ رَبَّهُ: " أَيْ رَبِّ، مَا جَزَاءُ مَنْ يَبُلُّ الدَّمْعُ وَجْهَهُ مِنْ خَشْيَتِكَ؟ قَالَ: «صَلَوَاتِي»، فَقَالَ: فَمَا جَزَاءُ مَنْ يُصَبِّرُ الْحَزِينَ ابْتِغَاءً لِوَجْهِكَ؟ قَالَ: «أَكْسُوهُ ثِيَابًا مِنَ الْإِيمَانِ يَتَبَوَّأُ بِهَا الْجَنَّةَ وَيَتَّقِي بِهَا النَّارَ» قَالَ: فَمَا جَزَاءُ مَنْ [ص:396] يَسُدُّ الْأَرْمَلَةَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ؟ قَالَ: وَمَا يَسُدُّ؟ قَالَ: يَرْوِيهَا أُقِيمُهُ فِي ظِلِّي وَأُدْخِلُهُ جَنَّتِي " قَالَ: فَمَا جَزَاءُ مَنْ تَبِعَ الْجِنَازَةَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ؟ قَالَ: «يُصَلِّي مَلَائِكَتِي عَلَى جَسَدِهِ وَيُشَيِّعُ رُوحَهُ» قَالَ: وَكَانَ فِيهِ عِيَادَةُ الْمَرِيضِ فَنَسِيتُهَا قَالَ: فَأَتَى يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ فَأَخَذَهَا مِنِّي

6073 – عثمان بن اسود بیان کرتے ہیں: اُمیہ بن صفوان نے اُنہیں بتایا کہ اُنہوں نے حضرت صفوان کے مشکیزہ یا تلوار کے ساتھ ایک صفیحہ بندھا ہوا دیکھا اُس میں یحریر تھا : یہ وہ چیز ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنے پروردگار سے مانگی تھی اُنہوں نے کہا تھا : اے میرے پروردگار ! اُس شخص کی اجزا کیا ہو گی ؟ جس کا چہرہ تیری خشیت کی وجہ سے آنسوؤں سے تر ہو جائے ؟ تو پر ور دگار نے فرمایا: میری رحمت ! حضرت ابراہیم نے سوال کیا: اُس شخص کی اجزا کیا ہو گی ؟ جو تیری رضا کے حصول کے لیے غمگین شخص کو صبر کی تلقین کرتا ہے ؟ تو پروردگا رنے فرمایا: میں اُسے ایمان کا لباس پہناؤں گا جس کے ذریعہ وہ جنت میں ٹھکانہ حاصل کرے گا اور جس کے ذریعہ جہنم سے بچ جائے گا ۔ حضرت ابراہیم نے دریافت کیا: اُس شخص کی اجزا کیا ہو گی ؟ جو تیری رضا کی خاتر بیوہ عورتوں کی دیکھ بھال کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے اُستاد سے دریافت کیا: لفظ یسد کا کیا مطلب ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: اُن کی دیکھ بھال کرنا ۔ میں اپنے سایہ رحمت میں اُس کی دیکھ بھال کروں گا اور اُسے اپنی جنت میں داخل کروں گا ۔ حضرت ابراہیم نے دریافت کیا: اُس شخص کی اجزا کیا ہو گی ؟ جو تیری رضا کے حصول کی خاطر جنازہ کے ساتھ جائے گا ؟ تو پروردگار نے فرمایا: میرے فرشتے اُس کے جسم پر رحمت نازل کریں گے اور اُس کی روح کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ راوی کہتے ہیں: اس روایت میں بیمار شخص کی عیادت کرنے والے شخص کی اجزا کا بھی ذکر تھا لیکن وہ بات میں بھول گیا پھر یحییٰ بن سعدہ آئے تو اُنہوں نے یہ روایت مجھ سے حاصل کی۔

عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The section of condolences · Hadith 6073

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ جِهَادِ النِّسَاءِ وَالْقَتْلِ وَالْفَتْكِ · حديث 9676

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ الزُّبَيْرَ فَقَالَ: أَقْتُلُ عَلِيًّا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَكَيْفَ تَفْعَلُ؟ قَالَ: أُظْهِرُ لَهُ أَنِّي مَعَهُ، ثُمَّ أُقْتَلُ بِهِ فَأَقْتُلُهُ، قَالَ الزُّبَيْرُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَيَّدَ الْإِيمَانُ الْفَتْكَ، لَا يَفْتُكُ مُؤْمِنٌ»، عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:299]

9676 - اسماعیل بن مسلم نے حسن بصری کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ ایک شخص حضرت زبیر کے پاس آیا اور بولا : میں حضرت علی کو شہید کر دوں گا ؟ اُنہوں نے کہا: ٹھیک ہے ! تو اُنہوں نے دریافت کیا: تم لوگ کیا کرو گے؟ اُس نے کہا: میں اُن کے سامنے ظاہر کروں گا کہ میں اُن کے ساتھ ہوں پھر جیسے ہی مجھے موقع ملے گا میں اُنہیں قتل کر دوں گا ۔ تو حضرت زبیر نے بتایا کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:ایمان نے دھوکہ سے قتل کرنے کو مقید ر دیا ہے مؤمن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا۔

«قَيَّدَ الْإِيمَانُ الْفَتْكَ، لَا يَفْتُكُ مُؤْمِنٌ»، عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:299] ← رَسُولِ اللَّهِ ← الزُّبَيْرُ: إِنِّي ← أُظْهِرُ لَهُ أَنِّي مَعَهُ، ثُمَّ أُقْتَلُ بِهِ فَأَقْتُلُهُ، ← وَكَيْفَ تَفْعَلُ؟ ← نَعَمْ ← الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ الزُّبَيْرَ فَقَالَ: أَقْتُلُ عَلِيًّا؟ ← حَسِبْتُ أَنَّهُ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › Chapter on the struggle of women and killing and extermination · Hadith 9676

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ جِهَادِ النِّسَاءِ وَالْقَتْلِ وَالْفَتْكِ · حديث 9677

عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ نَحْوَهُ قَالَ: «الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ، لَا يَفْتُكُ مُؤْمِنٌ»

9677 - یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ قتادہ سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: ایمان نے دھوکہ سے قتل کرنے کو پابند کر دیا ہے مؤمن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ۔

الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْکَ لَا يَفْتِکُ مُؤْمِنٌ ← قتادة نحوه ← مَعْمَرٌ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › Chapter on the struggle of women and killing and extermination · Hadith 9677

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ غَزْوَةُ الْحُدَيْبِيَةِ · حديث 9724

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ، مِنْ فِيهِ إِلَى فِي قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّامِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ قَالَ: وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ فَقَالَ هِرَقْلُ: أَهَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: قُلْتُ: أَنَا، فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَبَ فَكَذِّبُوهُ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ يُؤْثَرَ عَلِيَّ الْكَذِبَ لَكَذَبْتُ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا قَالَ [ص:345]: فَمَنِ اتَّبَعَهُ؟ أَشْرَافُكُمْ أُمْ ضُعَفَاؤُكُمْ؟ قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُنَا قَالَ: هَلْ يَزِيدُونَ أُمْ يَنْقُصُونَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَكَيْفَ يَكُونُ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا، وَنُصِيبُ مِنْهُ قَالَ: فَهَلْ يَغْدُرُ؟ قُلْتُ: لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي هُدْنَةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا غَيْرَ هَذِهِ قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُكُمْ عَنْ حَسَبُهُ فَقُلْتَ: إِنَّهُ فِينَا ذُو حَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تَبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ: لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ، قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشِدَّاؤُهُمْ؟ قَالَ: فَقُلْتَ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ: لَا، فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعِ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ يَذْهَبُ فَيَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ: لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ [ص:346] الْإِيمَانُ لَا يَزَالُ إِلَى أَنْ يَتِمَّ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَاتَلْتُمُوهُ، فَيَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا، يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدُرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدُرُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدُرُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ أَحَدٌ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ هَذَا الْقَوْلُ قَالَهُ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ: رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ قَالَ: بِمَ يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، وَالْعَفَافِ، وَالصِّلَةِ قَالَ: إِنْ يَكُ مَا تَقُولُهُ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ، وَإِنِّي كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ لَخَارِجٌ، وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهُ، فَإِذَا فِيهِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمُ الْأَرِيسِيِّينَ وَ {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ} إِلَى قَوْلِهِ {اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 64] [ص:347] فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَكَثُرَ اللَّغَطُ وَأَمْرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا قَالَ: فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَدَعَا هِرَقْلُ عُظَمَاءَ الرُّومِ فَجَمَعَهُمْ فِي دَارٍ لَهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الرُّومِ هَلْ لَكُمْ إِلَى الْفَلَاحِ وَالرُّشْدِ آخِرَ الْأَبَدِ؟ وَأَنْ يَثْبُتْ لَكُمْ مُلْكُكُمْ؟ قَالَ: فَحَاصَوْا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ قَالَ: فَدَعَاهُمْ فَقَالَ: إِنِّي اخْتَبَرْتُ شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمُ الَّذِي أَحْبَبْتُ فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضَوْا عَنْهُ

