Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحدود والجرائم

Criminal Law

25796 hadiths

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2400

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَوْفٍ عَنْ حَمْزَةَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ أَتَعْفُو قَالَ لَا قَالَ فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ قَالَ لَا قَالَ فَتَقْتُلُهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ قَالَ فَتَرَكَهُ قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ قَدْ عَفَا عَنْهُ

حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ جب ایک قاتل شخص کو آپ کی خدمت میں لایا گیا جسے قتل کے جرم میں پکڑا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے کہا کیا تم اسے معاف کردوگے اس نے جواب دیا نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم دیت وصول کرو گے تو اس نے عرض کی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو اس نے عرض کی جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم اسے معاف کردو تو تمہارے گناہ اور تمہارے مقتول کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں چلے جائیں گے راوی بیان کرتے ہیں اس شخص نے اسے چھوڑ دیا میں نے دیکھا کہ وہ خود اس قاتل کے تسمے کھول رہا تھا جس کو اس نے معاف کیا تھا۔

نَعَمْ ← فَتَقْتُلُهُ ← لَا۔ ← فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ← لَا۔ ← رَسُولُ اللَّهِ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ أَتَعْفُو ← شَهِدْتُ النَّبِيَّ حِينَ أُتِيَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ ← أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ← حَمْزَةَ أَبِي عُمَرَ ← عَوْفٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2400

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2404

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ بِأَخْذِهِمْ الدِّيَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے دوسرے شخص کو قتل کردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار مقرر کی جس کا ذکر اس فرمان میں ہے "بلکہ انہوں نے انتقام نہیں لیا اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل کے تحت انہیں غنی کردیا۔ یعنی دیت وصول کرکے وہ لوگ غنی ہوئے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2404

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2406

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ قِيَلِ ذِي رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ وَهَمَدَانَ فَكَانَ فِي كِتَابِهِ وَإِنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةٌ مِنْ الْإِبِلِ

ابوبکر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو یہ خط لکھا تھا جس میں یہ بات تحریر تھی "اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہوں جو رحمن ورحیم ہے یہ اللہ کے نبی حضرت محمد کی جانب سے ذی رعین، معافر اور ہمدان کے حکمران شرحبیل بن عبدکلال، حارث بن عبدکلال اور نعیم بن عبدکلال کے نام ہیں اس خط میں یہ بات تحریر تھی کہ ایک جان کی دیت ایک سو اونٹ ہیں۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2406

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2407

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشَرَةَ مِنْ الْإِبِلِ

ابوبکر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا تھا اس خط میں یہ بات تحریر تھی کہ ناک کو کاٹ دیا جائے تو اس کی پوری دیت ہوگی زبان کی پوری دیت ہوگی دونوں ہونٹوں کی پوری دیت ہوگی دو دانتوں کی پوری دیت ہوگی شرمگاہ کی پوری دیت ہوگی پشت کی پوری دیت ہوگی دونوں آنکھوں کی پوری دیت ہوگی ایک پاؤں کی نصف دیت ہوگی اور ہلکے زخم کی ایک تہائی دیت ہوگی اور ایک قسم کے زخم کی ایک تہائی دیت ہوگی اور ایک قسم کے زخم کی پندرہ اونٹ دیت ہوگی۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2407

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2408

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الدِّيَةَ فِي الْخَطَإِ أَخْمَاسًا

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطاء میں پانچ قسم کے اونٹوں کی ادائیگی مقرر کی ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← خشف بن مالك ← زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حجاج، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2408

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2417

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ قَالَ فَنَزَعَ يَدَهُ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَكَ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ پر کاٹ لیا دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو پہلے شخص کے دودانت باہر نکل آئے وہ لوگ مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا کیا تم اپنے بھائی کے ہاتھ پر اس طرح کاٹ دیتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں اس کی کوئی دیت نہیں ملے گی۔

