Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحدود والجرائم

Criminal Law

25796 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7940

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسِّ الْقَرْصَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہید کو شہادت کی وجہ سے اتنی بھی تکلیف محسوس نہیں ہوتی جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ؛

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7940

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7948

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں صبح وشام پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا یوں کہہ لیا کرو کہ اے اللہ اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جاننے والے ہر چیز کے پالنہار اور مالک میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہوسکتا میں اپنی ذات کے شر شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں یہ کلمات صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت کہہ لیا کرو۔

بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إذَا أَصْبَحْت وَإِذَا أَمْسَيْت ← لِلنَّبِيِّ ← النَّبِيِّ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7948

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8004

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُطْبَةُ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس خطبے میں تو حید ورسالت کی گواہی نہ ہو وہ جذام کے مارے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8004

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16491

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ لَمَّا بَعَثَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ إِلَى مَكَّةَ بَعْثَهُ يَغْزُو ابْنَ الزُّبَيْرِ أَتَاهُ أَبُو شُرَيْحٍ فَكَلَّمَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى نَادِي قَوْمِهِ فَجَلَسَ فِيهِ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَ قَوْمَهُ كَمَا حَدَّثَ عَمْرَو بْنَ سَعِيدٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّا قَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُلْتُ هَذَا إِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ عَدَتْ خُزَاعَةُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَتَلُوهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهِيَ حَرَامٌ مِنْ حَرَامِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا لَمْ تَحْلِلْ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ يَكُونُ بَعْدِي وَلَمْ تَحْلِلْ لِي إِلَّا هَذِهِ السَّاعَةَ غَضَبًا عَلَى أَهْلِهَا أَلَا ثُمَّ قَدْ رَجَعَتْ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ أَلَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ فَمَنْ قَالَ لَكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَاتَلَ بِهَا فَقُولُوا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّهَا لِرَسُولِهِ وَلَمْ يُحْلِلْهَا لَكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ وَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ عَنْ الْقَتْلِ فَقَدْ كَثُرَ أَنْ يَقَعَ لَئِنْ قَتَلْتُمْ قَتِيلًا لَأَدِيَنَّهُ فَمَنْ قُتِلَ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا فَأَهْلُهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءُوا فَدَمُ قَاتِلِهِ وَإِنْ شَاءُوا فَعَقْلُهُ ثُمَّ وَدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ الَّذِي قَتَلَتْهُ خُزَاعَةُ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ لِأَبِي شُرَيْحٍ انْصَرِفْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَنَحْنُ أَعْلَمُ بِحُرْمَتِهَا مِنْكَ إِنَّهَا لَا تَمْنَعُ سَافِكَ دَمٍ وَلَا خَالِعَ طَاعَةٍ وَلَا مَانِعَ جِزْيَةٍ قَالَ فَقُلْتُ قَدْ كُنْتُ شَاهِدًا وَكُنْتَ غَائِبًا وَقَدْ بَلَّغْتُ وَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَلِّغَ شَاهِدُنَا غَائِبَنَا وَقَدْ بَلَّغْتُكَ فَأَنْتَ وَشَأْنُكَ

ضرت ابوشریح سے مروی ہے کہ جب عمرو بن سعید نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے مقابلے کے لئے مکہ کی طرف اپنالشکر روانہ کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اس کے پاس گئے اور اس سے بات کی اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے متعلق بتایا پھر اپنی قوم کی مجلس میں آکر بیٹھ گئے میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور پھر عمرو بن سعید کا جواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اس سے کہا کہ اے فلاں ۔ فتح مکہ کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے فتح مکہ کے اگلے دن بنوخزاعہ نے بنو ہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کرکے اسے قتل کر دیا وہ مقتول مشرک تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ لوگو اللہ نے جس دن زمین و آسمان کو پیدا فرمایا تھا اسی دن مکہ کو حرم قرار دیا تھا لہذا وہ قیامت تک حرم ہی رہے گا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کسی آدمی کے لئے اس میں خون ریزی کرنا اور درخت کاٹنا جائز نہیں ہے یہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا اور میرے لئے بھی صرف اس مختصر وقت کے لئے حلال تھا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں پر اللہ کاغضب تھا یاد رکھو کہ اب اس کی حرمت لوٹ کر کل کی طرح ہوچکی ہے یادر کھوتم میں سے جو لوگ موجود ہیں وہ غائبین تک پہنچادیں اور جو شخص تم سے یہ کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو مکہ میں قتال کیا تھا تو کہہ دینا کہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اسے حلال کیا تھا تمہارے لئے نہیں کیا اے گروہ خزاعہ اب قتل سے اپنے ہاتھ اٹھالو کہ بہت ہوچکا ہے اس سے پہلے تم نے جس شخص کو قتل کیا ہے میں اس کی دیت دے دوں گا لیکن اس جگہ پر میرے کھڑے ہونے کے بعد جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو مقتول کے ورثا کو دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا۔ یاتوقاتل سے قصاص لے لیں یا پھر دیت لے لیں اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی دیت ادا کردی جسے بنوخزاعہ نے قتل کردیا تھا ۔ یہ حدیث سن کر عمرو بن سعید نے حضرت ابوشریح سے کہا بڑے میاں آپ واپس چلے جائیں ہم اس کی حرمت آپ سے زیادہ جانتے ہیں یہ حرمت کسی خون ریزی کرنے والے اطاعت چھوڑنے والے اور جزیہ روکنے والے کی حفاظت نہیں کر سکتی میں نے اس سے کہا کہ میں اس موقع پر موجود تھا تم غائب تھے اور ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غائبین تک اسے پہنچانے کا حکم دیا تھا سو میں نے یہ حکم پہنچادیا اب تم جانو اور تمہاراکام جانے۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16491

