Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحكم والقضاء

Governance & Judiciary

29060 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20934

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ لِلْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ وَكِلَاهُمَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَعْلَمُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ نَعَمْ قَالَ عِمْرَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ

زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔

لِلْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ وَكِلَاهُمَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ يَوْمَ ← نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ← حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← سَأَلْتُ مُحَمَّدًا ← يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20934

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20935

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَحُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ فَأَتَاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَتَدْرِي لِمَ جِئْتُكَ فَقَالَ لَهُ لِمَ قَالَ هَلْ تَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ قَعْ فِي النَّارِ فَأَدْرَكَ فَاحْتَبَسَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِيعًا لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ

زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسُ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20935

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20937

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَدِدْتُ أَنِّي أَلْقَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَ فَلَقِيَهُ فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ أَمَا عَلِمْتَ أَوَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ بَلَى قَالَ فَذَاكَ الَّذِي أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ لَكَ

زیادنے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی نافرمانی نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے فرمایا کہ میں آپ کو یہی حدیث یاد کرانا چاہتا تھا۔

فَذَاكَ الَّذِي أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ لَكَ ← بَلٰی ← لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُ عِمْرَانُ أَمَا عَلِمْتَ أَوَمَا ← فَلَقِيَهُ ← عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَدِدْتُ أَنِّي أَلْقَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ← ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ ← غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَيُّوبُ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20937

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15139

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ عَطَاءٌ حِينَ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ ثُمَّ ذَكَرُوا لَهُ الْمُتْعَةَ فَقَالَ نَعَمْ اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

عطاء کہتے ہیں کہ جب حضرت جابر رضی اللہ عنہ عمرے کے لئے تشریف لائے تو ہم ان کے گھر حاضر ہوئے لوگوں نے ان سے مختلف سوالات پوچھے پھر متعہ کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وعمر کے دور میں عورتوں سے متعہ کیا کرتے تھے حتی کے بعد میں حضرت عمر نے اس کی ممانعت فرما دی۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15139

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20958

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَقْطُرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتُعْمِلَ عَلَى سِجِسْتَانَ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى جَيْشٍ وَعِنْدَهُ نَارٌ قَدْ أُجِّجَتْ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قُمْ فَانْزُهَا فَقَامَ فَنَزَاهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ إِنَّهُ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا وَقَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا قُمْ فَانْزِهَا فَأَبَى فَعَزَمَ عَلَيْهِ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَ نَعَمْ

بلال بن یقطر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو سجستان کا گورنر مقرر کردیا گیا ان سے ایک دوسرے صحابی نے ملاقات کی اور فرمایا کہ کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی لشکر کا امیر مقرر کیا اس نے ایک جگہ خوب تیز آگ بھڑکائی اور اپنے ایک ساتھی کو حکم دیا کہ اس میں کود جاؤ وہ اٹھ کر کودنے کے لئے تیار ہوگیا (لیکن اس کے ساتھیوں نے روک لیا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر وہ آگ میں کود جاتا تو یہ دونوں جہنم میں داخل ہوجاتے اللہ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہے میں نے سوچا کہ آپ کو یہ حدیث یاد کروادوں۔

بِلَالِ بْنِ يَقْطُرَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20958

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20972

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ عَمَّارٌ قَالَ أَدْرَبْنَا عَامًا ثُمَّ قَفَلْنَا وَفِينَا شَيْخٌ مِنْ خَثْعَمٍ فَذُكِرَ الْحَجَّاجُ فَوَقَعَ فِيهِ وَشَتَمَهُ فَقُلْتُ لَهُ لِمَ تَسُبُّهُ وَهُوَ يُقَاتِلُ أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي طَاعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ إِنَّهُ هُوَ الَّذِي أَكْفَرَهُمْ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَمْسُ فِتَنٍ فَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعٌ وَبَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الصَّيْلَمُ وَهِيَ فِيكُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ حَجَرًا فَكُنْهُ وَلَا تَكُنْ مَعَ وَاحِدٍ مِنْ الْفَرِيقَيْنِ أَلَا فَاتَّخِذْ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ وَلَا تَكُنْ وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ حَمَّادٌ قَبْلَ ذَا قُلْتُ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَفَلَا كُنْتَ أَعْلَمْتَنِي أَنَّكَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُسَائِلَكَ

اہل شام کا ایک آدمی جس کا نام عمار تھا اس کا کہنا ہے کہ ایک سال ہم دشمن کے ملک میں داخل ہوگئے پھر وہاں سے لوٹ آئے ہم میں قبیلہ خثعم کے ایک بزرگ بھی تھے انہوں نے حجاج کا تذکرہ کیا تو اسے خوب برا بھلا کہا میں نے ان سے کہا کہ آپ اسے کیوں برا بھلا کہہ رہے ہیں وہ تو امیرالمؤمنین کی اطاعت میں اہل عراق سے قتال کررہاہے انہوں نے فرمایا کہ ان لوگوں کو کفر میں مبتلا کرنے والا وہی تو ہے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت میں پانچ فتنے ہوںگے جن میں سے چار گزر گئے ہیں ایک رہ گیا ہے اور وہ ہے جڑ سے مٹا دینے والی جنگ اور اے اہل شام وہ تم میں ہے اگر تم اس زمانے کو پاؤ اور تمہارے اندر یہ طاقت ہو کہ پتھر بن جاؤ تو بن جاؤ اور فریقین میں سے کسی کے ساتھ بھی نہ ہونا اور زمین میں اپنا نفقہ تلاش کرنا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی ہی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے اگر آپ نے مجھے پہلے بتایا ہوتا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے تو میں آپ سے کچھ پوچھ ہی لیتا۔

دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20972

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21048

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو نُصَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَسِيبٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِالْحُمَّى وَالطَّاعُونِ فَأَمْسَكْتُ الْحُمَّى بِالْمَدِينَةِ وَأَرْسَلْتُ الطَّاعُونَ إِلَى الشَّامِ فَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِأُمَّتِي وَرَحْمَةٌ لَهُمْ وَرِجْسٌ عَلَى الْكَافِرِينَ

حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد جبرائیل بخار اور طاعون کو لے کر آئے میں نے بخار کو مدینہ منورہ ہی میں روک لیا اور طاعون کو شام کی طرف بھیج دیا اب طاعون میری امت کے لئے شہادت اور رحمت ہے اور جب کہ کافروں کے لئے عذاب ہے۔

أَبَا عَسِيبٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو نُصَيْرَةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21048

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21072

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ كَانَ فِيمَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا تَنُحْنَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسِ نِسْوَةٍ

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت جو شرائط لگائی تھیں ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ تم نوحہ نہیں کروگی لیکن پانچ عورتوں کے علاوہ ہم میں سے کسی نے اس وعدے کو وفا نہیں کیا۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21072

