Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحدود والجرائم

Criminal Law

25796 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23337

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا بَشِيرٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي فَلَمَّا وَلَدَتْ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ تَحْمِلُهُ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا قَدْ وَلَدْتُ قَالَ فَاذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ فَدَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَنَضَحَ الدَّمُ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ مَهْلًا يَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِيدِ لَا تَسُبَّهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ فَأَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ " غامد" سے ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی ! مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہوگیا ہے چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بھیج دیا اگلے دن وہ پھر آگئی اور دوبارہ اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگی کہ شاید آپ مجھے بھی ماعز کی طرح واپس بھیجنا چاہتے ہیں واللہ میں تو" امید" سے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا واپس چلی جاؤ یہاں تک کہ بچہ پیدا ہو جائے چنانچہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہوچکا تو وہ بچے کو اٹھائے ہوئے پھر آگئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی ! یہ بچہ پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ چنانچہ جب اس نے اس کا دودھ بھی چھڑا دیا تو وہ بچے کو لے کر آئی اس وقت بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی اے اللہ کے نبی ! میں نے اس کا دودھ بھی چھڑا دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچہ ایک مسلمان کے حوالے کر دیا، اور اس عورت کے لئے گڑھا کھودنے کا حکم دے دیا پھر اسے سینے تک اس میں اتارا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس پر پتھر مارنے کا حکم دیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پر مارا اس سے خون نکل کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے رخسار پر گرا انہوں نے اسے سخت سست کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا رکو خالد! اسے برا بھلا مت کہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس وصولی میں ظلم کرنے والا کر لے تو اس کی بھی بخشش ہو جائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا گیا ۔

أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ ← كنت جالسا عند النبي فجاءته امرأة من غامد ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بَشِيرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23337

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23348

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ فَقُلْتُ وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ قَالَ وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ يَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ يُهْرِيقُونَ الشَّهَادَةَ وَلَا يَسْأَلُونَهَا قَالَ وَإِذَا هُوَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ

عبداللہ بن مولہ کہتے کہ ایک دن میں " اہواز " میں چل رہا تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جو مجھ سے آگے ایک خچر پر سوار چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ ! اس امت میں سے میرا دور گذر گیا ہے تو مجھے ان ہی میں شامل فرما میں نے کہا کہ مجھے بھی اپنی دعاء میں شامل کر لیجئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی کو بھی اگر یہ چاہتا ہے پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میرے سب سے بہترین امتی میرے دور کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہوں گے (تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں مجھے یاد نہیں ) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا غالب آجائے گا وہ مطالبہ کے بغیر گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے وہ صحابی حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔

وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ ثُمَّ ← فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ ← اللَّهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ فَقُلْتُ ← بِرَجُلٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ فَإِذَا هُوَ ← أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذَا ← بَيْنَمَا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23348

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23412

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ أَنَا فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ

عبداللہ بن مولہ کہتے کہ ایک دن میں " اہواز " میں چلا جا رہا تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جو مجھ سے آگے ایک خچر پر سوار چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ ! اس امت میں سے میرا دور گذر گیا ہے تو مجھے ان ہی میں شامل فرما میں نے کہا کہ مجھے بھی اپنی دعاء میں شامل کر لیجئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی کو بھی اگر یہ چاہتا ہے پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میرے سب سے بہترین امتی میرے دور کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہوں گے (تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں مجھے یاد نہیں ) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا غالب آجائے گا وہ مطالبہ کے بغیر گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔

خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ ← كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23412

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20599

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ قَالَ كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً النَّاسُ يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْنُو مِنْهُمْ فَأَسْمَعُ حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ فَلَمَّا فُتِحَتْ جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا قَالَ فَنَظَرُوا وَأَنَا لَعَلَى حِوَاءٍ عَظِيمٍ فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ فَصَلَّيْتُ بِهِمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ وَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ قَلَصَتْ فَتَبْدُو عَوْرَتِي فَلَمَّا صَلَّيْنَا تَقُولُ عَجُوزٌ لَنَا دَهْرِيَّةٌ غَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ قَالَ فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا

حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ شہر میں رہتے تھے جب لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس آتے توہمارے یہاں سے ہو کر گذرتے تھے میں ان کے قریب جاتا اور ان کی باتیں سنتا یہاں تک کہ میں نے قرآن کا کچھ حصہ بھی یاد کرلیا لوگ فتح مکہ کا انتظار کررہے تھے تاکہ اسلام قبول کریں چنانچہ جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے وہ کہتے تھے کہ یا رسول اللہ میں فلاں قبیلے کا نمائندہ ہوں اور ان کے قبول اسلام کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ میرے والد صاحب بھی اپنی قوم کے اسلام کا پیغام لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تھے اور وہ واپس آنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امامت کے لئے اس شخص کو آگے کرنا جو سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو میں اس وقت قریب قریب بہت سے گھروں کے محلے میں رہتا تھا لوگوں نے غور کیا تو انہیں مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا کوئی آدمی نہ مل سکا چنانچہ انہوں نے نوعمر ہونے کے باوجود مجھ ہی کو آگے کردیا۔ اور میں انہیں نماز پڑھانے لگا میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی میں جب رکوع یا سجدے میں جاتا تو وہ چھوٹی پڑ جاتی اور میرا ستر کھل جاتایہ دیکھ کر ایک بوڑھی خاتون لوگوں سے کہنے لگی کہ اپنے امام صاحب کا ستر تو چھپاؤ چنانچہ لوگوں نے میرے لئے ایک قمیض تیار کی جسے پاکر مجھے بہت خوشی ہوئی۔

كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20599

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23474

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَمِّهَا قَالَ إِنِّي لَبِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ عَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي مَلْحَاءُ أَسْحَبُهَا قَالَ فَطَعَنَنِي رَجُلٌ بِمِخْصَرَةٍ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَإِنَّهُ أَبْقَى وَأَنْقَى فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔

فَطَعَنَنِي رَجُلٌ بِمِخْصَرَةٍ ← إِنِّي لَبِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ عَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي مَلْحَاءُ أَسْحَبُهَا ← عَمِّهَا ← عَمَّتِهِ ← أَشْعَثَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23474

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23475

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قُرْمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَمَّتِهِ رُهْمٍ عَنْ عَمِّهَا عُبَيْدَةَ بْنِ خَلَفٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا شَابٌّ مُتَأَزِّرٌ بِبُرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بِمِخْصَرَةٍ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبَكَ كَانَ أَبْقَى وَأَنْقَى فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ بُرْدَةً مَلْحَاءَ أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ خوبصورت چادر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ خوبصورت ہو کیا تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ نہیں ہے ؟ اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔

قُلْتُ ← أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبَكَ كَانَ أَبْقَى وَأَنْقَى فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ ← شَابٌّ مُتَأَزِّرٌ بِبُرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بِمِخْصَرَةٍ مَعَهُ ثُمَّ ← قدمت المدينة ← عَمِّهَا عُبَيْدَةَ بْنِ خَلَفٍ ← عَمَّتِهِ رُهْمٍ ← الْأَشْعَثِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23475

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23674

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ فَانْطَلَقْتُ أَوْ انْطَلَقْنَا فَلَقِينَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَلَمْ يَدْخُلَاهُ قَالَ قُلْتُ بَلْ دَخَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ وَصَلَّى فِيهِ قَالَ مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ قَالَ قُلْتُ أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ قَالَ فَمَا عِلْمُكَ بِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ لَيْلَتَئِذٍ قَالَ قُلْتُ الْقُرْآنُ يُخْبِرُنِي بِذَلِكَ قَالَ مَنْ تَكَلَّمَ بِالْقُرْآنِ فَلَحَ اقْرَأْ قَالَ فَقَرَأْتُ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ فَلَمْ أَجِدْهُ صَلَّى فِيهِ قَالَ يَا أَصْلَعُ هَلْ تَجِدُ صَلَّى فِيهِ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ وَاللَّهِ مَا صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ لَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِيهِ كَمَا كُتِبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِي الْبَيْتِ الْعَتِيقِ وَاللَّهِ مَا زَايَلَا الْبُرَاقَ حَتَّى فُتِحَتْ لَهُمَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ ثُمَّ عَادَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا قَالَ ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ قَالَ وَيُحَدِّثُونَ أَنَّهُ لَرَبَطَهُ لِيَفِرَّ مِنْهُ وَإِنَّمَا سَخَّرَهُ لَهُ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ قَالَ قُلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَيُّ دَابَّةٍ الْبُرَاقُ قَالَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ هَكَذَا خَطْوُهُ مَدُّ الْبَصَرِ

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کرنے لگے کہ پھر ہم وہاں سے چل کر بیت المقدس پہنچے لیکن بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے " میں نے کہا کہ اس رات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل بھی ہوئے تھے اور وہاں پر نماز پھی پڑھی تھی یہ سن کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے گنجے ! تمہارا کیا نام ہے ؟ میں تمہیں چہرے سے پہنچاتا ہوں لیکن نام یاد نہیں ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام زر بن حبیش ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی ؟ میں نے کہا کہ قرآن بتاتا ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن سے بات کرنے والا کامیاب ہوتا ہے تم وہ آیت پڑھ کر سناؤ اب جو میں نے "سبحان الذی اسری بعبدہ" پڑھی تو اس میں یہ کہیں نہ ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز بھی پڑھی تھی ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ارے کنجے ! کیا تمہیں اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہاں نماز پڑھنا فرض ہو جاتا جیسے بیت اللہ میں ہوا بخدا! وہ دونوں براق سے جدا نہیں ہوئے تاآنکہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ۔ پھر ان دونوں نے جنت اور جہنم کو دیکھا اور آخرت کے سارے وعدے دیکھے پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آگئے جیسے گئے تھے پھر وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ ان کے دندان مبارک میں نے دیکھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو باندھ دیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو سارا عالم غیب وشہود ان کے تابع کر دیا تھا میں نے پوچھا اے ابو عبداللہ ! براق کس قسم کا جانور تھا؟ فرمایا سفید رنگ کا ایک لمباجانور تھا جس کا قدم تا حدنگاہ پڑتا تھا ۔ ی

زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمٍ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23674

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23695

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّاعَةِ فَقَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ وَلَكِنْ أُخْبِرُكُمْ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهَا إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا فَالْهَرْجُ مَا هُوَ قَالَ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ وَيُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ أَنْ يَعْرِفَ أَحَدًا

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا البتہ میں تمہیں اس کی کچھ علامات بتائے دیتا ہوں اور یہ کہ اس سے پہلے کیا ہوگا؟ قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اور "ہرج " ہوگا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فتنہ کا معنی تو ہم سمجھ گئے ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل حبش کی زبان میں اس کا معنی قتل ہوتا ہے اور لوگوں میں اجنبیت پیدا ہو جائے گی اور کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔

السَّاعَةِ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي يَذْکُرُ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23695

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23763

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدْخِلَنِي لِسَانِي النَّارَ قَالَ فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ الِاسْتِغْفَارِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةً قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ ذَكَرْتُهُ لِأَبِي بُرْدَةَ فَقَالَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسرں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں ۔

كُنْتُ رَجُلًا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ: ← حُذَيْفَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23763

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23822

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ زَمَانَ فُتِحَتْ تُسْتَرُ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِحَلْقَةٍ فِيهَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنْ الرِّجَالِ حَسَنُ الثَّغْرِ يُعْرَفُ فِيهِ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ أَهْلِ الْحِجَازِ قَالَ فَقُلْتُ مَنْ الرَّجُلُ فَقَالَ الْقَوْمُ أَوَ مَا تَعْرِفُهُ فَقُلْتُ لَا فَقَالُوا هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَعَدْتُ وَحَدَّثَ الْقَوْمَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ إِنِّي سَأُخْبِرُكُمْ بِمَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ ذَلِكَ جَاءَ الْإِسْلَامُ حِينَ جَاءَ فَجَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ كَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ قَدْ أُعْطِيتُ فِي الْقُرْآنِ فَهْمًا فَكَانَ رِجَالٌ يَجِيئُونَ فَيَسْأَلُونَ عَنْ الْخَيْرِ فَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ فَمَا الْعِصْمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ السَّيْفُ قَالَ قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ هَذَا السَّيْفِ بَقِيَّةٌ قَالَ نَعَمْ تَكُونَ إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ تَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ يَوْمَئِذٍ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَالْزَمْهُ وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَهَرٌ وَنَارٌ مَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهَرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ فَلَا يُرْكَبُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ الصَّدْعُ مِنْ الرِّجَالِ الضَّرْبُ وَقَوْلُهُ فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ قَالَ السَّيْفُ كَانَ قَتَادَةُ يَضَعُهُ عَلَى الرِّدَّةِ الَّتِي كَانَتْ فِي زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ وَقَوْلُهُ إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ يَقُولُ صُلْحٌ وَقَوْلُهُ عَلَى دَخَنٍ يَقُولُ عَلَى ضَغَائِنَ قِيلَ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ مِمَّنْ التَّفْسِيرُ قَالَ عَنْ قَتَادَةَ زَعَمَ

