Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحدود والجرائم

Criminal Law

25796 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12734

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ عَمَّةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَعَرَضُوا عَلَيْهِمْ الْأَرْشَ فَأَبَوْا وَطَلَبُوا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَبَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَجَاءَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ قَالَ فَعَفَا الْقَوْمُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں کو تاوان کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر انہوں نے ان سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا، اسی اثناء میں ان کے بھائی اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر آگئے اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، اسی اثناء میں وہ راضٰی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کر دیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔

حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12734

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12837

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَيَبْقَى النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ يَذْهَبُ الرِّجَالُ وَيَبْقَى النِّسَاءُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی، اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

ألا أحدثكم بحديث ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12837

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25294

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ يَعْنِي وَلَدَ الزِّنَا

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناجائز بچہ بھی اگر اپنے ماں باپ جیسے کام کرنے لگے تو وہ تیسرا شر ہوگا۔

عَائِشَةَ ← إبراهيم بن عبيد بن رفاعة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25294

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15640

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَى مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَوْدَى عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِ فَخَرَجْنَا إِلَى حَرَّةِ بَنِي نِيَارٍ فَرَجَمْنَاهُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْهُ وَرَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ جَزَعَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ

حضرت نصر بن دہر سے مروی ہے کہ ہمارے ایک ساتھی ماعز بن مالک بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور اپنے متعلق بدکاری کا اعتراف کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ انہیں سنگسار کردو چنانچہ ہم انہیں لے کر حرہ بنونیا کی طرف لے گئے اور انہیں پتھر مارنے لگے جب ہم انہیں پتھر مارنے لگے تو انہیں اس کی تکلیف محسوس ہوئی جب ہم لوگ ان سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو ہم نے ان کی گھبراہٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔

أَبِيهِ ← أبي الهيثم بن نصر بن دهر الأسلمي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15640

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15673

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِكِينَ فَأَفْضَى بِهِمْ الْقَتْلُ إِلَى الذُّرِّيَّةِ فَلَمَّا جَاءُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكُمْ عَلَى قَتْلِ الذُّرِّيَّةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانُوا أَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ أَوَهَلْ خِيَارُكُمْ إِلَّا أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا

حضرت اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پرا یک دستہ روانہ فرمایا انہوں نے مشرکین سے قتال کیا جس کا دائرہ وسیع ہوتے ہوتے ان کی اولاد کے قتل تک جاپہنچا جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں بچوں کو قتل کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ وہ مشرکین کے بچے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے جو بہترین لوگ ہیں وہ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جوروح بھی دنیا میں جنم لیتی ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اپنا مافی الضمیر ادا کرنے لگے۔

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15673

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15674

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَزَوْتُ مَعَهُ فَأَصَبْتُ ظَهْرًا فَقَتَلَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ حَتَّى قَتَلُوا الْوِلْدَانَ وَقَالَ مَرَّةً الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ جَاوَزَهُمْ الْقَتْلُ الْيَوْمَ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ أَلَا إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً قَالَ كُلُّ نَسَمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا وَيُنَصِّرَانِهَا

حضرت اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پرا یک دستہ روانہ فرمایا انہوں نے مشرکین سے قتال کیا جس کا دائرہ وسیع ہوتے ہوتے ان کی اولاد کے قتل تک جاپہنچا جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں بچوں کو قتل کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ وہ مشرکین کے بچے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے جو بہترین لوگ ہیں وہ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جوروح بھی دنیا میں جنم لیتی ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اپنا مافی الضمیر ادا کرنے لگے۔ اور اس کے والدین ہی اسے یہودی عیسائی بناتے ہیں ۔

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15674

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25484

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُ عَنْهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُمْضِهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں، اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہاری تصویر اٹھا رکھی تھی، اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25484

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25517

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهُ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ قَذَفَهَا وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی۔ اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت کے اجلا پن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کو بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25517

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15837

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِ كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضَّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق نے فرمایا میں سمجھتاہوں کہ دیت عصبہ ہی کو ملنی چاہیے کیونکہ وہی اس کا کنبہ بنتے ہیں کیا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے اس پر حضرت ضحاک جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتیوں پر عامل مقرر فرمایا تھا کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک خط میں تحریر فرمایا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں وارث سمجھوں اور اس پر حضرت عمر فاروق نے اس حدیث پر عمل کرنا شروع کردیا۔

الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى الْأَعْرَابِ ← أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فِي ذَلِكَ شَيْئًا ← مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ فَهَلْ ← سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15837

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15838

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيَّ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضَّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمَرُ عَنْ قَوْلِهِ

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ دیت صرف عصبہ ہی کو ملنی چاہیے عورت اپنے شوہر کی دیت میں سے وارث نہیں بنے گی حتی کہ حضرت ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک خط میں تحریر فرمایا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں وراث سمجھوں اس پر حضرت عمر نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔

الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلابِيُّ ← الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حَتَّى ← سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ ← من الزهري ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15838

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25630

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جُعِلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةٌ سَوْدَاءُ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ بَيَاضَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَادَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ قَالَتْ كَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت کے اجلاپن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کو بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔

كَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ ← وَأَحْسَبُهُ قَدْ ← بَيَاضَ النَّبِيِّ وَسَوَادَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا ← جُعِلَ لِلنَّبِيِّ بُرْدَةٌ سَوْدَاءُ مِنْ صُوفٍ ← عَائِشَةَ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25630

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15935

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ قَالَ كَانَ لَنَا جَارٌ مِنْ يَهُودَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا مِنْ بَيْتِهِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ فَوَقَفَ عَلَى مَجْلِسِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ سَلَمَةُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِيهِ سِنًّا عَلَيَّ بُرْدَةٌ مُضْطَجِعًا فِيهَا بِفِنَاءِ أَهْلِي فَذَكَرَ الْبَعْثَ وَالْقِيَامَةَ وَالْحِسَابَ وَالْمِيزَانَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَقَالَ ذَلِكَ لِقَوْمٍ أَهْلِ شِرْكٍ أَصْحَابِ أَوْثَانٍ لَا يَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا كَائِنٌ بَعْدَ الْمَوْتِ فَقَالُوا لَهُ وَيْحَكَ يَا فُلَانُ تَرَى هَذَا كَائِنًا إِنَّ النَّاسَ يُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ إِلَى دَارٍ فِيهَا جَنَّةٌ وَنَارٌ يُجْزَوْنَ فِيهَا بِأَعْمَالِهِمْ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَوَدَّ أَنَّ لَهُ بِحَظِّهِ مِنْ تِلْكَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِي الدُّنْيَا يُحَمُّونَهُ ثُمَّ يُدْخِلُونَهُ إِيَّاهُ فَيُطْبَقُ بِهِ عَلَيْهِ وَأَنْ يَنْجُوَ مِنْ تِلْكَ النَّارِ غَدًا قَالُوا لَهُ وَيْحَكَ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ قَالَ نَبِيٌّ يُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ هَذِهِ الْبِلَادِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ مَكَّةَ وَالْيَمَنِ قَالُوا وَمَتَى تَرَاهُ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا فَقَالَ إِنْ يَسْتَنْفِدْ هَذَا الْغُلَامُ عُمُرَهُ يُدْرِكْهُ قَالَ سَلَمَةُ فَوَاللَّهِ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَآمَنَّا بِهِ وَكَفَرَ بِهِ بَغْيًا وَحَسَدًا فَقُلْنَا وَيْلَكَ يَا فُلَانُ أَلَسْتَ بِالَّذِي قُلْتَ لَنَا فِيهِ مَا قُلْتَ قَالَ بَلَى وَلَيْسَ بِهِ

