Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحدود والجرائم

Criminal Law

25796 hadiths

بلوغ المرام · كتاب القضاء ‹ باب · حديث 1201

عن زيد بن خالد الجهني رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال:«‏‏‏‏الا اخبركم بخير الشهداء؟الذي ياتي بالشهادة قبل ان يسالها» .رواه مسلم.

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ بہترین گواہ کون سے ہیں؟ وہ جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے خود ہی گواہی دے۔“ (مسلم)

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ،

Bulugh Al Maram · Judgment Book › Chapter · Hadith 1201

بلوغ المرام · كتاب القضاء ‹ باب · حديث 1203

وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا تجوز شهادة خائن ولا خائنة ولا ذي غمر على اخيه ولا تجوز شهادة القانع لاهل البيت» ‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” خائن مرد و عورت کی گواہی جائز نہیں اور دشمن اور کینہ ور شخص کی اپنے بھائی کے خلاف بھی گواہی جائز نہیں اور جو شخص کسی دوسرے کے زیر کفالت ہو اس کی گواہی کفیل خاندان کے حق میں جائز نہیں ہے۔“ (مسند احمد، ابوداؤد)

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو

Bulugh Al Maram · Judgment Book › Chapter · Hadith 1203

بلوغ المرام · كتاب القضاء ‹ باب · حديث 1204

وعن ابي هريرة رضي الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏لا تجوز شهادة بدوي على صاحب قرية» ‏‏‏‏ رواه ابو داود وابن ماجه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ” صحرا نورد بدو (دیہاتی) کی گواہی شہری کے حق میں قابل قبول نہیں۔“ (ابوداؤد و ابن ماجہ)

«‏‏‏‏لا تجوز شهادة بدوي على صاحب قرية» رواه ابو داود وابن ماجه. ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← وعن ابي هريرة انه

Bulugh Al Maram · Judgment Book › Chapter · Hadith 1204

بلوغ المرام · كتاب القضاء ‹ باب · حديث 1206

وعن ابي بكرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم انه عد شهادة الزور من اكبر الكبائر. متفق عليه في حديث طويل.

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی گواہی کو بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ بخاری و مسلم کی لمبی حدیث میں ہے۔

أَبِي بَكْرَةَ

Bulugh Al Maram · Judgment Book › Chapter · Hadith 1206

بلوغ المرام · كتاب العتق ‹ باب · حديث 1232

وعن ابن عباس رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏يودى المكاتب بقدر ما عتق منه دية الحر وبقدر ما رق منه دية العبد» ‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود والنسائي.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مکاتب جتنا آزاد ہے اس قدر آزاد کی دیت ادا کرے گا اور جتنا غلام ہے اس قدر غلام کی۔ “ اسے احمد، نسائی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Manumission Book › Chapter · Hadith 1232

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1002

وعن ابي هريرة قال: اقتتلت امراتان من هذيل فرمت إحداهما الاخرى بحجر فقتلتها وما في بطنها. فاختصموا إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ان دية جنينها غرة عبد او وليدة وقضى بدية المراة على عاقلتها وورثها ولدها ومن معهم فقال حمل بن النابغة الهذلي: يا رسول الله كيف يغرم من لا شرب ولا اكل ولا نطق ولا استهل؟ فمثل ذلك يطل فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إنما هذا من إخوان الكهان» من اجل سجعه الذي سجع. متفق عليه. واخرجه ابو داود والنسائي من حديث ابن عباس: ان عمر سال من شهد قضاء رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الجنين؟ قال: فقام حمل بن النابغة فقال: كنت بين يدي امراتين فضربت إحداهما الاخرى". فذكره مختصرا وصححه ابن حبان والحاكم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں اور ایک نے دوسری پر پتھر دے مارا۔ اس پتھر سے وہ عورت اور اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا تو اس کے وارث مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ” جنین کے بدلے ایک لونڈی یا غلام ہے اور عورت کے بدلے قاتل کے وارثوں پر دیت عائد فرما دی اور اس کے خون بہا کا وارث اس کی اولاد کو بنایا اور ان وارثوں کو بھی جو ان کے ساتھ تھے۔“ حمل بن نابغہ ھذلی نے کہا ” اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم ایسے بچے کا بدلہ کیسے دیں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا اور نہ چیخا۔ اس طرح کا حکم تو قابل اعتبار نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس نے تو کاہنوں کی سی قافیہ بندی کی ہے۔“ (بخاری و مسلم) ابوداؤد اور نسائی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کون شخص جنین کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موقع پر حاضر تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حمل بن نابغہ کھڑا ہوا اور بیان کیا کہ میں اس وقت ان دو عورتوں کے درمیان تھا، جب ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا تھا۔ پھر مختصر حدیث کا ذکر کیا۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1002