9724 - حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں: حضرت ابو سفیان نے براہ راست مجھے یہ بات بتائی وہ بیان کرتے ہیں: جس مدت میں ہمارے اور نبی کے درمیان صلح کا معاہدہ چل رہا تھا تواس دوران ایک مرتبہ میں شا میں موجود تھا اسی دوران نبی اکرمﷺ کا کتوب گرامی ہر قل بادشاہ کے پاس آیا حضرت دحیہ کلبی اُس مکتوب کو لے کر آئے تھے اُنہوں نے وہ مکتوب بصٰری کے گورنر کو دیا بصٰری کے گورنر کے وہ مکتوب ہر قل کر بھجوایا ہر قل نے دریافت کیا: کیا یہاں ان صاحب کی قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد موجود ہے ؟ جن صاحب کا یہ کہنا ہے کہ وہ نبی ہیں۔ تو لوگوں نے کہا: جی ہاں! حضرت ابو سفیان بیان کرتے ہیں: قریش کے کچھ افراد سمیت مجھے بھی وہاں بلوایا گیا ہم لوگ ہر قل کے پا س گئے اور اُس کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ اُن سے دریافت کیا: یہ صاحب جن کا یہ کہنا ہے کہ و ہ نبی ہیں تم میں سے نسبی اعتبار سے کون اُن کے زیادہ قریب ہے ؟ حضرت ابو سفیا ن بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: میں ہوں! اُس نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا اور میرے پیچھے میرے ساتھیوں کو بٹھا لیا پھر اُس نے ترجمان کو بلوایا اور بولا؛ تم ان سے کہو کہ میں اس شخص سے اُن صاحب کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں جن کا یہ کہنا ہے کہ وہ نبی ہیں اگر یہ شخص جھوٹ بولے تو تم اس بات کوجھوٹ قرار دینا ۔ حضرت ابو سفیان بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ مجھے جھوٹا قرار دیا جائے گا تو میں جھوٹ بول دیتا ہوں۔ پھر اُس نے دریافت کیا: وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ تو میں نے جواب دیا: وہ ہمیں نماز پڑھنے کا زکوٰۃ دینے کا رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیتے ہیں ۔ تو بادشاہ نے کہا: اگر جو تم بیان کر رہے ہو وہ سچ ہے تو وہ واقعیاللہ کے نبی ہیں مجھے اندازہ تھا کہ اُن کا ظہور ہونے والا ہے لیکن میرا یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ تم ظہور پذیر ہو گے اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ میں اُن تک جا سکتا ہوں تو میں اُن سے ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں اُن کے پاس ہوتا تو اُن کے پاؤں دھوتا اُن کی بادشاہی میرے ان دو قدموں کے نیچے تک پہنچ جائے گی۔ راوی کہتے ہیں: پھر اُس نے نبی اکرمﷺ کا مکتوب گرامی منگوایا اُسے پڑھا گیا تو اُس میں یہ تحریر تھا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ! یہ اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے روم کے حکمران ہر قل کے نا م ہے ۔ اُس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے ۔ اما بعد! میں تمہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے تم اسلام قبول کر لو اللہ تعالیٰ تمہیں دگنا اجر عطا ء کرے گا اگر تم منہ موڑ لیتے ہو تو اریسین کا گناہ بھی تمہارے ذمہ وہ گا ۔ اے اہل کتاب ! تم آگے آؤ! اُس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے وہ یہ کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں گے یہ آیت یہاں تک ہے : تم لوگ گواہ ہو جاؤ کہ ہم مسلمان ہیں۔ جب یہ مکتوب گرامی پڑھ لیا گیا تو اُس کے پاس آواز بلند ہوئیں اور شور وغوغا زیادہ ہو گیا اُس نے ہمارے بارے میں حکم دیا ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا ۔ زہری بیا ن کرتے ہیں: ہر قل نے رومیوں کے سرداروں کو بلایا اُنہیں اپنے گھر میں اکٹھا کیا اور یہ کہا: اے اہل روم! کیا تم کامیابی اور ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہو؟ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہو اور تمہاری بادشاہی برقرار رہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے اُنہوں نے اُنہیں پایا کہ وہ بند تھے ۔ راوی کہتے ہیں: تو ہر قل نے اُنہیں بلوایا اور کہا: میں اپنے دین کے حوالے سے تمہاری شدت کا جائزہ لینا چاہ رہا تھا میں نے تمہاری طرف سے وہ چیز دیکھ لی ہے جو مجھے پسند ہے تو وہ اُس کے سامنے سجدہ میں چلے گئے اور اس سے راضی ہو گئے ۔

بِالشَّامِ ← فَبَيْنَا ← انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو سُفْيَانَ مِنْ فِيهِ إِلَی فِيَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Maghazi Book › The invasion of Hudaybiyah · Hadith 9724

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ مَنْ هَاجَرَ إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 9743

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: فَلَمَّا كَثُرَ الْمُسْلِمُونَ، وَظَهَرَ الْإِيمَانُ فَتَحَدَّثَ بِهِ الْمُشْرِكُونَ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ بِمَنْ آمَنَ مِنْ قَبَائِلِهِمْ يُعَذِّبُونَهُمْ وَيَسْجِنُونَهُمْ، وَأَرَادُوا فِتْنَتَهُمْ عَنْ دِينَهُمْ قَالَ: فَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِهِ: «تَفَرَّقُوا فِي الْأَرْضِ» قَالُوا: فَأَيْنَ نَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هَاهُنَا» وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَكَانَتْ أَحَبُّ الْأَرْضِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَاجَرُ قِبَلَهَا فَهَاجَرَ نَاسٌ ذُو عَدَدٍ مِنْهُمْ مَنْ هَاجَرَ بِأَهْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ حَتَّى قَدِمُوا أَرْضَ الْحَبَشَةِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَخَرَجَ فِي الْهِجْرَةِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِامْرَأَتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ الْخَثْعَمِيَّةِ [ص:385]، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِامْرَأَتِهِ رُقْيَةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ فِيهَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِامْرَأَتِهِ أُمَيْمَةَ ابْنَةِ خَلَفٍ، وَخَرَجَ فِيهَا أَبُو سَلَمَةَ بِامْرَأَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ ابْنَةِ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَرَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ خَرَجُوا بِنِسَائِهِمْ، فَوُلِدَ بِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَوُلِدَتْ بِهَا أَمَةُ ابْنَةُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ أُمُّ عَمْرِو بْنِ الزُّبَيْرِ، وَخَالِدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَوُلِدَ بِهَا الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ فِي نَاسٍ مِنْ قُرَيْشٍ وُلِدُوا بِهَا. قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بَكْرَةً وَعَشِيَّةً، فَلَمَّا ابْتُلِي الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ، وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ، فَقَالَ [ص:386] ابْنُ الدَّغِنَةِ: أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْرَجَنِي قَوْمِي، فَأُرِيدُ أَنَّ أَسِيحَ فِي الْأَرْضِ وَأَعْبُدُ رَبِّي، فَقَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ: مِثْلُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لَا يُخْرَجُ وَلَا يَخْرُجُ إِنَّكَ تُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَأَنَا لَكَ جَارٌ، فَارْجِعْ فَاعْبُدْ رَبَّكَ بِبَلَدِكَ، فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَرَجَعَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَطَافَ ابْنُ الدَّغِنَةِ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَلَا يَخْرُجُ مِثْلُهُ أَتُخْرِجُونَ رَجُلًا يُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ، وَأَمَّنُوا أَبَا بَكْرٍ، وَقَالُوا لِابْنِ الدَّغِنَةِ مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيَعْبُدْ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَلْيُصَلِّ فِيهَا مَا شَاءَ، وَلَا يُؤْذِينَا، وَلَا يَسْتَعْلِنُ بِالصَّلَاةِ وَالْقِرَاءَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ، فَفَعَلَ ثُمَّ بَدَا لِأَبِي بَكْرٍ فَبَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ وَيَقْرَأُ فَيَتَقَصَّفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاءَهُمْ يَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا بُكَاءً لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ حِينَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ فَأَرْسَلُوا إِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: إِنَّمَا أَجَرْنَا أَبَا بَكْرٍ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ [ص:387] فِي دَارِهِ، وَإِنَّهُ قَدْ جَاوَزَ ذَلِكَ وَبَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ وَأَعْلَنَ الصَّلَاةَ، وَالْقِرَاءَةَ وَإِنَّا قَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا فَأْتِهِ فَأَمُرْهُ فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ فِي دَارِهِ فَعَلَ، وَإِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ يُعْلِنَ ذَلِكَ فَاسْأَلْهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْكَ ذِمَّتَكَ فَإِنَّا قَدْ كَرِهْنَا خَفَرَكَ وَلَسْنَا مُقِرِّينَ لِأَبِي بَكْرٍ بِالِاسْتِعْلَانِ قَالَتْ: عَائِشَةُ: فَأَتَى ابْنُ الدَّغِنَةِ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَقَدْتُ لَكَ إِمَّا أَنْ تَقتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ وَإِمَّا أَنْ تُرْجِعَ إِلَيَّ ذِمَّتِي، فَإِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي عَهْدِ رَجُلٌ عَقَدْتُ لَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِنِّي أَرُدُّ إِلَيْكَ جِوَارَكَ وَأَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ: «إِنِّي قَدْ أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ إِنِّي أُرِيتُ دَارًا سَبِخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ» وَهُمَا الْحَرَّتَانِ فَهَاجَرَ مِنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضَ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ مُهَاجِرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤَذَنَ لِي»، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَتَرْجُو ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ نَعَمْ "، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصُحْبَتِهِ وَعَلَفَ أَبُو بَكْرٍ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ [ص:388] السَّمَرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسًا فِي بَيْتِنَا فِي نَحَرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا رَأْسَهُ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِدًا لَهُ أَبِي وَأُمِّي إِنْ جَاءَ بِهِ: " فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمَرٌ قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ. . .، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَالصَّحَابَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأُمِّي إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِالثَّمَنِ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ فَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ نِطَاقِهَا فَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ، فَلِذَلِكَ كَانَتْ [ص:389] تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ، ثُمَّ لَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ، فَمَكَثَا فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ فِي قَوْلِهِ: {وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ} [الأنفال: 30] قَالَ: تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلِ اقْتُلُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنْ أَخْرِجُوهُ فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسِبُونَ أَنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا؟ قَالَ: لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ، اخْتَلَطَ عَلَيْهِمُ الْأَمْرَ فَصَعَدُوا الْجَبَلَ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا: لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ بِنَسْجِ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ، فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثًا، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ قَتَادَةُ: دَخَلُوا فِي دَارِ النَّدْوَةِ يَأْتَمِرُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: لَا يَدْخُلْ مَعَكُمْ أَحَدٌ لَيْسَ مِنْكُمْ فَدَخَلَ مَعَهُمُ الشَّيْطَانُ [ص:390] فِي صُورَةِ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا عَيْنٌ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ قَالَ: فَتَشَاوَرُوا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: أَرَى أَنْ تُرْكِبُوهُ بَعِيرًا ثُمَّ تُخْرِجُوهُ فَقَالَ الشَّيْطَانُ: بِئْسَ مَا رَأَى هَذَا، هُوَ هَذَا قَدْ كَانَ يُفْسِدُ مَا بَيْنَكُمْ وَهُوَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ فَكَيْفَ إِذَا أَخَرَجْتُمُوهُ فَأَفْسَدَ النَّاسَ، ثُمَّ حَمَلَهُمْ عَلَيْكُمْ يُقَاتِلُوكُمْ فَقَالُوا: نِعْمَ مَا رَأْيُ هَذَا الشَّيْخُ، فَقَالَ قَائِلٌ آخَرَ: فَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلُوهُ فِي بَيْتٍ وَتُطَيِّنُوا عَلَيْهِ بَابَهُ وَتَدَعُوهُ فِيهِ حَتَّى يَمُوتَ، فَقَالَ الشَّيْطَانُ: بِئْسَ مَا رَأَى هَذَا، أَفَتَرَى قَوْمَهُ يَتْرُكُونَهُ فِيهِ أَبَدًا لَابُدَّ أَنْ يَغْضَبُوا لَهُ فَيُخْرِجُوهُ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: أَرَى أَنْ تُخْرِجُوا مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلًا ثُمَّ يَأْخُذُوا أَسْيَافَهُمْ فَيَضْرِبُونَهُ ضَرْبَةً وَاحِدَةً فَلَا يَدْرِي مَنْ قَتَلَهُ فَتَدُونَهُ فَقَالَ الشَّيْطَانُ: نِعْمَ مَا رَأَى هَذَا، فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَخَرَجَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى غَارٍ فِي الْجَبَلِ يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ، وَنَامَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَاتُوا يَحْرُسُونَهُ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا قَامَ عَلِيٌّ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ بَادَرُوا إِلَيْهِ فَإِذَا هُمْ بِعَلِيٍّ فَقَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ حَتَّى بَلَغُوا الْغَارَ ثُمَّ رَجَعُوا فَمَكَثَ فِيهِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ. قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُرْوَةَ: فَمَكَثَا فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ لَقِنٌ ثَقِفٌ فَيَخْرُجُ مِنْ عِنْدِهِمَا سَحَرًا فَيُصْبِحُ عِنْدَ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ [ص:391] كَبَائِتٍ، فَلَا يَسْمَعُ أَمْرًا يُكَادَانِ بِهِ إِلَّا وَعَاهُ حَتَّى يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِكَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلَامُ، وَيَرْعَى عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنْمٍ فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ يَذْهَبُ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلِهَا حَتَّى يَنْعِقُ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ بِغَلَسٍ، يَفْعَلُ ذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنَ اللَّيَالِي الثَّلَاثِ، وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيًا خِرِّيتًا ـ وَالْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ ـ قَدْ غَمَسَ يَمِينَ حَلْفٍ فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ فَأَمَّنَاهُ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَأَتَى غَارَهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا صَبِيحَةَ لَيَالٍ ثَلَاثٍ، فَارْتَحَلَا [ص:392] وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَالدَّلِيلُ الدِّيلِيُّ، فَأَخَذَ بِهِمْ طَرِيقَ أذَاحِرَ وَهُوَ طَرِيقُ السَّاحِلِ. قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ يَقُولُ: جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةً كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقُوا بُغَاةً قَالَ: ثُمَّ مَا لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ إِلَّا سَاعَةً حَتَّى قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَيْتِي فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ تَحْبِسُهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ [ص:393]، فَخَطَطْتُ بِزُجِّي بِالْأَرْضِ وَخَفَضْتُ عَلَيْهِ الرُّمْحَ، حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا، فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى رَأَيْتُ أَسْوِدَتُهُمْ، حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُمْ حَيْثُ يَسْمَعُونَ الصَّوْتَ، عَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِلَى كِنَانَتِي فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا - أَيِ الْأَزْلَامُ - فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضُرَّهُمْ أَمْ لَا، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ لَا أَضُرَّهُمْ فَرَكِبْتُ فَرَسِي، وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي أَيْضًا حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ وَسَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ " حَتَّى بَلَغَتِ الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَزَجَرْتُهَا فَنَهَضَتْ فَلَمْ تَكَدْ تَخْرُجُ [ص:394] يَدَاهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذَا لِأَثَرِ يَدَيْهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِثْلُ الدُّخَانِ قَالَ مَعْمَرٌ: قُلْتُ لِأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ: مَا الْعُثَانُ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ لَا أَضُرَّهُمْ، فَنَادَيْتُهُمَا بِالْأَمَانِ فَوَقَفَا وَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتَهُمْ وَقَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مِنْهُمْ مَا لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِي وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَءُونِي شَيْئًا، وَلَمْ يَسْأَلُونِي إِلَّا أَنْ أَخَفِ عَنَّا، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ آمَنُ بِهِ فَأَمَرَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ فَكَتَبَهُ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ، ثُمَّ مَضَى [ص:395]، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ لَقِيَ الزُّبَيْرَ وَرَكْبًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا تُجَّارَ الْمَدِينَةِ بِالشَّامِ قَافِلِينَ إِلَى مَكَّةَ فَعَرَضُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ثِيَابَ بَيَاضٍ، يُقَالُ كَسَوْهُمْ أَعْطَوْهُمْ، وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِينَةِ بِمَخْرَجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوا يَغْدُونَ كُلَّ غَدَاةٍ إِلَى الْحَرَّةِ فَيَنْتَظِرُونَهُ حَتَّى يُؤْذِيهِمْ حُرُّ الظَّهِيرَةِ فَانْقَلَبُوا يَوْمًا بَعْدَمَا أَطَالُوا انْتِظَارَهُ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى بُيُوتِهِمْ أَوْفَى رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ أُطُمًا مِنْ آطَامِهِمْ لِأَمْرٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ مُبَيَّضِينَ، يَزُولُ بِهِمُ السَّرَابَ، فَلَمْ يَتَنَاهَى الْيَهُودِيُّ أَنْ نَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ هَذَا جَدُّكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَهُ فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى السِّلَاحِ فَلَقُوا رَسُولَ اللَّهِ؟ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَوْهُ بِظَاهِرِ الْحَرَّةِ فَعَدَلَ بِهِمْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِكَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ [ص:396]. . .، وَأَبُو بَكْرٍ يُذَكِّرُ النَّاسَ، وَجَلَسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَامَتًا، وَطَفِقَ مَنْ جَاءَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْسِبُهُ أَبَا بَكْرٍ حَتَّى أَصَابَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّمْسَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى ظَلَّلَ عَلَيْهِ بِرِدَائِهِ، فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، وابْتَنَى الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى وَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ وَمَشَى النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ بِهِ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسَهْلٍ وَسُهَيْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ أَخَوَيْنِ فِي حِجْرِ أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدِ بْنِ زُرَارَةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتَهُ: «هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَا: بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَهُ هِبَةً حَتَّى ابْتَاعَهُ مِنْهُمَا وَبَنَاهُ مَسْجِدًا، وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ اللَّبَنَ فِي ثِيَابِهِ وَهُوَ يَقُولُ: «هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالُ خَيْبَرَ هَذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَأَطْهَرُ» وَيَقُولُ [ص:397]: «اللَّهُمَّ إِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَةِ فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةِ» يَتَمَثَّلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِعْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يُسَمَّ لِي، وَلَمْ يَبْلُغْنِي فِي الْأَحَادِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَثَّلُ بِبَيْتٍ قَطُّ مِنْ شِعْرٍ تَامٍّ غَيْرِ هَؤُلَاءِ الْأَبْيَاتِ، وَلَكِنْ كَانَ يُرْجِزُهُمْ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفَّارَ قُرَيْشٍ حَالَتِ الْحَرْبُ بَيْنَ مُهَاجِرَةَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَبَيْنَ الْقُدُومِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَقَوْهُ بِالْمَدِينَةِ زَمَنَ الْخَنْدَقِ، فَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ تُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يُعَيِّرُهُمْ بِالْمُكْثِ فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ - زَعَمَتْ أَسْمَاءُ ـ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَسْتُمْ كَذَلِكَ» وَكَانَ أَوَّلَ آيَةٍ أُنْزِلَتْ فِي الْقِتَالِ {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ} [الحج: 39]

