Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحدود والجرائم

Criminal Law

25796 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21413

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ النَّاسَ بِرَأْيِهِ فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ فَقَالَ أَعْجِلْ بِهِ فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَوَقَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْيِكَ قَالَ مَا فَعَلْتُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّ عُمُومَتِكَ قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو أَيُّوبَ وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ فَالْتَفَتُّ إِلَى مَا يَقُولُ هَذَا الْفَتَى وَقَالَ زُهَيْرٌ مَا يَقُولُ هَذَا الْغُلَامُ فَقُلْتُ كُنَّا نَفْعَلُهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِهِ فَلَمْ نَغْتَسِلْ قَالَ فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنْ الْمَاءِ إِلَّا رَجُلَيْنِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَا إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ لَا عِلْمَ لِي فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ فَتَحَطَّمَ عُمَرُ يَعْنِي تَغَيَّظَ ثُمَّ قَالَ لَا يَبْلُغُنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ وَلَا يَغْسِلُ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً

حضرت رفاعہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کسی نے ان سے کہا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھ کر اس شخص کے متعلق جو اپنی بیوی سے مجامعت کرے لیکن اسے انزال نہ ہو، اپنی رائے سے لوگوں کو فتویٰ دے رہے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جلدی سے جا کر انہیں میرے پاس بلا کر لاؤ، جب وہ آگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے دشمن جان! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم مسجد نبوی میں بیٹھ کر اپنی رائے سے لوگوں کو فتویٰ دے رہے ہو؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے تو ایسا نہیں کیا بلکہ یہ بات تو میرے چچاؤں نے مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کون سا چچا؟ انہوں نے بتایا حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ ( اور حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ) حضرت عمر رضی عنہ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہ نوجوان کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے کہا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ایسا ہی کرتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا؟ میں نے جواب دیا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایسا ہی کرتے تھے (اس کا رواج عام تھا) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا اور دو آدمیوں یعنی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ وجوب غسل انزال کی صورت میں ہی ہوگا مذکورہ دونوں حضرات کا کہنا تھا کہ جب ایک شرمگاہ دوسری شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا امیرالمؤمنین اس مسئلے کا سب سے زیادہ علم ازواج مطہرات کے پاس ہو سکتا ہے لہٰذا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کروا لیجئے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ مجھے اس کے متعلق کچھ علم نہیں پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس قاصد کو بھیجا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب ایک شرمگاہ دوسری شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور فرمایا اگر مجھے پتہ چلا کہ کسی نے ایسا کیا ہے اور غسل نہیں کیا تو اسے سخت سزا دوں گا۔

زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ← مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21413

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17675

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَصْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ يَعْنِي ابْنَ خَلَفٍ أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسقلہ کی چوٹی پر تشریف فرما تھے، اور لوگوں سے اسلام اور شہادت پر بیعت لے رہے تھے، راوی نے پوچھا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے محمد بن اسود بن خلف نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اللہ پر ایمان اور اس بات کی شہادت پر بیعت لے رہے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَصْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ ← أن أباه الأسود أتى النبي يبايع الناس يوم الفتح ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17675

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17700

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ زِيَادٍ جَالِسَا فَأُتِيَ بِرَجُلٍ شَهِدَ فَغَيَّرَ شَهَادَتَهُ فَقَالَ لَأَقْطَعَنَّ لِسَانَكَ فَقَالَ لَهُ يَعْلَى أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُمَثِّلُوا بِعِبَادِي قَالَ فَتَرَكَهُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ ایک مرتبہ زیاد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، زیاد کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کوئی شہادت دی، زیاد نے اس کی گواہی کو بدل دیا اور کہنے لگا کہ میں تیری زبان کاٹ ڈالوں گا، حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث نہ سناؤں ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں کا مثلہ مت کرو، اس پر زیاد نے اسے چھوڑ دیا۔

يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17700

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24816

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَزِعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَفَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَدَدْتُ يَدِي فَوَقَعَتْ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا مُنْتَصِبَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات میں سخت خوفزدہ ہو گئی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نے ہاتھ بڑھا کر محسوس کرنے کی کوشش کی تو میرے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے ٹکرا گئے جو کھڑے تھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے، اور یہ دعا فر مارہے تھے کہ اے اللہ ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں ، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24816