خالد بن خالد یشکری کہتے ہیں کہ تستر جس زمانے میں فتح ہوا میں وہاں سے نکل کر کوفہ پہنچا میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ لگا ہوا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے سر کاٹ دیئے گئے ہیں وہ ایک آدمی کی حدیث کو بڑی توجہ سے سن رہے تھے میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اسی دوران ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں ؟ اس نے مجھ سے پوچھا کیا آپ بصرہ کے رہنے والے ہیں میں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا کہ میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ اگر آپ کوفی ہوتے تو ان صاحب کے متعلق سوال نہ کرتے یہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم ، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہو جائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہو جائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہو جائے گی ۔

خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ ← نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23822

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24039

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَا يَعْرِفُونَهُ فَقَتَلُوهُ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدِيَهُ فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت یمان رضی اللہ عنہ پر مسلمانوں کی تلواریں پڑنے لگیں مسلمان انہیں پہچان نہ سکے اور انہیں قتل کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کرنا چاہی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر ہی صدقہ کر دی۔

مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24039

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24070

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَسَارَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنْ الْمُنَافِقِينَ فَجَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا شَهَادَةَ لَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا شَهَادَةَ لَهُ أَلَيْسَ يُصَلِّي قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا صَلَاةَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ

حضرت عبیداللہ بن عدی ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سرگوشی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منافق آدمی کو قتل کرنے کی اجازت مانگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونچی آواز سے پوچھا کیا وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی نہیں دیتا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم لیکن وہ دل سے گواہی نہیں دیتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم لیکن وہ دل سے گواہی نہیں دیتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم لیکن وہ دل سے نماز نہیں پڑھتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے مجھے ان لوگوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24070