فَنَزَعَ يَدَهُ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2417

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2423

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا فِي الدِّيَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ وَقَضَى بِدِيَتِهَا عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرِثَتْهَا وَرَثَتُهَا وَلَدُهَا وَمَنْ مَعَهَا فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ كَيْفَ أُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هُوَ مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دوخواتین کی لڑائی ہوگئی ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اسے قتل کردیا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی قتل کردیا وہ لوگ دیت کے بارے میں مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے یہ فیصلہ دیا کہ پیٹ میں موجود بچے کی دیت ایک غلام یا کنیز ہوگی اور عورت کی دیت کی ادائیگی قتل کرنے والی عورت کے خاندان پر ہوگی اور مقتول عورت کے ورثاء ہی اس کے وارث ہوں گے جس میں اس کی اولاد اور دیگر لوگ شامل ہوں گے حضرت حمل بن نابغہ فرماتے ہیں نے عرض کی یا رسول اللہ میں کیسے تاوان ادا کروں اس بچے کا جس نے نہ کچھ کھایا اور نہ کچھ پیا نہ وہ بولا نہ ہی وہ رویا ایساخون تو رائیگاں جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ کاہنوں کی طرح گفتگو کررہاہے اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا کلام نہایت مقفع مسجع تھا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2423

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2424

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةُ قَتِيلِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ وَمَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شبہ العمد جیسے خطا کے طور پر قتل ہونے والے شخص کی دیت اور جس شخص کو لکڑی سے یا سوٹی کے ذریعے مارا گیا ہو اس کی دیت چالیس اونٹنیاں ہے جن کے پیٹ میں بچے موجود ہوں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2424

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2448

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ

سہل بن ابوامامہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگے اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے پر فائز کرے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی فوت ہوجائے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، ← القاسم بن كثير،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2448

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2449

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ أَلَمِ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنْ أَلَمِ الْقَرْصَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے شہید ہونے والا شخص قتل ہونے کی اتنی ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جتنی کسی شخص کو چیونٹی کے کاٹنے سے تکلیف ہوتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2449

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2454

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْغَزْوُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ وَالنُّفَسَاءُ

حضرت صفوان بن امیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں طاعون کی وجہ سے مرنا شہادت ہے ڈوب کر مرناشہادت ہے پیٹ کی تکلیف سے مرنا شہادت ہے نفاس کے وقت عورت کا مرجانا شہادت ہے۔

الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْغَزْوُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ وَالنُّفَسَاءُ ← النَّبِيِّ ← صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ← عَامِرِ بْنِ مَالِکٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ هُوَ التَّيْمِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2454

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2455

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جُمْعًا شَهَادَةٌ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں ماراجانا شہادت ہے۔ طاعون کی وجہ سے مرجانا شہادت ہے پیٹ کے درد کی وجہ سے مرجانا شہادت ہے بچے کی وجہ سے عورت کا مرجانا شہادت ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2455

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2503

أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَظَفِرَ بِالْمُشْرِكِينَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْقَتْلِ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ ذَهَبَ بِهُمْ الْقَتْلُ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ أَلَا لَا تُقْتَلَنَّ ذُرِّيَّةٌ ثَلَاثًا

اسود بن سریع بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے ہم نے کچھ مشرکین پکڑ لئے لوگوں نے تیزی سے قتل کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ انہوں نے کچھ بچوں کو قتل کردیا جب اس کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے یہ لوگوں کو قتل کرتے جارہے ہیں یہاں تک کہ بچوں کو بھی قتل کردیا خبردار کوئی بھی شخص بچوں کو قتل نہ کرے۔ (یہ بات آپ نے تین بار اشاد فرمائی)

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2503

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2529

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ قُتِلَ نَفَرٌ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّى ذَكَرُوا رَجُلًا فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ أَوْ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا قَالَ لِي يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قُمْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ فَقُمْتُ فَنَادَيْتُ فِي النَّاسِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب بیان کرتے ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر کچھ لوگ مارے گئے دوسرے لوگوں نے کہا فلاں شخص شہید ہوگیا انہوں نے کئی لوگوں کو ذکر کیا اور کہا وہ شخص بھی شہید ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے اسے جہنم میں دیکھاہے اس کے جسم پر ایک عباء (راوی کو شک ہے یا شاید) ایک چادر تھی جو اس نے خیانت کے طور پر لی تھی (حضرت عمر فرماتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن خطاب اٹھو اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہونگے (حضرت عمر فرماتے ہیں) میں اٹھا اور میں نے لوگوں میں یہ اعلان کردیا۔