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16601

قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ إِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ سُلَيْمَانَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَجْلِدُوا فَوْقَ عَشَرَةَ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَذَا قَالَ لَنَا فِيهِ قَالَ أَبِي وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَيْهِ يَعْنِي الْحَدِيثَ يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔

عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16601

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16654

قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا أَنَا وَرَبَاحٌ غُلَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْتُ بِفَرَسٍ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أُبْدِيَهُ مَعَ الْإِبِلِ فَلَمَّا كَانَ بِغَلَسٍ غَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتَلَ رَاعِيَهَا وَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ اقْعُدْ عَلَى هَذَا الْفَرَسِ فَأَلْحِقْهُ بِطَلْحَةَ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدْ أُغِيرَ عَلَى سَرْحِهِ قَالَ وَقُمْتُ عَلَى تَلٍّ فَجَعَلْتُ وَجْهِي مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ مَعِي سَيْفِي وَنَبْلِي فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ وَذَلِكَ حِينَ يَكْثُرُ الشَّجَرُ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ لَهُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَمَيْتُ فَلَا يُقْبِلُ عَلَيَّ فَارِسٌ إِلَّا عَقَرْتُ بِهِ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَنَا أَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ فَأَرْمِيهِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَيَقَعُ سَهْمِي فِي الرَّحْلِ حَتَّى انْتَظَمْتُ كَتِفَهُ فَقُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَإِذَا كُنْتُ فِي الشَّجَرِ أَحْرَقْتُهُمْ بِالنَّبْلِ فَإِذَا تَضَايَقَتْ الثَّنَايَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَرَدَيْتُهُمْ بِالْحِجَارَةِ فَمَا زَالَ ذَاكَ شَأْنِي وَشَأْنَهُمْ أَتْبَعُهُمْ فَأَرْتَجِزُ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي فَاسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ لَمْ أَزَلْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ رُمْحًا وَأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا وَلَا يُلْقُونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ حِجَارَةً وَجَمَعْتُ عَلَى طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا امْتَدَّ الضُّحَى أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ مَدَدًا لَهُمْ وَهُمْ فِي ثَنِيَّةٍ ضَيِّقَةٍ ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَأَنَا فَوْقَهُمْ فَقَالَ عُيَيْنَةُ مَا هَذَا الَّذِي أَرَى قَالُوا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ مَا فَارَقَنَا بِسَحَرٍ حَتَّى الْآنَ وَأَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ فِي أَيْدِينَا وَجَعَلَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ قَالَ عُيَيْنَةُ لَوْلَا أَنَّ هَذَا يَرَى أَنَّ وَرَاءَهُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَكَكُمْ لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ فَقَامَ إِلَيْهِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ الصَّوْتَ قُلْتُ أَتَعْرِفُونِي قَالُوا وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْلُبُنِي مِنْكُمْ رَجُلٌ فَيُدْرِكُنِي وَلَا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِنْ أَظُنُّ قَالَ فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِي ذَلِكَ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ وَإِذَا أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ وَعَلَى أَثَرِهِ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَثَرِ أَبِي قَتَادَةَ الْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ فَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ مُدْبِرِينَ وَأَنْزِلُ مِنْ الْجَبَلِ فَأَعْرِضُ لِلْأَخْرَمِ فَآخُذُ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فَقُلْتُ يَا أَخْرَمُ ائْذَنْ الْقَوْمَ يَعْنِي احْذَرْهُمْ فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَقْطَعُوكَ فَاتَّئِدْ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ يَا سَلَمَةُ إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ قَالَ فَخَلَّيْتُ عِنَانَ فَرَسِهِ فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ فَرَسِ الْأَخْرَمِ فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ ثُمَّ إِنِّي خَرَجْتُ أَعْدُو فِي أَثَرِ الْقَوْمِ حَتَّى مَا أَرَى مِنْ غُبَارِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيُعْرِضُونَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ ذُو قَرَدٍ فَأَرَادُوا أَنْ يَشْرَبُوا مِنْهُ فَأَبْصَرُونِي أَعْدُو وَرَاءَهُمْ فَعَطَفُوا عَنْهُ وَاشْتَدُّوا فِي الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ ذِي بِئْرٍ وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَأَلْحَقُ رَجُلًا فَأَرْمِيهِ فَقُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَقَالَ يَا ثُكْلَ أُمِّ أَكْوَعَ بَكْرَةً قُلْتُ نَعَمْ أَيْ عَدُوَّ نَفْسِهِ وَكَانَ الَّذِي رَمَيْتُهُ بَكْرَةً فَأَتْبَعْتُهُ سَهْمًا آخَرَ فَعَلِقَ بِهِ سَهْمَانِ وَيَخْلُفُونَ فَرَسَيْنِ فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُوْ قَرَدٍ فَإِذَا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسِ مِائَةٍ وَإِذَا بِلَالٌ قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ فَهُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلِّنِي فَأَنْتَخِبَ مِنْ أَصْحَابِكَ مِائَةً فَآخُذَ عَلَى الْكُفَّارِ عَشْوَةً فَلَا يَبْقَى مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ قَالَ أَكُنْتَ فَاعِلًا ذَلِكَ يَا سَلَمَةُ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ فِي ضُوءِ النَّارِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمْ يُقْرَوْنَ الْآنَ بِأَرْضِ غَطَفَانَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ مَرُّوا عَلَى فُلَانٍ الْغَطَفَانِيِّ فَنَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا قَالَ فَلَمَّا أَخَذُوا يَكْشِطُونَ جِلْدَهَا رَأَوْا غَبَرَةً فَتَرَكُوهَا وَخَرَجُوا هَرَبًا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهَا قَرِيبًا مِنْ ضَحْوَةٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ لَا يُسْبَقُ جَعَلَ يُنَادِي هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ أَلَا رَجُلٌ يُسَابِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَعَادَ ذَلِكَ مِرَارًا وَأَنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْدِفِي قُلْتُ لَهُ أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لَا إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي خَلِّنِي فَلَأُسَابِقُ الرَّجُلَ قَالَ إِنْ شِئْتَ قُلْتُ أَذْهَبُ إِلَيْكَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ عَنْ النَّاقَةِ ثُمَّ إِنِّي رَبَطْتُ عَلَيْهَا شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ يَعْنِي اسْتَبْقَيْتُ نَفْسِي ثُمَّ إِنِّي عَدَوْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ فَأَصُكَّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِيَدَيَّ قُلْتُ سَبَقْتُكَ وَاللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَضَحِكَ وَقَالَ إِنْ أَظُنُّ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے، میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رباح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روانہ ہوئے، میں حضرت طلحۃ بن عبیداللہ کا گھوڑا لے کر نکلا، ارادہ یہ تھا کہ اسے اونٹ کے ساتھ شامل کر دوں گا، لیکن منہ اندھیرے عبدالرحمن بن عیینہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کیا اور چرواہے کو قتل کردیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہو کر ان اونٹوں کو بھگا کر لے گیا، حضرت سلمہ کہتے ہیں میں نے کہا اے رباح! یہ گھوڑا پکڑ اور اسے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو پہنچا دے اور رسول اللہ کو خبر دے کہ مشرکوں نے آپ کے اونٹوں کو لوٹ لیا ہے، پھر میں ایک ٹیلے پر کھڑا ہوا اور میں نے اپنا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر کے بہت بلند آواز سے پکارا، 'یا صباحاہ' پھر (اس کے بعد) میں ان لٹیروں کے پیچھے ان کو تیر مارتا ہوا اور رجز پڑھتے ہوئے نکلا : میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں ان کو لگاتار تیر مارتا رہا اور ان کو زخمی کرتا رہا تو جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف لوٹتا تو میں درخت کے نیچے آکر اس درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر میں اس کو ایک تیر مارتا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو جاتا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ پہاڑ کے تنگ راستہ میں گھسے اور میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں سے میں نے ان کو پتھر مارنے شروع کردیئے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں لگاتار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ کوئی اونٹ جو اللہ نے پیدا کیا اور وہ رسول اللہ کی سواری کا ہو ایسا نہیں ہوا کہ جسے میں نے اپنی پشت کے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر ان کے پیچھے تیر پھینکے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ہلکا ہونے کی خاطر تیس چادریں اور تیس نیزوں سے زیادہ پھینک دیئے، سوائے اس کے کہ وہ لوگ جو چیز بھی پھینکتے میں پتھروں سے میل کی طرح اس پر نشان ڈال دیتا کہ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ پہچان لیں یہاں تک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی پر آگئے اور عیینہ بن بدر فزاری بھی ان کے پاس آگیا، سب لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور میں پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ گیا، فزاری کہنے لگا کہ یہ کون آدمی ہمیں دیکھ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا : اس آدمی نے ہمیں بڑا تنگ کر رکھا ہے، اللہ کی قسم! اندھیری رات سے ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے سب کچھ چھین لیا ہے۔ فزاری کہنے لگا کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف کھڑے ہوں اور اسے ماردیں ، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ (یہ سنتے ہیں ) ان میں سے چار آدمی میری طرف پہاڑ پر چڑھے تو جب وہ اتنی دور تک پہنچ گئے جہاں میری بات سن سکیں ، تو میں نے ان سے کہا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے کہا تم کون ہو؟ میں نے جواب میں کہا : میں سلمہ بن اکوع ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں تم میں سے جسے چاہوں ماردو اور تم میں سے کوئی مجھے مار نہیں سکتا، ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ ہاں لگتا تو ایسے ہی ہے، (پھر وہ سب وہاں سے لوٹ پڑے اور) میں ابھی تک اپنی جگہ سے چلا نہیں تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھ لیا جو کہ درختوں میں گھس گئے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سب سے آگے حضرت اخرم اسدی تھے اور ان کے پیچھے حضرت ابوقتاد تھے اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسود کندی تھے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے جا کر اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی (یہ دیکھتے ہی) وہ لٹیرے بھاگ پڑے، میں نے کہا اے اخرم ان سے ذرا بچ کے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں مار ڈالیں جب تک کہ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ نہ آجائیں ، اخرم کہنے لگے اے ابوسلمہ! اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو تم میرے اور میری شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ ڈالو، میں نے ان کو چھوڑ دیا اور پھر اخرم کا مقابلہ عبدالرحمن فزاری سے ہوا، اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کردیا اور عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ اسی دوران رسول اللہ کے شہسوار حضرت ابوقتادہ آگئے (جب انہوں نے یہ منظر دیکھا) تو حضرت ابوقتادہ نے عبدالرحمن فزاری کو بھی برچھی مار کر قتل کردیا میں ان کے تعاقب میں لگا رہا اور میں اپنے پاؤں سے ایسے بھاگ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ان کا گردو غبار، یہاں تک کہ وہ لٹیرے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی کی طرف آئے جس میں پانی تھا، اس گھاٹی کو ذی قرد کہا جاتا تھا تاکہ وہ لوگ اس گھاٹی سے پانی پئیں کیوکہ وہ پیاسے تھے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا اور میں ان کے پیچھے دوڑتا ہو اچلا آرہا تھا، بالآخر میں نے ان کو پانی سے ہٹایا، وہ اس سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے، پر وہ کسی اور گھاٹی کی طرف نکلے، میں بھی ان کے پیچھے بھاگا اور ان میں سے ایک آدمی کو پا کر میں نے اس کے شانے کی ہڈی میں ایک تیر مارا، میں نے کہا پکڑ اس کو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے، وہ کہنے لگا اس کی ماں اس پر روئے کیا یہ وہی اکوع تو نہیں جو صبح کو میرے ساتھ تھا، میں نے کہا : ہاں ! اے اپنی جان کے دشمن جو صبح کے وقت تیرے ساتھ تھا، اور اسے ایک تیرے دے مارا ، پھر انہوں نے دو گھوڑے ایک گھاٹی پر چھوڑ دیئے تو میں ان دونوں گھوڑوں کو ہنکا کر رسول اللہ کی طرف لے آیا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ وہاں عامر سے میری ملاقات ہوئی، ان کے پاس ایک چھاگل (چمڑے کا توشہ دان) تھا جس میں دودھ تھا اور ایک مشکیزے میں پان تھا، پانی سے میں نے وضو کیا اور دودھ پی لیا پھر میں رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور آپ اسی پانی والی جگہ پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگادیا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ نے وہ اونٹ اور وہ تمام چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھین لی تھیں اور سب نیزے اور چادریں لے لیں اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں جو میں نے لٹیروں سے چھینے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ کے لئے بھونا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نےعرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں لشکر میں سو آدمیوں کا انتخاب کروں اور پھر میں ان لٹیروں کا مقابلہ کروں اور جب تک میں ان کو قتل نہ کر ڈالوں اس وقت تک نہ چھوڑوں کہ وہ جا کر اپنی قوم کو خبر دیں ، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر رسول اللہ ہنس پڑے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں ، آپ نے فرمایا : اے سلمہ! کیا تو یہ کر سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بزرگی عطا فرمائی، آپ نے فرمایا: اب تو وہ غطفان کے علاقہ میں ہوں گے اسی دوران علاقہ غطفان سے ایک آدمی آیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں آدمی نے ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ابھی اس اونٹ کی کھال ہی اتار پائے تھے کہ انہوں نے کچھ غبار دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ لوگ آگئے وہ لوگ وہاں (غطفان) سے بھی بھاگ کھڑے ہوئے تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ نے فرمایا کہ آج کے دن ہمارے بہترین سواروں میں سے بہتر سوار حضرت قتادہ ہیں پیادوں میں سے بہتر حضرت سلمہ ہیں ۔ پھر رسول اللہ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے اور ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ اور دونوں حصے اکٹھے مجھے عطا فرمائے پھر رسول اللہ نے عضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور ہم سب مدینہ منورہ واپس آگئے۔ دوران سفر انصار کا ایک آدمی جس سے دوڑنے میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا، وہ کہنے لگا، کیا کوئی مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگانے والا ہے؟ وہ بار بار یہی کہتا رہا، جب میں نے اس کا چیلنج سنا تو میں نے کہا، کیا تجھے کسی بزرگ کی بزرگی کا لحاظ نہیں اور کیا تو کسی بزرگ سے ڈرتا نہیں ؟ اس انصاری شخص نے کہا، نہیں سوائے رسول اللہ کے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، مجھے اجازت عطا فرمائی تاکہ میں اس آدمی سے دوڑ لگاؤں ، آپ نے فرمایا : (اچھا) اگر تو چاہتا ہے، تو حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے اس انصاری سے کہا کہ میں تیری طرف آتا ہوں اور میں نے اپنا پاؤں ٹیڑھا کیا پھر میں کود پڑا اور دوڑنے لگا اور پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو میں نے سانس لیا پھر میں اس کے پیچھے دوڑا پھر جب ایک یا دو چڑھا باقی رہ گئی تو پھر میں نے سانس لیا پھر میں دوڑا یہاں تک کہ اس انصاری سے جا کر مل گیا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک گھونسا مارا اور میں نے کہا، اللہ کی قسم! میں آگے بڑھ گیا اور پھر اس سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا، اس پر وہ ہنس پڑا کہنے لگا کہ میں بھی یہی سمجھتا ہوں ، حتی کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16654