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21490

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقُمْنَا جَمِيعًا فَدَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ هَذَا فَقَرَأَ قِرَاءَةً غَيْرَ قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأَا فَقَرَأَا قَالَ أَصَبْتُمَا فَلَمَّا قَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قَالَ كَبُرَ عَلَيَّ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي غَشِيَنِي ضَرَبَ فِي صَدْرِي فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَقًا فَقَالَ يَا أُبَيُّ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ

حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا ایک آدمی آیا اور اس طرح قرآن پڑھنے لگا جسے میں نہیں جانتا تھا پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں پڑھا ہم اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی مسجد میں آیا اور اس طرح قرآن پڑھا جس پر مجھے تعجب ہوا پھر یہ دوسرا آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں اسے پڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پڑھنے کے لئے فرمایا چنانچہ ان دونوں نے تلاوت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصویب فرمائی اس دن اسلام کے حوالے سے جو وسوسے میرے ذہن میں آئے کبھی ایسے وسوسے نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور میں پانی پانی ہوگیا اور یوں محسوس ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل اور میکائیل علیہم السلام آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے میں نے اپنے رب کے پاس پیغام بھیجا کہ میری امت پر آسانی فرما اس طرح ہوتے ہوتے سات حروف تک بات آگئی اور اللہ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھئے اور ہر مرتبہ کے عوض آپ مجھ سے ایک درخواست کریں میں اسے قبول کرلوں گا چنانچہ میں نے دو مرتبہ تو اپنی امت کی بخشش کی دعاء کرلی اور تیسری چیز کو اس دن کے لئے رکھ دیا جب ساری مخلوق حتٰی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میرے پاس آئیں گے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21490

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17718

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ قَالَ بَهْزٌ وَقَالَ قَبْلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا مَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللَّهِ لَتَمْلَؤُنَّهُ أَفَعَجِبْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مَصَارِعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ عَامًا وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ كَظِيظُ الزِّحَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا وَإِنِّي الْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَّقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدٍ فَأْتَزَرَ بِنِصْفِهَا وَائْتَزَرْتُ بِنِصْفِهَا فَمَا أَصْبَحَ مِنَّا أَحَدٌ الْيَوْمَ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرَ مِصْرٍ مِنْ الْأَمْصَارِ وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّى يَكُونَ عَاقِبَتُهَا مُلْكًا وَسَتَبْلُونَ أَوْ سَتَخْبُرُونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا

ایک مرتبہ حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے شروع میں اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور اما بعد کہہ کر فرمایا کہ دنیا اس بات کی خبر دے رہی ہے کہ وہ ختم ہونے والی ہے اور وہ پیٹھ پھیر کر جانے والی ہے اور اس کی بقاء اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی کسی برتن کی تری ہوتی ہے جو پینے والا چھوڑ دیتا ہے اور تم ایک ایسے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو جسے کبھی زوال نہیں آئے گا، لہذا بہترین اعمال کے ساتھ اس گھر کی طرف منتقل ہو جاؤ، کیونکہ ہمیں یہ بات بتائی گئی ہے کہ ایک پھتر جہنم کے دہانے سے لڑھکایا جائے گا تو وہ ستر سال تک گرتا جائے گا لیکن اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے گا، بخدا! اسے ضرور بھرا جائے گا، کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوتا ہے؟ اور ہمیں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ جنت کے دونوں کناروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت واقع ہے، اور اس پر بھی ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ وہ رش کی وجہ سے بھری ہوئی ہوگی، اور میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام قبول کرنے والوں میں سے ساتواں فرد تھا، اس وقت ہمارے پاس سوائے درختوں کے پتوں کے کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہمارے جبڑے چھل گئے تھے۔ ایک دن مجھے ایک چادر ملی، میں نے اسے اپنے اور سعد کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کرلیا، چنانچہ وہ نصف چادر انہوں نے تہبند کے طور پر باندھ لی اور نصف میں نے باندھ لی، اور اب ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا گورنر ہے، میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنی نظروں میں خود کو بڑا عظیم سمجھوں جبکہ میں اللہ کے نزدیک حقیر ہوں اور نبوت کا جو سلسلہ تھا، وہ اب ختم ہوگیا ہے اور اس کا انجام بادشاہت پر ہوگا اور عنقریب تم ہمارے بعد کے حکمرانوں کو آزماؤ گے۔

فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← قَبْلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← بَهْزٌ ← خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ← خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17718

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21498

حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ فَدَخَلَ رَجُلٌ آخَرُ فَصَلَّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ فَدَخَلَ هَذَا فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا فَقَرَءُوا فَقَالَ قَدْ أَحْسَنْتُمْ فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنْ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي ضَرَبَ صَدْرِي قَالَ فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَقًا فَقَالَ لِي أُبَيٌّ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ لِي اقْرَأْ عَلَى حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَرَدَّ عَلَيَّ أَنْ اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتَهَا سُؤْلَكَ أُعْطِيكَهَا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا ایک آدمی آیا اور اس طرح قرآن پڑھنے لگا جسے میں نہیں جانتا تھا پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں پڑھا ہم اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی مسجد میں آیا اور اس طرح قرآن پڑھا جس پر مجھے تعجب ہوا پھر یہ دوسرا آیا اور اس نے بھی مختلف انداز میں اسے پڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پڑھنے کے لئے فرمایا چنانچہ ان دونوں نے تلاوت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصویب فرمائی اس دن اسلام کے حوالے سے جو وسوسے میرے ذہن میں آئے کبھی ایسے وسوسے نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور میں پانی پانی ہوگیا اور یوں محسوس ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل اور میکائیل علیہم السلام آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے میں نے اپنے رب کے پاس پیغام بھیجا کہ میری امت پر آسانی فرما اس طرح ہوتے ہوتے سات حروف تک بات آگئی اور اللہ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھئے اور ہر مرتبہ کے عوض آپ مجھ سے ایک درخواست کریں میں اسے قبول کرلوں گا چنانچہ میں نے دو مرتبہ تو اپنی امت کی بخشش کی دعاء کر لی اور تیسری چیز کو اس دن کے لئے رکھ دیا جب ساری مخلوق حتٰی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میرے پاس آئیں گے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي: ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21498

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17734

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ يَقُولُ جَاءَنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا سُرَاقَةُ إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوَدَةً بِالسَّاحِلِ إِنِّي أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَالَ سُرَاقَةُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ وَلَكِنْ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقَ آنِفًا قَالَ ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً حَتَّى قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَيْتِي فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ فَخَطَطْتُ بِرُمْحِي الْأَرْضَ وَخَفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تَقَرَّبُ بِي حَتَّى رَأَيْتُ أَسْوَدَتَهُمَا فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُمْ حَيْثُ يُسْمِعُهُمْ الصَّوْتُ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدَيَّ إِلَى كِنَانَتِي فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضُرُّهُمْ أَمْ لَا فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ فَرَفَعْتُهَا تَقَرَّبُ بِي حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُمْ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدَيَّ إِلَى كِنَانَتِي فَأَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ وَرَكِبْتُ فَرَسِي فَرَفَعْتُهَا تَقَرَّبُ بِي حَتَّى إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتْ الرُّكْبَتَيْنِ فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَزَجَرْتُهَا وَنَهَضْتُ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذْ لَا أَثَرَ بِهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِثْلُ الدُّخَانِ قَالَ مَعْمَرٌ قُلْتُ لِأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ مَا الْعُثَانُ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَنَادَيْتُهُمَا بِالْأَمَانِ فَوَقَفُوا فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مَا لَقِيتُ مِنْ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِهِمْ وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَآنِي شَيْئًا وَلَمْ يَسْأَلَانِي إِلَّا أَنْ أَخْفِ عَنَّا فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ آمَنُ بِهِ فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدِيمٍ ثُمَّ مَضَى