زہری بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے دادا جناب عبدالمطلب کے بارے میں سب سے پہلی چیز یہ ذکر کی گئی ہے کہ جب ہاتھوں کے لشکر سے ڈر کر قریش حر م کو چھوڑ کر جانے لگے تو جناب عبدالمطلب اُس وقت ایک نوجوان شخص تھے اُنہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کسی اور جگہ پر عزت حاصل کرنےکے لیے اللہ کی حرم کی حدود سے باہر نہیں جاؤں گا ۔ وہ بیت اللہ کے پاس بیٹھ گئے جبکہ قریش اُس کو چھوڑ کر چلے گئے تو اُنہوں نے ہہ شعر کہا: یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی سواری کو روک لو ان کی صلیب ہر گز غالب نہیں آئیں گی اور ان کا ارادہ تمہاری طرف سے آنے کا ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی جگہ مسلسل ثابت قدم رہے یہا ں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں اور اُس کے ساتھ کے لشکر کو بر باد کر دیا جب قریش واپس آئے تو جناب حضرت عبدالمطلب کے صبر اور اللہ تعالیٰ کے حرم کی تعظیم کے حوالے سے اُن کی بہت عزت کرنے لگے ۔ اسی دوران جناب عبدالمطلب کے ہاں اُن کے سب سے بڑے صاحبزادے کی پیدائش ہوئی وہ صاحبزادے بالغ ہوگئے اُن کا نام حارث بن عبدالمطلب تھا ایک مرتبہ جناب عبدالمطلب نے خواب میں دیکھا کہ اُن سے کہا گیا تم آب زمزم کا کنواں کھودو ! جو ایک بڑے بزرگ کو سنبھال کر رکھی ہوئی چیز ہے ۔ جناب عبدالمطلب بیمار ہوئے تو اُنہوں نے دعا کی : اے اللہ! تو میرے لیے مزید واضح کر دے ! تو اُنہیں دوسری مرتبہ خواب میں یہ بات دکھائی گئی تم زمزم کو کھودو جو لید اور خون کے درمیان چھپا ہوا ہے جو چیونٹیوں کی بستی میں کوے کے تلاش کرنے کی جگہ پر ہو گا اُس کا رُخ سر خ مٹی کی طرف ہو گا ۔ جناب عبدالمطلب اُٹھے وہ چلتے ہوئے آئے اور مسجد حرام میں بیٹھ گئے اور اس بات کا جائز لینت لگے کہوہ نشانیاں کون سی ہو سکتی ہیں ؟ جو اُنہیں دکھائی گئی تھیں اسی دوران حزورہ کے مقام پر ایک گائے ذبح کی گئی تھی وہ ذبح کرنے والے کے ہاتھ سے چھوٹ کر اپنے آپ کو بچاتی ہوئی آگے بڑھی یہاں تک کہ جس جگہ آب زمزم ہونا چاہیے تھا مسجد میں اُس جگہ وہ مر گئی ۔ تو اُس گائے کو اُسی جگہ پر قربان کیا گیا اُس کا گوشت اُٹھا لیا گیا اسی دوران ایک وا نیچے کی طرف آیا اور اُس نے اُس کی لید کے اندر سے کچھ نکلنے کی کوشش کی وہ چیونٹیوں کی وادیوں کے اندر کچھ تلاش کر رہا تھا ۔ جناب عبدالمطلب اُٹھے اور اُنہوں نے اُس جگہ کھدائی کرنا شروع کی قریش اُن کے پاس آئے اور اُنہوں نے جناب عبدالمطلب سے دریافت کیا: یہ کیا کر رہے ہیں؟ ہم آپ کو جاہل نہیں سمجھتے ! آپ ہماری مسجد میں کیوں کھدائی کرر ہے ہیں ؟ تو جناب عبدالمطلب نے کہا: میں یہاں ایک کنواں کھود رہا ہوں اور جو شخص اُس سے روکنے کی کوشش کرے گا میں اُس کا مقابلہ کروں گا ۔ جناب عبدالمطلب اور اُن کے صاحبزادے جناب حارث نے اُسے کھودنا شروع کیا اُن دنوں جناب حارث کے علاوہ اُن کی کوئی اور اولاد نہیں تھی ۔ قریش کے کچھ افراد نے ان دونوں حضرات کے کے خلاف مزحمت کی کوشش کی اور ان دونوں کے ساتھ جھگڑا کیا کچھ قریش نے اُنہیں ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ جناب عبدالمطلب کا نسب باوقار ہے وہ سچے آدمی ہیں اور اپنے دین میں بھر پور کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ جناب عبدالمطلب کو کنویں کو کھودنے کے قابل ہوئے اور اُن کے خلاف زیادتیاں شدید ہو گئیں تو اُنہوں نے یہ نذر مانی کی کہ اُن کے ہاں دس بیٹے ہوئے تو وہ اُن میں سے کسی ایک کو قربان کر دیں گے اور پھر ا ُنہوں نے کھدائی شروع کر دی یہاں تک کہ وہ اُن تلوار تک پہنچ گئے جو زمزم کے پاس دفن کی گئی تھیں۔ جب قریش نے یہ دیکھا کہ یہ تلواروں تک پہنچ گئے ہیں تو اُنہوں نے جناب عبدالمطلب سے کہا: آپ نے جو کچھ کھایا ہے وہ ہمیں بھی دیجئے۔ تع جناب عبدالمطلب نے کہا: یہ تلواریں اللہ ے گھر کے لیے ہوں گی ۔ پھر اُنہوں نے کھدائی شروع کی یہاں تک کہ پانی پھوٹ پڑا اُنہوں نے مزید اُس جگہ کھدائی کی تو پھر تو اتنا پانی نکلنے لگا کہ وہ رُکتا ہی نہیں تھا تو اُنہوں نے اُس کے لیے حوض بنا دیا ۔ وہ اور اُن کے صاحبزادے پانی نکالتے تھے اور اُس حوض کو بھر دیتے تھے حاجی لوگ وہاں سے پیا کرتے تھے ۔ ایک دن قریش سے تعلق رکھنے والے حاسد لوگوں نے رات کے وقت اُس حوض کو توڑ دیا جناب عبدالمطلب نے اگلے دن صبح اُسے ٹھیک کیا جب اُن لوگوں نے بار بار اُسے خراب کرنا شروع کیا تو جناب عبدالمطلب نے اپنے پروردگار سے دعا کی : تو اُن خواب میں یہ بات دکھائی گئی کہ تم یہ پڑھو : اے اللہ! میں کسی غسل کرنے والے شخص کے لیے اسے حلال قرار نہیں دیتا یہ پینے والے شخص کے لیے ہے حلال بھی ہے اور مباح بھی ہے تو تمہاری اس حوالے سے کفایت ہو جائے گی۔ اگلے دن جب قریش مسجد میں اکٹھے ہوئے تو جناب عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے بلند آواز میں وہ خواب سنا دیا جو اُنہیں دکھایا گیا تھا پھر وہ واپس چلے گئے اُس کے بعد قریش کے تعلق رکھنے والے جس بھی شخص نے اُس حوض کو خراب کرنے کی کوشش کی تو اُس کے جسم میں کوئی بیماری مسلط ہو گئی یہاں تک کہ اُن لوگوں نے حوض کو ترک کر دیا اور پانی پلانے کی خدمت جناب عبدالمطلب کے پاس رہنے دی ۔ اُس کے بعد جناب عبدالمطلب نے کچھ شادیاں کیں اور اُن کے ہاں دس بیٹے پیدا ہوئے تو اُنہوں نے عرض کی : اے اللہ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں ان میں سے کسی ایک کو تیرے لیے قربان کر دوں گا اب میں ان کے درمیان قرعہ اندازی کی تو قرعہ عبداللہ بن عبدالمطلب کے نا م نکلا جو اُن کی اولاد میں اُنہیں سب سے زیادہ محبوب تھے تو جناب عبدالمطلب نے دعا کی : اے اللہ! یہ تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے یا ایک سو اونٹ ؟ پھر اُنہوں نے جناب عبداللہ اور ایک سو اونٹوں کے درمیان قرعہ اندازی کی تو قرعہ ایک سو اونٹوں کے نام نکل آیا جناب عبدالمطلب نے جناب عبداللہ کی جگہ اُن اونٹوں کو قربان کیا ۔ جناب عبداللہ قریش کے سب سے وجیہیہ شکیل شخص تھے ایک دن وہ کچھ خواتین کے پاس سے گزرے جن کا تعلق قریش سے تھا اور وہ اکھٹی بیٹھی ہوئی تھی تو اُن میں سے ایک نے کہا: اے قریش کی عورتوں! تم میں سے کون اس نوجوان کے ساتھ شادی کرے گی ؟ جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور چکمتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: اُن کی دو آنکھوں کے درمیان نور چمکتا تھا ۔ پھر سیدہ آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ کی شادی اُن کے ساتھ ہو گئی ۔ رخصتی کے بعد سیدہ آمنہ نبی اکرمﷺ سے حاملہ ہو گئین جناب عبدالمطلب نے جناب عبداللہ کو یثرب سے کچھ کھجوریں لانے کے لیے بھیجا جناب عبداللہ کا انتقال وہیں ہو گیا پھر سیدہ آمنہ نے نبی اکرمﷺ کو جنم دیا آپ جناب عبدالمطلب کی زیر پروش رہے بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والی خاتون نے آپ کو دودھ پلانا شروع کیا وہ خاتون جو آپ کو دودھ پلاتی تھی ایک مرتبہ وہ ساتھ لے کر عکاظ کے میلہ میں گئیں وہاں ایک کاہن نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو بولا : اے عکاظ کے رہنے والو! اس بچہ کو قتل کر دو! اسے بادشاہی ملے گی۔ تو نبی اکرمﷺ کی دائی ماں آپ کو لے کر وہاں سے آگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کو بچا لیا پھر نبی اکرمﷺ کچھ عرصہ ان کے ہاں رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کیرضاعی بہن جو آپ کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں وہ دوڑتی ہوئی اپنی والدہ کے پاس آئی اور بولی : اےا می جان! میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ اُنہوں نے ابھی میرے بھائی کو پکڑ لیا ہے اور ان کا پیٹ چیر دیا ہے تو آپ کی رضاعی ماں گھبرا کر کھڑی ہوئی اور نبی اکرمﷺ کےپاس آئیں تو نبی اکرمﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کی رنگت متغیر ہوئی تھی لیکن آپ کے پاس کوئی شخص نہیں تھا ۔ سیدہ حلیمہ نبی اکرمﷺ کو لے کر اُن کی والدہ کے پاس آئی اور اُن سے کہا: آپ اپنے بیٹے کو واپس لے لیں کیونکہ مجھے اس کے حوالے سے یہ اندیشہ ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ کی والدہ نے کہا : جی نہیں ۔ اللہ کی قسم! تم میرے بیٹے کے حوالے سے کسی اندیشہ کا شکار نہ ہو کیونکہ جب یہ میرے پیٹ میں تھا تو میں نے دیکھا: میرے جسم سے ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور جب میں نے اسے جنم دیا تو اپنے ہاتھوں کے سہارے جھکا اور اس نے اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھا لیا پھر نبی اکرمﷺ کی والدہ اور آپ کے دادا جناب عبدالمطلب نے آپ کا دودھ چھڑ وایا پھر نبی اکرمﷺ کی والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرمﷺ اپنے دادا کے زیر پوش آگئے نبی اکرمﷺ ا بھی بچہ تھے آپ اپنے دادا کے تکیہ کے پاس آتے تھے اور اُس پر بیٹھ جاتے تھے آپ کے دادا جو عمر رسیدہ ہو چکے تھے وہ بعد میں آتے تھے تو اُنہیں ساتھ لانے والی کنیز یہ کہتی تھی : آپ اپنے دادا کے تکیہ سے نیچے اُتر جائیں ۔ تو جناب عبدالمطلب یہ کہتے تھے : تم میرے بیٹے کو رہنے دو! کیونکہ یہ بھلائی کرنے والا ہے ۔ پھر نبی اکرمﷺ کے دادا کا انتقال ہو گیا نبی اکرمﷺ اُن دنوں کمسن تھے جناب ابو طالب نے آپ کی کفایت اپنے ذمہ لی جو جناب عبداللہ کے سگے بھائی تھے جب نبی اکرمﷺ قریب البلوغ ہوئے تو جناب ابو طالب آپ کو ساتھ لے کر تجارت کے لیے شام کی طرف لے گئے جب ان دونوں صاحب نے تیما ء نامی بستی میں پڑاؤ کیا تو وہاں تمیم یہوں دیاں کے قبیلہ کے ایک عالم نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو جناب ابو طالب نے دریافت کیا: اس لڑکے کا تمہارے ساتھ کیا رشتہ ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: یہ میرا بھتیجا ہے ! اُس یہودی نے جناب ابو طالب سے دریافت کیا: کیا تم اس سے محبت رکھتے ہو ؟ جنا ب ابو طالب نے جواب دیا: جی ہاں! تو اُ س یہودی نے یہ کہا: اللہ کی قسم! اگر تم اسے لے کر شام چلے گئے تو پھر تم اسے ساتھ لے کر ب کبھی نہیں جا سکو گے کیونکہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے یہ اُن کا دشمن ہے ۔ تو ابو طالب تیما ء سے مکہ واپس آگئے ۔ جب نبی اکرمﷺ بالغ ہوئے تو ایک عورت نے خانہ کعبہ میں دھونی دی ۔ اس کے کچھ شرارے خانہ کعبہ کو لگے اور اُسے جلا دیا۔ قریش نے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کا مشورہ کیا لیکن وہ اسے منہدم کرنے سے خوفزدہ ہو گئے تو ولید بن مغیرہ نے ان سے کہا: تم اسے کیوں منہدم کرنا چاہتے ہو ؟ تم بہتری چاہتے ہو یا خرابی ۔ اُنہوں نے کہا: بہتری۔ ولید نے کہا: اللہ تعالیٰ بہتری کرنے والوں کو ہلاکت کا شکار نہیں کرتا ۔ اُنہوں نے کہا: کون اس پر چڑھ کر اس کو منہدم کرنے کا آغاز کرے گا ؟ ولید نے کہا: میں اس پر چڑھ کر اس کو منہدم کرنے کا آغاز کرتا ہوں ۔ پھر ولید بن مغیرہ خانہ کعبی کی چھت پر چڑھا اور اس کے پاس پھاؤڑا تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ! ہم صرف بہتری چاہتے ہیں پھر اس نے منہدم کرنے کا آغاز کیا ۔ جب قریش نے دیکھا کہ اس نے کچھ حصہ منہدم کیا لیکن ان پر وہ عذاب نازل نہیں ہوا جس کا اُنہیں اندیشہ تھا تو وہ لوگ بھی منہدم کرنے میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے جب اُنہوں نے اس کی تعمیر نو کی تو حجر اسود رکھنے کا وقت آیا تو قریش کے درمیان جھگڑا ہو گیا کہ کون سا قبیلہ اسے اُٹھا کر اوپر رکھے گا ۔ جب یہ اختلاف بڑھ گیا تو اُنہوں نے کہا: ہم ا س بارے میں اس شخص کو ثالت مقرر کریں گے جو اس اگلی سے سب سے پہلے ہمارے سامنے آئے گا ۔ اُنہوں نے اس پر اتفاق کیا تو نبی اکرمﷺ ان کے سامنے آگئے ۔ آپ نوجوان تھے ۔ آپ نے اونی لباس پہنا ہوا تھا ان لوگوں نے آپ کو ثاکت مقرر کیا آپ کی ہدایت کے مطابق حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھا گیا اور ایک ہدایت کے تحت ہر قبیلہ کے سردار نے اس کپڑے کا ایک کونہ پکڑ کر حجر اسود کو اُٹھا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا نبی اکرمﷺ بھی اسے رکھنے والوں میں شامل تھے ۔ اس کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ نبی اکرمﷺ کی پسندیدگی میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ آپ پر وحی نازل ہونے سے پہلے لوگوں نے آپ کو امین کا خطاب دے دیا ۔ اس کے بعد جب لوگ اونٹ ذبح کرتے تھے تو نبی اکرمﷺ کو بلواتے تھے اور نبی اکرمﷺ ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے ۔ جب آپ جوان ہوئے تو آپ کے پاس زیادہ مال نہیں تھا ۔ سیدہ