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1003

وعن انس ان الربيع بنت النضر عمته كسرت ثنية جارية فطلبوا إليها العفو فابوا فعرضوا الارش فابوا فاتوا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فابوا إلا القصاص فامر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالقصاص،‏‏‏‏ فقال انس بن النضر: يا رسول الله اتكسر ثنية الربيع؟ لا والذي بعثك بالحق لا تكسر ثنيتها فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يا انس كتاب الله القصاص» ‏‏‏‏ فرضي القوم فعفوا فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن من عباد الله من لو اقسم على الله لابره» . متفق عليه واللفظ للبخاري.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک انصاری لڑکی کے دانت توڑ دئیے۔ ربیع کے رشتہ داروں نے اس سے معافی طلب کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے دیت دینے کی پیش کش کی۔ اسے بھی انہوں نے رد کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں آئے اور قصاص کا مطالبہ کیا اور قصاص کے سوا کسی بھی چیز کو لینے سے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ فرما دیا۔ یہ سن کر سیدنا انس بن نضر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، اس ذات اقدس کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے انس! اللہ کا نوشتہ تو قصاص ہی ہے۔ اتنے میں وہ لوگ اس پر رضامند ہو گئے اور پھر معافی دے دی۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ:

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1003

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1009

عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن ابيه عن جده رضي الله عنهم ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كتب إلى اهل اليمن فذكر الحديث وفيه: «‏‏‏‏إن من اعتبط مؤمنا قتلا عن بينة فإنه قود إلا ان يرضى اولياء المقتول وإن في النفس الدية مائة من الإبل وفي الانف إذا اوعب جدعه الدية وفي العينين الدية وفي اللسان الدية وفي الشفتين الدية وفي الذكر الدية وفي البيضتين الدية وفي الصلب الدية وفي الرجل الواحدة نصف الدية وفي المامومة ثلث الدية وفي الجائفة ثلث الدية وفي المنقلة خمس عشرة من الإبل وفي كل إصبع من اصابع اليد والرجل عشر من الإبل وفي السن خمس من الإبل وفي الموضحة خمس من الإبل وإن الرجل يقتل بالمراة وعلى اهل الذهب الف دينار» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود في المراسيل والنسائي وابن خزيمة وابن الجارود وابن حبان واحمد واختلفوا في صحته.

سیدنا ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے باپ کے حوالہ سے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو لکھا، پھر حدیث بیان کی جس میں یہ تحریر تھا جس کسی نے ایک بےگناہ مسلمان کو قتل کیا اور اس قتل کے گواہ ہوں تو اس پر قصاص لازم ہے۔ الایہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہوں تو ایک جان کے قتل کی دیت سو اونٹ ہے اور ناک میں بھی پوری دیت ہے جبکہ اسے جڑ سے کاٹ دے اور دونوں آنکھوں اور زبان اور دونوں ہونٹوں کے عوض بھی پوری دیت ہے۔ اسی طرح عضو مخصوص اور دو خصیہ میں پوری دیت ہے اور پشت میں بھی پوری دیت ہے اور ایک پاؤں کی صورت میں آدھی دیت ہے اور دماغ کے زخم اور پیٹ کے زخم میں تہائی دیت ہے اور وہ زخم جس سے ہڈی ٹوٹ جائے اس میں پندرہ اونٹ اور ہاتھ اور پاؤں کی ہر ایک انگلی میں دس دس اونٹ دیت ہے اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ اور ایسے زخم میں جس سے ہڈی نظر آنے لگے پانچ اونٹ دیت ہے اور مرد کو عورت کے بدلہ قتل کیا جائے گا اور جن کے پاس اونٹ نہ ہوں اور سونا ہو تو ان سے ایک ہزار دینار وصول کئے جائیں گے۔ ابوداؤد نے اسے اپنی مراسیل میں لکھا ہے اور نسائی، ابن خزیمہ، ابن جارود، ابن حبان اور احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی صحت میں انہوں نے اختلاف کیا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1009