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24138

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَدِيثَهُ مِنْ فِيهِ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا فَارِسِيًّا مِنْ أَهْلِ أَصْبَهَانَ مِنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ مِنْهَا يُقَالُ لَهَا جَيٌّ وَكَانَ أَبِي دِهْقَانَ قَرْيَتِهِ وَكُنْتُ أَحَبَّ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حُبُّهُ إِيَّايَ حَتَّى حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ أَيْ مُلَازِمَ النَّارِ كَمَا تُحْبَسُ الْجَارِيَةُ وَأَجْهَدْتُ فِي الْمَجُوسِيَّةِ حَتَّى كُنْتُ قَطَنَ النَّارِ الَّذِي يُوقِدُهَا لَا يَتْرُكُهَا تَخْبُو سَاعَةً قَالَ وَكَانَتْ لِأَبِي ضَيْعَةٌ عَظِيمَةٌ قَالَ فَشُغِلَ فِي بُنْيَانٍ لَهُ يَوْمًا فَقَالَ لِي يَا بُنَيَّ إِنِّي قَدْ شُغِلْتُ فِي بُنْيَانٍ هَذَا الْيَوْمَ عَنْ ضَيْعَتِي فَاذْهَبْ فَاطَّلِعْهَا وَأَمَرَنِي فِيهَا بِبَعْضِ مَا يُرِيدُ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ ضَيْعَتَهُ فَمَرَرْتُ بِكَنِيسَةٍ مِنْ كَنَائِسِ النَّصَارَى فَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ فِيهَا وَهُمْ يُصَلُّونَ وَكُنْتُ لَا أَدْرِي مَا أَمْرُ النَّاسِ لِحَبْسِ أَبِي إِيَّايَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا مَرَرْتُ بِهِمْ وَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ أَنْظُرُ مَا يَصْنَعُونَ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبَنِي صَلَاتُهُمْ وَرَغِبْتُ فِي أَمْرِهِمْ وَقُلْتُ هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدِّينِ الَّذِي نَحْنُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهُمْ حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَتَرَكْتُ ضَيْعَةَ أَبِي وَلَمْ آتِهَا فَقُلْتُ لَهُمْ أَيْنَ أَصْلُ هَذَا الدِّينِ قَالُوا بِالشَّامِ قَالَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي وَقَدْ بَعَثَ فِي طَلَبِي وَشَغَلْتُهُ عَنْ عَمَلِهِ كُلِّهِ قَالَ فَلَمَّا جِئْتُهُ قَالَ أَيْ بُنَيَّ أَيْنَ كُنْتَ أَلَمْ أَكُنْ عَهِدْتُ إِلَيْكَ مَا عَهِدْتُ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَتِ مَرَرْتُ بِنَاسٍ يُصَلُّونَ فِي كَنِيسَةٍ لَهُمْ فَأَعْجَبَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ دِينِهِمْ فَوَاللَّهِ مَازِلْتُ عِنْدَهُمْ حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ أَيْ بُنَيَّ لَيْسَ فِي ذَلِكَ الدِّينِ خَيْرٌ دِينُكَ وَدِينُ آبَائِكَ خَيْرٌ مِنْهُ قَالَ قُلْتُ كَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهُ خَيْرٌ مِنْ دِينِنَا قَالَ فَخَافَنِي فَجَعَلَ فِي رِجْلَيَّ قَيْدًا ثُمَّ حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ قَالَ وَبَعَثَتْ إِلَيَّ النَّصَارَى فَقُلْتُ لَهُمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْكُمْ رَكْبٌ مِنْ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنْ النَّصَارَى فَأَخْبِرُونِي بِهِمْ قَالَ فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ رَكْبٌ مِنْ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنْ النَّصَارَى قَالَ فَأَخْبَرُونِي بِهِمْ قَالَ فَقُلْتُ لَهُمْ إِذَا قَضَوْا حَوَائِجَهُمْ وَأَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ فَآذِنُونِي بِهِمْ قَالَ فَلَمَّا أَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ أَخْبَرُونِي بِهِمْ فَأَلْقَيْتُ الْحَدِيدَ مِنْ رِجْلَيَّ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَمَّا قَدِمْتُهَا قُلْتُ مَنْ أَفْضَلُ أَهْلِ هَذَا الدِّينِ قَالُوا الْأَسْقُفُّ فِي الْكَنِيسَةِ قَالَ فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ رَغِبْتُ فِي هَذَا الدِّينِ وَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ أَخْدُمُكَ فِي كَنِيسَتِكَ وَأَتَعَلَّمُ مِنْكَ وَأُصَلِّي مَعَكَ قَالَ فَادْخُلْ فَدَخَلْتُ مَعَهُ قَالَ فَكَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُهُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُهُمْ فِيهَا فَإِذَا جَمَعُوا إِلَيْهِ مِنْهَا أَشْيَاءَ اكْتَنَزَهُ لِنَفْسِهِ وَلَمْ يُعْطِهِ الْمَسَاكِينَ حَتَّى جَمَعَ سَبْعَ قِلَالٍ مِنْ ذَهَبٍ وَوَرِقٍ قَالَ وَأَبْغَضْتُهُ بُغْضًا شَدِيدًا لِمَا رَأَيْتُهُ يَصْنَعُ ثُمَّ مَاتَ فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ النَّصَارَى لِيَدْفِنُوهُ فَقُلْتُ لَهُمْ إِنَّ هَذَا كَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُكُمْ فِيهَا فَإِذَا جِئْتُمُوهُ بِهَا اكْتَنَزَهَا لِنَفْسِهِ وَلَمْ يُعْطِ الْمَسَاكِينَ مِنْهَا شَيْئًا قَالُوا وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ قَالَ قُلْتُ أَنَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِهِ قَالُوا فَدُلَّنَا عَلَيْهِ قَالَ فَأَرَيْتُهُمْ مَوْضِعَهُ قَالَ فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ سَبْعَ قِلَالٍ مَمْلُوءَةٍ ذَهَبًا وَوَرِقًا قَالَ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا وَاللَّهِ لَا نَدْفِنُهُ أَبَدًا فَصَلَبُوهُ ثُمَّ رَجَمُوهُ بِالْحِجَارَةِ ثُمَّ جَاءُوا بِرَجُلٍ آخَرَ فَجَعَلُوهُ بِمَكَانِهِ قَالَ يَقُولُ سَلْمَانُ فَمَا رَأَيْتُ رَجُلًا لَا يُصَلِّي الْخَمْسَ أَرَى أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْهُ أَزْهَدُ فِي الدُّنْيَا وَلَا أَرْغَبُ فِي الْآخِرَةِ وَلَا أَدْأَبُ لَيْلًا وَنَهَارًا مِنْهُ قَالَ فَأَحْبَبْتُهُ حُبًّا لَمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَهُ وَأَقَمْتُ مَعَهُ زَمَانًا ثُمَّ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ إِنِّي كُنْتُ مَعَكَ وَأَحْبَبْتُكَ حُبًّا لَمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَكَ وَقَدْ حَضَرَكَ مَا تَرَى مِنْ أَمْرِ اللَّهِ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي وَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ أَيْ بُنَيَّ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا الْيَوْمَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ لَقَدْ هَلَكَ النَّاسُ وَبَدَّلُوا وَتَرَكُوا أَكْثَرَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلًا بِالْمَوْصِلِ وَهُوَ فُلَانٌ فَهُوَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ فَالْحَقْ بِهِ قَالَ فَلَمَّا مَاتَ وَغَيَّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ الْمَوْصِلِ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ إِنَّ فُلَانًا أَوْصَانِي عِنْدَ مَوْتِهِ أَنْ أَلْحَقَ بِكَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّكَ عَلَى أَمْرِهِ قَالَ فَقَالَ لِي أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ فَوَجَدْتُهُ خَيْرَ رَجُلٍ عَلَى أَمْرِ صَاحِبِهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ إِنَّ فُلَانًا أَوْصَى بِي إِلَيْكَ وَأَمَرَنِي بِاللُّحُوقِ بِكَ وَقَدْ حَضَرَكَ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا تَرَى فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي وَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ أَيْ بُنَيَّ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ رَجُلًا عَلَى مِثْلِ مَا كُنَّا عَلَيْهِ إِلَّا بِنَصِيبِينَ وَهُوَ فُلَانٌ فَالْحَقْ بِهِ وَقَالَ فَلَمَّا مَاتَ وَغَيَّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ نَصِيبِينَ فَجِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِي وَمَا أَمَرَنِي بِهِ صَاحِبِي قَالَ فَأَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ فَوَجَدْتُهُ عَلَى أَمْرِ صَاحِبَيْهِ فَأَقَمْتُ مَعَ خَيْرِ رَجُلٍ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثَ أَنْ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ فَلَمَّا حَضَرَ قُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ إِنَّ فُلَانًا كَانَ أَوْصَى بِي إِلَى فُلَانٍ ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي وَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ أَيْ بُنَيَّ وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا بَقِيَ عَلَى أَمْرِنَا آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ إِلَّا رَجُلًا بِعَمُّورِيَّةَ فَإِنَّهُ بِمِثْلِ مَا نَحْنُ عَلَيْهِ فَإِنْ أَحْبَبْتَ فَأْتِهِ قَالَ فَإِنَّهُ عَلَى أَمْرِنَا قَالَ فَلَمَّا مَاتَ وَغَيَّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ عَمُّورِيَّةَ وَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ مَعَ رَجُلٍ عَلَى هَدْيِ أَصْحَابِهِ وَأَمْرِهِمْ قَالَ وَاكْتَسَبْتُ حَتَّى كَانَ لِي بَقَرَاتٌ وَغُنَيْمَةٌ قَالَ ثُمَّ نَزَلَ بِهِ أَمْرُ اللَّهِ فَلَمَّا حَضَرَ قُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ إِنِّي كُنْتُ مَعَ فُلَانٍ فَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ وَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي وَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ أَيْ بُنَيَّ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُهُ أَصْبَحَ عَلَى مَا كُنَّا عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ وَلَكِنَّهُ قَدْ أَظَلَّكَ زَمَانُ نَبِيٍّ هُوَ مَبْعُوثٌ بِدِينِ إِبْرَاهِيمَ يَخْرُجُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ مُهَاجِرًا إِلَى أَرْضٍ بَيْنَ حَرَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا نَخْلٌ بِهِ عَلَامَاتٌ لَا تَخْفَى يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَلْحَقَ بِتِلْكَ الْبِلَادِ فَافْعَلْ قَالَ ثُمَّ مَاتَ وَغَيَّبَ فَمَكَثْتُ بِعَمُّورِيَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ ثُمَّ مَرَّ بِي نَفَرٌ مِنْ كَلْبٍ تُجَّارًا فَقُلْتُ لَهُمْ تَحْمِلُونِي إِلَى أَرْضِ الْعَرَبِ وَأُعْطِيكُمْ بَقَرَاتِي هَذِهِ وَغُنَيْمَتِي هَذِهِ قَالُوا نَعَمْ فَأَعْطَيْتُهُمُوهَا وَحَمَلُونِي حَتَّى إِذَا قَدِمُوا بِي وَادِي الْقُرَى ظَلَمُونِي فَبَاعُونِي مِنْ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَبْدًا فَكُنْتُ عِنْدَهُ وَرَأَيْتُ النَّخْلَ وَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ الْبَلَدَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي وَلَمْ يَحِقْ لِي فِي نَفْسِي فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ قَدِمَ عَلَيْهِ ابْنُ عَمٍّ لَهُ مِنْ الْمَدِينَةِ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَابْتَاعَنِي مِنْهُ فَاحْتَمَلَنِي إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا فَعَرَفْتُهَا بِصِفَةِ صَاحِبِي فَأَقَمْتُ بِهَا وَبَعَثَ اللَّهُ رَسُولَهُ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ مَا أَقَامَ لَا أَسْمَعُ لَهُ بِذِكْرٍ مَعَ مَا أَنَا فِيهِ مِنْ شُغْلِ الرِّقِّ ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَفِي رَأْسِ عَذْقٍ لِسَيِّدِي أَعْمَلُ فِيهِ بَعْضَ الْعَمَلِ وَسَيِّدِي جَالِسٌ إِذْ أَقْبَلَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ فُلَانُ قَاتَلَ اللَّهُ بَنِي قَيْلَةَ وَاللَّهِ إِنَّهُمْ الْآنَ لَمُجْتَمِعُونَ بِقُبَاءَ عَلَى رَجُلٍ قَدِمَ عَلَيْهِمْ مِنْ مَكَّةَ الْيَوْمَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَخَذَتْنِي الْعُرَوَاءُ حَتَّى ظَنَنْتُ سَأَسْقُطُ عَلَى سَيِّدِي قَالَ وَنَزَلْتُ عَنْ النَّخْلَةِ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِابْنِ عَمِّهِ ذَلِكَ مَاذَا تَقُولُ مَاذَا تَقُولُ قَالَ فَغَضِبَ سَيِّدِي فَلَكَمَنِي لَكْمَةً شَدِيدَةً ثُمَّ قَالَ مَا لَكَ وَلِهَذَا أَقْبِلْ عَلَى عَمَلِكَ قَالَ قُلْتُ لَا شَيْءَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَثْبِتَ عَمَّا قَالَ وَقَدْ كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ قَدْ جَمَعْتُهُ فَلَمَّا أَمْسَيْتُ أَخَذْتُهُ ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِقُبَاءَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ وَمَعَكَ أَصْحَابٌ لَكَ غُرَبَاءُ ذَوُو حَاجَةٍ وَهَذَا شَيْءٌ كَانَ عِنْدِي لِلصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُكُمْ أَحَقَّ بِهِ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالَ فَقَرَّبْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ كُلُوا وَأَمْسَكَ يَدَهُ فَلَمْ يَأْكُلْ قَالَ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي هَذِهِ وَاحِدَةٌ ثُمَّ انْصَرَفْتُ عَنْهُ فَجَمَعْتُ شَيْئًا وَتَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فَقُلْتُ إِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أَكْرَمْتُكَ بِهَا قَالَ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا مَعَهُ قَالَ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي هَاتَانِ اثْنَتَانِ ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ وَقَدْ تَبِعَ جَنَازَةً مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ شَمْلَتَانِ لَهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ اسْتَدَرْتُ أَنْظُرُ إِلَى ظَهْرِهِ هَلْ أَرَى الْخَاتَمَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَدَرْتُهُ عَرَفَ أَنِّي أَسْتَثْبِتُ فِي شَيْءٍ وُصِفَ لِي قَالَ فَأَلْقَى رِدَاءَهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ فَعَرَفْتُهُ فَانْكَبَبْتُ عَلَيْهِ أُقَبِّلُهُ وَأَبْكِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَوَّلْ فَتَحَوَّلْتُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ حَدِيثِي كَمَا حَدَّثْتُكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْمَعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ شَغَلَ سَلْمَانَ الرِّقُّ حَتَّى فَاتَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرٌ وَأُحُدٌ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِبْ يَا سَلْمَانُ فَكَاتَبْتُ صَاحِبِي عَلَى ثَلَاثِ مِائَةِ نَخْلَةٍ أُحْيِيهَا لَهُ بِالْفَقِيرِ وَبِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ أَعِينُوا أَخَاكُمْ فَأَعَانُونِي بِالنَّخْلِ الرَّجُلُ بِثَلَاثِينَ وَدِيَّةً وَالرَّجُلُ بِعِشْرِينَ وَالرَّجُلُ بِخَمْسَ عَشْرَةَ وَالرَّجُلُ بِعَشْرٍ يَعْنِي الرَّجُلُ بِقَدْرِ مَا عِنْدَهُ حَتَّى اجْتَمَعَتْ لِي ثَلَاثُ مِائَةِ وَدِيَّةٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ يَا سَلْمَانُ فَفَقِّرْ لَهَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَأْتِنِي أَكُونُ أَنَا أَضَعُهَا بِيَدَيَّ فَفَقَّرْتُ لَهَا وَأَعَانَنِي أَصْحَابِي حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ مِنْهَا جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي إِلَيْهَا فَجَعَلْنَا نُقَرِّبُ لَهُ الْوَدِيَّ وَيَضَعُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ مَا مَاتَتْ مِنْهَا وَدِيَّةٌ وَاحِدَةٌ فَأَدَّيْتُ النَّخْلَ وَبَقِيَ عَلَيَّ الْمَالُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ بَيْضَةِ الدَّجَاجَةِ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ بَعْضِ الْمَغَازِي فَقَالَ مَا فَعَلَ الْفَارِسِيُّ الْمُكَاتَبُ قَالَ فَدُعِيتُ لَهُ فَقَالَ خُذْ هَذِهِ فَأَدِّ بِهَا مَا عَلَيْكَ يَا سَلْمَانُ فَقُلْتُ وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّا عَلَيَّ قَالَ خُذْهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُؤَدِّي بِهَا عَنْكَ قَالَ فَأَخَذْتُهَا فَوَزَنْتُ لَهُمْ مِنْهَا وَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَأَوْفَيْتُهُمْ حَقَّهُمْ وَعُتِقْتُ فَشَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَنْدَقَ ثُمَّ لَمْ يَفُتْنِي مَعَهُ مَشْهَدٌ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں فارس صوبہ اصبہان میں ایک جگہ کا رہنے والا ہوں جس کا نام جے تھا میرا باپ اس جگہ کا چوہدری اور سردار تھا اور مجھ سے بہت ہی زیادہ محبت تھی اور میرے حوالے سے ان کی یہ محبت اتنی بڑھی کہ انہوں نے مجھے بچیوں کی طرح گھر میں بٹھا دیا میں نے اپنے قدیم مذہب مجوسیت میں اتنی زیادہ محنت کی کہ میں آتشکدہ کا محافظ بن گیا جس کی آگ کبھی بجھنے نہیں دی جاتی تھی میرے والد کی ایک بہت بڑی جائیداد تھی ایک دن وہ اپنے کسی کام میں مصروف ہوگئے تو مجھ سے کہنے لگے بیٹا! آج میں اس تعمیراتی کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے زمینوں پر نہیں جا سکا اس لئے تم وہاں جا کر ان کی دیکھ بھال کرو اور مجھے چند ضروری باتیں بتا دیں میں زمینوں پر جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا راستہ میں میرا گذر نصاریٰ کے گرجے پر ہوا میں نے اس گرجے میں سے ان کی آوازیں سنیں وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے چونکہ والد صاحب نے مجھے گھر میں بٹھائے رکھا تھا اس لئے مجھے لوگوں کے معاملات کا کچھ علم نہ تھا لہٰذا جب میں ان کے پاس گذرا اور ان کی آوازیں سنیں تو میں سیر کے لئے اس میں چلا گیا میں نے ان کو نماز پڑھتے دیکھا تو مجھے وہ پسند آگئی اور میں اس دین کو پسند کرنے لگا اور میں نے سوچا کہ واللہ یہ دین ہمارے دین سے زیادہ بہتر ہے شام تک میں وہیں رہا اور والد صاحب کی زمینوں پر نہیں گیا ان سے میں نے دریافت کیا کہ اس دین کا مرکز کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا ملک شام میں ہے رات کو میں گھر واپس آیا تو گھر والوں نے پوچھا کہ تو تمام دن کہاں رہا؟ میں نے تمام قصہ سنایا باپ نے کہا کہ بیٹا وہ دین اچھا نہیں ہے تیرا اور تیرے بڑوں کا جو دین ہے وہی بہتر ہے ۔ میں نے ہرگز نہیں وہی دین بہتر ہے ۔ باپ کو میری طرف سے خدشہ ہوگیا کہ کہیں چلا نہ جائے اس لئے میرے پاؤں میں ایک بیڑی ڈال دی اور گھر میں قید کر دیا، میں نے ان عیسائیوں کے پاس کہلا بھیجا کہ جب شام سے سوداگر لوگ جو اکثر آتے رہتے تھے آئیں تو مجھے اطلاع کرا دیں چنانچہ کچھ سوداگر آئے اور ان عیسائیوں نے مجھے اطلاع کرا دی جب وہ واپس جانے لگے تو میں نے اپنی پاؤں کی بیڑی کاٹ دی اور بھاگ کر ان کے ساتھ شام چلا گیا وہاں پہنچ کر میں نے تحقیق کی کہ اس مذہب کا سب سے زیادہ ماہر کون ہے لوگوں نے بتایا کہ گرجا میں فلاں پادری ہے میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ مجھے آپ کے دین میں داخل ہونے کی رغبت ہے اور میں آپ کی خدمت میں رہنا چاہتا ہوں اس نے منظور کر لیا میں اس کے پاس رہنے لگا لیکن وہ کچھ اچھا نہ نکلا لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دیتا اور جو کچھ جمع ہوتا اس کو اپنے خزانہ میں رکھ لیتا غریبوں کو کچھ نہ دیتا، یہاں تک کہ اس نے سونے چاندی کے سات مٹکے جمع کر لئے تھے مجھے اس کی ان حرکتوں پر اس سے شدید نفرت ہوگئی جب وہ مرگیا اور عیسائی اسے دفن کرنے کے لئے جمع ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ یہ بہت برا آدمی تھا تمہیں صدقہ کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب دیتا تھا اور جب تم اس کے پاس صدقات لے کر آتے تو وہ انہیں اپنے پاس ذخیرہ کر لیتا تھا اور مسکینوں کو اس میں سے کچھ نہیں دیتا تھا لوگوں نے پوچھا تمہیں اس بات کا علم کیسے ہوا؟ میں نے کہا کہ میں تمہیں اس خزانے کا پتہ بتائے دیتا ہوں انہوں نے کہا ضرور بتاؤ چنانچہ میں نے انہیں وہ جگہ دکھا دی اور لوگوں نے وہاں سے سونے چاندی سے بھرے ہوئے سات مٹکے برآمد کر لئے اور یہ دیکھ کہنے واللہ ہم اسے کبھی دفن نہیں کرے گے چنانچہ انہوں نے اس پادری کو سولی پر لٹکا دیا اور پھر اسے پتھروں سے سنگسار کرنے لگے اس کی جگہ دوسرے شخص کو بٹھایا وہ اس سے بہتر تھا اور دنیا سے بے رغبت تھا میں نے اسے پنجگانہ نماز پڑھنے والے کو اس سے زیادہ افضل اس کی نسبت دنیا سے زیادہ بے رغبت اور رات دن عبادت کرنے والا نہیں دیکھا میں اس کی خدمت میں رہنے لگا اور اس سے مجھے ایسی محبت ہوگئی کہ اس سے پہلے کسی سے نہ ہوئی تھی بالآخر وہ بھی مرنے لگا تو میں نے اس سے پوچھا کہ مجھے کسی کے پاس رہنے کی وصیت کر دو اس نے کہا کہ میرے طریقہ پر صرف ایک ہی شخص دنیا میں ہے اس کے سوا کوئی نہیں وہ موصل میں رہتا ہے تو اس کے پاس چلے جانا میں اس کے مرنے کے بعد موصل چلا گیا اور اس سے جا کر اپنا قصہ سنایا اس نے اپنی خدمت میں رکھ لیا وہ بھی بہترین آدمی تھا آخر اس کی بھی وفات ہونے لگی تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤ اس نے کہا فلاں شخص کے پاس نصیبین میں چلے جانا میں اس کے پاس چلا گیا اور اس سے اپنا قصہ سنایا اس نے اپنے پاس رکھ لیا وہ بھی اچھا آدمی تھا جب اس کے مرنے کا وقت آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤ اس نے کہا غموریا میں فلاں شخص کے پاس چلے جانا میں وہاں چلا گیا اس کے پاس اسی طرح رہنے لگا وہاں میں نے کچھ کمائی کا دھندا بھی کیا جس سے میرے پاس چند گائیں اور کچھ بکریاں جمع ہوگئیں جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤں اس نے کہا کہ اب اللہ کی قسم ! کوئی شخص اس طریقے کا جس پر ہم لوگ ہیں عالم نہیں رہا البتہ نبی آخرالزمان کے پیدا ہونے کا زمانہ قریب آگیا جو دین ابراہیمی پر ہوں گے عرب میں پیدا ہوں گے اور ان کی ہجرت کی جگہ ایسی زمین ہے جہاں کھجوروں کی پیداوار بکثرت ہے اور اس کے دونوں جانب کنکریلی زمین ہے وہ ہدیہ نوش فرمائیں گے اور صدقہ نہیں کھائیں گے ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی پس اگر تم سے ہوسکے تو اس سر زمین پر پہنچ جانا۔ اس کے انتقال کے کچھ عرصے بعد قبیلہ بنو قلب کے چند تاجروں کا وہاں سے گذر ہوا میں نے ان سے کہا کہ تم مجھے اپنے ساتھ عرب لے چلو تو اس کے بدلے میں یہ گائیں اور بکریاں تمہاری نذر ہیں انہوں نے قبول کر لیا اور مجھے وادی القریٰ (یعنی مکہ مکرمہ) اور وہ گائیں اور بکریاں میں نے ان کو دے دیں لیکن انہوں نے مجھ پر یہ ظلم کیا کہ مجھے مکہ مکرمہ میں اپنا غلام ظاہر کر کے آگے بیچ دیا بنو قریظہ کے ایک یہودی نے مجھے خرید لیا اور اپنے ساتھ اپنے وطن مدینہ طیبہ لے آیا مدینہ طبیہ کو دیکھتے ہی میں نے ان علامات سے جو مجھے عموریا کے ساتھی (پادری ) نے بتائی تھی پہچان لیا کہ یہی وہ جگہ ہے میں وہاں رہتا رہا کہ اتنے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ ایک دن میں اپنے آقا کے باغ میں کام کر رہا تھا کہ میرے آقا کے بیٹھے بیٹھے اس کا چچا زاد بھائی آگیا اور کہنے لگا بنو قیلہ پر اللہ کی مار ہو اب وہ قبا میں ایک ایسے آدمی کے پاس جمع ہو رہے تھے جو ان کے پاس آج ہی آیا ہے اور اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے یہ سنتے ہی مجھ پر ایسی بے خودی طاری ہوئی کہ مجھے لگتا تھا میں اپنے آقا کے اوپر گر پڑوں گا پھر میں درخت سے نیچے اترا اور اس کے چچا زاد بھائی سے کہنے لگا کہ آپ کیا کہہ رہے تھے آپ کیا کہہ رہے تھے ؟ اس پر میرے آقا کو غصہ آگیا اور اس نے مجھے ضرور سے مکہ مار کر کہا کہ تمہیں اس سے کیا مقصد؟ جاؤ جا کر اپنا کام کرو میں نے سوچا کوئی بات نہیں اور میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ اس کے متعلق معلومات حاصل کر کے رہوں گا میرے پاس کچھ پونجی جمع تھی شام ہوئی تو وہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک قباہی میں تشریف فرما تھے میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ غریب اور حاجت مند لوگ ہیں یہ صدقے کا مال ہے میں دوسرے سے زیادہ آپ لوگوں کو اس کا حق دار سمجھتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تناول نہیں فرمایا صحابہ کرام (فقراء) سے فرمایا تم کھالو میں نے اپنے دل میں کہا کہ ایک علامت تو پوری نکلی پھر میں مدینہ واپس آگیا اور کچھ جمع کیا کہ اس دوران میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے میں نے کچھ کھجوریں اور کھانا وغیرہ پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ ہدیہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ دوسری علامت بھی پوری ہوگئی اس کے بعد میں ایک مرتبہ حاضرخدمت ہوا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شرکت کی وجہ سے بقیع میں تشریف فرما تھے میں نے سلام کیا اور پشت کی طرف گھومنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے اور اپنی چادر مبارک کمر سے ہٹا دی میں نے مہر نبوت کو دیکھا کر جوش میں اس پر جھک گیا اس کوچوم رہا تھا اور رو رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سامنے آؤ میں سامنے حاضر ہوا اور حاضر ہو کر سارا قصہ سنایا اس کے بعد میں اپنی غلامی کے مشاغل میں پھنسا رہا اور اسی بناء پر بدر واحد میں بھی شریک نہ ہوسکا۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے آقا سے مکاتبت کا معاملہ کرلو، میں نے اس سے معاملہ کرلیا اس نے دو چیزیں بدل کتابت قرار دیں ایک چالیس اوقیہ نقد سونا (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اور ایک درہم تقریباً٣۔ ٤ ماشتہ کا) اور دوسری یہ کہ تین سو درخت کھجور کے لگاؤں اور ان کو پرورش کروں یہاں تک کہ کھانے کے قابل ہوجائیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو چنانچہ انہوں نے درختوں کے حوالے سے میری اس طرح مدد کی کہ کسی نے مجھے تیس پودے دیئے کسی نے بیس ، کسی نے پندرہ اور کسی نے دس ، ہر آدمی اپنی گنجائش کے مطابق میری مدد کر رہا تھا یہاں تک میرے پاس تین سو پودے جمع ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سلمان جا کر ان کے لئے کھدائی کرو اور فارغ ہو کر مجھے بتاؤ میں خود اپنے ہاتھ سے یہ پودے لگاؤں گا چنانچہ میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے زمین کی کھدائی اور فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں مطلع کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ باغ کی جانب روانہ ہوگئے ہم ایک ایک پودا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے جاتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے دست مبارک سے لگاتے جاتے تھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں سلمان کی جان ہے ان میں سے ایک پودا بھی نہیں مرجھایا تھا اور یوں میں نے باغ کی شرط پوری کردی ۔ اب مجھ پر مال باقی رہ گیا تھا اتفاق سے کسی غزوے سے مرغی کے انڈے کے برابر سونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان کو مرحمت فرما دیا کہ اس کو جا کر اپنے بدل کتابت میں دے دو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ کیا کافی ہوگا وہ بہت زیادہ مقدار ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حق تعالیٰ شانہ اسی سے عجب نہیں پورا فرما دیں چنانچہ میں لے گیا اور اس میں سے وزن کر کے چالیس اوقیہ سونا اس کو تول دیا اور میں آزاد ہوگیا پھر میں غزوہ خندق میں شریک ہوا اور اس کے بعد کسی غزوے کو نہیں چھوڑا