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Maghazi Book › Who migrated to Ethiopia · Hadith 9743

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ ‹ بَيْعَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 9820

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَ: جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مُسْقَلَةَ، وَقَرْنُ مُسْقَلَةَ الَّتِي تُهَرِيقُ إِلَيْهِ بُيُوتُ ابْنِ أَبِي أُمَامَةَ، وَهِيَ دَارُ ابْنِ سَمُرَةَ وَمَا حَوْلَهَا، وَالَّذِي يُهَرِيقُ مَا أَدْبَرَ مِنْهُ عَلَى دَارِ ابْنِ عَامِرٍ، وَمَا أَقْبَلَ مِنْهُ عَلَى دَارِ ابْنِ سَمُرَةَ، وَمَا حَوْلَهَا، قَالَ الْأَسْوَدُ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ إِلَيْهِ فَجَاءَهُ النَّاسُ: الصِّغَارُ، وَالْكِبَارُ، وَالنِّسَاءُ فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَالشَّهَادَةِ، قُلْتُ: وَمَا الشَّهَادةُ؟ قَالَ: «أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»

9820 - محمد بن اسود بن خلف بیان کرتے ہیں: اُن کے والد حضرت اسود نے فتح مکہ کے دن نبی اکرمﷺ کو لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ قرن مسقلہ کے پاس تشریف فرما ہوئے ۔ قرن مسقلہ وہ جگہ ہے جہاں ابن ابو امامہ کے گھر پہنچتے ہیں یہ ابن سمرہ کے گھر اور اُس کے اردگرد کا علاقہ ہے اور اس کے پیچھے کا حصہ ابن عامر کے گھر تک جاتا ہے اور آگے کا حصہ ابن سمرہ کے گھر اور اس کے اردگرد جاتا ہے اسود بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ تشریف فرما تھے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے چھوٹے تھے بڑے تھے خواتین تھے اور آپ اسلام اور گواہی پر اُن کی بیعت لیتے تھے ۔

أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ رَأَى النَّبِيَّ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ ← عبد الله بن عثمان أن محمد بن الأسود بن خلف ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Book › The pledge of allegiance to the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 9820

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ · حديث 1858

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ: «الْأَذَانُ شِعَارُ الْإِيمَانِ»

زہری روایت کرتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق نے یہ فرمایا ہے : اذان ایمان کاشعار ہے ۔

«الْأَذَانُ شِعَارُ الْإِيمَانِ» ← الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on the merit of the ears · Hadith 1858

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ · حديث 1866

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى الْفِطْرَةِ عَلَى الْفِطْرَةِ هَذَا»، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ هَذَا»، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلَ الْجَنَّةَ هَذَا»، فَقَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ظَهَرَ الْإِسْلَامُ - أَوْ قَالَ: الْإِيمَانُ - "، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ تَجِدُونَ هَذَا رَاعِيًا أَوْ صَاحِبَ صَيْدٍ، أَوْ رَجُلًا خَرَجَ مُتَبَدِّيًا مِنْ أَهْلِهِ قَالَ: «فَابْتَدَرَ الْقَوْمُ لِيُخْبِرُوهُ بَالَّذِي سَمِعُوا فَوَجَدُوهُ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ خَرَجَ مُتَبَدِّيًا مِنْ أَهْلِهِ»

حسن بصری بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ سفر کر رہے تھے آپ نے ایک شخص کو اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ فطرت پر ہے یہ فطرت پر ہے ۔ اُس نے کہا: اشہدان لا الہٰ الا اللہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ شرک سے لاتعلق ہو گیا اُس نے کہا : اشہدان محمد ارسول اللہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ جنت میں داخل ہو گیا اُس نے کہا: حی علی الصلوٰۃ حی علی الفلاح نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسلام غالب آگیا۔ ایمان غالب آگیا ہے رب کعبہ کی قسم ہے ! تم لوگ اس شخص کو پاؤ گے کہ یا تو یہ کوئی چرواہ ہو گا یا شکاری ہو گا یا کوئی ایسا شخص ہو گا جو ویرانے میں رہایش اختیار کیے ہوئے ہے راوی بیان کرتے ہیں: تو لوگ تیزی سے اُس شخص کی طرف بڑھے تاکہ اُسے اس بارے میں بتائیں جو اُنہوں نے سنا ہے ۔ تو اُنہوں نے اُس شخص کو پایا کہ وہ اسلم قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا وہ اپنے گھر سے دور ویرانے میں رہایش اختیار کیے ہوئے تھا ۔

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ← اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ ← أشهد أَن لَا إِلَه إِلَّا الله ← اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ← رَجُلًا ← بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي مَسِيرٍ لَهُ ← الْحَسَنِ، ← أَبَانُ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on the merit of the ears · Hadith 1866

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الْقِرَاءَةِ وَالدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ · حديث 6419

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَغَائِبِنَا وَشَاهِدِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ» وَبِهِ نَأْخُذُ

ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ میت کے لیے دعا کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھتے تھے : اے اللہ! تو ہمارے زندہ اور مردوں لوگوں کی ہمارے چھوٹوں اور بڑوں کی ہمارے مردوں اور عورتوں کی ہمارے موجود اور غیر موجود لوگوں کی مغفرت فرمادے ! اے اللہ! ہم میں سے جس شخص کو تو زندہ رکھے اُسے اسلام پر زندہ رکھنا اور ہم میں سے جسے تو موت دے اُسے ایمان پر موت دینا۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Chapter on recitation and supplication in prayer for the dead · Hadith 6419

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الْقِرَاءَةِ وَالدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ · حديث 6440

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ يَقُولُ عَلَى الْجِنَازَةِ: " اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ، أَحْيَيْتَهُ مَا شِئْتَ وَقَبَضْتَهُ حِينَ شِئْتَ وَتَبْعَثُهُ إِذَا شِئْتَ اللَّهُمَّ، إِنْ كَانَ زَاكِيًا فَزَكِّهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ، اللَّهُمَّ {اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ} [الحشر: 10] "، الْآيَةُ

6440 - عطا ء بن یسار بیان کرتے ہیں: حضرت زید بن ثابت نماز جنازہ میں یہ پڑھتے تھے : اے اللہ! یہ مرحوم تیرہ بندہ ہے تیرے بندہ کا بیٹا ہے جب تک تو نے چاہا اسے زندہ رکھا اور جب تو نے چاہا اس کی روح کو قبض کر لیا اور جب تو چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا اے اللہ! اگر یہ نیک تھا تو اس کی نیکی میں اضافہ کر دے اور اگر گناہگار تھا تو اس سے درگزر فرما اے اللہ! تو ا س کے اجر سے ہمیں محروم نہ رکھنا اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا اے اللہ! ہماری اور ہمارے اُن بھائیوں کی مغفرت کر دے جو ایمان کے حؤالے سے ہم سے سبقت لے جا چکے ہیں۔

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Chapter on recitation and supplication in prayer for the dead · Hadith 6440