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (میرے قبول اسلام سے پہلے ہجرت کے موقع پر) کفار قریش کے کچھ قاصد ہمارے پاس آئے اور بتایا کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو شہید یا قید کرنے والے کے لئے پوری پوری دیت (سو اونٹوں) کا اعلان کیا ہے، ابھی میں اپنی قوم بنو مدلج کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگا اے سراقہ! میں نے ابھی ساحل کی طرف کچھ لوگوں کو جاتے ہوئے دیکھا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہیں ، سراقہ کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا یہ وہی لوگ ہیں لیکن میں نے ان سے کہہ دیا کہ یہ وہ لوگ نہیں ہیں ، تم نے فلاں فلاں شخص کو دیکھا ہوگا جو ابھی ابھی یہاں سے گذر کر گئے ہیں ۔ پھر میں تھوڑی دیر تک اس مجلس میں بیٹھا رہا، اس کے بعد میں کھڑا ہوا اور گھر چلا گیا اور اپنی باندی کو حکم دیا کہ ٹیلے کے پیچھے میرا گھوڑا لے جائے اور میرا انتظار کرے، پھر میں نے اپنا نیزہ سنبھالا اور گھر سے نکل پڑا، میں اپنے نیزے سے زمین پر لکیر کھینچتا چلا جا رہا تھا کہ اپنے گھوڑے کے پاس پہنچ گیا، میں اس پر سوار ہوا اور اسے سرپٹ دوڑا دیا، میں ان کے اتنا قریب پہنچ گیا کہ ان کا جسم مجھے نظر آنے لگا۔ جب میں ان دونوں کے اتنا قریب ہوا کہ ان کی آواز سنی جا سکتی تھی تو میرا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گر پڑا اور میں بھی اس سے نیچے آپڑا، میں زمین سے اٹھا اور اپنے ترکش سے تیر نکالے اور فال نکالنے لگا کہ انہیں نقصان پہنچاؤں یا نہیں ؟ فال میں وہ تیر نکل آیا جو مجھے ناپسد تھا یعنی انہیں نقصان نہ پہنچاؤں ، لیکن میں نے تیر کی بات کو ہوا میں اڑا دیا اور دوبارہ گھوڑے پر سوار ہوگیا، لیکن دوسری مرتبہ پھر اسی طرح ہوا، تیسری مرتبہ جب میں قریب پہنچا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سنائی دینے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں نہیں دیکھ رہے تھے لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بار بار ادھر ادھر دیکھتے تھے تو میرے گھوڑے کے اگلے دونوں پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور میں گر پڑا۔ میں نے ڈانٹ کر اپنے گھوڑے کو اٹھایا، وہ اٹھ تو گیا لیکن اس کے پاؤں باہر نہیں نکل سکے، اور جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو وہاں سے دھوئیں کا ایک بادل آسمان تک چھا گیا، میں نے ایک مرتبہ پھر تیروں سے فال نکالی تو حسب سابق وہی تیر نکلا جو مجھے ناپسند تھا، یعنی انہیں نقصان نہ پہنچاؤں ، چنانچہ میں نے ان دونوں کو آواز دے کر اپنی طرف سے اطمینان دلایا، اور وہ رک گئے میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچ گیا۔ جب میرے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تو اسی وقت میرے دل میں یہ بات جاگزیں ہوگئی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین غالب آکر رہے گا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کی قوم نے آپ کے لئے دیت کا اعلان کر دیا ہے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے سفر پر نکل پڑنے اور لوگوں کی جاسوسی کے متعلق سب کچھ بتا دیا، پھر میں نے انہیں زاد راہ اور سامان سفر کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں لیا اور مجھ سے یہی مطالبہ کیا کہ میں ان کے متعلق ان تمام حالات کو مخفی رکھوں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لئے پروانہ امن لکھ دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر بن فہیرہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک رقعے میں میرے لئے پروانہ امن لکھ دیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہوگئے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17734

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17747

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَرَأَ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنْ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ

حضرت ایمن بن خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ فرمایا لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کے برابر ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات کہنے سے بچو۔

قَامَ رَسُولُ اللَّهِ خَطِيبًا ← أيمن بن خريم ← فَاتِکِ بْنِ فَضَالَةَ ← سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17747