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15355

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ وَقَالَ لِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ يَا جَابِرُ لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادِلَتَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِتَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ فَرَجَعْنَا بِهِمَا فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا فَبَيْنَمَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عَمَلُ مُعَاوِيَةَ فَبَدَا فَخَرَجَ طَائِفَةٌ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتُهُ لَمْ يَتَغَيَّرْ إِلَّا مَا لَمْ يَدَعْ الْقَتْلُ أَوْ الْقَتِيلُ فَوَارَيْتُهُ قَالَ وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ دَيْنًا مِنْ التَّمْرِ فَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَتَرَكَ عَلَيَّ دَيْنًا مِنْ التَّمْرِ وَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ لَعَلَّه أَنْ يُنَظِّرَنِي طَائِفَةً مِنْ تَمْرِهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ فَقَالَ نَعَمْ آتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ النَّهَارِ وَجَاءَ مَعَهُ حَوَارِيُّهُ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ وَدَخَلَ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنِي الْيَوْمَ وَسَطَ النَّهَارِ فَلَا أَرَيْتُكِ وَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي بِشَيْءٍ وَلَا تُكَلِّمِيهِ فَدَخَلَ فَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ قَالَ وَقُلْتُ لِمَوْلًى لِيَ اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ وَالْوَحَا وَالْعَجَلَ افْرُغْ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَكَ فَلَمْ نَزَلْ فِيهَا حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهَا وَهُوَ نَائِمٌ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ حَتَّى تَضَعَ الْعَنَاقَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ يَا جَابِرُ ائْتِنِي بِطَهُورٍ فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طُهُورِهِ حَتَّى وَضَعْتُ الْعَنَاقَ عِنْدَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ كَأَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ حُبَّنَا لِلَّحْمِ ادْعُ لِي أَبَا بَكْرٍ قَالَ ثُمَّ دَعَا حَوَارِيَّيْهِ اللَّذَيْنِ مَعَهُ فَدَخَلُوا فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ كُلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ لَحْمٌ مِنْهَا كَثِيرٌ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ مَجْلِسَ بَنِي سَلِمَةَ لَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ مَا يَقْرُبُهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْذُوهُ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَقَامَ أَصْحَابُهُ فَخَرَجُوا بَيْنَ يَدَيْهِ وَكَانَ يَقُولُ خَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَةِ وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أُسْكُفَّةَ الْبَابِ قَالَ وَأَخْرَجَتْ امْرَأَتِي صَدْرَهَا وَكَانَتْ مُسْتَتِرَةً بِسَقِيفٍ فِي الْبَيْتِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي فُلَانًا لِغَرِيمِي الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي الطَّلَبِ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ أَيْسِرْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي إِلَى الْمَيْسَرَةِ طَائِفَةً مِنْ دَيْنِكَ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ قَالَ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ وَاعْتَلَّ وَقَالَ إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى فَقَالَ أَيْنَ جَابِرٌ فَقَالَ أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ كِلْ لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا الشَّمْسُ قَدْ دَلَكَتْ قَالَ الصَّلَاةَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَانْدَفَعُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ قَرِّبْ أَوْعِيَتَكَ فَكِلْتُ لَهُ مِنْ الْعَجْوَةِ فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ كَأَنِّي شَرَارَةٌ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ أَنِّي كِلْتُ لِغَرِيمِي تَمْرَهُ فَوَفَّاهُ اللَّهُ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ أَيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجَاءَ يُهَرْوِلُ فَقَالَ سَلْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَتَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَنَا بِسَائِلِهِ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ إِذْ أَخْبَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ فَكَرَّرَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْكَلِمَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ مَا أَنَا بِسَائِلِهِ وَكَانَ لَا يُرَاجِعُ بَعْدَ الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ فَقَالَ يَا جَابِرُ مَا فَعَلَ غَرِيمُكَ وَتَمْرُكَ قَالَ قُلْتُ وَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنْ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكِ أَنْ تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَكُنْتَ تَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُورِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ثُمَّ يَخْرُجُ وَلَا أَسْأَلُهُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے قتال کے لئے مدینہ منورہ سے نکلے مجھ سے میرے والد صاحب عبداللہ نے کہہ دیا تھا کہ جابر رضی اللہ عنہ تم اس وقت تک نہ نکلنا جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ ہمارا انجام کیا ہوا واللہ اگر میں نے اپنے پیچھے بیٹیاں نہ چھوڑی ہوتیں تو میری خواہش ہوتی کہ تمہیں میرے سامنے شہادت نصیب ہو چنانچہ میں اپنے باغ میں ہی رہا کہ اچانک میری پھوپھی میرے والد اور میرے ماموں کو اونٹ پر لاد کرلے آئیں وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کردیں اچانک ایک آدمی منادی کرتا ہوا آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے مقتولین کو واپس لے جا کر اس جگہ دفن کرو جہاں وہ شہید ہوئے تھے چنانچہ ہم ان دونوں کو لے کر واپس لوٹے اور مقام شہادت میں انہیں دفن کر دیا۔ حضرت امیر معاویہ کے دور خلافت میں ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے جابر رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ کے گورنروں نے آپ کے والد کی قبر کھودی ہے اور وہ اپنی قبر میں نظر آرہے ہیں میں وہاں پہنچا تو اسی حال میں پایا جس حال میں میں نے انہیں دفن کیا تھا ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی سوائے اس معمولی چیز کے جو قتل کی وجہ سے ہو ہی جاتی ہے پھر میں نے ان کی مکمل تدفین کی۔ میرے والد صاحب نے اپنے اوپر کھجوروں کا کچھ قرض بھی چھوڑا تھا قرض خواہوں نے اس کا تقاضا مجھ سے سختی سے کرنا شروع کردیا مجبو رہو کر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد صاحب فلاں موقع پر شہید ہو گئے اور مجھ پر کھجور کا قرض چھوڑ گئے قرض خواہوں نے اس کاتقاضا مجھ سے سختی کے ساتھ کرنا شروع کردیا میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کچھ تعاون کریں کہ وہ مجھے ایک سال کی مہلت دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا میں تمہارے پاس نصف النہار کے وقت ان شاء اللہ آؤں گا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ آگئے اور اجازت لے کر گھر میں داخل ہوئے میں نے اپنی بیوی سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نصف النہار کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے لیکن تم مجھے نظر نہ آنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچانا اور نہ ہی ان سے کوئی فرمائش کرنا بہرحال اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بستر بچھا دیا اور تکیہ رکھا جس پر سر رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ میں نے اپنے ایک غلام سے کہا کہ جلدی سے یہ بکری ذبح کرو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے اس سے فارغ ہو جاؤ میں بھی تمہارا ساتھ دیتا ہوں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے ہی ہم اس سے فارغ ہوگئے میں نے اس سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوں تو وضو کے لئے پانی منگوائیں گے جب وہ وضو سے فارغ ہوں توفورا ہی ان کے سامنے کھانا پیش کردیا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نیند سے بیدار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور ابھی وضو فرما کر فارغ بھی نہ ہونے پائے تھے کہ کھانا سامنے رکھ دیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا شاید تمہیں بھی گوشت کی طرف ہماری رغبت کا اندازہ ہوگیا ہے ابوبکر کو بلاؤ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والے دیگر صحابہ کو بھی بلا لیا وہ آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے میں ہاتھ ڈال دیا اور فرمایا بسم اللہ کھاؤ ان سب نے خوب سیراب ہو کر کھایا پھر بھی بہت سا گوشت بچ گیا واللہ بنوسلمہ کے لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے یہ منظر ان کے لئے بڑا محبوب تھا لیکن وہ صرف اس بناء پر قریب نہ آتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کھڑے ہوگئے صحابہ آگے آگے چل رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری پشت کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا جب وہ دروازے کے قریب پہنچے تو میری بیوی نے ایک ستون کی آڑ سے کہا یا رسول اللہ میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعا کردیجیے اللہ آپ پر درود بھیجے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم اور تمہارے شوہر پر اپنی رحمتیں نازل کرے پھر میرے قرض خواہ کا نام لے کر فرمایا اسے بلا کر لاؤ یہ وہی شخص تھا جو بڑی سختی سے قرض کا مطالبہ کر رہا تھا وہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ پر اگلے سال تک کے لئے تھوڑی دیر آسانی کردو اس نے کہا میں تو ایسا نہیں کروں گا وہ مزید بدک گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو یتمیوں کا مال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کہاں ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں یہاں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناپ کر دینا شروع کردو اللہ پورا کردے گا میں نے آسمان کی طرف نگاہ ڈالی توسورج ڈھل چکا تھا میں نے عرض کیا اے ابوبکر نماز کا وقت ہو گیا ہے چنانچہ وہ لوگ مسجد میں چلے گئے اور میں نے قرض خواہ سے کہا کہ اپنا برتن لاؤ اور میں نے اس کو ناپ کر عجوہ کھجور دیدی اللہ نے اسے پورا کر دیا اور اتنی مقدار بچ گئی میں ڈورتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ دیکھیے تو سہی کہ میں نے اپنے قرض خواہ کو کھجور ناپ کردی تو اللہ نے اسے پورا کردیا اور اتنی مقدار بچ بھی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر بن خطاب کہاں ہیں وہ دوڑتے ہوئے آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے قرض خواہ اور کھجوروں کے متعلق پوچھو انہوں نے عرض کیا میں نہیں پوچھوں گا اس لئے کہ جب آپ نے یہ فرما دیا کہ اللہ پورا کر دے گا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اللہ پورا کر دے گا تین مرتبہ اسی طرح تکرار ہوا تیسری مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کرنامناسب نہیں سمجھا اور پوچھ لیا کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے قرض خواہ اور کھجور کا کیا معاملہ بنا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اللہ نے پورا کر دیا بلکہ اتنی کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں نے گھر آکر اپنی بیوی سے کہا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہ کرنا اس نے کہا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے گھر لے کر آئے اور وہ جانے لگیں تو میں ان سے اپنے لئے اور اپنے شوہر کے لئے دعاکی درخواست بھی نہ کروں گی؟۔

لِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ يَا جَابِرُ لَا عَلَيْكَ ← خرج رسول الله من المدينة إلى المشركين ليقاتلهم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15355

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8499

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس خطبے میں تو حید و رسالت کی گواہی نہ ہو وہ جذام کے مارے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8499

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15363

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتْ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتْ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو جب حدبندی ہوجائے اور راستے الگ ہوجائیں تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔

جَابِرٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15363

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15375

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ التَّيْمِيِّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ يَعْنِي النَّهْدِيَّ عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ الطَّاعُونُ وَالْبَطْنُ وَالْغَرَقُ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا وَقَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ طاعون کی بیماری پیٹ یا ڈوب کر یاحالت نفاس میں مر جانا بھی شہادت ہے۔

بِهِ أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا وَقَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ مَرَّةً ← الطَّاعُونُ وَالْبَطْنُ وَالْغَرَقُ وَالنَّفْسَاءُ شَهَادَةٌ ← صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ← عَامِرِ بْنِ مَالِکٍ ← أَبِي عُثْمَانَ يَعْنِي النَّهْدِيِّ ← التَّيْمِيُّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15375

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15381

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ يَعْنِي النَّهْدِيَّ عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ طاعون کی بیماری پیٹ یا ڈوب کر یاحالت نفاس میں مر جانا بھی شہادت ہے۔

الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ ← النَّبِيِّ ← صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ← عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ ← أَبِي عُثْمَانَ يَعْنِي النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15381

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15382

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ الطَّاعُونُ وَالْبَطْنُ وَالْغَرَقُ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ قَالَ سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا بِهِ يَعْنِي أَبَا عُثْمَانَ مِرَارًا وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت صفوان بن امیہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ طاعون کی بیماری پیٹ یا ڈوب کر یا حالت نفاس میں مر جانا بھی شہادت ہے۔

بِهِ يَعْنِي أَبَا عُثْمَانَ مِرَارًا وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ ← سُلَیْمَانَ ← الطَّاعُونُ وَالْبَطْنُ وَالْغَرَقُ وَالنَّفْسَاءُ شَهَادَةٌ ← صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ← عَامِرِ بْنِ مَالِکٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَیْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15382

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8578

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ قِيلَ وَمَنْ الشَّقِيُّ قَالَ الَّذِي لَا يَعْمَلُ بِطَاعَةٍ وَلَا يَتْرُكُ لِلَّهِ مَعْصِيَةً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں صرف وہی داخل ہوگا جو شقی ہوگا کسی نے پوچھا کہ شقی کون ہے؟ فرمایا جو نیکی کا کوئی کام کرے نہیں اور گناہ کا کوئی کام چھوڑے نہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8578

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17541

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَهْلُ الْيَمَنِ أَرَقُّ قُلُوبًا وَأَلْيَنُ أَفْئِدَةً وَأَنْجَعُ طَاعَةً

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل یمن رقیق القلب، نرم دل اور خوب اطاعت گذار ہوتے ہیں ۔

أَهْلُ الْيَمَنِ أَرَقُّ قُلُوبًا وَأَلْيَنُ أَفْئِدَةً وَأَنْجَعُ طَاعَةً. ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَنَّهُ ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ ← حَيْوَةُ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17541

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15509

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قَالَ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت اسود سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوفتح مکہ کے دن لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسقلہ کی چوٹی پر تشریف فرماتھے اور لوگوں سے اسلام اور شہادت پر بیعت لے رہے تھے راوی نے پوچھا کہ شہادت سے کیا مراد ہے انہوں نے جواب دیا کہ مجھے محمد بن اسود خلف نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اللہ پر ایمان اور اس بات کی شہادت پر بیعت لے رہے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ ← جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ ← أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ رَأَى النَّبِيَّ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15509

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24634

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ مُنْذِرٍ عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ امْرَأَتِهِ عَنْ عَائِشَةَ تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الْأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّهُ بِأَهْلِ الْأَرْضِ بَأْسَهُ قَالَتْ وَفِيهِمْ أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب زمین میں گناہوں کا غلبہ ہو جائے تو اللہ اہلِ زمین پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اللہ کی اطاعت کرنے والے لوگوں کے ان میں ہونے کے باوجود؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر وہ اہلِ اطاعت اللہ کی رحمت کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔

امْرَأَتِهِ ← حسن بن محمد ← مُنْذِرٍ ← جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24634

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24709

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُكِحَتْ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ أَمْرِ مَوْلَاهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فَلَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ قَالَ وَكَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى وَكَانَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ السُّلْطَانُ الْقَاضِي لِأَنَّ إِلَيْهِ أَمْرَ الْفُرُوجِ وَالْأَحْكَامِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر وہ اس کے ساتھ مباشرت بھی کرلے تو اس بناء پر اس کے ذمے مہر واجب ہو جائے گا، اور اگر اس میں لوگ اختلاف کرنے لگیں تو بادشاہ اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24709

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17675

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَصْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ يَعْنِي ابْنَ خَلَفٍ أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسقلہ کی چوٹی پر تشریف فرما تھے، اور لوگوں سے اسلام اور شہادت پر بیعت لے رہے تھے، راوی نے پوچھا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے محمد بن اسود بن خلف نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اللہ پر ایمان اور اس بات کی شہادت پر بیعت لے رہے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَصْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ ← أن أباه الأسود أتى النبي يبايع الناس يوم الفتح ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17675

chevron_left Previous
1…424344…1,453
Next chevron_right