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الشَّهَادَاتِ ‹ بَابٌ: الشَّاهِدُ يَعْرِفُ كِتَابَهُ وَلَا يَذْكُرُهُ · حديث 15519

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «كَانَ يُقْضَى فِي الزَّمَانِ الْأَوَّلِ بِشَهَادَةِ الْمَوْتَى، فَلَمَّا أَخَذْتِ النَّاسُ الْمَظَالِمَ، وَاكْتِتَابَ شَهَادَةِ الْمَوْتَى، أَبْطَلَ الْقُضَاةُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ شَهَادَةَ الْمَوْتَى، وَالدَّعْوَى عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ طَالِبُ الْحَقِّ بِشُهَدَاءَ عَلَى شَهَادَةِ الْمَوْتَى، أَوْ بِكِتَابِ حَقٍّ حَتَّى يَعْرِفَ كِتَابَ كَاتِبِهِ، فَمَنْ جَاءَ [ص:355] بِشَهَادَةٍ أُعْطِي بِشَهَادَتِهِ، وَمَنْ جَاءَ بِكِتَابٍ يَعْرِفُ خَطَّ صَاحِبِهِ، كَانَتْ فِيهِ الْأَيْمَانُ عَلَى الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِمْ، بِاللَّهِ مَا لِطَالِبِ هَذَا الْكِتَابِ عَلَى صَاحِبِنَا مِنْ حَقٍّ، فَإِنْ أَبَى أَنْ يَحْلِفَ، اسْتَحَقَّ طَالِبُ الْحَقِّ بِيَمِينِهِ بِاللَّهِ إِنَّ هَذَا الْكِتَابَ لَحَقٌ، هُوَ الَّذِي بَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يُقْضَى بِهِ فِي شَهَادَةِ الْأَمْوَاتِ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ وَآخِرِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ»

ابن شہاب بیان کرتے ہیں: پہلے زمانہ میں مرحوم کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا جاتا تھا لیکن جب لوگوں نے ظلم کے طور پر حاصل کرنا شروع کر دیں تو پھر مرحومین کی گواہی کو تحریر کیا جانے لگا پھر آخرید زمانے میں قاضی صاحبان نے مرضومین کی گواہی کو ویسے ہی کا لعدم قرار دے دیا اور کسی بھی مرحوم کے خلا ف دعویٰ کو کا لعدم قرار دے دیا البتہ اگر کسی حق کا طلبگار شخص مرحوم کی گواہی کے بارے میں گواہ لے آتا ہے یا کوئی صحیح تحریر لے کر اتا ہے جسے لکنے والا پہنچان بھیلے تو حکم مختلف ہے ۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · Book of testimonies › Chapter: The witness knows his book but does not mention it · Hadith 15519

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ ‹ بَابُ مَا يُوجَبُ عَلَيْهِ إِذَا أَسْلَمَ وَمَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الطُّهُورِ وَغَيْرِهِ · حديث 19222

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ [ص:317]: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ «رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ» قَالَ: «جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَةَ» - وَقَرَنُ مَسْقَلَةَ الَّذِي تُهْرِيقُ إِلَيْهِ بُيُوتُ ابْنِ أَبِي يَمَامَةَ وَهِيَ دَارُ ابْنِ سَمُرَةَ وَمَا حَوْلَهَا , وَالَّذِي يُهْرِيقُ مَا أَدْبَرَ مِنْهَا عَلَى دَارِ ابْنِ عَامِرٍ وَمَا أَقْبَلَ مِنْهَا عَلَى دَارِ ابْنِ سَمُرَةَ وَمَا حَوْلَهَا - قَالَ الْأَسْوَدُ: «فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ , فَجَاءَهُ النَّاسُ الْكِبَارُ وَالصِّغَارُ , فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ , وَشَهَادَةِ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ , وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»

محمد بن اسود بن خلف بیان کرتے ہیں ان کے والد اسود نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ فتح مکہ کے دن لوگوں سے بیعت لے رہے تھے تو وہ بیان کرتے ہیں وہ قرن مسقلہ کے پا س بیٹھ گئے قرن مسقلہ وہ جگہ ہے جہاں ابن ابو یمامہ کے گھروں کا پانی بہتا ہو ا اتا ہے اور یہ دار ابن سمرہ اور اس کے آس پاس کی جگہ ہے ۔

أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ رَأَى النَّبِيَّ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Two Books › Chapter on what is required of him when he embraces Islam, and what is commanded of the rituals and others · Hadith 19222

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ قَسْمِ الْمَالِ · حديث 7287

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ أَنَاسَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: «إِنِي أُرِيدُ أَنْ أَضَعَ هَذَا الْفَيْءَ مَوْضِعَهُ، فَلْيَغْدُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ عَلِيَّ بِرَأْيِهِ»، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: " إِنِّي، وَجَدْتُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، - أَوْ قَالَ: آيَاتٍ - لَمْ يَتْرُكِ اللَّهُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَهُ فِي هَذَا الْمَالِ شَيْءٌ إِلَا قَدْ سَمَّاهُ، قَالَ اللَّهٌ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولٍ} [الأنفال: 41] حَتَّى بَلَغَ {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] الْآيَةُ، ثُمَّ قَرَأَ: {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ} [الحشر: 8] إِلَى {أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ} [الحجرات: 15] فَهَذِهِ لِلْمُهَاجِرِينَ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ}، حَتَّى بَلَغَ {وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} [الحشر: 9]، ثُمَّ قَالَ [ص:152]: هَذِهِ لِلْأَنْصَارِ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا، وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ}، حَتَّى بَلَغَ {رَءُوُفٌ رَحِيمٌ} ثُمَّ قَالَ: فَلَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمُ إِلَا لَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ أُعْطِيهِ أَوْ حُرِمَهُ "

7287 – زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب نے مسلمانوں کو جمع کیا اور بولے : میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس مال فئی کو اس کے مخصوص مقام پر رکھوں تو تم میں سے کل ہر شخص اپنی رائے لے کر آئے ۔ اگلے دن صبح حضرت عمر نے فرمایا: میں نے اللہ کی کتاب میں ایک آیت پائی ہے ۔ چند آیات پائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر ایسے مسلمان کا ذکر کیا ہے جس کا اس مال میں سے کچھ بھی حصہ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : تم لوگ یہ بات جان لوکہ تمہیں غنیمت کے طور پر جو چیز بھی حاصل ہوتی ہے تو اُس کا پانچواں حصہ اللہ اور اُس کے رسول کے لیے ہو گا ۔ حضرت عمر نے یہ آیت ان الفاظ تک تلاوت کی : رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے حاصل کر لو اور جس سے تمہیں منع کر دیں اس سے باز آجاؤ ۔ پھر حضرت عمر نے یہ آیت تلاوت کی : غریب مہاجرین جنہیں اُن کے علاقے سے نکال دیا گیا ہو ۔ اُنہوں نے یہ آیت وہاں تک تلاوت کی : یہی لوگ سچے ہیں۔ تو یہ مہاجرین کے لیے ہو گا پھر اُنہوں نے یہ آیت تلاوت کی: اور جس شخص کو کنجوسی سے بچا لیا گیا تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ أَنَاسَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › Money section section · Hadith 7287

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 7350

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ يَسِيرُ فِي فَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ إِذْ أَهَلَّ هِلَالٌ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَسَمِعَ قَائِلًا يَقُولُ - وَلَا يَرَاهُ -: «اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ، وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ، وَالْإِسْلَامِ، وَالْهُدَى، وَالْمَغْفِرَةِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تَرْضَى، وَالْحِفْظِ مِمَّا تَسْخَطُ، رَبِّي، وَرَبُّكَ اللَّهُ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَدِّدُهَا حَتَّى حَفِظَهَا الرَّجُلُ»

عطا ء بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص ویرانے میں سفر کر رہا تھا اسی دوران اُسے پہلی کا چاند نظر آگیا اُس نے چاند کی طرف دیکھا شروع کیا تو کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہنے والا شخص اُسے نظر نہیں آیا ۔ اے اللہ! اس پہلی کے چاند کو ہم پر امن سلامتی اسلام ہدایت اور مغفرت کے مطابق توفیق اور تیری ناراضکی سے حفاظت کے ہمراہ طلوع کرنا میرا پروردگار اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Chapter on saying when seeing the crescent · Hadith 7350

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 7352

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، أَنَّ رَجُلًا، أَخْبَرَهُ هُوَ بِنَفْسِهِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ رَأَيْتُ الْهِلَالَ، فَسَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ - وَلَا أَرَاهُ -: «اللَّهُمَّ أَطْلِعْهُ عَلَيْنَا بَالسَّلَامَةِ، وَالْإِسْلَامِ، وَالْأَمْنِ، وَالْإِيمَانِ، وَالْبِرِّ، وَالتَّقْوَى، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ، وَتَرْضَى، فَمَا زَالَ يُرَدِّدُهَا حَتَّى حَفِظَهَا»