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1010

وعن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏دية الخطا اخماسا: عشرون حقة وعشرون جذعة وعشرون بنات مخاض وعشرون بنات لبون وعشرون بني لبون» اخرجه الدارقطني واخرجه الاربعة بلفظ: «‏‏‏‏وعشرون بنو مخاض» ‏‏‏‏ بدل «‏‏‏‏لبون» ‏‏‏‏ وإسناد الاول اقوى واخرجه ابن ابي شيبة من وجه آخر موقوفا وهو اصح من المرفوع واخرجه ابو داود والترمذي من طريق عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهما رفعه: «‏‏‏‏الدية ثلاثون حقة وثلاثون جذعة واربعون خلفة في بطونها اولادها» .‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قتل خطا کی صورت میں پانچ قسم کے اونٹ دیت میں وصول کئے جائیں گے۔ بیس ایسے اونٹ جن کی عمر تین سال ہو اور بیس اونٹ جن کی عمر چار سال ہو اور بیس مادہ اونٹ جن کی عمر دو سال ہو اور بیس مادہ اونٹ جن کی عمر ایک ایک سال ہو اور بیس نر اونٹ جن کی عمر ایک سال ہو۔“ (سنن دارقطنی) اور چاروں نے ان الفاظ سے ذکر کیا ہے کہ بیس نر اونٹ ایک سال عمر کے بدلے دو سال عمر کے اور پہلی کی سند قوی ہے اور ابن ابی شیبہ نے ایک اور طریق سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اس کی سند اس مرفوع سے زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد اور ترمذی نے «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهما» کے طریق سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ دیت میں تیس تین سالہ اور تیس چار سالہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں وصول کی جائیں گی۔

ابْنِ مَسْعُودٍ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1010

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1012

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏الا إن دية الخطا وشبه العمد ما كان بالسوط والعصا مائة من الإبل منها اربعون في بطونها اولادها» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والنسائي وابن ماجه وصححه ابن حبان.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قتل خطا کی دیت شبہ عمد (کی دیت ہے) جو کوڑے اور لاٹھی سے (مارا گیا) ہو۔ اس کی دیت سو اونٹ ہے۔ ان میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے پرورش پا رہے ہوں گے۔“ اسے ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے نکالا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1012

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1013

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏هذه وهذه سواء» ‏‏‏‏ يعني الخنصر والإبهام. رواه البخاري. ولابي داود والترمذي: «‏‏‏‏دية الاصابع سواء والاسنان سواء الثنية والضرس سواء» .‏‏‏‏ ولابن حبان: «‏‏‏‏دية اصابع اليدين والرجلين سواء: عشرة من الإبل لكل إصبع» .‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ اور یہ یعنی چھنگلی اور انگوٹھا برابر ہیں۔“ (بخاری) اور ابوداؤد اور ترمذی کی روایت میں ہے ” سب انگلیاں برابر اور سارے دانت برابر، «ثنية» (سامنے اوپر نیچے کے دو دو دانت) اور داڑھ برابر۔“ اور ابن حبان میں روایت ہے ” ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے۔ ہر انگلی کے بدلہ دس اونٹ دیت ہے۔“

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1013

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1016

وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «عقل اهل الذمة نصف عقل المسلمين» .‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة ولفظ ابي داود: «‏‏‏‏دية المعاهد نصف دية الحر» ‏‏‏‏ وللنسائي: «‏‏‏‏عقل المراة مثل عقل الرجل حتى يبلغ الثلث من ديتها» ‏‏‏‏ وصححه ابن خزيمة.