حضرت سلمہ بن سلامہ جو کہ اصحاب بدر میں تھے سے مروی ہے کہ بنو عبدالاشہل میں ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تھوڑا ہی عرصہ قبل اپنے گھر سے نکل کر ہمارے پاس آیا اور بنو عبدالاشہل کی مجلس کے پاس پہنچ کر رک گیا میں اس وقت نوعمر تھا میں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اور میں اپنے گھر کے صحن میں لیٹا ہوا تھا وہ یہودی دوبارہ زندہ ہوتے قیامت ، حساب کتاب، میزان عمل اور جنت وجہنم کا تذکرہ کرنے لگا یہ بات وہ ان مشرک اور بت پرست لوگوں سے کہہ رہا تھا جن کی رائے میں مرنے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں ہونی تھی اس لئے وہ اس سے کہنے لگے اے فلاں تجھ پر افسوس ہے کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ موت کے بعد لوگوں کو زندہ کیا جائے گا اور انہیں جنت وجہنم نامی جگہ منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے اعمال کا انہیں بدلہ دیا جائے گا۔ اس نے جواب دیا کہ ہاں اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم اٹھائی جاتی ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ دنیا میں ایک بہت بڑا تنور خوب دہکایا جائے گا اور مجھے اس میں داخل کرکے اسے اوپر سے بند کردیا جائے گا اور اس کے بدلے کل کو جہنم کی آگ سے نجات دیدی جائے گی اور وہ لوگ کہنے لگے کہ اس کی علامت کیا ہے اس نے جواب دیا کہ اس کی علامت ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو ان علاقوں سے مبعوث ہو گا یہ کہہ کر اس نے مکہ مکرمہ یمن کی طرف اشارہ کیا انہوں نے پوچھا کہ وہ کب ظاہر ہو گا اس یہودی نے مجھے دیکھا کیونکہ میں ان میں سب سے زیادہ چھوٹا تھا اور کہنے لگا کہ اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو انہیں ضرور پا لے گا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ابھی دن رات کا چکر ختم نہیں ہوا تھا کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرما دیا وہ یہودی بھی اس وقت تک ہمارے درمیان زندہ تھا ہم تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے لیکن وہ سرکشی اور حسد کی وجہ سے کفر پراڑا رہا ہم نے اس سے کہا کہ فلاں تجھ پر افسوس ہے کیا تو وہی نہیں ہے جس نے اس پیغمبر کے حوالے سے اتنی لمبی تقریر کی تھی اس نے کہا کیوں نہیں لیکن میں ان پر ایمان نہیں لاؤں گا۔حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَاعَ عَقَارًا كَانَ قَمِنًا أَنْ لَا يُبَارَكَ لَهُ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ فِي مِثْلِهِ أَوْ غَيْرِهِ

سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ← صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15935

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15971

قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ

حضرت طارق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ کے لئے شہادت کافی ہے۔

بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ. ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِبَغْدَادَ ← أَبِي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15971

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25740

حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتَلَفْتُ فِيهِ مَنْ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوتے تو نماز کا آغاز کس طرح فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے اے اللہ! اے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے! پوشیدہ ظاہر چیزوں کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ کرسکتا ہے، ان اختلافی معاملات میں مجھے اپنے حکم سے صحیح راستے پر چلا، کیونکہ تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دے دیتا ہے۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25740

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25799

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ أَرَى رَجُلًا يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُمْضِهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں، اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہارے تصویر اٹھا رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25799

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16023

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَرْهَدًا فِي الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ قَدْ انْكَشَفَ فَخِذُهُ فَقَالَ الْفَخِذُ عَوْرَةٌ

حضرت جرید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنی ران کھولے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گذرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ران ستر ہے۔

زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16023

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16029

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ وَقَدْ انْكَشَفَتْ فَخِذِي قَالَ غَطِّ فَإِنَّ الْفَخْذَ عَوْرَةٌ

حضرت جرید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنی ران کھولے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گذرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ڈھانپ لو کیونکہ ران ستر ہے۔

غَطِّ فَإِنَّ الْفَخْذَ عَوْرَةٌ ← مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ وَقَدْ انْكَشَفَتْ فَخِذِي ← جَدِّهِ جَرْهَدٍ ← زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16029

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16071

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ فِي مَسْجِدِ أَهْلِهِ أَسْأَلُهُ عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ بِالنَّهْرَوَانِ فَفِيمَا اسْتَجَابُوا لَهُ وَفِيمَا فَارَقُوهُ وَفِيمَا اسْتَحَلَّ قِتَالَهُمْ قَالَ كُنَّا بِصِفِّينَ فَلَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِأَهْلِ الشَّامِ اعْتَصَمُوا بِتَلٍّ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ أَرْسِلْ إِلَى عَلِيٍّ بِمُصْحَفٍ وَادْعُهُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَنْ يَأْبَى عَلَيْكَ فَجَاءَ بِهِ رَجُلٌ فَقَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنْ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ فَقَالَ عَلِيٌّ نَعَمْ أَنَا أَوْلَى بِذَلِكَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَتْهُ الْخَوَارِجُ وَنَحْنُ نَدْعُوهُمْ يَوْمَئِذٍ الْقُرَّاءَ وَسُيُوفُهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ فَقَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا نَنْتَظِرُ بِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عَلَى التَّلِّ أَلَا نَمْشِي إِلَيْهِمْ بِسُيُوفِنَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَتَكَلَّمَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَعْنِي الصُّلْحَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي أَبَدًا قَالَ فَرَجَعَ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ فَلَمْ يَصْبِرْ حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ قَالَ فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهَا إِيَّاهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفَتْحٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ

حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابووائل کے پاس ان کے گھر کی مسجد میں آیا تاکہ ان سے ان لوگوں کے متعلق پوچھ سکوں جنہیں حضرت علی نے نہروان کے مقام پر قتل کیا تھا انہوں نے حضرت علی کی کون سی بات مانی کس میں اختلاف کیا۔ اور حضرت علی نے کس بناء پر ان سے قتال کو جائز سمجھا وہ کہنے لگے کہ ہم لوگ صفین میں تھے جب اہل شام کے مقتولین کی تعداد زیادہ بڑھنے لگی تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گئے اور حضرت عمرو بن عاص نے حضرت امیر معاویہ سے کہا کہ آپ حضرت علی کے پاس قرآن کریم کا ایک نسخہ بھیجیے اور انہیں کتاب اللہ کی دعوت دیجیے وہ آپ کی بات سے کسی صورت انکار نہیں کریں گے۔ چنانچہ حضرت علی کے پاس ایک آدمی یہ پیغام لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ثالث ہے اور یہ آیت پڑھی کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا وہ انہیں کتاب اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا زیادہ حق دارہوں ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ثالث ہے اس کے بعد خوارج جنہیں ہم اس وقت قراء کہتے تھے حضرت علی کے پاس اپنے کندھوں پر تلواریں لٹکائے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ اے امیر المومنین یہ لوگ جوٹیلے پر ہیں ان کے متعلق ہم کس چیز کا انتظار کررہے ہیں کیا ہم ان پر اپنی تلواریں لے کر حملہ نہ کردے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ اس پر حضرت سہل بن حنیف بولے اور کہنے لگے اے لوگو اپنے آپ کو ہمیشہ صحیح مت سمجھا کرو ہم نے حدیبیہ کا وہ دن بھی دیکھا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان صلح ہوئی تھی اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے اسی دوران حضرت عمر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ کیا ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر نہیں ہیں کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں وہ کہنے لگے کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں دب کر صلح کیوں کریں اور اسی طرح واپس لوٹ جائیں کہ اللہ نے ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب میں اللہ کا پیغمبر ہوں وہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا۔ حضرت عمر اسی طرح غصے کی حالت میں واپس چلے گئے اور ان سے صبر نہ ہوسکا وہ حضرت ابوبکر کے پاس پہنچے اور ان سے بھی یہی سوال وجواب ہوئے حضرت صدیق اکبر نے فرمایا وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا اس کے بعد سورت فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت عمر کے پاس بھیجا اور انہیں یہ سورت پڑھ کر سنائی حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ کیا یہ فتح ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16071

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21548

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ الْخَسْفُ وَالْقَذْفُ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس ارشاد باری تعالیٰ " و ہو القادر علی ان یبعث علیکم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ چار چیزیں ہیں اور چاروں عذاب ہیں اور سب کی سب یقینا واقع ہو کر رہیں گی چنانچہ ان میں سے دو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے صرف پچیس سال بعد ہی واقع ہو گئیں یعنی مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے سے جنگ کا مزہ چکھنے لگے اور دو رہ گئیں جو یقینا رونما ہو کر رہیں گی یعنی زمین میں دھنسنا اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہونا۔

فِي حَدِيثِهِ الْخَسْفُ وَالْقَذْفُ ← نَحْوَهُ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ ← رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21548

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16094

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْلَمُونَ مَنْ الشَّهِيدُ مِنْ أُمَّتِي فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ عُبَادَةُ سَانِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ وَزَادَ فِيهَا أَبُو الْعَوَّامِ سَادِنُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْحَرْقُ وَالسَّيْلُ

حضرت راشد بن حبیش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبادہ بن صامت کی عیادت کے لئے ان کے یہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں لوگ خاموش رہے حضرت عبادہ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے سہارادے کر بٹھادو لوگوں نے بٹھادیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ جو شخص صابر اور اس پر ثواب کی نیت رکھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں قتل ہوجانا بھی شہادت ہے طاعون میں مرجانا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہوجانا بھی اور پیٹ کی بیماری میں بھی مرناشہادت ہے اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت کا اس کا بچہ اپنے ہاتھ سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا ابوعوام نامی راوی نے اس میں بیت المقدس کے کنجی برادر جل کرمرنے والے اور سیلاب میں مرنے والوں کو بھی شامل کیا ہے۔

رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16094

chevron_left Previous
1…474849…1,290
Next chevron_right