سلمان الفارسي حديثه من فيه ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24138

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24154

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ فَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ لَمَّا مَاتَ قَالَتْ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا أَمَا إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ قَالُوا قَتْلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرْقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی بیٹی کہنے لگی بخدا! مجھے امید ہے کہ آپ شہداء میں شامل ہوں گے کیونکہ آپ نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی نیت کے مطابق ان کا اجر طے کر دیا ہے تم لوگ " شہادت " کس چیز کو سمجھتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں چنانچہ طاعون میں مرنے والا شہید ہے ، سمندر میں غرق ہو کر مرنے والا شہید ہے ذات الجنب کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے آگ میں جل کر مرنے والا شہید ہے عمارت کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے اور حالت نفاس میں مرنے والا عورت شہید ہے ۔

عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ فَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ ← عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك، ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24154

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24355

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَةَ الْكَلَاعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا قَالُوا حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرَةِ نِسْوَةٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ قَالَ فَقَالَ مَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ قَالُوا حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ حَرَامٌ قَالَ لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشْرَةِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم لوگ بدکاری کے متعلق کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے لہٰذا وہ قیامت تک حرام رہے گی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے لئے دس عورتوں سے بدکاری کرنا اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے پھر پوچھا کہ چوری کے متعلق تم لوگ کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے لہٰذا وہ حرام رہے گی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا دس گھروں میں چوری کرنا اپنے پڑوسی کے یہاں چوری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← أَبَا ظَبْيَةَ الْكَلَاعِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24355