یہ روایت بھی انہی (عمرو بن شعیب رحمہ اللہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کا نصف ہے۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد کے الفاظ اس طرح ہیں کہ ” ذمی کی دیت آزاد کے مقابلہ میں آدھی ہے۔ “ اور نسائی کی روایت میں ہے کہ ” عورت کی دیت مرد کی دیت کی مانند ہے۔ یہاں تک کہ دونوں کی دیت تہائی تک پہنچے۔ “ اسے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔

وعنه

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1016

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1018

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قتل رجل رجلا على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فجعل النبي صلى الله عليه وآله وسلم ديته اثني عشر الفا. رواه الاربعة ورجح النسائي وابو حاتم إرساله.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) طے فرمائی۔ اسے چاروں نے روایت کیا ہے، نسائی اور ابوحاتم نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1018

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1028

وعن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: قاتل يعلى بن امية رجلا فعض احدهما صاحبه فانتزع يده من فمه فنزع ثنيته فاختصما إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال:«‏‏‏‏يعض احدكم كما يعض الفحل؟ لا دية له» متفق عليه واللفظ لمسلم.

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی۔ ایک نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ کر باہر نکالا تو اس کا سامنے کا دانت ٹوٹ کر گر گیا۔ دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تم ایک دوسرے کو اس طرح کاٹ کھاتے ہو جس طرح نر اونٹ کاٹتا ہے۔ اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1028

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1029

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال ابو القاسم صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏لو ان امرا اطلع عليك بغير إذن فحذفته بحصاة ففقات عينه لم يكن عليك جناح» . متفق عليه وفي لفظ لاحمد والنسائي وصححه ابن حبان: «‏‏‏‏فلا دية له ولا قصاص» .‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اگر کوئی مرد تیرے گھر بغیر اجازت کے جھانکے (نظر ڈالے) اور تو کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ (بخاری و مسلم) احمد اور نسائی کے الفاظ ہیں جسے ابن حبان نے صحیح کہا ہے کہ ” نہ اس کی دیت ہے اور نہ قصاص۔“

ابو القاسم صلى الله عليه ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1029

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1051

وعن عبد الله بن عامر بن ربيعة رضي الله عنه قال: لقد ادركت ابا بكر وعمر وعثمان ومن بعدهم فلم ارهم يضربون المملوك في القذف إلا اربعين. رواه مالك والثوري في جامعه.

سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد والوں کا عہد پایا ہے۔ میں نے ان کو نہیں دیکھا کہ غلاموں کو سزائے قذف میں چالیس (کوڑوں) سے زیادہ مارتے ہوں۔ اسے مالک نے روایت کیا ہے اور ثوری نے اپنی جامع میں بیان کیا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1051

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1061

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم انه سئل عن التمر المعلق فقال: «‏‏‏‏من اصاب بفيه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شيء عليه ومن خرج بشيء منه فعليه الغرامة والعقوبة ومن خرج بشيء منه بعد ان يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والنسائي وصححه الحاكم.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت پر لٹکی ہوئی کھجور کے متعلق دریافت کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص بھوکا ہو وہ کھانے کے لیے توڑ لے مگر کپڑے میں نہ بھرے تو اس پر کوئی سزا نہیں اور جو شخص کپڑے میں ڈال کر نکل جائے تو اس پر تاوان بھی ہے اور سزا بھی اور جو شخص ایسی صورتحال میں کھجوریں لے جائے کہ مالک نے توڑ کے محفوظ جگہ میں ڈھیر کر لیا ہو اور ان کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کے مساوی ہو تو اس پر قطع ید کی سزا نافذ ہو گی۔ “ اسے ابوداؤد اور نسائی نے تخریج کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

