مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ أَوَّلِ مَنْ خَطَبَ ثُمَّ صَلَّى · حديث 5649
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: يَا فُلَانُ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى الَّذِي عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ»
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں: عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینے کا آغاز مروان نے کہا: تو ایک شخص اُس کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا : اے مروان ! تم سنت کے برخلاف کر رہے ہو ! مروا ن نے کہا: اے فلاں ! یہاں وہ طریقہ ترک کر دیا گیا ہے ۔ تو حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا: جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے تو اس نے اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کر دیا ہے میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے جو شخص منکر چیز دیکھے اور اگر اُسے اپنے ہاتھ کے ذریعہ ختم کر سکتا ہو تو ایسا کر لے اگر وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنی زبان کے ذریعہ اور اگو وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل کے ذریعہ اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى الَّذِي عَلَيْهِ، ← مَرْوَانُ: يَا فُلَانُ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، ← يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ ← أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The two Eid prayers book › Chapter: The first person who sermon, then prays · Hadith 5649