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16813

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ مَوْلًى لِآلِ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَقِيلَ لِي فِي هَذِهِ الْكَنِيسَةِ رَسُولُ قَيْصَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَدَخَلْنَا الْكَنِيسَةَ فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ كَبِيرٍ فَقُلْتُ لَهُ أَنْتَ رَسُولُ قَيْصَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ حَدِّثْنِي عَنْ ذَلِكَ قَالَ إِنَّهُ لَمَّا غَزَا تَبُوكَ كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ كِتَابًا وَبَعَثَ بِهِ مَعَ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ دِحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ فَلَمَّا قَرَأَ كِتَابَهُ وَضَعَهُ مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ وَبَعَثَ إِلَى بَطَارِقَتِهِ وَرُءُوسِ أَصْحَابِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ بَعَثَ إِلَيْكُمْ رَسُولًا وَكَتَبَ إِلَيْكُمْ كِتَابًا يُخَيِّرُكُمْ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تَتَّبِعُوهُ عَلَى دِينِهِ أَوْ تُقِرُّوا لَهُ بِخَرَاجٍ يَجْرِي لَهُ عَلَيْكُمْ وَيُقِرَّكُمْ عَلَى هَيْئَتِكُمْ فِي بِلَادِكُمْ أَوْ أَنْ تُلْقُوا إِلَيْهِ بِالْحَرْبِ قَالَ فَنَخَرُوا نَخْرَةً حَتَّى خَرَجَ بَعْضُهُمْ مِنْ بَرَانِسِهِمْ وَقَالُوا لَا نَتَّبِعُهُ عَلَى دِينِهِ وَنَدَعُ دِينَنَا وَدِينَ آبَائِنَا وَلَا نُقِرُّ لَهُ بِخَرَاجٍ يَجْرِي لَهُ عَلَيْنَا وَلَكِنْ نُلْقِي إِلَيْهِ الْحَرْبَ فَقَالَ قَدْ كَانَ ذَاكَ وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَفْتَاتَ دُونَكُمْ بِأَمْرٍ قَالَ عَبَّادٌ فَقُلْتُ لِابْنِ خُثَيْمٍ أَوَلَيْسَ قَدْ كَانَ قَارَبَ وَهَمَّ بِالْإِسْلَامِ فِيمَا بَلَغَنَا قَالَ بَلَى لَوْلَا أَنَّهُ رَأَى مِنْهُمْ قَالَ فَقَالَ ابْغُونِي رَجُلًا مِنْ الْعَرَبِ أَكْتُبْ مَعَهُ إِلَيْهِ جَوَابَ كِتَابِهِ قَالَ فَأَتَيْتُ وَأَنَا شَابٌّ فَانْطُلِقَ بِي إِلَيْهِ فَكَتَبَ جَوَابَهُ وَقَالَ لِي مَهْمَا نَسِيتَ مِنْ شَيْءٍ فَاحْفَظْ عَنِّي ثَلَاثَ خِلَالٍ انْظُرْ إِذَا هُوَ قَرَأَ كِتَابِي هَلْ يَذْكُرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَهَلْ يَذْكُرُ كِتَابَهُ إِلَيَّ وَانْظُرْ هَلْ تَرَى فِي ظَهْرِهِ عَلَمًا قَالَ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ وَهُوَ بِتَبُوكَ فِي حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ مُحْتَبِينَ فَسَأَلْتُ فَأُخْبِرْتُ بِهِ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ الْكِتَابَ فَدَعَا مُعَاوِيَةَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَلَمَّا أَتَى عَلَى قَوْلِهِ دَعَوْتَنِي إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ فَأَيْنَ النَّارُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ فَأَيْنَ النَّهَارُ قَالَ فَقَالَ إِنِّي قَدْ كَتَبْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَخَرَّقَهُ فَخَرَّقَهُ اللَّهُ مُخَرَّقَ الْمُلْكِ قَالَ عَبَّادٌ فَقُلْتُ لِابْنِ خُثَيْمٍ أَلَيْسَ قَدْ أَسْلَمَ النَّجَاشِيُّ وَنَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ قَالَ بَلَى ذَاكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَهَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَدْ ذَكَرَهُمْ ابْنُ خُثَيْمٍ جَمِيعًا وَنَسِيتُهُمَا وَكَتَبْتُ إِلَى كِسْرَى كِتَابًا فَمَزَّقَهُ فَمَزَّقَهُ اللَّهُ تَمْزِيقَ الْمُلْكِ وَكَتَبْتُ إِلَى قَيْصَرَ كِتَابًا فَأَجَابَنِي فِيهِ فَلَمْ تَزَلْ النَّاسُ يَخْشَوْنَ مِنْهُمْ بَأْسًا مَا كَانَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ ثُمَّ قَالَ لِي مَنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ تَنُوخٍ قَالَ يَا أَخَا تَنُوخٍ هَلْ لَكَ فِي الْإِسْلَامِ قُلْتُ لَا إِنِّي أَقْبَلْتُ مِنْ قِبَلِ قَوْمٍ وَأَنَا فِيهِمْ عَلَى دِينٍ وَلَسْتُ مُسْتَبْدِلًا بِدِينِهِمْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِمْ قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَبَسَّمَ فَلَمَّا قَضَيْتُ حَاجَتِي قُمْتُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ يَا أَخَا تَنُوخٍ هَلُمَّ فَامْضِ لِلَّذِي أُمِرْتَ بِهِ قَالَ وَكُنْتُ قَدْ نَسِيتُهَا فَاسْتَدَرْتُ مِنْ وَرَاءِ الْحَلْقَةِ وَيَلْقَى بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيْهِ عَنْ ظَهْرِهِ فَرَأَيْتُ غُضْرُوفَ كَتِفِهِ مِثْلَ الْمِحْجَمِ الضَّخْمِ ُ

سعید بن ابوراشد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہرقل کے ایلچی بن کر آئے تھے، وہ میرے پڑوسی تھے، انتہائی بوڑھے ہوچکے تھے اور سٹھیا جانے کی عمر تک پہنچ چکے تھے، میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہرقل کے خط اور ہرقل کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے بارے کچھ بتاتے کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں تشریف لائے ہوئے تھے، آپ نے حضرت دحیہ کلبی کو ہرقل کے پاس بھیجا، جب ہرقل کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط پہنچا تو اس نے رومی پادریوں اور سرداروں کو جمع کیا اور کمرے کا دروازہ بند کرلیا، اور ان سے کہنے لگا کہ یہ آدمی میرے پاس آیا ہے جیسا کہ تم نے دیکھ ہی لیا ہے، مجھے جو خط بھیجا گیا ہے، اس میں مجھے تین میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے، یا تو میں ان کے دین کی پیروی کر لوں یا انہیں زمین پر مال کی صورت میں ٹیکس دوں اور زمین ہمارے پاس ہی رہے، یا پھر ان سے جنگ کروں ، اللہ کی قسم! آپ لوگ جو کتابیں پڑھتے ہو، ان کی روشنی میں آپ جانتے ہو کہ وہ میرے ان قدموں کے نیچے کی جگہ بھی حاصل کر لیں گے، تو کیوں نہ ہم ان کے دین کی پیروی کرلیں یا اپنی زمین کا مال کی صورت میں ٹیکس دے دیا کریں ۔ یہ سن کر ان سب کے نرخروں سے ایک جیسی آواز نکلنے لگی، حتی کہ انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتاردیں اور کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں عیسائیت چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہیں یا یہ کہ ہم کسی دیہاتی کے جو حجاز سے آیا ہے، غلام بن جائیں ، جب ہرقل نے دیکھا کہ اگر یہ لوگ اس کے پاس سے اسی حال میں چلے گئے تو وہ پورے روم میں اس کے خلاف فساد برپا کردیں گے تو اس نے فورا پینترا بدل کر کہا کہ میں نے تو یہ بات محض اس لئے کہی تھی کہ اپنے دین پر تمہارا جماؤ اور مضبوطی دیکھ سکوں ۔ پھر اس نے عرب تجیب کے ایک آدمی کو جو نصار عرب پر امیر مقرر تھا، بلایا اور کہا کہ میرے پاس ایسے آدمی کو بلا کر لاؤ جو حافظہ کا قوی ہو اور عربی زبان جانتاہو، تاکہ میں اسے اس شخص کی طرف اس کے خط کا جواب دے کر بھیجوں ، وہ مجھے بلا لایا، ہرقل نے اپنا خط میرے حوالے کردیا اور کہنے لگا کہ میرا یہ خط اس شخص کے پاس لے جاؤ، اگر اس کی ساری باتیں تم یاد نہ رکھ سکو تو کم از کم تین چیزیں ضرور یاد رکھ لینا، یہ دیکھنا کہ وہ میری طرف بھیجے ہوئے اپنے خط کا کوئی ذکر کرتے ہیں یا نہیں ؟ یہ دیکھنا کہ جب وہ میرا خط پڑھتے ہیں تورات کا ذکر کرتے ہیں یا نہیں ؟ اور ان کی پشت پر دیکھنا، تمہیں کوئی عجیب چیز دکھائی دیتی ہے یا نہیں؟ میں ہرقل کا خط لے کر روانہ ہو اور تبوک پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان پانی کے قریبی علاقے میں اپنی ٹانگوں کے گرد ہاتھوں سے حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں ؟ انہوں نے مجھے اشارہ سے بتادیا، میں چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، انہیں خط پکڑایا جسے انہوں نے اپنی گود میں رکھ لیاور اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے کہا کہ میں ایک تنوخی آدمی ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں ملت حنیفیہ اسلام جو تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے میں کوئی رغبت محسوس ہوتی ہے؟ میں نے کہا میں ایک قوم کا قاصد ہوں اور ایک قوم کے دین پر ہوں ، میں جب تک ان کے پاس لوٹ نہ جاؤں اس دین سے برگشتہ نہیں ہوسکتا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر یہ آیت پڑھنے لگے کہ ، جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ اللہ جسے چاہتا ہے، ہدایت دے دیتا ہے، اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو زیادہ جانتا ہے۔ اے تنوخی بھائی! میں نے ایک خط کسری کی طرف لکھا تھا، اس نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا، اللہ اسے اور اس کی حکومت کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کردے گا، میں نے نجاشی کی طرف بھی خط لکھا تھا، اس نے اسے پھاڑ دیا، اللہ اسے اور اس کی حکومت کو توڑ پھوڑ دے گا، میں نے تمہارے بادشاہ کو بھی خط لکھا لیکن اس نے اسے محفوظ کرلیا، لہذا جب تک زندگی میں کوئی خیر رہے گی، لوگوں پر اس کا رعب ودبدبہ باقی رہے گا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ تین میں سے پہلی بات ہے جس کی مجھے بادشاہ نے وصیت کی تھی، چنانچہ میں اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس سے اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات لکھ لی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خط اپنی بائیں جانب بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو دے دیا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خط پڑھنے والے صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں ، بہرحال! ہمارے بادشاہ کے خط میں لکھا ہوا تھا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دیتے ہیں جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے جو متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے، تو جہنم کہاں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! جب دن آتا ہے تو رات کہاں جاتی ہے؟ میں نے اپنے ترکش سے تیر نکال کر اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات بھی لکھ لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خط پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمہارا ہم پر حق بنتا ہے کیونکہ تم قاصد ہو، اگر ہمارے پاس کوئی انعام ہوتا تو تمہیں ضرور دیتے لیکن ابھی ہم سفر میں پراگندہ ہیں ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک آدمی نے پکار کر کہا کہ میں اسے انعام دوں گا، چنانچہ اس نے اپنا خیمہ کھولا اور ایک صفوری حلہ لے آیا اور لا کر میری گود میں ڈال دیا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ انعام دینے والے صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اسے اپنا مہمان بنائے گا؟ اس پر ایک انصاری نوجوان نے کہا کہ میں بناؤں گا، پھر وہ انصاری کھڑا ہوا اور میں بھی کھڑا ہوگیا، جب میں مجلس سے نکل گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا اے تنوخی بھائی! ادھر آؤ میں دوڑتا ہوا گیا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں میں پہلے بیٹھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا یہاں دیکھو، اور تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو، چنانچہ میں گھوم کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کی طرف آیا، میں نے کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی جو پھولے ہوئے غدود کی مانند تھی۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ مَوْلًى لِآلِ مُعَاوِيَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16813