التمر المعلق ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم انه سئل ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1061

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1063

وعن جابر رضي الله عنه قال: جيء بسارق إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏اقتلوه» ‏‏‏‏ فقالوا: يا رسول الله إنما سرق؟ قال: «‏‏‏‏اقطعوه» ‏‏‏‏ فقطع ثم جيء به الثانية فقال: «‏‏‏‏اقتلوه» ‏‏‏‏ فذكر مثله: ثم جيء به الثالثة فذكر مثله ثم جيء به الرابعة كذلك ثم جيء به الخامسة فقال:«‏‏‏‏اقتلوه» ‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والنسائي واستنكره. واخرج من حديث الحارث بن حاطب نحوه. وذكر الشافعي ان القتل في الخامسة منسوخ.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تو پھر اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ “ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر دوبارہ اسے پیش کیا گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے مار ڈالو۔ “ پھر اسی طرح ذکر کیا گیا۔ پھر اس کو تیسری بار لایا گیا تو پھر اسی طرح ذکر کیا۔ پھر چوتھی مرتبہ گرفتار کر کے پیش کیا گیا تو اسی طرح ذکر کیا۔ پھر پانچویں مرتبہ گرفتار کے کے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ اس کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے اور نسائی نے حارث بن حاطب کی حدیث سے اسی طرح اور شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ پانچویں مرتبہ مار ڈالنا منسوخ ہے۔

جيء بسارق إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏اقتلوه» فقالوا: ← وعن جابر

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1063

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1077

وعن علي رضي الله عنه قال:" ما كنت لاقيم على احد حدا فيموت فاجد في نفسي إلا شارب الخمر فإنه لو مات وديته" اخرجه البخاري.

سیدنا على رضی اللہ عنہ سے روايت ہے كہ میں کسی پر ایسی حد نافذ نہیں کروں گا کہ وہ اس سے مر جائے اور میں اس کا غم اپنے دل میں محسوس کروں سوائے شرابی کے اگر وہ سزا میں جاں بحق ہو جائے تو میں اس کی دیت ادا کروں گا۔ (بخاری)

عَلِيٍّ،

Bulugh Al Maram · The Book of Frontiers › Chapter · Hadith 1077

شمائل المحمدية / شمائل ترمزی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 113

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّتِي تُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهَا قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمشِي بِالْمَدِينَةِ إِذَا إِنْسَانٌ خَلْفِي يَقُولُ ارْفَعْ إِزَارَکَ فَإِنَّهُ أَتْقَی وَأَبْقَی فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا هِيَ بُرْدَةٌ مَلْحَائُ قَالَ أَمَا لَکَ فِيَّ أُسْوَةٌ فَنَظَرْتُ فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَی نِصْفِ سَاقَيْهِ

Hazrat Ubaid bin Khalid radiyallahu anhu says, "I was once going to Madinah Munawwarah. I heard a person from behind me say, "Wear the lungi higher because it avoids physical and spiratual najaasah (impurities)." (The lungi will remain cleaner and will not become dirty by being dragged on the ground.) When I turned to see who was talking, I saw that it was Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam. I said, "O' Rasoolullah, this is a simple lungi, how can one become proud, and it is necessary to look after it (keep it clean)?" Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam replied, "If you see no benefit in it, your following me has not ceased." While Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam was telling me this, I saw that his lungi reached till half his shin."

ارْفَعْ إِزَارَکَ فَإِنَّهُ أَتْقَی وَأَبْقَی فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللهِ فَقُلْتُ ← أَمشِي بِالْمَدِينَةِ إِذَا إِنْسَانٌ خَلْفِي ← بَيْنَا ← عَمِّهَا ← عَمَّتِي تُحَدِّثُ ← الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ

Shama'il Muhammadiyah / Shumail Tirmidhi · Description of the biography of the Holy Prophet › Chapter · Hadith 113

chevron_left Previous
1…343536…1,290
Next chevron_right