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17807

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَاتَلَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُفْتَخِرُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ تَحْتَ عَرْشِهِ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ مُحِيَتْ ذُنُوبُهُ وَخَطَايَاهُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءُ الْخَطَايَا وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ فَإِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةَ أَبْوَابٍ وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُقْتَلَ فَإِنَّ ذَلِكَ فِي النَّارِ السَّيْفُ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قتل تین قسم کا ہوتا ہے، ایک وہ مسلمان آدمی جو اپنی جان ومال کے ساتھ اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ تو وہ شہید ہوگا جو عرش الٰہی کے نیچے اللہ کے خیمے میں فخر کرتا ہوگا اور انبیاء کو اس پر صرف درجہ نبوت کی وجہ سے فضیلت ہوگی، دوسرا وہ مسلمان آدمی جس کے نفس پر گناہوں اور لغزشوں کی گٹھڑی لدی ہوئی ہو، وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص اس لئے گناہوں اور لغزشوں سے پاک صاف ہو جائے گا کیونکہ تلوار گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور اسے جنت کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے کا اختیار دے دیا جائے گا کہ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں جن میں سے بعض دوسروں کی نسبت زیادہ افضل ہیں اور تیسرا وہ منافق آدمی جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص جہنم میں جائے گا کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔

عُتْبَةَ بْنَ عَبْدِ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي الْمُثَنَّی ← صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، ← أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17807

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17808

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قتل تین قسم کا ہوتا ہے، ایک وہ مسلمان آدمی جو اپنی جان ومال کے ساتھ اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ تو وہ شہید ہوگا جو عرش الٰہی کے نیچے اللہ کے خیمے میں فخر کرتا ہوگا اور انبیاء کو اس پر صرف درجہ نبوت کی وجہ سے فضیلت ہوگی، دوسرا وہ مسلمان آدمی جس کے نفس پر گناہوں اور لغزشوں کی گٹھڑی لدی ہوئی ہو، وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص اس لئے گناہوں اور لغزشوں سے پاک صاف ہو جائے گا کیونکہ تلوار گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور اسے جنت کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے کا اختیار دے دیا جائے گا کہ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں جن میں سے بعض دوسروں کی نسبت زیادہ افضل ہیں اور تیسرا وہ منافق آدمی جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص جہنم میں جائے گا کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔

الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُتْبَةَ بْنَ عَبْدِ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَنَّهُ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيَّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17808

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25020

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ عَامِلٌ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ أُتِيتُ بِسَارِقٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ خَالَتِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْ لَا تَعْجَلَ فِي أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ حَتَّى آتِيَكَ فَأُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مَنْ عَائِشَةَ فِي أَمْرِ السَّارِقِ قَالَ فَأَتَتْنِي وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْطَعُوا فِي رُبُعِ الدِّينَارِ وَلَا تَقْطَعُوا فِيمَا هُوَ أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ رُبُعُ الدِّينَارِ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ وَالدِّينَارُ اثْنَا عَشَرَ دِرْهَمًا قَالَ وَكَانَتْ سَرِقَتُهُ دُونَ رُبُعِ الدِّينَارِ فَلَمْ أَقْطَعْهُ

یحییٰ بن غسانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا، تو ابوبکر بن محمد بن عمرہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی جو اس زمانے میں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک چور لایا گیا تو مجھے میری خالہ عمرہ بنت عبدالرحمن نے یہ پیغام بھجوایا کہ میرے آنے تک اس شخص کے معاملے میں عجلت نہ کر، میں تمہیں آکر بتاتی ہوں کہ چور کے حوالے سے میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیا حدیث سنی ہے، چنانچہ وہ آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوتھائی دینار چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا کرو، لیکن اس سے کم میں نہ کاٹا کرو، اس زمانے میں چوتھائی دینار تین درہم کے برابر تھا، اور ایک دینار بارہ درہم کے ہو تا تھا اور اس نے جو چوری کی تھی وہ چوتھائی دینار سے کم تھی لہٰذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔

يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25020

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17933

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ حَدَّثَهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ الْوَفَاةُ بَكَى فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ لِمَ تَبْكِي أَجَزَعًا عَلَى الْمَوْتِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ وَلَكِنْ مِمَّا بَعْدُ فَقَالَ لَهُ قَدْ كُنْتَ عَلَى خَيْرٍ فَجَعَلَ يُذَكِّرُهُ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفُتُوحَهُ الشَّامَ فَقَالَ عَمْرٌو تَرَكْتَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنِّي كُنْتُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَطْبَاقٍ لَيْسَ فِيهَا طَبَقٌ إِلَّا قَدْ عَرَفْتُ نَفْسِي فِيهِ كُنْتُ أَوَّلَ شَيْءٍ كَافِرًا فَكُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ مِتُّ حِينَئِذٍ وَجَبَتْ لِي النَّارُ فَلَمَّا بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ حَيَاءً مِنْهُ فَمَا مَلَأْتُ عَيْنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَاجَعْتُهُ فِيمَا أُرِيدُ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَيَاءً مِنْهُ فَلَوْ مِتُّ يَوْمَئِذٍ قَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لِعَمْرٍو أَسْلَمَ وَكَانَ عَلَى خَيْرٍ فَمَاتَ فَرُجِيَ لَهُ الْجَنَّةُ ثُمَّ تَلَبَّسْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالسُّلْطَانِ وَأَشْيَاءَ فَلَا أَدْرِي عَلَيَّ أَمْ لِي فَإِذَا مِتُّ فَلَا تَبْكِيَنَّ عَلَيَّ وَلَا تُتْبِعْنِي مَادِحًا وَلَا نَارًا وَشُدُّوا عَلَيَّ إِزَارِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ وَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا فَإِنَّ جَنْبِيَ الْأَيْمَنَ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِالتُّرَابِ مِنْ جَنْبِي الْأَيْسَرِ وَلَا تَجْعَلَنَّ فِي قَبْرِي خَشَبَةً وَلَا حَجَرًا فَإِذَا وَارَيْتُمُونِي فَاقْعُدُوا عِنْدِي قَدْرَ نَحْرِ جَزُورٍ وَتَقْطِيعِهَا أَسْتَأْنِسْ بِكُمْ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا جب وقت آیا تو ان پر گریہ طاری ہوگیا، ان کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں روتے ہیں ؟ کیا موت سے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے؟ انہوں نے جوابا فرمایا بخدا! موت سے نہیں ، بلکہ موت کے بعد پیش آنے والے معاملات سے، صاحبزادے نے کہا کہ آپ تو خیر پر قائم رہے، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور فتوحات شام کا تذکرہ کیا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ تم نے سب سے افضل چیز تو چھوڑ ہی دی یعنی لا الہ الا اللہ کی گواہی میری تین حالتیں رہی ہیں ، اور ہر حالت میں میں اپنے متعلق جانتا ہوں ، سب سے پہلے میں کافر تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تمام لوگوں میں انتہائی سخت تھا، اگر میں اسی حال میں مرجاتا تو میرے لئے جہنم واجب ہو جاتی، جب میں نے نبی سے بیعت کی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام لوگوں کی نسبت زیادہ حیاء کرتا تھا، اسی وجہ سے میں نے نگاہیں بھر کر، کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا، اور اپنی خواہشات میں بھی کبھی انہیں جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے، اگر میں اس زمانے میں فوت ہوجاتا تو لوگ کہتے کہ عمرو کو مبارک ہو، اس نے اسلام قبول کیا، وہ خیر پر تھا، اسی حال میں فوت ہوگیا، امید ہے کہ اسے جنت نصیب ہوگی۔ پھر میں حکومت اور دوسری چیزوں میں ملوث ہوگیا، اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ میرے لئے باعث وبال ہے یا باعث ثواب، لیکن جب میں مر جاؤں تو تم مجھ پر مت رونا، کسی تعریف کرنے والے کو یا آگ کو جنازے کے ساتھ نہ لے جانا، میرا تہبند مضبوطی سے باندھ دو کہ مجھ سے جواب طلبی ہوگی، مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا اور سب طرف بکھیر دینا کیونکہ دایاں پہلو بائٰیں پہلو سے زیادہ حق نہیں رکھتا، میری قبر پر کوئی لکڑی یا پتھر نہ گاڑنا اور جب تم مجھے قبر کی مٹی میں چھپا کر فارغ ہوجاؤ تو اتنی دیر قبر پر رکنا کہ جس میں ایک اونٹ ذبح کر کے اس کے ٹکڑے بنا لئے جائیں تاکہ میں تم سے انس حاصل کر سکوں ۔

لما حضرت عمرو بن العاص الوفاة بكى ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17933