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16929

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ مَهْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ذَهَبَ بِالشِّرْكِ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً ذَهَبَ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَجَاءَنَا بِالْإِسْلَامِ فَوَلَّى الرَّجُلُ فَأَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ فَشَجَّهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ بِكَ خَيْرًا إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَفَّى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَيْرٌ

حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک عورت پیشہ ور بدکارہ تھی، ایک دن اسے ایک آدمی ملا اور اس سے دل لگی کرنے لگا، اسی اثناء میں اس نے اپنے ہاتھ اس کی طرف بڑھائے تو وہ کہنے لگی پیچھے ہٹو، اللہ تعالیٰ نے شرک کو دور کردیا اور ہمارے پاس اسلام کی نعمت لے آیا، وہ آدمی واپس چلا گیا، راستے میں کسی دیوار سے ٹکر ہوئی اور اس کا چہرہ زخمی ہوگیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے ساتھ خیر کا ارادہ کر لیا ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہ کی سزا فوری دے دیتے ہیں اور جب کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہ کو روک لیتے ہیں ، اور قیامت کے دن اس کا مکمل حساب چکائیں گے اور وہ گدھوں کی طرح محسوس ہو گا۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16929

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17133

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ اللَّيْثِيُّ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَائِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْ الْقَتْلِ فَذَكَرَ قِصَّتَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَى عَلَيَّ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ کسی شخص نے کہا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم اس نے یہ کلمہ صرف اپنی جان بچانے کے لئے پڑھا تھا پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر اس وقت غم و غصے کے آثار تھے اور تین مرتبہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کے حق میں میری بات ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

الْقَائِلُ. ← بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ إِذْ ← عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ اللَّيْثِيُّ ← بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَیْمَانَ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17133

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17166

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ إِسْحَاقُ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے نہ بتاؤں جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔

إِسْحَاقُ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ← أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17166

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17173

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشَّهَادَةِ الَّذِينَ يَبْدَءُونَ بِشَهَادَتِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْأَلُوا عَنْهَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے نہ بتاؤں ؟ جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن عمارة ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17173

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17188

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَنْ شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے نہ بتاؤں جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17188

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10625

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا جُهَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ عَنْ خِدَاشِ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ بِالْكُوفَةِ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

خداش بن عیاش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کوفہ کے ایک حلقہ درس میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ایک آدمی احادیث بیان کررہا تھا اس نے کہا کہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے متعلق ایسی گواہی دے جس کا وہ اہل نہ ہو تو اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔

مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ ← كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ بِالْكُوفَةِ فَإِذَا رَجُلٌ ← خِدَاشِ بْنِ عَيَّاشٍ ← جهير بن يزيد العبدي ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10625

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10735

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ وَيَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ قِيلَ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک فتنوں کا ظہور، جھوٹ کی کثرت، مارکیٹوں کا قریب ہونا، زمانہ قریب آجانا اور "ہرج" کی کثرت نہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10735

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10798

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا يَعْنِي الْقَتْلَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ علم کو اٹھا نہ لیا جائے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا نبی اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔

يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قِيلَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَالِمًا ← حَنْظَلَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10798

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10802

حَدَّثَنَا وَهْبٌ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَفِيضُ الْمَالُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ قریب آجائے گا مال پانی کی طرح بہنے لگے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور "ہرج" کی کثرت ہوجائے گی کسی نے پوچھا کہ ہرج کا کیا معنی ہے؟ فرمایا قتل۔

حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← وَھْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10802

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10875

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ قَالَ الْهَرْجُ أَيُّمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم اٹھ نہ جائے اس وقت زمانہ قریب آجائے گا زلزلے کثرت سے آئیں گے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنم نے پوچھا یارسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← وَرْقَاءُ ← عَلِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10875

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10929

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى قَاتِلَتِهَا فَقَالَ حَمَلُ بْنُ نَابِغَةَ الْهُذَلِيُّ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هُوَ مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں قاتلہ کے خاندان والوں پر مقتولہ کی دیت اور اس کے بچے کے حوالے سے ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا اس فیصلے پر ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے (مسجع کلام میں) کہا کہ اس بچے کی دیت کا فیصلہ کیسے عقل میں آسکتا ہے جس نے کچھ کھایا پیا اور نہ بولا چلایا اس قسم کی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے بقول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10929

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10933

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ لَهُ حَظُّهُ مِنْ الزِّنَا فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا الْيَدَيْنِ الْبَطْشُ وَزِنَا الرِّجْلَيْنِ الْمَشْيُ وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ وَحَلَّقَ عَشْرَةً ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِيهَا يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَحْمُهُ وَدَمُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ آنکھیں بھی زناکرتی ہیں اور ان کا زنادیکھناہے ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اوان کا زنا چل کر جانا ہے منہ بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ دینا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10933

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10939

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ يَنْقُصُ الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ لگا ہے علم کم ہوجائے گا اور ہرج کی کثرت ہوجائے گی میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل۔

وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ يَنْقُصُ الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قُلْتُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ ← عَاصِمٍ، ← شَيْبَانَ ← حَسَنٌ وَهَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10939

chevron_left Previous
1…424344…1,290
Next chevron_right