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24376

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ ضَمْرَةَ وَعَنْ جَدِّهِ وَكَانَا شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ فَجَلَسَ فِيهِ وَهُوَ بِحُنَيْنٍ فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ يَخْتَصِمَانِ فِي عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيِّ وَعُيَيْنَةُ يَطْلُبُ بِدَمِ عَامِرٍ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ رَئِيسُ غَطَفَانَ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ يَدْفَعُ عَنْ مُحَلَّمِ بْنِ جَثَّامَةَ بِمَكَانِهِ مِنْ خِنْدِفٍ فَتَدَاوَلَا الْخُصُومَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَسَمِعْنَا عُيَيْنَةَ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدَعُهُ حَتَّى أُذِيقَ نِسَاءَهُ مِنْ الْحَرِّ مَا ذَاقَ نِسَائِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَلْ تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا قَالَ وَهُوَ يَأْبَى عَلَيْهِ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ قَصِيرٌ مَجْمُوعٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ لِهَذَا الْقَتِيلِ شَبَهًا فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَغَنَمٍ وَرَدَتْ فَرُمِيَتْ أَوَائِلُهَا فَنَفَرَتْ أُخْرَاهَا اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ بَلْ تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا قَالَ فَقَبِلُوا الدِّيَةَ ثُمَّ قَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكُمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ ضَرْبٌ طَوِيلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ لَهُ قَدْ كَانَ تَهَيَّأَ فِيهَا لِلْقَتْلِ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا اسْمُكَ قَالَ أَنَا مُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَةَ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلَّمِ بْنِ جَثَّامَةَ فَقَامَ وَهُوَ يَتَلَقَّى دَمْعَهُ بِفَضْلِ رِدَائِهِ قَالَ فَأَمَّا نَحْنُ بَيْنَنَا فَنَقُولُ إِنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اسْتَغْفَرَ لَهُ وَأَمَّا مَا ظَهَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا

زیاد بن ضمرہ نے عروہ بن زبیر کو اپنے والد اور دادا سے یہ حدیث نقل کرتے ہوئے سنا " جو کہ غزوہ حنین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے " کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی اور ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اقراع بن حابس اور عیینہ بن حصین اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عیینہ اس وقت عامر بن اضبط اشجعی کے خون کا مطالبہ کر رہا تھا جو کہ قبیلہ قیس کا سردار تھا اور اقرع بن حابس حندف کی وجہ سے محلم بن جثامہ کا دفاع کر رہا تھا وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھگڑنے لگے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم سفر میں دیت کے پچاس اونٹ ہم سے لو اور پچاس واپس پہنچ کر لے لینا عیینہ نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں دیت نہیں لوں گا جس وقت تک کہ میں اس شخص کی عورتوں کو وہی تکلیف اور غم نہ پہنچاؤں جو میری عورتوں کو پہنچا ہے پھر صدائیں بلند ہوئیں اور خوب لڑائی اور شوروغل برپا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عیینہ تم دیت قبول نہیں کرتے ؟ عیینہ نے پھر اسی طریقہ سے جواب دیا یہاں تک کہ اس ایک شخص قبیلہ بنی لیث میں سے کھڑا ہوا کہ جس کو مکیتل کہا کرتے تھے وہ شخص اسلحہ باندھے ہوئے تھا اور ہاتھ میں (تلوار کی ) ڈھال لئے ہوئے تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قتل کرنے والے شخص کے یعنی محلم کے شروع اسلام میں اس کے علاوہ کوئی مثال نہیں دیکھتا ہوں جس طرح کچھ بکریاں کسی چشمہ پر پانی پینے کے لئے پہنچیں تو کسی نے پہلی بکری کو تو مار دیا کہ جس کی وجہ سے آخری بکری بھی بھاگ کھڑی ہوئی تو آپ آج ایک دستور بنا لیجئے اور کل اس کو ختم کر دیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پچاس اونٹ اب ادا کریں اور پچاس اونٹ اس وقت ادا کرے جب ہم لوگ مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئیں (چنانچہ آپ نے اس شخص سے دیت ادا کرائی) اور یہ واقعہ دوران سفر پیش آیا تھا محلم ایک طویل قد گندمی رنگ کا شخص تھا وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا لوگ بیٹھے تھے کہ وہ بچتے بچاتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر بیٹھا اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے گناہ کیا ہے جس کی آپ کو اطلاع ملی ہے اب میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں آپ میرے لئے دعائے مغفرت فرما دیجئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اسلام کے شروع زمانہ میں اس شخص کو اپنے اسلحہ سے قتل کیا ہے ؟ اے اللہ ! محلم کی مغفرت نہ کرنا آپ نے یہ بات بآواز بلند فرمائی (راوی) ابو سلمہ نے یہ اضافہ کیا محلم یہ بات سن کر کھڑا ہوگیا اور وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا (راوی ) ابن اسحاق نے بیان کیا کہ محلم کی قوم نے کہا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لئے بخشش کی دعا فرمائی لیکن ظاہر وہی کیا جو پہلے فرمایا تھا تاکہ لوگ ایک دوسرے سے تعرض نہ کریں ۔

أَبِيهِ ضَمْرَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← زِيَادَ بْنَ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ السُّلَمِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24376

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24474

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَزْهَرَ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ ذِي الْكَلَاعِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ الْقُصَّاصُ ثَلَاثَةٌ أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعظ گوئی وہی کر سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← ذِي الْكَلاعِ، ← أَزْهَرَ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24474

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24502

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ذِي كَلَاعٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُصَّاصُ ثَلَاثَةٌ أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کر سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر جو تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← ذِي كَلَاعٍ ← أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24502

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 345

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ" 2. [3: 72]

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’اگر مومن کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیسی سزا موجود ہے ‘ تو کوئی شخص جنت کی امید نہ رکھے اور کافر کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی ہے ‘ تو کوئی شخص جنت سے مایوس نہ ہو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 345

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1682

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ، قَالَ: فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِي وَقَالَ: «تَقُولُ: اللَّهُ [ص:579] أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ»، وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ، ثُمَّ تَقُولُ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَاخْفِضْ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ، وَحَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاةَ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». [1: 94]

محمد بن عبدالملک اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (حضرت محذورہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں عرض کی یا رسول اللہ !آپ مجھے اذان کا طریقہ تعلیم دیجیے راوی بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے میرے سر کے آگے والے حصے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا تم یہ کہو ۔ تم اس میں اپنی آواز کو بلند کرو،پھر تم یہ کہو ، اس میں تم اپنی نماز کو پست کرو ، پھر تم شہادت کے کلمات (کہتے ہوئے ) اپنی آواز کو بلند کرو ۔اگر صبح کی اذان ہو تو تم یہ کہو۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ← الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1682

chevron_left Previous
1…535455…1,290
Next chevron_right