فُلَانٌ شَهِيدٌ، ← فُلاَنٌ شَهِيدٌ حَتَّى ذَكَرُوا رَجُلًا, ← قُتِلَ نَفَرٌ يَوْمَ خَيْبَرَ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2529

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2531

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَهْبَ وَلَا إِغْلَالَ وَلَا إِسْلَالَ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْإِسْلَالُ السَّرِقَةُ

کثیر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے لوٹ مار (جائز نہیں) اور مال غنیمت میں خیانت کرنا جائز نہیں ہے اور چوری بھی جائز نہیں ہے جو شخص خیانت کرے گا جو چیز اس نے خیانت کی ہے وہ قیامت کے دن اسے ساتھ لے کر آئے گا۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ) "اسلال " سے مراد چوری کرنا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2531

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2729

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ قَالَ قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں ہدایت کیجیے جو میں صبح وشام پڑھا کروں آپ نے ارشاد فرمایا تم یہ پڑھا کرو۔ اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیداکرنے والے اور غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ہر چیز کے پروردگار اور مالک میں یہ گواہی دیتاہوں تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے میں تجھ سے اپنے نفس کے شر سے پناہ مانگتاہوں اور شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے پناہ مانگتاہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم صبح وشام انہیں پڑھا کرو اور جب بستر پر لیٹ جاؤ تو بھی پڑھا کرو۔

أَبُو بَکْرٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2729

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2763

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عَمْرٍو أَبِي الْمُغِيرَةِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي وَلَمْ يَكُنْ يَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ أَنْتَ عَنْ الِاسْتِغْفَارِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ فَحَدَّثْتُ أَبَا بُرْدَةَ وَأَبَا بَكْرٍ ابْنَيْ أَبِي مُوسَى قَالَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں میں اپنی بیوی کے ساتھ بدکلامی کیا کرتا تھا حالانکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ نہیں کیا کرتا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا تم استغفار کیوں نہیں کرتے میں خود روزانہ ایک سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ حضرت ابواسحاق بیان کرتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت موسی کے دو صاحبزادے حضرت ابوبردہ اور ابوبکر کو سنائی تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں روزانہ اللہ سے سومرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں۔ (ان الفاظ میں) میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔

حُذَيْفَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عَمْرٍو أَبِي الْمُغِيرَةِ ← أَبُو إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2763

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2796

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند نہیں کرتا اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند نہیں کرتا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسری زوجہ نے عرض کی ہمیں تو مرنا پسند نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ بلکہ مومن شخص کے پاس جب موت کا وقت آجائے تو اللہ کی رضامندی اور اس کی عطا کردہ بزرگی کی خوش خبری دی جاتی ہے اس وقت اس کے نزدیک کوئی چیز اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہوتی اس لئے وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے جبکہ کافر کے پاس موت کا وقت آجائے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی وعید سنائی جاتی ہے تو اس کے نزدیک آگے آنے والے وقت سے زیادہ ناپسند کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس لئے وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2796

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2856

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَاكَ حَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ هَبْهَبُ يَسْكُنُهُ كُلُّ جَبَّارٍ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ

محمد بن واسع بیان کرتے ہیں میں نے حضرت بلال بن ابوبردہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی آپ کے والد نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی ہے آپنے ارشاد فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام ہبہب ہے۔ ہرجابر شخص اس میں رہے گا۔ (حضرت محمد بن واسع کہتے ہیں میں نے حضرت بلال بن ابوبردہ سے کہا) تم اس بات سے بچو کہ ان میں شامل ہو جاؤ۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← دَخَلْتُ عَلَى بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَاكَ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2856

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3076

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فِي الْعَمْدِ وَالْخَطَإِ

ابراہیم نخعی فرماتے ہیں قتل عمد اور قتل خطا ہر صورت میں بیوی اپنے شوہر کی دیت میں وارث بنتی ہے۔

تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فِي الْعَمْدِ وَالْخَطَإِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3076

chevron_left Previous
1…262728…1,290
Next chevron_right