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17950

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ قَالَ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُصَبِّحٍ أَوْ ابْنَ مُصَبِّحٍ شَكَّ أَبُو بَكْرٍ عَنِ ابْنِ السِّمْطِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ قَالَ فَمَا تَحَوَّزَ لَهُ عَنْ فِرَاشِهِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي قَالُوا قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ قَالَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جَمْعَاءَ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گئے، ابھی ان کے بستر سے جدا نہیں ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میری امت کے شہداء کون ہیں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ مسلمان کا میدان جنگ میں قتل ہونا شہادت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے، مسلمان کا قتل ہونا بھی شہادت ہے، طاعون میں مرنا بھی شہادت ہے، اور وہ عورت بھی شہید ہے جسے اس کا بچہ مار دے (یعنی حالت نفاس میں پیدائش کی تکلیف برداشت نہ کر سکنے والی وہ عورت جو اس دوران فوت ہوجائے) ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← ابْنِ السِّمْطِ ← أَبَا مُصَبِّحٍ أَوْ ابْنَ مُصَبِّحٍ شَكَّ أَبُو بَكْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17950

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17972

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ عَن مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ قَالَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ مَوْتِ الْفَجْأَةِ وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ وَمِنْ السَّبُعِ وَمِنْ الْغَرَقِ وَمِنْ الْحَرْقِ وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَمِنْ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات قسم کی موت سے پناہ مانگی ہے، ناگہانی موت، سانپ کے ڈسنے سے، درندے کے حملے سے، ڈوب کر مرنے سے، جل کر مرنے سے، کسی چیز پر گرنے سے، کسی چیز کے گرنے سے، اور میدان جنگ سے بھاگتے ہوئے مرنے سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← النَّبِيِّ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو قَبِيلٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17972

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18110

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ قَالَ وَكِيعٌ عِرْضُهُ شِكَايَتُهُ وَعُقُوبَتُهُ حَبْسُهُ

حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی شکایت اور اسے قید کرنے کو حلال کر دیتا ہے۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ← وَبَرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18110

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18117

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ بِذِرَاعِهِ فَاجْتَبَذَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَذَهَبَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ يَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لَا دِيَةَ لَكَ قَالَ فَأَطَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَبْطَلَهَا

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، راستے میں میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گر گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔

عَمَّيْهِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ ← صَفْوَانَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ صَفْوَانَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18117

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18149

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ عَن أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ عَامِلًا عَلَى الْيَمَامَةِ وَأَنَّ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَيُّمَا رَجُلٍ سُرِقَ مِنْهُ سَرِقَةٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ حَيْثُ وَجَدَهَا قَالَ فَكَتَبْتُ إِلَى مَرْوَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّهُ إِذَا كَانَ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنْ الَّذِي سَرَقَهَا غَيْرَ مُتَّهَمٍ خُيِّرَ سَيِّدُهَا فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الَّذِي سُرِقَ مِنْهُ بِالثَّمَنِ وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ قَالَ وَقَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ یمامہ کے گورنر تھے، ایک مرتبہ مروان نے ان کے پاس خط لکھا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے خط لکھا ہے جس آدمی کی کوئی چیز چوری ہوجائے تو اس کی قیمت کا وہی سب سے زیادہ حقدار ہے خواہ جہاں سے بھی وہ ملے، میں نے مروان کو جواب میں لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فیصلہ فرمایا ہے جس شخص نے چور سے کوئی چیز خریدی اور وہ شخص خود متہم نہیں ہے، تو اس کے مال کو اختیار ہوگا، چاہے تو اپنی مسروقہ چیز قیمت دے کر خرید لے اور چاہے تو چور کا پیچھا کرے اور یہی فیصلہ حضرات خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔

فَكَتَبْتُ إِلَى مَرْوَانَ ← إِلَيْهِ أَيُّمَا رَجُلٍ سُرِقَ مِنْهُ سَرِقَةٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ حَيْثُ وَجَدَهَا ← إِلَيْهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ ← أَنَّهُ كَانَ عَامِلًا عَلَى الْيَمَامَةِ وَأَنَّ مَرْوَانَ ← أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18149

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18208

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنْ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ

حضرت ایمن بن خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ فرمایا لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کے برابر ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات کہنے سے بچو۔

اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنْ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ← يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ ثَلَاثًا ثُمَّ ← قَامَ رَسُولُ اللَّهِ خَطِيبًا ← أيمن بن خريم ← فَاتِکِ بْنِ فَضَالَةَ ← سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ، ← مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18208

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18318

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ وَبِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی ، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ توٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یاباندی ہے۔

عُبَيْدِ بْنِ نُضِيلَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18318

chevron_left Previous
1…454647…1,290
Next chevron_right