7352 – معمر بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے مجھے یہ بتایا کہ ایک شخص نے بذات خود یہ بات بیان کی کہ ایک مرتبہ میں سفر کر رہا تھا میں نے پہلی کا چاند دیکھا تو میں نے کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا مجھے وہ شخص نظر نہیں آیا ۔ اے اللہ! اس پہلی کے چاند کو ہم پر امن سلامتی اسلام ہدایت اور مغفرت کے مطابق توفیق اور تیری ناراضکی سے حفاظت کے ہمراہ طلوع کرنا میرا پروردگار اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ۔

قَائِلًا ← أَسِيرُ رَأَيْتُ الْهِلَالَ، ← بَيْنَا ← هُوَ بِنَفْسِهِ ← رَجُلٌ أَنَّ رَجُلاً ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Chapter on saying when seeing the crescent · Hadith 7352

مصنف عبدالرزاق · كِتَابٌ الْأَيْمَانُ وَالنُّذُورُ ‹ بَابٌ: لَا نَذَرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ · حديث 15837

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «النَّذْرُ إِذَا لَمْ يَسِمِّهَا صَاحِبُهَا، فَهِيَ أَغْلَظُ الْأَيْمَانِ، وَلَهَا أَغْلَظُ الْكَفَّارَةِ يَعْتِقُ رَقَبَةً»

15837 - سعید بن جبیر نے حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب نذر ماننے والے شخص نے اس کا تعین نہ کیا ہو تو وہ سب سے سخت ترین نذر شمار ہو گی اور اس کا کفارہ سب سے شدید ہو گا یعنی گلام آزاد کرنا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Faith and Vow › Chapter: We do not vow to disobey God · Hadith 15837

مصنف عبدالرزاق · كِتَابٌ الْأَيْمَانُ وَالنُّذُورُ ‹ بَابٌ: لَا نَذَرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ · حديث 15838

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ النَّذْرِ، فَقَالَ: " إِنَّهُ أَفْضَلُ الْأَيْمَانِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَالَّتِي تَلِيهَا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَالَّتِي تَلِيهَا يَقُولُ: الرَّقَبَةُ، وَالْكِسْوَةُ، وَالطَّعَامُ "

15838 - ابو معشر نے سعید بن جبیر کے حوالےسے حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ ان سے نذر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ قسم میں سب سے زیادہ فضیلت والی قسم ہو گی اگر آدمی کو اس کی گنجائش نہیں ملتی تو وہ اس کے بعد والی شمار ہو گی اگر اس کی بھی گنجائش نہیں ہوتی تو اس کے بعد والی شمار ہو گی ان کے کہنے کا مطلب کہ غلام آزاد کرنا یا لباس پہننا یا کھانا کھلانا۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Faith and Vow › Chapter: We do not vow to disobey God · Hadith 15838

مصنف عبدالرزاق · كِتَابٌ الْأَيْمَانُ وَالنُّذُورُ ‹ بَابٌ: لَا نَذَرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ · حديث 15857

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «إِنْ نَذَرَ رَجُلٌ خَيْرًا، فَلْيُنْفِذْهُ» يَقُولُ: «إِنْ جَعَلَ عَلَيْهِ صِيَامًا، أَوْ خَيْرًا مَا كَانَ، فَلْيُنْفِذْهُ» قُلْتُ: إِنْ قَالَ: إِنْ شَفَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَعَلَيَّ صِيَامٌ أَوْ مَشْيٌ قَالَ: كَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: «فَلْيُنْفِذْهُ، لَيْسَتِ بِيَمِينٍ»، قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: قَالَ أَبِي: " إِنْ قَالَ: إِنْ لَمْ أَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا فَعَلَيَّ صِيَامٌ عَلَيَّ مَشْيٌ، عَلَيَّ صَلَاةٌ عَلَيَّ هَدْيٌ، فَهِيَ يَمِينٌ مِنَ الْأَيْمَانِ "

15857 - ابن جریح نے طاؤس کے صاحبزادے کے حوالےسے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : اگر کوئی شخص بھلائی کی نذر مانتا ہے تو وہ اسے پورا کرے وہ یہ کہتے ہیں کہ جس نے اپنے ذمے روزے رکھے یا بھلائی لازم کی ہو خواہ وہ جو بھی ہو تو وہا سے نافذ کرے میں نے کہا کہ اگر وہ شخص یہ کہتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سفارش عطا ء کی تو مجھ پرروزے رکھنا یا چلنا لازم ہو گا انہوں نے فرمایا کہ ابو عبدالرحمٰن یہ فرماتے تھے کہ آدمی اسے نافذ کرے گا یہ چیز قسم شمار نہیں ہو گی ۔ طاؤس کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کہتے ہیں کہ اگر اس شخص نے یہ کہا کہ اگر میں نے ایسا ایسا نہ کیا تو مجھ پر روزے رکھنا لازم ہو گا یا مجھ پر چلنا لازم ہوگا یا مجھ پر نماز لازم ہو گی یا مجھ پر قربانی لامز ہو گی تو یہ چیز قسم شمار ہو گی ۔

أَبِي: إِنْ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← «فَلْيُنْفِذْهُ، لَيْسَتِ بِيَمِينٍ»، ← كَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِنْ شَفَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَعَلَيَّ صِيَامٌ أَوْ مَشْيٌ ← «إِنْ جَعَلَ عَلَيْهِ صِيَامًا، أَوْ خَيْرًا مَا كَانَ، فَلْيُنْفِذْهُ» قُلْتُ: إِنْ ← «إِنْ نَذَرَ رَجُلٌ خَيْرًا، فَلْيُنْفِذْهُ» ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Faith and Vow › Chapter: We do not vow to disobey God · Hadith 15857

مصنف عبدالرزاق · كِتَابٌ الْأَيْمَانُ وَالنُّذُورُ ‹ بَابٌ: اللَّغْو وَمَا هُوَ؟ · حديث 15951

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ جَاءَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَكَانَتْ مُجَاوِرَةً فِي جَوْفِ ثَبِيرٍ فِي نَحْوِ مِنًى، فَقَالَ عُبَيْدٌ: أَيْ هَنْتَاهُ مَا [ص:474] قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} [البقرة: 225] قَالَتْ: " هُوَ الرَّجُلُ يَقُولُ: لَا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ " قَالَ عُبَيْدٌ: أَيْ هَنْتَاهُ فَمَتَى الْهِجْرَةُ؟ قَالَتْ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، إِنَّمَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ قَبْلَ الْفَتْحِ، حِينَ يُهَاجِرُ الرَّجُلُ بِدِينِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا حِينَ كَانَ الْفَتْحُ، فَحَيْثُمَا شَاءَ رَجُلٌ عَبَدَ اللَّهَ، لَا يَضِيعُ» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: فَمَا {وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ} [المائدة: 89] قَالَ: «وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهُ إِلَّا هُوَ» قَالَ: قُلْتُ لَهُ: لِشَيْءٍ يَعْتَمِدُهُ وَيَعْقِلُ عَنْهُ، قَوْلِي: وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُهُ وَلَمْ أَعْقِدْ، إِلَّا أَنِّي وَاللَّهِ قُلْتُ: لَا أَفْعَلُهُ قَالَ: «وَذَلِكَ أَيْضًا مِمَّا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ»، وَتَلَا: {وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ} [البقرة: 225]

ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ عبید بن عمیر کے ہمراہ ام المو منین سیدہ عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو منیٰ کے قریب ثیبر پہاڑ کے دامن میں ٹھہتی ہوئی تھیں عبیدہ نے کہا: اے اماںخ جان ! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کیا مراد ہے ؟ اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں سے لغو قسموں کے حوالےسے تمہارا مواخذ ہ نہیں کرےگا۔ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: اس سے مراد آدمی کا اللہ کی قسم جی نہیں اللہ کی قسم جی ہاں اللہ کی قسم عبید نے دریافت کیا : اے اماں جانﷺ ہجرت کب ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا: فتح کےبعد ہجرت باقی نہیں رہی ہجرت فتح سے پہلے تھی جب کوئی شخص اپنے دین کو ساتھ لےکر اللہ کے رسول کی طرف ہجرت کرتا تھا لیکن جب فتح مکہ ہو گئی تو اب جو شخص جہاں چاہے وہ اللہ کی عبادت کر سکتا ہے اس کا عمل ضائع نہیں ہو گا ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Faith and Vow › Chapter: idle chatter and what is it? · Hadith 15951

chevron_left Previous
1…262728…484
Next chevron_right